আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৩ টি

হাদীস নং: ৬৫৬০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ محمد بن رافع عبدالرزاق، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، ابن بی غنیہ حضرت اعمش (رض) سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں ! اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آخر تک۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر منصور ابراہیم، حضرت اسود سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ نوجوان سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں آئے اور حضرت عائشہ (رض) اس وقت منیٰ میں تھیں اور وہ نوجوان ہنس رہے تھے سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا تم کیوں ہنس رہے ہو وہ نوجوان کہنے لگے کہ فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گرپڑا ہے اور اس کی گردن یا اس کی آنکھ جاتے جاتے ہی بچی حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا تم مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی کانٹا یا کانٹے سے بڑھ کر کوئی چیز لگ گئی ہو تو اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًی وَهُمْ يَضْحَکُونَ فَقَالَتْ مَا يُضْحِکُکُمْ قَالُوا فُلَانٌ خَرَّ عَلَی طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ فَقَالَتْ لَا تَضْحَکُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاکُ شَوْکَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا کُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق حنظلی اسحاق ابومعاویہ اعمش، ابراہیم، اسود سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی مومن آدمی کو کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْکَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو اگر کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلہ میں اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْکَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یونس بن یزید ابن شہاب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اسے اس کے گناہ کا کفارہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا کُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّی الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یزید بن خصیفہ عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ کم کر دئے جاتے ہیں یا اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے یزید نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے عروہ نے کون سا لفظ کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةِ إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
حاملہ بن یحییٰ عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابن ہاد ابی بکر بن حرم عمرہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ولید بن کثیر محمد بن عمر بن عطاء، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کسی مومن آدمی کے جب بھی کوئی تکلیف یا ایذاء یا کوئی بیماری یا رنج یہاں تک کہ اگر اسے کوئی فکر ہی ہو تو اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا کُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ سفیان، ابن محصین محمد بن قیس ابن مخرمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (مَنْ يَّعْمَلْ سُوْ ءًا يُّجْزَ بِه) 4 ۔ النساء : 123) جو کوئی بھی کوئی برا عمل کرے گا تو اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا مسلمانوں کو اس سے بہت سخت پریشانی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میانہ روی اور استقامت اختیار کرو مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ جو اسے ٹھوکر لگتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے امام مسلم (رح) کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالرحمن بن محصین مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوئًا يُجْزَ بِهِ بَلَغَتْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَفِي کُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَةٌ حَتَّی النَّکْبَةِ يُنْکَبُهَا أَوْ الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا قَالَ مُسْلِم هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع حجاج صواف ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مسیب کے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سائب یا اے ام مسیب تجھے کیا ہوا تم کانپ رہی ہو اس نے عرض کیا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَکِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّی لَا بَارَکَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّی فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ کَمَا يُذْهِبُ الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
عیبد اللہ بن عمر قواریری یحییٰ بن سعید بشر بن مفضل عمران ابوبکر حضرت عطا بن ابی رباح (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے ایک حبشی عورت نہ دکھاؤں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے آپ ﷺ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے صحت و عافیت دے دے وہ عورت کہنے لگی کہ میں صبر کروں گی لیکن میرا ستر کھل جاتا ہے تو آپ ﷺ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے تو آپ نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَکَرٍ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيکَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَی قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَائُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ قَالَتْ أَصْبِرُ قَالَتْ فَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَکَشَّفَ فَدَعَا لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی مروان ابن محمد دمشقی سعید بن عبدالعزیز ربیعہ یزید بن ابی ادریس خولانی حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے روایت ہے اللہ عزوجل نے فرمایا اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے کہ جسے میں ہدایت دوں تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو ! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا اے میرے بندو تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو اے میرے بندو اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہوجاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہوجاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کرسکتے اے میرے بندو اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔ اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے حضرت سعد (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَی عَنْ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّهُ قَالَ يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُهُ فَاسْتَکْسُونِي أَکْسُکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِي مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا کَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِيهَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّيکُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِکَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ قَالَ سَعِيدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
ابوبکر بن اسحاق ابومسہر مروان حضرت سعید بن عبدالعزیز اس سند کی اس روایت بیان کرتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ مروان کی روایت ان دونوں روایتوں میں پوری ہے۔
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
ابو اسحاق حسن و الحسین بشر محمد بن یحییٰ ابومسہر حضرت ابواسحاق کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث حضرات حسن و حسین (رض) بشر کے بیٹے اور محمد بن یحییٰ نے ابومسہر کے حوالہ سے طویل ذکر کی ہے۔
قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَا بِشْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ فَذَکَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث ہمام قتادہ، ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا فرمان بیان کیا ہے : (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں نے اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم آپس میں ظلم نہ کرو اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَی نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَی عِبَادِي فَلَا تَظَالَمُوا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَکَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس عبیداللہ بن مقسم حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل (یعنی کنجوسی) سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَهُمْ عَلَی أَنْ سَفَکُوا دِمَائَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
محمد بن حاتم، شبابہ عبدالعزیز ماجشون عبداللہ بن دینا حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہوں گی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، علی بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
tahqiq

তাহকীক: