আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২৩ টি
হাদীস নং: ৬৫৪০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
احمد بن سعید دارمی حباب وہیب سہیل ابوہریرہ (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور نہ ہی حرص کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاو۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس ابی سعد عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور نہ ہی تناجش کرو (تناجش بیع کی ایک قسم ہے) اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَی هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَی صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، اسامہ ابن زید ابوسعید عبداللہ بن عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر (مذکورہ) داؤد کی حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کی طرف دیکھتا ہے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ وَزَادَ وَنَقَصَ وَمِمَّا زَادَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی أَجْسَادِکُمْ وَلَا إِلَی صُوَرِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَی صَدْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
عمرو ناقد کثیر بن ہشام جعفر بن برقان یزید بن عاصم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی صُوَرِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَعْمَالِکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوموار اور جمعرات کے دن جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ہر اس بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں اور ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
زہیر بن حرب، جریر، قتیبہ بن سعید، احمد بن عبدۃ ضبی عبدالعزیز درا وردی حضرت سہیل اپنے باپ سے مالک کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں صرف لفظی فرق ہے۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ و قَالَ قُتَيْبَةُ إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
ابن ابی عمر سفیان، مسلم ابن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي کُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ الْيَوْمِ لِکُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
ابوطاہر عمرو بن سواد ابن وہب، مالک بن انس، مسلم بن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو ہر مومن بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے اور اپنے مومن بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دو یا انہیں مہلت دے دو یہاں تک کہ یہ دونوں رجوع کرلیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن عبدالرحمن بن معمر، ابی حباب سعید بن یسار حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ قیامت کے دن فرمائے گا کہاں ہیں آپس میں محبت کرنے والے میرے جلال کی قسم ! آج کے دن میں ان کو اپنے سائے میں رکھوں گا کہ جس دن میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
عبدالاعلی بن حماد حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی اپنے ایک بھائی سے ملنے کے لئے ایک دوسرے گاؤں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو اس کے انتظار کے لئے بھیج دیا جب اس آدمی کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتہ کہنے لگا کہاں کا ارادہ ہے اس آدمی نے کہا اس گاؤں میں میرا ایک بھائی ہے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں فرشتہ نے کہا کیا اس نے تیرے اوپر کوئی احسان کیا ہے کہ تو جس کا بدلہ دنیا چاہتا ہے اس آدمی نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ میں اس سے صرف اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا تیری طرف اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے کہ جس طرح تو اس دیہاتی آدمی سے محبت کرتا ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَی فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَی مَدْرَجَتِهِ مَلَکًا فَلَمَّا أَتَی عَلَيْهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ هَلْ لَکَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا قَالَ لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْکَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
ابواحمد بن عیسیٰ ابوبکر محمد بن زنجویہ قشیری عبدالاعلی بن حماد نرسی حضرت حماد بن سلمہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
سعید بن منصور، ابوربیع حماد ابن زید ایوب ابی قلابہ ابی اسماء ابوربیع رفعہ حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیمار آدمی کی عیادت کرنے والا جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم خالد ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ثوبان (رض) مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اس وقت سے واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، یزید بن زریع خالد ابی قلابہ ابی اسماء رحبی حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، یزید زہیر یزید بن ہارون، عاصم، عبداللہ بن زید ابوقلابہ ابی اشعث صنعانی ابی اسماء رحبی، حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے خرفہ میں رہتا ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول جنت کا خرفہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کے باغات۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
سوید بن سعید مروان بن معاویہ حضرت عاصم سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن حاتم، بن میمون بہز حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَعُودُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ يَا رَبِّ وَکَيْفَ أُطْعِمُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَسْقِيکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّکَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل مسروق، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ جسے رسول اللہ ﷺ کی تکلیف سے بڑھ کر تکلیف ہو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَکَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع عبدالرحمن ابن نمیر، مصعب بن مقدام سفیان، حضرت اعمش (رض) جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنِي أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، اعمش، ابراہیم، حارث ابن سوید حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں آیا حال یہ کہ آپ ﷺ کو بخار تھا میں نے ہاتھ رکھ کر دیکھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو بہت سخت بخار ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے لئے دوہرا اجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی تکلیف آتی ہے تو اللہ اس تکلیف کے بدلہ میں اس کے اس طرح گناہ معاف کردیتا ہے کہ جس طرح (موسم بہار) میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ اور زہیر کی حدیث میں ہاتھ لگا کر دیکھنے کے الفاظ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَکُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنِّي أُوعَکُ کَمَا يُوعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي
তাহকীক: