আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৭২ টি

হাদীস নং: ৬৯৭২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ رحمت کے سو (100) اجزا بتائے پھر ان میں سے ننانوے حصوں کو اپنے پاس رکھا اور زمین میں صرف ایک حصہ نازل کیا پس اسی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرتی ہے یہاں تک کہ جانور اپنے بچہ سے اپنے پاؤں کو ہٹا لیتا ہے اسے تکلیف پہنچنے کے خوف کی وجہ سے۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْئٍ فَأَمْسَکَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْئًا وَاحِدًا فَمِنْ ذَلِکَ الْجُزْئِ تَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتَّی تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے سو رحمتیں پیدا فرمائیں ان میں سے ایک کو اپنی مخلوق میں رکھ دیا اور ایک کم سو (یعنی ننانوے) اپنے پاس رکھیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ وَخَبَأَ عِنْدَهُ مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوعبدالملک عطاء، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک جنات انسانوں چوپاؤں اور کیڑوں مکوڑوں کے لئے نازل کی جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت و مہربانی اور رحم کرتے ہیں اور اسی کی وجہ سے وحشی جانور اپنے بچہ پر شفقت کرتا ہے اور اللہ نے ننانوے رحمتیں بچا کر رکھی ہیں جن سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحمت فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حکم بن موسیٰ معاذ بن معاذ سلیمان تیمی ابوعثمان نہدی حضرت سلمان فارسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا معاملہ کرتی ہے اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے ہیں۔
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
محمد بن عبدالاعلی معتمر اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
ابن نمیر، ابومعاویہ داؤد ابن ابی ہند ابی عثمان حضرت سلمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدائش کے دن سو رحمتوں کو پیدا فرمایا ہر رحمت آسمان و زمین کی درمیانی خلاء کے برابر ہے ان میں سے زمین میں ایک رحمت مقرر فرمائی ہے جس کی وجہ سے والدہ اپنے بچہ سے شفقت و محبت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ اس رحمت کے ساتھ اپنی رحمتوں کو مکمل فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ کُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقَ مَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْأَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَی وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَی بَعْضٍ فَإِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَکْمَلَهَا بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی محمد بن سہل تمیم حسن ابن ابی مریم ابوغسان زید بن اسلم حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے اور قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی اس نے قیدیوں میں اپنے بچے کو پایا اس نے اسے اٹھا کر اپنے پیٹ سے لگایا اور اسے دودھ پلانا شروع کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی ؟ ہم نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم جہاں تک اس کی قدرت ہوئی اسے نہ پھینکے گی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس عورت کے اپنے بچہ پر رحم کرنے سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لِحَسَنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ السَّبْيِ تَبْتَغِي إِذَا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْأَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ قُلْنَا لَا وَاللَّهِ وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَی أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر ابن ایوب اسماعیل علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مومن کو پورا علم ہوجاتا کہ اللہ کا عذاب کتنا ہے تو کوئی بھی اس کی جنت کا لالچ نہ کرتا اور اگر کافر جان لیتا کہ اللہ کے پاس رحمت کتنی ہے تو کوئی جنت سے ناامید نہ ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْکَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
محمد بن مرزوق ابن بنت مہدی بن میمون روح مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے ایک نیکی بھی نہ کی تھی جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا مجھے جلا کر میرا آدھا حصہ سمندر میں جبکہ آدھا حصہ فضا میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر اللہ اسے عذاب دے گا تو ایسا سخت عذاب دے گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو بھی ایسا عذاب نہ ہوا ہوگا پس جب وہ آدمی مرگیا تو اس کے گھر والوں نے وہی کیا جو انہیں حکم دیا گیا تھا پس اللہ نے فضا کو حکم دیا تو اس نے اس کے ذرات کو جمع کردیا اور سمندر کو حکم دیا تو اس نے بھی اپنے اندرموجود سب کو جمع کردیا پھر فرمایا تو نے ایسا کیوں کیا اس نے کہا اے میرے رب تیرے خوف وڈر کی وجہ سے تو بہتر جانتا ہے پس اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ بِنْتِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ حَسَنَةً قَطُّ لِأَهْلِهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ الرَّجُلُ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ مِنْ خَشْيَتِکَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حمید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے آپ پر (کثرت گناہ کی وجہ سے) زیادتی کی جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا پھر باریک پیس دینا پھر مجھے ہوا میں اور سمندر میں اڑا دینا اللہ کی قسم اگر میرے رب نے مجھے عذاب دینے کے لئے گرفت کی تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ اس جیسا عذاب کسی کو نہ دیا گیا ہوگا پس اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا پس (اللہ نے) زمین سے فرمایا تو نے جو کچھ لیا ہے وہ نکال دے پس فوراً وہ آدمی مجسم کھڑا ہوگیا تو (اللہ نے) اس سے فرمایا تجھے اس عمل پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا اے میرے رب تیرے خوف اور ڈر نے اللہ نے اسی وجہ سے اسے معاف فرما دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُکَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَی نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَی بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ بِهِ أَحَدًا قَالَ فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ فَقَالَ لِلْأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ فَقَالَ خَشْيَتُکَ يَا رَبِّ أَوْ قَالَ مَخَافَتُکَ فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
زہری، حمید حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ایک عورت بلی کو باندھنے کی وجہ سے جہنم میں ڈالی گئی جسے نہ وہ کھلاتی تھی اور نہ ہی چھوڑتی تھی کہ وہ کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی یہاں تک کہ کمزوری کی وجہ سے وہ مرگئی زہری نے کہا ان سے مراد یہ ہے کہ نہ تو رحمت پر بالکل اعتماد کرے (نیک اعمال ہی نہ کرے) کہ اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے ناامید ہوجائے۔
قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ هَزْلًا قَالَ الزُّهْرِيُّ ذَلِکَ لِئَلَّا يَتَّکِلَ رَجُلٌ وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
ابوربیع سلیمان بن داؤد محمد بن حرب زبیدی حمید بن عبدالرحمن بن عوف حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک بندے نے اپنے آپ پر (برے اعمال کی وجہ سے) زیادتی کی باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں بلی کے واقعہ میں عورت کا ذکر نہیں اور زبیدی نے کہا تو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا جس چیز نے بھی اس (کی راکھ) سے کچھ بھی لیا ہو وہ واپس کر دے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ قَالَ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرَفَ عَبْدٌ عَلَی نَفْسِهِ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِلَی قَوْلِهِ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ حَدِيثَ الْمَرْأَةِ فِي قِصَّةِ الْهِرَّةِ وَفِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِکُلِّ شَيْئٍ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا أَدِّ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، قتادہ، عقبہ بن عبد غافر حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو مال اور اولاد عطا کی گئی تھی اس نے اپنی اولاد سے کہا میں تمہیں جو حکم دوں وہ ضرور کرنا ورنہ میں اپنی وراثت کا تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو وارث بنا دوں گا جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور زیادہ یاد یہی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا پھر میری راکھ بنانا اور مجھے ہوا میں اڑا دینا کیونکہ میں نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں بھیجی اور اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ مجھے عذاب دے پھر ان سے وعدہ لیا پس انہوں نے اللہ کی قسم اس کے ساتھ ایسا ہی کیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے برانگیختہ کیا اس نے عرض کیا تیرے خوف نے اللہ نے اسے اس کے علاوہ اور کوئی عذاب نہ دیا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ رَاشَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا فَقَالَ لِوَلَدِهِ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُکُمْ بِهِ أَوْ لَأُوَلِّيَنَّ مِيرَاثِي غَيْرَکُمْ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي وَأَکْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ اسْحَقُونِي وَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ فَإِنِّي لَمْ أَبْتَهِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَإِنَّ اللَّهَ يَقْدِرُ عَلَيَّ أَنْ يُعَذِّبَنِي قَالَ فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا فَفَعَلُوا ذَلِکَ بِهِ وَرَبِّي فَقَالَ اللَّهُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ فَقَالَ مَخَافَتُکَ قَالَ فَمَا تَلَافَاهُ غَيْرُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کا غضب پر غالب ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، معتمر بن سلیمان ابوقتادہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسیٰ شیبان بن عبدالرحمن ابن مثنی ابو ولید، ابوعوانہ، قتادہ، شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ عزوجل نے مال اور اولاد عطاء کی اور تیمی کی حدیث میں ہے کہ اس نے اللہ عزوجل کے پاس کوئی نیکی جمع نہ کی اور شیبان کی حدیث میں ہے کیونکہ اللہ کی قسم اس نے اللہ کے ہاں نیکی کو جمع نہ کیا اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے کہ اس نے کوئی نیکی نہیں کی۔
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ لِي أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ ذَکَرُوا جَمِيعًا بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ النَّاسِ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا وَفِي حَدِيثِ التَّيْمِيِّ فَإِنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا قَالَ فَسَّرَهَا قَتَادَةُ لَمْ يَدَّخِرْ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ابْتَأَرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ مَا امْتَأَرَ بِالْمِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
عبدالاعلی ابن حماد حماد بن سلمہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ عبدالرحمن بن ابی عمرہ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے رب العزت سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا کسی بندے نے گناہ کیا پھر عرض کیا اے اللہ میرے گناہ کو معاف فرما دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے پھر وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے پھر عرض کرتا ہے اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے پھر وہ دوبارہ گناہ کر بیٹھتا ہے تو عرض کرتا ہے اے میرے رب میرے گناہ کو معاف فرما تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا پس وہ جانتا ہے کہ اس کا رب گناہ کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کردیا عبدالاعلی نے کہا میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ جو چاہو عمل کرو۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْکِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي فَقَالَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکَ قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَی لَا أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
ابواحمد محمد بن زنجویہ عبدالاعلی بن حماد نرشی اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
عبد بن حمید ابو ولید ہمام اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بندے نے گناہ کیا باقی حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث ہی کی طرح ہے اور اس میں تین مرتبہ ذکر کیا کہ اس نے گناہ کیا اور تیسری مرتبہ کہا تحقیق میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا پس وہ جو چاہے عمل کرے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ کَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَذَکَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَفِي الثَّالِثَةِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَعْمَلْ مَا شَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عمر بن مرہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا رہتا ہے تاکہ دن کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے اور اپنا ہاتھ دن کو پھیلاتا رہتا ہے تاکہ رات کے گناہ گار کی توبہ قبول کرے یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيئُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيئُ اللَّيْلِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ اور توبہ اگرچہ باربار ہوں گناہوں سے توبہ کی قبولیت کے بیان میں
محمد بن بشار، ابوداؤد شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی غیرت اور بے حیائی کے کاموں کی حرمت کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ سے بڑھ کر کسی کو اپنی تعریف و مدح پسند نہیں ہے اسی وجہ سے اللہ نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ہے اسی وجہ سے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ
tahqiq

তাহকীক: