আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭১ টি
হাদীস নং: ৪৯০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، ابوبکر بن نافع، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ بنی اسلام کے ایک نوجوان نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس سامان جہاد نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا فلاں کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سامان جہاد تیار کیا تھا لیکن وہ بیمار ہوگیا ہے اس نے اس آدمی کے پاس جا کر کہا رسول اللہ ﷺ تجھے سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اپنا تیار شدہ سامان مجھے عطا کردو اس نے کہا اے فلانی اسے وہ سامان عطا کر دے جو میں نے تیار کیا تھا اور اس میں سے کسی چیز کو بھی نہ رکھنا اللہ کی قسم ! اس میں سے کوئی چیز بچا کر نہ رکھنا کیونکہ اس میں تیرے لئے برکت نہ ہوگی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ فَتًی مِنْ أَسْلَمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْغَزْوَ وَلَيْسَ مَعِي مَا أَتَجَهَّزُ قَالَ ائْتِ فُلَانًا فَإِنَّهُ قَدْ کَانَ تَجَهَّزَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَيَقُولُ أَعْطِنِي الَّذِي تَجَهَّزْتَ بِهِ قَالَ يَا فُلَانَةُ أَعْطِيهِ الَّذِي تَجَهَّزْتُ بِهِ وَلَا تَحْبِسِي عَنْهُ شَيْئًا فَوَاللَّهِ لَا تَحْبِسِي مِنْهُ شَيْئًا فَيُبَارَکَ لَکِ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
سعید بن منصور، ابوطاہر، ابن وہب، سعید، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، حضرت زید بن خالد جہنی (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کو سامان تیار کرکے دیا تو اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے اس مجاہد کے بعد اس کے اہل و عیال کے ساتھ بھلائی کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ و قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
ابوربیع زہرانی، یزید بن زریع، حسین معلم، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، بسر بن سعید، زید بن خالد جہنی، حضرت زید بن خالد (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مجاہد کے لئے سامان تیار کیا تو اس نے جہاد کیا اور جو شخص مجاہد کے پیچھے اس کے اہل و عیال میں رہا تو اس نے بھی جہاد کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ فَقَدْ غَزَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیۃ، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسعید مہری، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بنو لحیان کی طرف بھیجا (جو کہ ہذیل کا ایک قبیلہ ہے) تو فرمایا : ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے اور ثواب دونوں کے لئے برابر ہوگا۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِي لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ لِيَنْبَعِثْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابی حسین، یحیی، ابوسعید مہری، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ بَعَثَ بَعْثًا بِمَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبیداللہ ابن موسی، شیبان، یحیی، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی سواری وغیرہ سے مدد کرنے کے بیان میں
سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، یزید بن ابوسعید مولیٰ مہری، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو فرمایا ہر دو آدمیوں میں سے ایک آدمی جائے پھر گھر پر رہنے والوں سے فرمایا تم میں سے جو شخص اللہ کے راستہ میں جانے والے کے اہل و عیال اور مال کی نگرانی کرے گا تو اس کے لئے جہاد میں جانے والے سے آدھا ثواب ہوگا۔
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَی بَنِي لَحْيَانَ لِيَخْرُجْ مِنْ کُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ أَيُّکُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ کَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، علقمہ ابن مرثد، سلیمان بن بریدہ (رض) ، حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی حرمت وعزت گھروں میں رہنے والوں کے لئے ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی عزت ہے کوئی آدمی گھر میں رہنے والوں میں سے ایسا نہیں جو مجاہدین کے کسی آدمی کے گھر میں اس کے بعد نگرانی کرنے والا ہو پھر ان میں خیانت کا مرتکب ہو کہ اسے قیامت کے دن کھڑا نہ کیا جائے پھر وہ مجاہد اس کے اعمال میں سے جو چاہے گا لے لے گا اب تمہارا کیا خیال ہے (کہ وہ کونسی نیکی لے لے گا) ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُرْمَةُ نِسَائِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَی الْقَاعِدِينَ کَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْقَاعِدِينَ يَخْلُفُ رَجُلًا مِنْ الْمُجَاهِدِينَ فِي أَهْلِهِ فَيَخُونُهُ فِيهِمْ إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَأْخُذُ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَائَ فَمَا ظَنُّکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مسعر، علقمہ ابن مرثد، ابن بریدہ، حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کی عورتوں کے عزت اور جو ان میں خیانت کرے اس کے گناہ کے بیان میں
سعید بن منصور، سفیان، قعنب، علقمہ بن مرثد، اس سند سے بھی یہ اسی طرح ہے اس میں اضافہ ہے کہ مجاہد (رض) سے کہا جائے گا اس کی نیکیوں میں سے جو تم چاہو لے لو پھر رسول اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تمہارا کیا خیال ہے۔
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَعْنَبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَقَالَ فَخُذْ مِنْ حَسَنَاتِهِ مَا شِئْتَ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فَمَا ظَنُّکُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت براء (رض) کو فرماتے ہوئے سنا وہ اس آیت مبارکہ (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) فی سبیل اللہ کے بارے میں ارشاد فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید (رض) کو حکم دیا تو وہ ایک شانہ کی ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت مبارکہ لکھ دی تو حضرت ابن ام مکتوم (رض) نے آپ ﷺ سے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) آیت نازل ہوئی آگے اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَائَ يَقُولُا فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا فَجَائَ بِکَتِفٍ يَکْتُبُهَا فَشَکَا إِلَيْهِ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ ضَرَارَتَهُ فَنَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْبَرَائِ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي رِوَايَتِهِ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معذوروں سے جہاد کی فرضیت کے ساقط ہونے کے بیان میں
ابوکریب، ابن بشار، مسعر، ابواسحاق، حضرت براء (رض) روایت ہے کہ جب آیت (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ ) 4 ۔ النساء : 95) نازل ہوئی تو آپ ﷺ سے ابن ام مکتوم نے کچھ گفتگو کی تو ( غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) نازل ہوئی
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ کَلَّمَهُ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَنَزَلَتْ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
سعید بن عمرو اشعثی، سوید بن سعید، سفیان، عمرو، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر میں قتل کردیا جاؤں تو میں کہاں ہوں گا آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجور کو پھینکا پھر لڑنا شروع کیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا اور سوید کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے احد کے دن یہ پوچھا تھا
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ أَيْنَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ وَفِي حَدِيثِ سُوَيْدٍ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، زکریا، ابواسحاق، حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ انصار کے قبیلہ بنونبیت کے آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک آپ ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں پھر میدان میں بڑھا اور لڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اس آدمی نے عمل کم کیا اور ثواب زیادہ دیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي النَّبِيتِ قَبِيلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّکَ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ هَذَا يَسِيرًا وَأُجِرَ کَثِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ہارون بن عبداللہ بن محمد بن رافع، عبد بن حمید، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیر ہ، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھے کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کرتا ہے۔ پس جب وہ واپس آیا تو میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا کوئی بھی گھر میں نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس (رض) نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے بعض کا استثنی کیا تھا یا نہیں۔ پس اس نے آکر ساری بات آپ ﷺ سے بیان کی تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ارشاد فرمایا بیشک ہمیں ایک چیز کی ضرورت ہے پس جس کے پاس اپنی سواری ہو تو وہ ہمارے ساتھ سوار ہو کر چلے۔ پس لوگ مدینہ کی بلندی سے ہی آپ ﷺ سے اپنی سواریوں کو پیش کرنے کی اجازت طلب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، صرف وہی ساتھ چلیں جن کے پاس سواریاں موجود ہوں۔ پس رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رض) چلے یہاں تک کہ مشرکین سے پہلے ہی مقام بدر پر پہنچ گئے جب مشرک آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پیش قدمی نہ کرے جب تک میں نہ آگے بڑھوں پس جب مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے عمیر بن حمام انصاری نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا واہ واہ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے اس کلمہ تحسین کہنے پر کس چیز نے ابھارا ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے کلمہ صرف جنت والوں میں ہونے کی امید میں کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اہل جنت میں سے ہے تو عمیر نے اپنے تھیلے سے کچھ کھجوریں نکال کر انہیں کھانا شروع کیا پھر کہا اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ بہت لمبی زندگی ہوگی پھر انہوں نے اپنے پاس موجود کھجوروں کو پھینک دیا پھر کافروں سے لڑتے ہوئے شہید کردیئے گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسَيْسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَائَ وَمَا فِي الْبَيْتِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا أَدْرِي مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِهِ قَالَ فَحَدَّثَهُ الْحَدِيثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَنَا طَلِبَةً فَمَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَلْيَرْکَبْ مَعَنَا فَجَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَهُ فِي ظُهْرَانِهِمْ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَا إِلَّا مَنْ کَانَ ظَهْرُهُ حَاضِرًا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِينَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَيْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا دُونَهُ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا إِلَی جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ يَقُولُ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَنَّةٌ عَرْضُهَا السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بَخٍ بَخٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَائَةَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ أَهْلِهَا فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِهِ فَجَعَلَ يَأْکُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِي هَذِهِ إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَهُ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، قتیبہ بن سعید، جعفر بن سلیمان، ابوعمرجونی، ابوبکر، حضرت عبداللہ بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ سے دشمن کے مقابلہ کے وقت سنا وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں یہ سن کر ایک خستہ حال آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے ابوموسی ! کیا تم نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انہوں نے کہا ہاں تو وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور انہیں کہا میں تم کو سلام کرتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ کر پھینک دیا پھر اپنی تلوار لے کر دشمن کی طرف چلا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی آنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ السَّلَامَ ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ مَشَی بِسَيْفِهِ إِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِهِ حَتَّی قُتِلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
محمد بن حاتم، عفان، حماد، ثابت، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ ﷺ ہمارے ساتھ کچھ آدمی بھیج دیں جو ہمیں قرآن وسنت کی تعلیم دیں تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ انصار میں سے ستر آدمی بھیج دیئے جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور ان میں میرے ماموں حضرت حرام (رض) بھی تھے قرآن پڑھتے تھے اور رات کو درس و تدریس اور تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے تھے اور دن کے وقت پانی لا کر مسجد میں ڈالتے تھے اور جنگل سے لکڑیاں لا کر انہیں فروخت کردیتے اور اس سے اہل صفہ اور فقراء کے لئے کھانے کی چیزیں خریدتے تھے تو نبی ﷺ نے انہیں کفار کی طرف بھیج دیا اور انہیں منزل مقصور تک پہنچنے سے پہلے ہی کفار نے حملہ کرکے شہید کردیا تو انہوں نے کہا اے اللہ ہمارا یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے اسی دوران ایک آدمی نے آکر حضرت انس (رض) کے ماموں حضرت حرام (رض) کے پیچھے سے اس طرح نیزہ مارا کہ وہ آرپار ہوگیا تو حرام (رض) نے کہا رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اس وقت رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا بیشک تمہارے بھائیوں کو قتل کردیا گیا ہے اور بیشک انہوں نے یہ کہا ہے اے اللہ ہماری طرف سے یہ پیغام ہمارے پیغمبر ﷺ تک پہنچا دے کہ ہم تجھ سے ملاقات کرچکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہوچکے ہیں اور تو ہم سے راضی ہوچکا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ جَائَ نَاسٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَنْ ابْعَثْ مَعَنَا رِجَالًا يُعَلِّمُونَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَّةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّائُ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَدَارَسُونَ بِاللَّيْلِ يَتَعَلَّمُونَ وَکَانُوا بِالنَّهَارِ يَجِيئُونَ بِالْمَائِ فَيَضَعُونَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَيَحْتَطِبُونَ فَيَبِيعُونَهُ وَيَشْتَرُونَ بِهِ الطَّعَامَ لِأَهْلِ الصُّفَّةِ وَلِلْفُقَرَائِ فَبَعَثَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَعَرَضُوا لَهُمْ فَقَتَلُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْمَکَانَ فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا قَالَ وَأَتَی رَجُلٌ حَرَامًا خَالَ أَنَسٍ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ حَتَّی أَنْفَذَهُ فَقَالَ حَرَامٌ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ قُتِلُوا وَإِنَّهُمْ قَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ عَنَّا نَبِيَّنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاکَ فَرَضِينَا عَنْکَ وَرَضِيتَ عَنَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کے لئے جنت کے ثبوت کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس، حضرت ثابت (رض) سے روایت ہے کہ حضرت انس (رض) نے کہا میرے اس چچا نے کہا جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں بہت افسوس تھا کہ یہ وہ معرکہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ تو شریک تھے لیکن میں غیرحاضر تھا ہاں اگر اللہ نے مجھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ہمراہی میں کوئی معرکہ دکھایا تو اللہ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں تو وہ اس کے علاوہ کوئی کلمات کہنے سے ڈرے پس وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شریک ہوئے تو حضرت انس (رض) نے حضرت سعد بن معاذ (رض) سے کہا اے ابوعمرو کہاں جا رہے ہو مجھے تو احد کی طرف سے جنت کی خوشبو آرہی ہے پھر وہ کفار سے لڑے یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم میں نیزوں اور تیروں کے اسی سے زیادہ زخم پائے گئے اور ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا کہ میں اپنے بھائی کو صرف ان کے پوروں سے ہی پہچان سکی اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی مسلمانوں میں سے بعض وہ آدمی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچا کر دکھایا ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر کو پورا کیا اور بعض وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے وعدہ میں کوئی رد وبدل نہ کیا صحابہ کرام گمان کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس (رض) اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی تھی۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ عَمِّيَ الَّذِي سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا قَالَ فَشَقَّ عَلَيْهِ قَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُيِّبْتُ عَنْهُ وَإِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا فِيمَا بَعْدُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَانِي اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا قَالَ فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لَهُ أَنَسٌ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ فَقَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهُ دُونَ أُحُدٍ قَالَ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّی قُتِلَ قَالَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ قَالَ فَقَالَتْ أُخْتُهُ عَمَّتِيَ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا قَالَ فَکَانُوا يُرَوْنَ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ کی خدمت حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایک آدمی غنیمت حاصل کرنے کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی ناموری اور شہرت کے لئے لڑتا ہے تیسرا آدمی جو اپنی شجاعت دکھانے کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون ہے جو اللہ کے راستے میں لڑنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے لڑتا ہے وہی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْکَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَی مَکَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ أَعْلَی فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے جہاد کرتا ہے وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے
ابوبکر بن ابوشیبہ، ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن علاء، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو شجاعت کے لئے لڑتا ہے اور دوسرا تعصب کی بنا پر لڑتا ہے اور تیسرا ریاکاری کے لئے لڑتا ہے ان میں سے کون اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے دین اور کلمہ کی بلندی و عظمت کے لئے لڑتا ہے حقیقتا وہ اللہ کے راستہ میں لڑنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَائً أَيُّ ذَلِکَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
তাহকীক: