আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ৭২৫৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، منصور ربعی بن جراش حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا پس مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی پر اسلحہ اٹھائے پس وہ دونوں جہنم کنارے پر ہوتے ہیں جب ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو قتل کردیا تو وہ دونوں اکٹھے جہنم میں داخل ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَی أَخِيهِ السِّلَاحَ فَهُمَا عَلَی جُرْفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو عظیم جماعتوں کے مابین جنگ وجدل نہ ہوجائے اور ان کے درمیان ایک بہت بڑی لڑائی ہوگی اور دونوں کا دعوی ایک ہوگا (کہ ہم رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جہاد کر رہے ہیں) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ وَتَکُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مسلمانوں کی تلواروں کے ساتھ باہم لڑائی کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ھرج کی کثرت ہوجائے صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ھرج کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا قتل قتل (یعنی خونریزی کی کثرت) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَکْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں
ابوربیع عتکی قتیبہ بن سعید، حماد بن زید قتیبہ حماد ایوب ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لئے سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا اور جہاں تک کی زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی تھی وہاں تک، عنقریب میری امت کی سلطنت و حکومت پہنچ جائے گی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے عطا کئے گئے اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لئے دعا مانگی کہ وہ انہیں عام قحط سالی میں ہلاک نہ کرے اور اپنے علاوہ ان پر کوئی ایسا دشمن بھی مسلط نہ کرے جو ان سب کی جانوں کی ہلاکت کو مباح جائز سمجھے اور میرے رب نے فرمایا اے محمد جب میں کسی بات کا فیصلہ کرلیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور بیشک میں نے آپ ﷺ کی امت کے لئے فیصلہ کرلیا ہے کہ انہیں عام قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کروں گا اور نہ ہی ان کے علاوہ ان پر ایسا کوئی دشمن مسلط کروں گا جو ان سب کی جانوں کو مباح و جائز سمجھ کر ہلاک کر دے اگرچہ ان کے خلاف زمین کے چاروں اطراف سے لوگ جمع ہوجائیں یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو خود ہی قیدی بنائیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيَّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ زَوَی لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْکُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِکَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَائً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُکَ لِأُمَّتِکَ أَنْ لَا أُهْلِکَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَی أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوْ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مَنْ بِأَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بَيْنَ أَقْطَارِهَا حَتَّی يَکُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِکُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ابن بشار اسحاق معاذ بن ہشام ابوقتادہ، ابی قلابہ ابی اسماء رجی حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کے مشرق ومغرب کو دیکھا اور مجھے سرخ اور سفید خزانے عطا کئے گئے باقی حدیث گزر چکی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی زَوَی لِي الْأَرْضَ حَتَّی رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَأَعْطَانِي الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابی عثمان بن حکیم عامر بن حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مقام عالیہ سے تشریف لائے یہاں تک کہ بنو معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے تو اس میں تشریف لے گئے اور اس میں دو رکعتیں ادا کیں اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کی اور آپ ﷺ نے اپنے رب سے لمبی دعا مانگی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں پس دو چیزیں مجھ کو عطا کردیں گئیں اور ایک چیز سے مجھے روک دیا میں نے اپنے رب سے مانگا کہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعہ ہلاک نہ کرے پس یہ مجھے عطا کردیا گیا اور میں نے اللہ عزوجل سے مانگا کہ میری امت کو غرق کر کے ہلاک نہ کر پس اللہ عزوجل نے یہ چیز بھی مجھے عطا کردی اور میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ ان کی آپس میں ایک دوسرے سے لڑائی نہ ہو تو مجھے اس سوال سے منع کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ الْعَالِيَةِ حَتَّی إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ فَرَکَعَ فِيهِ رَکْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُ رَبِّي ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِکَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِکَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امت کا ایک دوسرے کے ہاتھوں ہلاک ہونے کے بیان میں
ابن ابی عمر مروان بن معاویہ عثمان بن حکیم انصاری عامر بن سعد حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ آپ ﷺ کے صحابہ کی جماعت کے ساتھ آئے تو آپ ﷺ بنو معاویہ کی مسند کے پاس سے گزرے باقی حدیث گزر چکی۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَمَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب حضرت ابوادریس خولانی سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) بن یمان نے کہا اللہ کی قسم میں لوگوں میں سے سب زیادہ جانتا ہوں کہ کون کون سے واقعات میرے اور قیامت کے درمیان پیش آنے والے ہیں اور مجھے ان فتنوں کے بتانے سے صرف یہی بات مانع ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض راز کی باتیں مجھے بتائیں جنہیں میرے علاوہ کسی سے بھی ذکر نہیں کیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے بارے میں فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک مجلس میں تھے جس میں میں بھی موجود تھا رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا ان میں تین ایسے ہیں جو کسی بھی چیز کو نہ چھوڑیں گے ان میں سے کچھ فتنے گرمی کی ہواؤں کی طرح ہوں گے ان میں سے بعض چھوٹے اور بعض بڑے ہوں گے حذیفہ نے کہا میرے علاوہ باقی سب قوم مجلس اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ کَانَ يَقُولُا قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِکُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ کَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا بِي إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَرَّ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ شَيْئًا لَمْ يُحَدِّثْهُ غَيْرِي وَلَکِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ عَنْ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ مِنْهُنَّ ثَلَاثٌ لَا يَکَدْنَ يَذَرْنَ شَيْئًا وَمِنْهُنَّ فِتَنٌ کَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا کِبَارٌ قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِکَ الرَّهْطُ کُلُّهُمْ غَيْرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان اسحاق جریر، اعمش، شقیق حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ہمارے درمیان کھڑے ہو کر اس کھڑے ہونے کے وقت سے لے کر قیام قیامت تک کے تمام حالات کو بیان کردیا پس جس نے انہیں یاد رکھا اس نے انہیں یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور اس واقعہ کو میرے یہ ساتھی بھی جانتے ہیں اور ان میں سے بعض باتوں کو میں بھول گیا لیکن جب وہ چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو یاد آجاتی ہیں جیسے کوئی آدمی کسی کے سامنے سے غائب ہوجائے تو اسے بھول جاتا ہے اور جب سامنے آتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے۔
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا مَا تَرَکَ شَيْئًا يَکُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِکَ إِلَی قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَ بِهِ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابِي هَؤُلَائِ وَإِنَّهُ لَيَکُونُ مِنْهُ الشَّيْئُ قَدْ نَسِيتُهُ فَأَرَاهُ فَأَذْکُرُهُ کَمَا يَذْکُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ وکیع، سفیان، اعمش، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں جو بھول گیا وہ بھول گیا کے بعد مذکور نہیں۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ہر اس بات کی خبر دے دی جو قیام قیامت تک پیش آنے والا ہے اور ہر چیز کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا گیا سوائے اس کے کہ میں نے آپ ﷺ سے یہ سوال نہیں کیا کہ اہل مدینہ کو کونسی چیز مدینہ سے نکالے گی ؟
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ کَائِنٌ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَيْئٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام قیامت تم پیش آنے والے فتنوں کے بارے میں نبی ﷺ کا خبر دینے کے بیان میں
یعقوب بن ابراہیم، دورقی حجاج بن شاعر، ابوعاصم، حجاج، ابوعاصم، عروہ بن ثابت حضرت ابوزید عمر بن اخطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز فجر پڑھائی اور منبر پر چڑھے تو ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا آپ ﷺ اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر اترے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھے اور ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو ہمیں آپ ﷺ نے ان تمام باتوں کی خبر دی جو پہلے ہوچکی ہیں اور جو آئندہ پیش آنے والی تھیں پس ہم میں سے سب بڑا عالم وہی ہے جس نے ہم میں سے ان باتوں کو زیادہ یاد رکھا۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ أَخْبَرَنَا عِلْبَائُ بْنُ أَحْمَرَ حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَتْ الظُّهْرُ فَنَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی حَضَرَتْ الْعَصْرُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّی ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَأَخْبَرَنَا بِمَا کَانَ وَبِمَا هُوَ کَائِنٌ فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن علاء ابوکریب ابی معاویہ، ابن علاء، ابومعاویہ اعمش، شقیق عمر حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس تھے تو انہوں نے کہا تم میں سے کون ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی فتنوں کے بارے میں حدیث زیادہ یاد ہے میں نے کہا میں ہوں کہا تو بہت جرأت مند ہے اور وہ حدیث کیسی ہے میں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے آدمی کے گھر والوں اور اس کے مال اور اس کی جان اور اولاد اور پڑوسی میں فتنہ ہے اور ان کا کفارہ روزے نماز صدقہ نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا ہیں تو حضرت عمر (رض) نے کہا میں نے ان کا ارادہ نہیں کیا بلکہ میرا ارادہ وہ فتنے ہیں جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے میں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو اس سے کیا غرض ہے بیشک آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان ایک بند دروازہ ہے حضرت عمر (رض) نے کہا اس دروزاے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا میں نے کہ نہیں بلکہ اسے توڑا جائے گا عمر (رض) نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر کبھی بند نہ کیا جاسکے گا راوی کہتا ہیں ہم نے حضرت حذیفہ (رض) سے کہا کیا حضرت عمر (رض) اس دروازے کے بارے میں جانتے تھے انہوں نے کہا جی ہاں وہ اسی طرح جانتے تھے جیسا کہ وہ کل کے آنے سے پہلے رات کو جانتے تھے اور میں نے ان کو ایک حدیث بیان کی جو غلط الروایات سے نہ تھی پھر ہم حضرت حذیفہ (رض) سے دروازے کے بارے میں پوچھنے سے خوفزدہ ہوئے تو ہم نے مسروق سے کہا تم ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو حضرت حذیفہ (رض) نے کہا : (دروازہ) عمر (رض) ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ ابْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ أَيُّکُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ کَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا قَالَ إِنَّکَ لَجَرِيئٌ وَکَيْفَ قَالَ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُکَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْکَرِ فَقَالَ عُمَرُ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ قَالَ فَقُلْتُ مَا لَکَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَکَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَفَيُکْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ يُکْسَرُ قَالَ ذَلِکَ أَحْرَی أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا قَالَ فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ هَلْ کَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنْ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ کَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ قَالَ فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنْ الْبَابُ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ سَلْهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر یحییٰ بن عیسیٰ ، ابومعاویہ اعمش، شقیق ان اسناد سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عِيسَی کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں
ابن ابی عمر سفیان، جامع بن ابی راشد اعمش، ابو وائل عمر حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا ہمیں فتنوں کے بارے میں حدیث کون بیان کرے گا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ الْفِتْنَةِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر کی موجوں کی طرح آنے والے فتنوں کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، معاذ بن معاذ ابن عون محمد حضرت جندب سے روایت ہے کہ جرعہ واقعہ کے دن آیا تھا جرعہ کوفہ میں ایک جگہ ہے جہاں کوفہ والے حضرت سعید بن عاص (رض) سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے جب انہیں حضرت عثمان نے کوفہ کا حاکم بنا کر بھیجا تھا وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا تو میں نے کہا آج کے دن تو یہاں بہت خونریزی ہوگی تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم کیوں نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں میں نے کہا اللہ کی قسم نہ ہوگی اس نے کہا اللہ کی قسم ہرگز نہیں کیونکہ رسول اللہ کی حدیث ہے جو آپ ﷺ نے مجھے بیان کی تھی میں نے کہا تو میرے لئے برا ہم نشین ہے آج سے اس لئے کہ تو سنتا ہے میں تیری مخالفت کر رہا ہوں حالانکہ تو بھی رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں حدیث سن چکا ہے مگر مخالفت کرنے سے تو نے مجھے منع کیوں نہیں کیا پھر میں نے کہا یہ کیا غضب ہے الغرض میں نے اس کی طرف متوجہ ہو کر اس سے حدیث معلوم کرنا چاہی تو وہ آدمی حضرت حذیفہ (رض) تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ جُنْدُبٌ جِئْتُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فَقُلْتُ لَيُهْرَاقَنَّ الْيَوْمَ هَاهُنَا دِمَائٌ فَقَالَ ذَاکَ الرَّجُلُ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ قَالَ کَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَحَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِيهِ قُلْتُ بِئْسَ الْجَلِيسُ لِي أَنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تَسْمَعُنِي أُخَالِفُکَ وَقَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَنْهَانِي ثُمَّ قُلْتُ مَا هَذَا الْغَضَبُ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ وَأَسْأَلُهُ فَإِذَا الرَّجُلُ حُذَيْفَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب عبدالرحمن قاری سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل و قتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کئے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّی يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ کُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ کُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّي أَکُونُ أَنَا الَّذِي أَنْجُو
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
امیہ بن بسطام یزید بن زریع روح سہیل اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ سہیل کی اس سند میں یہ اضافہ ہے کہ میرے والد نے کہا اگر تو اسے دیکھ لے تو اس کے قریب نہ جانا۔
و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فَقَالَ أَبِي إِنْ رَأَيْتَهُ فَلَا تَقْرَبَنَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৭৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکلنے تک قیامت قائم نہ ہونے کے بیان میں
ابومسعود سہل بن عثمان عقبہ بن خالد سکونی عبیداللہ بن خبیب بن عبدالرحمن حفص بن عاصم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ کَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا
তাহকীক: