আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭২ টি
হাদীস নং: ৬৯৯২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں اسی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام کیا ہے اور نہ ہی کوئی اللہ سے بڑھ کر تعریف کو پسند کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام کردیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جسے اللہ سے بڑھ کر تعریف پسند ہو اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جرید اعمش، مالک بن حارث عبدالرحمن بن زید حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں جسے اللہ رب العزت سے بڑھ کر تعریف پسند ہو اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے اور نہ ہی کوئی اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہے اسی وجہ سے بری باتوں کو حرام کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جسے اللہ سے بڑھ کر عذر قبول کرنا پسند ہو اسی وجہ سے اللہ نے کتاب نازل کی اور رسولوں کو مبعوث فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ أَنْزَلَ الْکِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
عمرو ناقد اسماعیل بن ابراہیم، اسماعیل بن علیہ حجاج بن ابی عثمان حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن ایسا عمل کرے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ قَالَ يَحْيَی وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ ابوسلمہ (رض) عروہ بن زبیر، حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی چیز بھی اللہ سے بڑھ کر غیرت مند نہیں ہے۔
قَالَ يَحْيَی وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَسْمَائَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ شَيْئٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابوداؤد (رض) ابان بن یزید حرب بن شداد یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً وَلَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ أَسْمَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
محمد بن ابی بکر مقدامی بشر بن مفضل ہشام یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ عروہ (رض) حضرت اسماء نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی بھی چیز اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَائَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا شَيْئَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯৯৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) اس سند سے بھی مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، ابوکامل فضیل بن حسین جحدری یزید بن زریع ابی کامل یزید تیمی ابی عثمان حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کا بوسہ لیا پھر اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو یہ آیت کریمہ (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ) 11 ۔ ہود۔ 114) دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا یہ میرے لئے ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے جو بھی عمل کرے گا اس کے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
محمد بن عبدالاعلی معتمر ابوعثمان حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس نے کسی عورت کا بوسہ لیا یا ہاتھ سے چھیڑا ہے یا اور کچھ کیا ہے گویا کہ وہ اس کا کفارہ پوچھ رہا تھا تو اللہ رب العزت نے یہی آیات نازل فرمائیں باقی حدیث یزید کی حدیث کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا کَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ کَفَّارَتِهَا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ جریر، سلیمان تیمی یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے زنا کے علاوہ کوئی برا کام کیا پھر وہ عمر بن خطاب کے پاس آیا تو انہوں نے اسے بہت بڑا گناہ سمجھا پھر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسے بہت بڑا گناہ خیال کیا پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنْ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَی أَبَا بَکْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ یحییٰ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے مدینہ کے کنارے ایک عورت سے لطف اندوزی کی اور میں نے اس سے جماع کے علاوہ باقی حرکت کی پس میں حاضر ہوں آپ ﷺ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں تو حضرت عمر (رض) نے اس سے کہا اگر اپنے آپ پر پردہ کرتا تو اللہ نے تیرا پردہ رکھا ہوا تھا ابن مسعود (رض) نے کہا نبی ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور چل دیا پس نبی ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا جو اسے بلا لایا آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی اَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ ) دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کریں بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے حاضرین میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ یہ اس کے لئے خاص ہے آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ تمام لوگوں کے لئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَی الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَکَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَکَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَی لِلذَّاکِرِينَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّةً قَالَ بَلْ لِلنَّاسِ کَافَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابونعمان حکم بن عبداللہ عجلی شعبہ، سماک بن حرب، ابراہیم، خالد اسود حضرت عبداللہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے اس حدیث میں یہ ہے کہ حضرت معاذ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا یہ آیت اسی کے لئے خاص ہے یا ہمارے لئے عام ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارے لئے عام ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً قَالَ بَلْ لَکُمْ عَامَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی عمرو بن عاصم، ہمام اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد (کے جرم تک) پہنچ گیا ہوں پس آپ ﷺ مجھ پر حد قائم فرمائیں نماز کا وقت ہوگیا تو اس نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز اداء کی جب نماز پوری کرچکا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ میرے بارے میں اللہ کا فیصلہ قائم کریں آپ نے فرمایا کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھا اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق تجھے معاف کیا جا چکا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِيَّ کِتَابَ اللَّهِ قَالَ هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قَدْ غُفِرَ لَکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عزوجل کے قول نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں کے بیان میں
نصر بن علی زہیر بن حرب، عمر بن یونس عکرمہ بن عمار شداد حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد (کے جرم) تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کریں رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں خاموش رہے اس نے پھر دہرایا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کردیں پس آپ ﷺ اس سے خاموش رہے اور نماز قائم کی گئی جب اللہ کے نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چل دیا تاکہ میں دیکھوں کہ آپ ﷺ اس آدمی کو کیا جواب دیتے ہیں پس وہ آدمی رسول اللہ ﷺ سے ملا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حد کے جرم تک پہنچ گیا ہوں آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کریں ابوامامہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا خیال ہے کہ جب تم گھر سے نکلے تھے تو کیا تم نے اچھی طرح وضو نہ کیا تھا اس نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول پھر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا پس بیشک اللہ نے تیری حد کو معاف فرما دیا یا فرمایا تیرے گناہ کو معاف کردیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَکَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَکَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَی الرَّجُلِ فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِکَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوئَ قَالَ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَکَ حَدَّکَ أَوْ قَالَ ذَنْبَکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، معاذ بن ہشام قتادہ، ابی صدیق حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی نے ننانوے جانوں کو قتل کیا پھر اس نے اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا پس اس کی ایک راہب کی طرف راہنمائی کی گئی وہ اس کے پاس آیا تو کہنے لگا اس نے ننانوے جانوں کو قتل کیا ہے کیا اس کے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے اس نے کہا نہیں پس اس نے اس راہب کو قتل کر کے سو پورے کردیئے پھر زمین والوں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا تو ایک عالم کی طرف اس کی راہنمائی کی گئی اس نے کہا میں نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے تو اس نے کہا جی ہاں اس کے اور توبہ کے درمیان کیا چیز رکاوٹ بن سکتی ہے تم اس اس جگہ کی طرف جاؤ وہاں پر موجود کچھ لوگ اللہ کی عبادت کر رہے ہیں تو بھی ان کے ساتھ عبادت الٰہی میں مصروف ہوجا اور اپنے علاقے کی طرف لوٹ کر نہ آنا کیونکہ وہ بری جگہ ہے پس وہ چل دیا یہاں تک کہ جب آدھے راستے پر پہنچا تو اس کی موت واقع ہوگئی پس اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑ پڑے رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ توبہ کرتا ہوا اور اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہوا آیا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیا پس پھر ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں آیا اسے انہوں نے اپنے درمیان ثالث (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرلیا تو اس نے کہا دونوں زمینوں کی پیمائش کرلو پس وہ دونوں میں سے جس زمین سے زیادہ قریب ہو وہی اس کا حکم ہوگا پس انہوں نے زمین کو ناپا تو اسی زمین کو کم پایا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا پس پھر رحمت کے فرشتوں نے اس پر قبضہ کرلیا حسن (رح) نے کہا ہمیں ذکر کیا گیا کہ جب اس کی موت واقع ہوئی تو اس نے اپنا سینہ اس زمین سے دور کرلیا تھا (جہاں سے وہ چلا تھا) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ لَا فَقَتَلَهُ فَکَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَی رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَی أَرْضِ کَذَا وَکَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدْ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلَا تَرْجِعْ إِلَی أَرْضِکَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْئٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ جَائَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَی اللَّهِ وَقَالَتْ مَلَائِکَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُمْ مَلَکٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرْضَيْنِ فَإِلَی أَيَّتِهِمَا کَانَ أَدْنَی فَهُوَ لَهُ فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَی إِلَی الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَی بِصَدْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০০৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، قتادہ، ابوصدیق نافی حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا پھر اس نے پوچھنا شروع کردیا کہ اس کے لئے توبہ کا کوئی راستہ ہے ایک راہب کے پاس آ کر پوچھا تو اس نے کہا تیرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے اس نے راہب کو بھی قتل کردیا پھر اس نے دوبارہ پوچھنا شروع کردیا اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف نکلا، جس میں نیک لوگ رہتے تھے جب اس نے کچھ راستہ طے کیا تو اسے موت نے گھیر لیا پس اس نے سینہ کے بل سرک کر اپنی آبادی سے اپنے آپ کو دور کرلیا پھر مرگیا تو رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اس کے بارے میں جھگڑا ہوا تو وہ ایک بالشت نیک لوگوں کی بستی کے قریب تھا پس اسے اسی بستی والوں میں سے کردیا گیا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَأَتَی رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ لَکَ تَوْبَةٌ فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَی قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ فَلَمَّا کَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَکَهُ الْمَوْتُ فَنَأَی بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِکَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِکَةُ الْعَذَابِ فَکَانَ إِلَی الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قاتل کی توبہ کی قبولیت کے بیان میں اگرچہ اس نے قتل کثیر کئے ہوں
محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، قتادہ، معاذ یہ حدیث اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں اضافہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اس زمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور اس زمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَزَادَ فِيهِ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَی هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَإِلَی هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ طلحہ بن یحییٰ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا رب العزت ہر مسلمان کی طرف یہودی یا نصرانی بھیجے گا اور کہے گا یہ جہنم سے تیرا فدیہ و بدلہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَی کُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ هَذَا فِکَاکُکَ مِنْ النَّارِ
তাহকীক: