আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
قسامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৬ টি
হাদীস নং: ৪৩৬২
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب الحارثی، خالد یعنی ابن حارث، ابوکریب، ابن ادریس، شعبہ اسی حدیث مبارکہ کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ابن ادریس کی حدیث میں ہے اس کا سر دو پتھروں کے درمیاں کچلا۔
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৩
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ابی قلابہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یہود سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک لڑکی کو قتل کردیا اس کے کچھ زیورات کی وجہ سے پھر اسے کنوئیں میں ڈال دیا اور اس کا سر پتھروں سے کچل دیا وہ پکڑا گیا۔ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ اس کے مرنے تک اسے پتھر مارے جائیں پس وہ رجم کیا گیا یہاں تک کہ مرگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّی يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّی مَاتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৪
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
اسحاق بن منصور، محمد بن بکر، ابن جریج، معمر، حضرت ایوب سے بھی یہ حدیث اس سند سے روایت کی گئی ہے
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৫
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا تھا لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا فلاں نے یا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ انہوں نے ایک یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا اس یہودی کو گرفتار کیا گیا اس نے اقرار کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے۔
و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِکِ فُلَانٌ فُلَانٌ حَتَّی ذَکَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৬
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، زرارہ، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ایک آدمی سے جھگڑا ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر دانتوں سے کاٹنا چاہا تو اس نے اپنے ہاتھ کو اس کے منہ سے کھینچا جس سے اس کے سامنے کا دانت اکھڑ گیا ابن مثنی نے کہا سامنے کے دونوں دانت۔ انہوں نے اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ایک اس طرح کاٹتا ہے جس طرح اونٹ کاٹتا ہے اس کے لئے دیت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَی بْنُ مُنْيَةَ أَوْ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعَضُّ أَحَدُکُمْ کَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৭
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، عطاء، ابن یعلی، حضرت یعلی (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ اس سند سے بھی روایت کی ہے
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَی عَنْ يَعْلَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৮
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
ابوغسان مسمعی، معاذ یعنی ابن ہشام، ابی قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی کلائی پر کاٹا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو کاٹنے والے کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ اس نے اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے (اس کے دعوی کو) باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کیا تھا۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ فَجَذَبَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهُ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَأْکُلَ لَحْمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৯
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
ابوغسان مسمعی، معاذ بن ہشام، قتادہ، بدیل، عطاء بن ابی رباح، حضرت صفوان بن یعلی (رض) سے روایت ہے کہ یعلی بن مینہ کے مزدور کی کلائی کو ایک آدمی نے کاٹا۔ اس نے کلائی کو کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے۔ اس نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ کیا۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭০
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
احمد بن عثمان نوفلی، قریش بن انس، ابن عون، محمد بن سیرین، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس (دوسرے) کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ (جس کے دانت گرگئے تھے) اس نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو چاہتا ہے کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھے اور تو اسے اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹے اچھا تم اپنا ہاتھ (اس کے منہ میں) رکھو یہاں تک کہ وہ اسے کاٹے پھر تو اسے کھینچ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيکَ تَقْضَمُهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ادْفَعْ يَدَکَ حَتَّی يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭১
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء، صفوان بن یعلی بن منیہ، حضرت یعلی بن منیہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی حاضر ہوا جس نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے یعنی جس نے کاٹا۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے باطل قرار دیا اور فرمایا کیا تم اسے اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭২
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن جریج، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں لڑائی کی اور یعلی کہتے تھے کہ یہی غزوہ ہے کہا کہ صفوان نے کہا یعلی کہتے تھے کہ میرا ایک مزدور تھا وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو کاٹا تو کاٹنے والے کا ایک دانت سامنے والے دو دانتوں میں سے گرگیا وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کے دانت کو بیکار کردیا۔ (یعنی دیت نہیں دلائی)
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ قَالَ وَکَانَ يَعْلَی يَقُولُ تِلْکَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي فَقَالَ عَطَائٌ قَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَی کَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ قَالَ لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَانْتَزَعَ إِحْدَی ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৩
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
عمر بن زرارہ، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ابن جریج (رح) سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৪
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانتوں یا اس کے برابر میں قصاص کے اثبات کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، حماد، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کردیا۔ انہوں نے اس کا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قصاص یعنی بدلہ لیا جائے گا ام ربیع نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا ؟ اللہ کی قسم ! اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ اے ام ربیع بدلہ لینا اللہ کی کتاب (کا حکم) ہے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم اس سے کبھی بدلہ نہ لیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ مسلسل اسی طرح کہتی رہی۔ یہاں تک کہ ورثاء نے دیت قبول کرلی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ کِتَابُ اللَّهِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৫
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین کے علاوہ کسی ایسے مسلمان مرد کا خون بہانا جائز نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایک شادی شدہ زانی، دوسرا جان کے بدلے جان اور دین کو چھوڑنے والا اور جماعت میں تفریق ڈالنے والا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَی ثَلَاثٍ الثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৬
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
ابن نمیر، ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৭
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
احمد بن حنبل، محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو مسلمان مرد گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون حلال نہیں سوائے تین آدمیوں کے ایک اسلام کو چھوڑنے والا جماعت میں تفریق ڈالنے والا دوسرا شادی شدہ زنا کرنے والا اور تیسرا جان کے بدلے جان حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے بھی اسی طرح یہ حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ التَّارِکُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ أَوْ الْجَمَاعَةَ شَکَّ فِيهِ أَحْمَدُ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৮
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حجاج بن شاعر، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اعمش اسی حدیث کی اور سند ذکر کی ہے لیکن اس میں نبی کریم ﷺ کا قول اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں مذکور نہیں ہے۔
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৯
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی نفس ظلما قتل کیا جاتا ہے تو اس کے گناہ کا ایک حصہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر بھی ڈالا جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا ہے جس نے قتل کی ابتداء کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮০
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر، سفیان، اعمش اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں لیکن ان میں قتل کی ابتداء کا ذکر ہے پہلے ہونے کو نہیں بیان کیا گیا۔
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَی بْنِ يُونُسَ لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ لَمْ يَذْکُرَا أَوَّلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮১
قسامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، وکیع، اعمش، ابی وائل، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَائِ
তাহকীক: