আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭১ টি
হাদীস নং: ৪৯২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے ایک آدمی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ مِنَّا شَجَاعَةً فَذَکَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ کے راستہ میں جہاد و قتال کرنے کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا ایک وہ آدمی ہے جو غصہ کی وجہ سے لڑتا ہے دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے آپ ﷺ نے اس کی طرف سر اٹھایا اور سر مبارک اس وجہ سے اٹھایا کہ وہ کھڑا ہوا تھا اور ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے کلمہ کے بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ غَضَبًا وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ کَانَ قَائِمًا فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔
یحییٰ بن حبیب، حارث، خالد بن حارث، ابن جریج، یونس بن یوسف، سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ، ابوہریرہ، حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ (رض) سے لوگ دور ہوگئے تو ان سے اہل شام میں سے ناتل نامی آدمی نے کہا اے شیخ آپ ہمیں ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو تو اس لئے لڑتا رہا کہ تجھے بہادر کہا جائے تحقیق ! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دو یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور دوسرا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے لوگوں کو سکھایا اور قرآن کریم پڑھا اسے لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا تو اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا پھر اسے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قرآن مجید پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے علم اس لئے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس کے لئے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو یہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص ہوگا جس پر اللہ نے وسعت کی تھی اور اسے ہر قسم کا مال عطا کیا تھا اسے بھی لایا جائے گا اور اسے اللہ کی نعمتیں جتوائی جائیں گی وہ انہیں پہچان لے گا اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ہوتے ہوئے کیا عمل کیا وہ کہے گا میں نے تیرے راستہ میں جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو تیری رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کیا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا بلکہ تو نے ایسا اس لئے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے تحقیق ! وہ کہا جا چکا پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلُ أَهْلِ الشَّامِ أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ قَاتَلْتُ فِيکَ حَتَّی اسْتُشْهِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ جَرِيئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ حَتَّی أُلْقِيَ فِي النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّهِ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلَکِنَّکَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو ریاکاری اور نمود نمائش کے لئے لڑتا ہے وہ جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔
علی بن خشرم، حجاج بن محمد بن جریج، یونس بن یوسف، سلمان بن یسار، حضرت سلیمان بن یسار (رح) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ (رض) سے جب لوگ جدا ہوگئے تو ان سے ناتل نامی شامی نے کہا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ تَفَرَّجَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِیُّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں
عبد بن حمید، عبداللہ بن یزید، ابوعبدالرحمن، حیوہ بن شریح، ابوہانی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لشکر اللہ کے راستہ میں لڑنے کے لئے جائے پھر انہیں غنیمت مل جائے تو اسے آخرت کے ثواب میں سے دوتہائی اسی وقت مل جاتا ہے اور ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے اور اگر انہیں غنیمت نہ ملے تو ان کے لئے ان کا ثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي هَانِئٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنْ الْآخِرَةِ وَيَبْقَی لَهُمْ الثُّلُثُ وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑنے والوں میں سے جسے غنیمت ملی اور جسے نہ ملی دونوں کے مقدار ثواب کے بیان میں
محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، نافع بن یزید، ابوہانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس غزوہ یا لشکر کے لوگ جہاد کریں پھر وہ مال غنیمت حاصل کر کے سلامتی سے واپس آجائیں تو انہیں ثواب کا دو تہائی حصہ اسی وقت مل جاتا ہے اور جس غزوہ یا لشکر کے لوگ خالی واپس آئیں اور نقصان اٹھائیں تو ان کا اجر وثواب پورا پورا باقی رہ جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فَتَغْنَمُ وَتَسْلَمُ إِلَّا کَانُوا قَدْ تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أُجُورِهِمْ وَمَا مِنْ غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلَّا تَمَّ أُجُورُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابرہیم، علقمہ بن وقاص، عمر بن خطاب، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی پس جس شخص نے ہجرت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہوئی تو وہ اسے حاصل کرے گا یا عورت کی طرف ہوئی اس سے نکاح کرنے کے لئے ہوئی تو وہ اس سے نکاح کرلے گا پس اس کی ہجرت اسی طرف ہوگی جس طرف ہجرت کرنے کی اس نے نیت کی ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابوربیع عتکی، حماد بن زید، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، اسحاق بن ابراہیم، ابوخالد احمر، سلیمان بن حیان، محمد بن عبداللہ بن نمیر، حفص بن غیاث، یزید بن ہارون، محمد بن علاء ہمدانی، ابن سفیان، یحییٰ بن سعید، سفیان، عمر بن خطاب (رض) ، ان مختلف اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن بعض اسانید میں یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ حدیث منبر پر کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے روایت کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی الْمِنْبَرِ يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں
شیبان بن فروخ، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے صدق دل سے شہادت طلب کی اسے شہادت کا رتبہ دے دیا جاتا ہے اگرچہ وہ شہید نہ بھی ہو۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَلَبَ الشَّهَادَةَ صَادِقًا أُعْطِيَهَا وَلَوْ لَمْ تُصِبْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کے قول اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ان اعمال میں جہاد کے شامل ہونے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، ابوشریح، سہل بن ابی امامہ، حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ سے صدق دل سے شہادت مانگی تو اللہ اسے شہداء کے مرتبہ تک پہنچا دیں گے اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی مرجائے ابوالطاہر نے روایت میں بصدق کے لفظ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا و قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَائِ وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ بِصِدْقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں
محمد بن عبدالرحمن بن سہم انطا کی، عبداللہ بن مبارک، وہیب مکی، عمر بن محمد بن منکدر، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کی موت واقع ہوگئی اور اس نے جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں اس کی تمنا ہوئی تو وہ نفاق کے شعبہ پر مرا عبداللہ بن مبارک (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اسے خیال کرتے ہیں کہ یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک کے ساتھ خاص تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاکِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ وُهَيْبٍ الْمَکِّيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَی شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ قَالَ ابْنُ سَهْمٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ فَنُرَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابی سفیان، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم کسی غزوہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں کچھ لوگ ہیں جنہیں بیماری نے روک رکھا ہے لیکن جس جگہ سے تم گزرتے ہو یا کسی وادی کو طے کرتے ہو تو وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا کَانُوا مَعَکُمْ حَبَسَهُمْ الْمَرَضُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جہاد کی بغیر اور جہاد کی دلیں تمنا کئے بغیر مر گیا اس کی مذمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، وکیع، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن حضرت وکیع کی حدیث میں ہے کہ وہ اجر وثواب میں تمہارے شریک ہوتے ہیں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ إِلَّا شَرِکُوکُمْ فِي الْأَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق، عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ ﷺ کو کھانا پیش کرتی تھیں اور ام حرام (رض) حضرت عبادہ (رض) بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک دن رسول اللہ اس کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کھانا پیش کیا پھر آپ ﷺ کے سر مبارک میں مالش کرنے بیٹھ گئیں تو رسول اللہ ﷺ سو گئے پھر آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ مجھ پر سمندر میں بادشاہوں کے تختوں کی مثال سواریوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے یا کہا بادشاہوں کے تختوں پر سوار ہو کر۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے تو آپ ﷺ نے اس کے لئے دعا کی پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ مجھے اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے دکھائے گئے جیسا کہ پہلی دفعہ فرمایا تھا۔ کہتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو ان کے پہلے گروہ سے ہوگی پس ام حرام بنت ملحان حضرت معاویہ (رض) کے زمانہ میں سمندر میں سوار ہوگئیں جب وہ سمندر سے نکلیں تو اپنے جانور سے گر کر انتقال گئیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ يَشُکُّ أَيَّهُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ کَمَا قَالَ فِي الْأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَرَکِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
خلف بن ہشام، حماد بن زید، یحییٰ بن سعید، محمد بن یحییٰ بن حبان، حضرت انس (رض) کی خالہ حضرت ام حرام (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہمارے پاس قیلولہ فرمایا اور آپ ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا مجھے تیری امت میں سے ایک قوم دکھائی گئی جو بادشاہوں کے تختوں جیسے تختوں پر سمندر میں سواری کر رہے تھے میں نے عرض کیا اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں میں سے ہے۔ کہتی ہیں آپ ﷺ پھر سو گئے اور اسی طرح بیدار ہوئے کہ آپ ﷺ ہنس رہے تھے میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تو پہلی بات جیسی بات فرمائی میں نے عرض کیا آپ ﷺ اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے آپ نے فرمایا تو پہلے گروہ میں سے ہوگی پھر اس کے بعد ام حرام سے حضرت عبادہ بن صامت نے نکاح کرلیا پس جب انہوں نے سمندری جہاد شروع کیا تو ام حرام کو بھی اپنے ساتھ سوار کر کے لے گئے جب وہ آئیں اور ایک خچر ان کے قریب کیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوگئیں تو اس نے انہیں گرا دیا اور اس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ وَهِيَ خَالَةُ أَنَسٍ قَالَتْ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ عِنْدَنَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قَالَ أُرِيتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْکَبُونَ ظَهْرَ الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ فَإِنَّکِ مِنْهُمْ قَالَتْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ أَيْضًا وَهُوَ يَضْحَکُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بَعْدُ فَغَزَا فِي الْبَحْرِ فَحَمَلَهَا مَعَهُ فَلَمَّا أَنْ جَائَتْ قُرِّبَتْ لَهَا بَغْلَةٌ فَرَکِبَتْهَا فَصَرَعَتْهَا فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن رمح بن مہاجر، یحییٰ بن یحیی، لیث، یحییٰ بن سعید ابن حبان، حضرت انس (رض) کی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے قریب سو گئے پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو کس بات نے ہنسایا آپ ﷺ نے فرمایا مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس سبز سمندر کی پیٹھ پر سوار ہو رہے تھے باقی حدیث اسی طرح بیان کی۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَيَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ أَنَّهَا قَالَتْ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَکَکَ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْکَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سمندر میں جہاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل ابن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انس کی خالہ بنت ملحان (رض) کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس سر رکھ کر سو گئے باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ مِلْحَانَ خَالَةَ أَنَسٍ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عِنْدَهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی، ابو ولید طیالسی، لیث، ابن سعد، ایوب بن موسی، مکحول، شرحبیل بن سمط، حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ایک دن رات کی چوکیداری کا ثواب ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے اور اگر وہ مرگیا تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کر رہا تھا اور اس کا رزق بھی جاری کیا جائے گا اور اس کی قبر کو فتنوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَإِنْ مَاتَ جَرَی عَلَيْهِ عَمَلُهُ الَّذِي کَانَ يَعْمَلُهُ وَأُجْرِيَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ وَأَمِنَ الْفَتَّانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں پہرہ دینے کی فضلیت کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، عبدالرحمن بن شریح، عبدالکریم بن حارث، ابوعبیدہ بن عقبہ، شرحبیل بن سمط، سلمان خیر، اس سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں حضرت سلمان خیر کا نام مذکور ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہدا کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی کسی راستہ میں چل رہا تھا کہ اس نے راستہ پر کانٹوں والی ایک ٹہنی پڑی ہوئی پائی تو اسے راستہ سے ہٹا دیا تو اللہ نے اس کے اس عمل کو قبول کرتے ہوئے اسے معاف کردیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا شہداء کی پانچ اقسام یہ ہیں طاعون میں مرنے والا، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا، ڈوبنے والا، کسی چیز کے نیچے آ کر مرنے والا اور اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِيقِ فَأَخَّرَهُ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ وَقَالَ الشُّهَدَائُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক: