আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ৭২৭৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
سہل بن عثمان عقبہ بن خالد عبیداللہ ابی زناد عبدالرحمن اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ نکلے گا پس جو بھی اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৭৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
ابوکامل فضیل بن حسین ابومعن رقاشی ابی معن خالد بن حارث، عبدالحمید بن جعفر ابی سلیمان بن یسار حضرت عبداللہ بن حارث (رض) بن نوفل سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے کہا ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا (سونا) لے جائیں گے پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے ابوکامل نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اور ابی بن کعب حسان کے قلعہ کے سایہ میں کھڑے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ کُنْتُ وَاقِفًا مَعَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ فَقَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا قُلْتُ أَجَلْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَکْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ کُلِّهِ قَالَ فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ کُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَفْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ فِي ظِلِّ أُجُمِ حَسَّانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৭৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
عبید بن یعیش اسحاق بن ابراہیم، عبید یحییٰ بن آدم بن سلی ام خالد بن خالد زہیر سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عراق اپنے درہم اور قفیز کو روک لے گا اور شام اپنے مد اور دینار روک لے گا اور مصر اپنے اردب اور دینار روک لے گا اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے اور تم جہاں سے چلے تھے وہیں لوٹ آؤ گے اور اس بات پر ابوہریرہ (رض) کا گوشت اور خون گواہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَی خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَعَتْ الْعِرَاقُ دِرْهَمَهَا وَقَفِيزَهَا وَمَنَعَتْ الشَّأْمُ مُدْيَهَا وَدِينَارَهَا وَمَنَعَتْ مِصْرُ إِرْدَبَّهَا وَدِينَارَهَا وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ وَعُدْتُمْ مِنْ حَيْثُ بَدَأْتُمْ شَهِدَ عَلَی ذَلِکَ لَحْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدَمُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৭৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسطنطنیہ کی فتح اور خروج دجال اور سیدنا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے بیان میں
زہیر بن حرب، معلی بن منصور سلیمان بن بلال سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں ان کی طرف ان سے لڑنے کے لئے ایک لشکر مدینہ روانہ ہوگا اور وہ ان دنوں زمین والوں میں سے نیک لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کریں گے تو رومی کہیں گے کہ تم ہمارے اور ان کے درمیان دخل اندازی نہ کرو جنہوں نے ہم میں سے کچھ لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان سے لڑیں گے مسلمان کہیں گے نہیں اللہ کی قسم ہم اپنے بھائیوں کو تنہا نہ چھوڑیں گے کہ تم ان سے لڑتے رہو بالآخر وہ ان سے لڑائی کریں گے بالآخر ایک تہائی مسلمان بھاگ جائیں گے جن کی اللہ کبھی بھی توبہ قبول نہ کرے گا اور ایک تہائی قتل کئے جائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے اور تہائی فتح حاصل کرلیں گے انہیں کبھی آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کریں گے جس وقت وہ آپس میں مال غنیمت میں سے تقسیم کر رہے ہوں اور ان کی تلواریں زیتون کے درختوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہوں گی تو اچانک شیطان چیخ کر کہے گا تحقیق مسیح دجال تمہارے بال بچوں تک پہنچ چکا ہے وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے لیکن یہ خبر باطل ہوگی جب وہ شام پہنچیں گے تو اس وقت دجال نکلے گا اسی دوران کہ وہ جہاد کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے اور مسلمانوں کی نماز کی امامت کریں گے پس جب اللہ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو وہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے اگرچہ عیسیٰ اسے چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل جائے گا یہاں تک کہ ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے عیسیٰ کے ہاتھوں سے قتل کرائیں گے پھر وہ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیزے پر دکھائیں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتْ الرُّومُ خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَکُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا فَيُقَاتِلُونَهُمْ فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَائِ عِنْدَ اللَّهِ وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطَنْطِينِيَّةَ فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمْ الشَّيْطَانُ إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَکُمْ فِي أَهْلِيکُمْ فَيَخْرُجُونَ وَذَلِکَ بَاطِلٌ فَإِذَا جَائُوا الشَّأْمَ خَرَجَ فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَيَنْزِلُ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّهُمْ فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ فَلَوْ تَرَکَهُ لَانْذَابَ حَتَّی يَهْلِکَ وَلَکِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ فَيُرِيهِمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৭৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت کے وقت رومیوں کی تمام لوگوں سے کثرت ہونے کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عبداللہ بن وہب، لیث بن سعد حضرت موسیٰ بن علی (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ مستورد قرشی نے حضرت عمرو بن عاص کی موجودگی میں کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب نصاری تمام لوگوں سے زیادہ ہوں گے تو حضرت عمرو نے ان سے کہا غور کرو کیا کہہ رہے ہو انہوں نے کہا میں وہی کہتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا حضرت عمرو نے کہا اگر تو یہی کہتا ہے تو ان میں چار خصلتیں ہوں گی وہ آزمائش کے وقت لوگوں میں سب سے زیادہ بردبار ہوں گے اور مصیبت کے بعد لوگوں میں سب سے زیادہ جلدی اس کا ازالہ کرنے والے ہوں گے اور لوگوں میں سے مسکین یتیم اور کمزور ہوں گے اور پانچویں خصلت نہایت عمدہ یہ ہے کہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ باشاہوں کو ظلم سے روکنے والے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ الْمُسْتَوْرِدُ الْقُرَشِيُّ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَکْثَرُ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو أَبْصِرْ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِکَ إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَسْرَعُهُمْ إِفَاقَةً بَعْدَ مُصِيبَةٍ وَأَوْشَکُهُمْ کَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ وَخَيْرُهُمْ لِمِسْکِينٍ وَيَتِيمٍ وَضَعِيفٍ وَخَامِسَةٌ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ وَأَمْنَعُهُمْ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت کے وقت رومیوں کی تمام لوگوں سے کثرت ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، ابوشریح عبدالکریم بن حارث حضرت مستورد قرشی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت اس وقت قائم ہوگی جب نصاری سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے یہ خبر جب حضرت عمرو بن عاص کو پہنچی تو انہوں نے کہا یہ کیا احادیث ہیں جنہیں تجھ سے ذکر کیا جاتا ہے اور تم ان احادیث کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہو تو مستورد نے ان سے کہا میں نے وہی کہا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے سنا تو عمرو نے کہا اگر تو نے یہ کہا ہے تو سنو وہ آزمائش کے وقت لوگوں میں سے زیادہ بردبار ہوں گے اور مصیبت کے بعد لوگوں میں سے جلد درست ہونے والے ہوں گے اور اپنے مساکین اور کمزوروں کے لئے لوگوں میں سے بہتر ہوں گے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ عَبْدَ الْکَرِيمِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ الْقُرَشِيَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَکْثَرُ النَّاسِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فَقَالَ مَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تُذْکَرُ عَنْکَ أَنَّکَ تَقُولُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ الْمُسْتَوْرِدُ قُلْتُ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ عَمْرٌو لَئِنْ قُلْتَ ذَلِکَ إِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ وَأَجْبَرُ النَّاسِ عِنْدَ مُصِيبَةٍ وَخَيْرُ النَّاسِ لِمَسَاکِينِهِمْ وَضُعَفَائِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ علی بن حجر ابن علیہ، ابن حجر اسماعیل بن ابراہیم، ایوب حمید بن ہلال ابوقتادہ، عدوی یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ایک آدمی آیا جس کا تکیہ کلام یہ تھا اے عبداللہ بن مسعود قیامت آگئی تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور کہا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے لئے جمع ہوں گے اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لئے جمع ہوجائیں گے میں نے کہا آپ کی مراد رومی ہیں انہوں نے کہا ہاں اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پھر وہ خوب جہاد کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہوجائے گا پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر (اگلے دن) مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہوجائے گا پھر (اگلے دن) مسلمان ایک اور لشکر روانہ کریں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کئے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہوجائے گی پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے لیکن کوئی بھی غالب نہ ہوگا اور وہ لشکر ہلاک وفنا ہوجائے گا پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے یہاں تک کہ مردہ ہو کر گرپڑیں گے اور ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے پھر دس سواروں کا ہر اول دستہ روانہ کریں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ان کے نام اور آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اسیر بن جابر سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْعَدَوِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتْ السَّاعَةُ قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي قَالَ نَعَمْ وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمْ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمْ اللَّيْلُ فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً إِمَّا قَالَ لَا يُرَى مِثْلُهَا وَإِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمْ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں
محمد بن عبیدالغبری حماد بن زید ایوب حمید بن ہلال ابوقتادہ، حضرت یسیر بن جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود کے پاس حاضر تھا کہ سرخ ہوا ڈرانے والی چلی باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَهَبَّتْ رِيحٌ حَمْرَائُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ ابْنِ عُلَيَّةَ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال کے وقت رومیوں کے قتل کی کثرت کے بیان میں
شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ حمید ابن ہلال ابوقتادہ، حضرت اسیر بن جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) کے گھر میں تھا کہ گھر بھرا ہوا تھا اتنے میں کوفہ میں سرخ ہوا چلی باقی حدیث ابن علیہ کی حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ فِي بَيْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْبَيْتُ مَلْآنُ قَالَ فَهَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَائُ بِالْکُوفَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خروج دجال سے پہلے مسلمانوں کو فتوحات ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک بن عمیر جابر بن سمرہ حضرت نافع بن عتبہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں مغرب کی طرف سے ایک قوم آئی جن پر سفید اونی کپڑے تھے اور وہ آپ ﷺ سے ایک ٹیلے کے پاس ملے وہ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ تشریف فرما تھے مجھے میرے دل نے کہا کہ تو بھی ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان جا کر کھڑا ہو کہ کہیں وہ دھوکہ سے آپ ﷺ پر حملہ ہی نہ کردیں پھر میں نے کہا شاید آپ ﷺ ان سے کوئی راز کی بات کر رہے ہوں بہر حال پھر میں ان کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور اسی دوران میں نے آپ ﷺ سے چار کلمات یاد کئے جنہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر شمار کرلیا آپ نے فرمایا تم جزیرہ عرب میں جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم روم سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا کریں گے تو نافع نے کہا اے جابر پھر ہم روم کی فتح سے پہلے تو دجال کو نہ دیکھیں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَالَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَکَمَةٍ فَإِنَّهُمْ لَقِيَامٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ فَقَالَتْ لِي نَفْسِي ائْتِهِمْ فَقُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ لَا يَغْتَالُونَهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَعَلَّهُ نَجِيٌّ مَعَهُمْ فَأَتَيْتُهُمْ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ قَالَ فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدِي قَالَ تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ نَافِعٌ يَا جَابِرُ لَا نَرَی الدَّجَّالَ يَخْرُجُ حَتَّی تُفْتَحَ الرُّومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں
ابوخیثمہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر مکی زہیر اسحاق سفیان بن عیینہ، ابوطفیل حضرت حذیفہ بن اسید غفاری (رض) سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی ﷺ تشریف لائے اور ہم باہم گفتگو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو انہوں نے عرض کیا ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے پھر دھوئیں، دجال، دابہ الارض، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے اور سیدنا عیسیٰ بن مریم کے نازل ہونے اور یاجوج وماجوج اور تین جہگوں کے دھنسنے، ایک دھنسنا مشرق میں اور ایک دھنسنا مغرب میں، ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہونے اور آخر میں یمن سے آگ نکلنے کا ذکر فرمایا جو لوگوں کو جمع ہونے کی جگہ کی طرف لے جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَا تَذَاکَرُونَ قَالُوا نَذْکُرُ السَّاعَةَ قَالَ إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّی تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِکَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَی مَحْشَرِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابوشعبہ، ابی طفیل حضرت ابوسریحہ (رض) حذیفہ بن اسید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک کمرہ میں تھے اور ہم آپ سے نیچے تھے پس آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ہم نے عرض کیا قیامت کا آپ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک دس علامات پوری نہ ہوجائیں گی مشرق میں دھنسنا اور مغرب میں دھنسنا اور ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ہوگا اور دھواں، دجال، دابہ الارض، یاجوج ماجوج، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور آگ جو عدن کے کنارے سے نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کرلے جائے گی دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں اور ان میں سے ایک نے دسویں علامت کے بارے میں کہا کہ وہ عیسیٰ بن مریم کا نزول ہے اور دوسرے نے کہا وہ آندھی ہے جو لوگوں کو سمندر میں ڈال دے گی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَاطَّلَعَ إِلَيْنَا فَقَالَ مَا تَذْکُرُونَ قُلْنَا السَّاعَةَ قَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَکُونُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آيَاتٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَدَابَّةُ الْأَرْضِ وَيَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قُعْرَةِ عَدَنٍ تَرْحَلُ النَّاسَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ مِثْلَ ذَلِکَ لَا يَذْکُرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ أَحَدُهُمَا فِي الْعَاشِرَةِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ الْآخَرُ وَرِيحٌ تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر شعبہ، ابوطفیل حضرت ابوسریحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک کمرہ میں تھے اور ہم اس کے نیچے گفتگو کر رہے تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزر چکی شعبہ نے کہا میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا آگ لوگوں کے ساتھ ساتھ رہے گی جہاں وہ اتریں گے آگ بھی وہیں اتر جائے گیا اور جب وہ (دوپہر کو) قیلولہ کریں گے تو آگ بھی وہیں ہوگی جہاں وہ قیلولہ کریں گے شعبہ نے کہا ایک آدمی نے مجھ سے یہ حدیث ابوطفیل کے واسطہ سے ابوسریحہ سے نقل کی لیکن مرفوع ہونا روایت نہیں کیا ان میں سے ایک آدمی نے حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول اور دوسرے نے آندھی کا ذکر کیا جو انہیں سمندر میں ڈال دے گی۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَةٍ وَنَحْنُ تَحْتَهَا نَتَحَدَّثُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ تَنْزِلُ مَعَهُمْ إِذَا نَزَلُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ أَحَدُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ و قَالَ الْآخَرُ رِيحٌ تُلْقِيهِمْ فِي الْبَحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے کی علامات کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابونعمان حکم بن عبداللہ عجلی شعبہ، فراب ابوطفیل حضرت ابوسریحہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جھانک کر دیکھا باقی حدیث گزر چکی البتہ دسویں علامت اس میں عیسیٰ بن مریم کا نزول مذکور ہے اور بقول شعبہ عبدالعزیز نیا سے مرفوع روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ بِنَحْوِهِ قَالَ وَالْعَاشِرَةُ نُزُولُ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ قَالَ شُعْبَةُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৮৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابن مسیب ان دونوں اسناد سے بھی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زمین حجاز سے آگ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہوگی جو کہ بصری کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيئُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے مدینہ میں سکونت اور اس کی عمارتوں کے بیان میں
عمرو ناقد اسود بن عامر زہیر سہیل ابن ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب گھر اہاب یا یھاب تک پہنچ جائینگے زہیر نے کہا میں نے اسماعیل سے کہا کہ یہ علاقہ مدینہ سے کتنے فاصلہ پر ہے انہوں نے کہا اتنے اتنے میل کے فاصلہ پر ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْلُغُ الْمَسَاکِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِسُهَيْلٍ فَکَمْ ذَلِکَ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ کَذَا وَکَذَا مِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت سے پہلے مدینہ میں سکونت اور اس کی عمارتوں کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قحط یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسائی جائے بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ بارش بر سے اور خوب بر سے لیکن زمین کوئی چیز بھی نہ اگائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَتْ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَکِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس حال میں سنا کہ آپ ﷺ مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے تھے آپ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو فتنہ اس جگہ ہوگا آگاہ رہو فتنہ اس جگہ ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر قواریری محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان یحییٰ بن سعید عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ (رض) کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے تو آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا فتنہ یہاں ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے اسے آپ نے دو یا تین مرتبہ فرمایا اور عبیداللہ بن سعید نے اپنی روایات میں فرمایا کہ آپ ﷺ سیدہ عائشہ (رض) کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ الْفِتْنَةُ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا و قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৯৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرق کی طرف سے شیطان کے سینگ کے طلوع ہونے کی جگہ سے فتنہ کے ظاہر ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سالم بن عبداللہ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ مشرق کی طرف منہ کئے ہوئے تھے کہ بیشک فتنہ یہاں ہوگا، فتنہ اس جگہ ہوگا، فتنہ اس جگہ ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
tahqiq

তাহকীক: