আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
قسامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৮২
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث، بشربن خالد، محمد بن ابی عدی، شعبہ، اعمش، ابی وائل، عبداللہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں معنی و مفہوم وہی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ يُقْضَی وَبَعْضُهُمْ قَالَ يُحْکَمُ بَيْنَ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৩
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن حبیب حارثی، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابن سیرین، ابن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت و صورت پر آگیا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا سال میں بارہ ماہ ہیں جن میں چار ماہ محترم و معزز ہیں تین متواتر اور ملے ہوئے ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور مضر کا مہینہ رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے پھر فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھنے والے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہے کہ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے ہم نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے خیال آپ ﷺ اس کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ فرمایا بیشک تمہارے خون اور مال راوی محمد کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسا کہ اس دن کی حرمت اس تمہارے شہر میں اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ میرے بعد تم کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ آ گاہ رہو چاہیے کہ موجود غائب تک پہنچا دے۔ ہوسکتا ہے جس کو یہ بات پہنچائی جائے وہ زیادہ حفاظت و یاد کرنے والا ہو جس سے اس نے سنا پھر فرمایا سنو کیا میں نے (پیغام حق) پہنچا دیا ؟ آ گے روایت کے الفاظ کا اختلاف ذکر کیا ہے کہ ابن حبیب نے کہا اور ابوبکر کی روایت میں (فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي) کے الفاظ ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَيْکُمْ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَيَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي کُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلِّغُهُ يَکُونُ أَوْعَی لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ فِي رِوَايَتِهِ وَرَجَبُ مُضَرَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৪
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
نصر بن علی جہضمی، یزید بن زریع، عبداللہ بن عون، محمد بن سیرین، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب (حجۃ الوداع) کا دن تھا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ نحر کا دن نہیں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر ہی جانتے ہیں راوی کہتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ شہر (مکہ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے امول اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے پس موجود لوگ غائب کو (یہ بات) پہنچا دیں۔ پھر آپ دو سرمئی مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا اور پھر آپ ﷺ بکریوں کے ایک ریوڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَی بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ قَالَ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَی جُزَيْعَةٍ مِنْ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৫
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
محمد بن مثنی، حماد بن مسعدہ، ابن عون، محمد، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اس دن (حجۃ الوداع) جب نبی کریم ﷺ اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی آپ ﷺ کے اونٹ کی لگام پکٹرنے والا تھا۔ باقی حدیث یزید بن زریع کی طرح روایت کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَعِيرٍ قَالَ وَرَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِهِ أَوْ قَالَ بِخِطَامِهِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৬
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، قرہ بن خالد، محمد بن سیرین، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نحر کے دن ارشاد فرمایا تو فرمایا یہ دن کون سا ہے ؟ باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں تمہاری عزت کا لفظ ذکر نہیں کیا اور نہ یہ ذکر کیا کہ پھر آپ ﷺ مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جو اس کے بعد ہے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ (تمہارا خون وغیرہ) اس دن کی حرمت کی طرح ہے۔ اس مہینے میں اور اس شہر میں تمہارے اپنے رب سے ملاقات کے دن تک۔ آگاہ رہو کیا میں نے پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَسَمَّی الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ وَأَعْرَاضَکُمْ وَلَا يَذْکُرُ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৭
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابویونس، سماک بن حرب، علقمہ ابن وائل، حضرت وائل (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھنے والا تھا آدمی آیا جو دوسرے آدمی کو تسمہ سے کھینچتا تھا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اسے قتل کیا ؟ مدعی نے کہا اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں گواہی پیش کروں گا اس نے کہا جی ہاں میں نے اسے قتل کیا ہے آپ ﷺ نے کہا تو نے اسے کس وجہ سے قتل کیا ؟ اس نے کہا میں اور وہ دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلایا میں نے کلہاڑی سے اس کے سر میں ضرب مار کر اسے قتل کردیا تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے اپنی جان کے بدلہ میں ادا کرسکے ؟ اس نے عرض کیا کہ میرے پاس میری چادر اور کلہاڑی کے سوا کوئی چیز نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیری قوم کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ وہ تجھے چھڑا لے گی اس نے عرض کیا میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ آسان ہوں یعنی میری کوئی وقعت نہیں آپ ﷺ نے وہ تسمہ اس یعنی وارث مقتول کی طرف پھینک دیا اور فرمایا کہ اپنے ساتھی کو لے جا وہ آدمی اسے لے کر چلا جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی کی طرح ہوجائے گا وہ آدمی لوٹ آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے یہ بات پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ اسے قتل کرے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا حالانکہ میں نے اسے آپ ﷺ کے ہی حکم سے پکڑا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا اور تیرے ساتھی کا گناہ سمیٹ لے ؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ایسا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا اگر ایسا ہی ہے تو بہت اچھا یہ اسی طرح ہے راوی کہتے ہیں کہ اس نے اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کے راستہ کو کھول دیا یعنی آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتَهُ قَالَ كَيْفَ قَتَلْتَهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ قَالَ مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي وَفَأْسِي قَالَ فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ دُونَكَ صَاحِبَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَعَلَّهُ قَالَ بَلَى قَالَ فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ قَالَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৮
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں
محمد بن حاتم، سعید بن سلیمان، ہشیم، اسماعیل بن سالم، حضرت علقمہ بن وائل (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اور مقتول کا وارث اسے کھینچ کر اس حالت میں لے چلا کہ اس کی گردن میں تسمہ تھا جس سے اسے گھسیٹتا تھا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ پس ایک آدمی وراث مقتول کے پاس آیا اسے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بتایا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا میں نے حبیب بن ثابت (رح) سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ابن اشوع نے یہ حدیث بیان کی نبی کریم ﷺ نے وارث مقتول سے معاف کرنے کا کہا تھا تو اس نے انکار کردیا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَأَتَی رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّی عَنْهُ قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮৯
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بنی ہزیل کی دو عورتوں میں سے ایک عورت نے دوسری کو پھینکا (دھکا دیا) تو اس کا بچہ ضائع ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَی فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯০
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی لحیان کی ایک عورت کے حمل کے بچے میں جو مردہ ضائع ہوگیا تھا رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور خاوند کے لئے ہوگی اور دیت اس کے خاندان پر ہوگی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَی عَصَبَتِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯১
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کی طرف پتھر پھینکا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں تھا ہلاک ہوگئے انہوں (لواحقین) نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے کی دیت میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور عورت کی دیت کا فیصلہ مارنے والی عورت کے خاندان پر دینے کا کیا اور اس کے بیٹے کو اس کا وارث بنایا اور جو ان کے ساتھ ہوں۔ حمل بن نابغہ الہذلی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں اس کا تاوان کیسے ادا کروں ؟ جس نے نہ پیا اور نہ کھایا نہ بولا اور نہ چلایا پس اس طرح کے بچے کی دیت کو ٹالا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اپنی قافیہ بندی والی گفتگو کی وجہ سے کاہنوں کا بھائی ہے
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَی بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَی عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْکُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯২
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ دو عورتیں لڑ پڑیں۔ باقی حدیث گزر گی لیکن اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے بیٹے اور جو ان کے ساتھ ہوں کو وارث بنایا اور کہا کہنے والے نے ہم دیت کیسے ادا کریں اور حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ وَقَالَ فَقَالَ قَائِلٌ کَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِکٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৩
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابراہیم، عبید بن نضیلہ خزاعی، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی سے مارا اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ اس نے اسے ہلاک کردیا اور ان میں سے ایک لحیانیہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے وارثوں پر رکھی اور ایک غلام پیٹ کے بچے کی وجہ سے قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے نہ کھایا اور نہ پیا اور نہ چیخاچلا۔ پس ایسے بچہ کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا یہ دیہاتیوں کی طرح مسجع (بناوٹی) گفتگو کرتا ہے اور ان پر دیت لازم کردی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ضَرَبَتْ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَی فَقَتَلَتْهَا قَالَ وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَکَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ قَالَ وَجَعَلَ عَلَيْهِمْ الدِّيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৪
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، منصور، ابراہیم، عبید ابن نضیلہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی کے ساتھ ہلاک کردیا تو اس مقدمہ میں رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے (قاتلہ) کے خاندان پر دیت کا فیصلہ کیا۔ وہ حاملہ تھی تو آپ ﷺ نے پیٹ کے بچے کا بدلہ ایک غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعض رشتہ داروں نے کہا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نہ کھایا اور پیا اور چیخا نہ چلایا اور اس طرح کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دیہاتوں کی طرح مسجع گفتگو ہے
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی عَلَی عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَکَانَتْ حَامِلًا فَقَضَی فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ قَالَ فَقَالَ سَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৫
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
محمد بن حاتم، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، منصور، جریر، مفضل اسی حدیث کی دوسری اسند ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৬
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور (رض) نے بھی ان اسناد سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ گرائی گئی اور یہ بات نبی ﷺ تک پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے رشتہ داروں کے ذمہ لازم کیا اور اس حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمْ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ فَقَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَی أَوْلِيَائِ الْمَرْأَةِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ دِيَةَ الْمَرْأَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯৭
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابی بکر، اسحاق، وکیع، ہشام بن عروہ، حضرت مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب (رض) نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو مخیرہ بن شعبہ نے کہا میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جو تیرے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔ تو محمد بن مسلمہ (رض) نے ان کی گواہی دی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا قَالَ وَقَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ الْآخَرَانِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَکَ قَالَ فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلمَةَ
তাহকীক: