আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬০৮ টি

হাদীস নং: ২৯৩১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، غندر، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان مولیٰ عائشہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے چار یا پانچ دن گزرے تھے کہ غصہ حالت میں میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کو کس نے ناراض کیا ہے ؟ اللہ اس کو دوزخ میں داخل کرے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ لوگ اس میں تردد کر رہے ہیں حکم راوی کہتے ہیں گویا کہ وہ لوگ تردد میں ہیں اور میں گمان کرتا ہوں کہ اگر مجھے میرے معاملہ کا پہلے علم ہوجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا یہاں تک کہ میں قربانی کا جانور خریدتا پھر میں حلال ہوتا جس طرح کہ وہ حلال ہوئے احرام کھولا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ قَالَ أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ قَالَ الْحَکَمُ کَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ أَحْسِبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّی أَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَحِلُّ کَمَا حَلُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ذی الحجہ کے چار پانچ دن گزرے ہوں گے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے حدیث اسی طرح سے ہے۔
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الشَّکَّ مِنْ الْحَکَمِ فِي قَوْلِهِ يَتَرَدَّدُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبیداللہ بن طاؤس، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور مکہ آگئیں اور ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہوگئیں تو پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ کر حج کے تمام مناسک ادا کئے تو نبی ﷺ نے واپسی والے دن حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا کہ تیرا طواف تیرے حج اور عمرہ کے لئے کافی ہوجائے گا تو حضرت عائشہ (رض) نے انکار کیا اس کو مناسب نہ سمجھا تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کو حضرت عبدالرحمن (رض) کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ ادا کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَاضَتْ فَنَسَکَتْ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ يَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، زید بن حباب، ابراہیم بن نافع، عبداللہ بن ابی نجیح، مجاہد، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ سرف کے مقام پر حائضہ ہوگئیں اور عرفہ کے دن حیض سے پاک ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا کہ صفا اور مروہ کا طواف تیرے حج اور تیرے عمرہ کے طواف سے کفایت کر جائے گا۔
و حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْکِ طَوَافُکِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ، صفیہ، بنت شیبہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا لوگ دو اجر لے کر واپس لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر واپس لوٹوں گی تو آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر (رض) کو حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ (رض) کو تنعیم لے کر چلیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے پیچھے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں اپنے دو پٹے کو اپنی گردن سے ہٹاتی تو وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے میں نے ان سے کہا کہ کیا تم کسی کو دیکھ رہے ہو ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم واپس آئے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس وادی حصبہ میں پہنچ گئے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَی التَّنْعِيمِ قَالَتْ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَالَتْ فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ قُلْتُ لَهُ وَهَلْ تَرَی مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، سفیان، عمرو، عمرو بن اوس، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کو تنعیم سے عمرہ کروا لائیں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنْ التَّنْعِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، قتیبہ، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا اور حضرت عائشہ (رض) عمرہ کا احرام باندھ کر گئیں یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو حضرت عائشہ (رض) حیض میں مبتلا ہوگئیں تو جب ہم مکہ آگئے اور ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم میں سے جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے یعنی احرام کھول دے ہم نے عرض کیا کہ حلال ہونے کا کیا مطلب ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ سارا حلال ہوجائے تو ہم اپنی عورتوں سے ہمبستر ہوئے اور ہم نے خوشبو لگائی اور ہم نے سلے ہوئے کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں پھر ہم نے یوم ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے حج کا احرام باندھ لیا پھر رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئے تو ان کو روتا ہوا پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا ؟ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال ہوگئے اور میں حلال نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے غسل کر پھر حج کا احرام باندھ تو حضرت عائشہ (رض) نے اسی طرح کیا اور تمام ٹھہرنے کی جگہوں پر ٹھہریں یہاں تک کہ جب وہ پاک ہوگئیں تو حضرت عائشہ (رض) نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے حج اور عمرہ سے حلال ہوگئی ہو۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کی کہ میں اپنے جی میں یہ بات محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن عائشہ (رض) کو لے جاؤ اور ان کو تنعیم سے عمرہ کراؤ اور یہ وادی محصب کی رات کی بات ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْکِي فَقَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الْآنَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِکَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابن حاتم، عبد، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے کہ وہ رو رہی تھیں پھر اس سے آگے آخر تک اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْکِي فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَی آخِرِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوغسان مسمعی، معاذ ابن ہشام، مطر، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے نبی ﷺ کے ساتھ حج وعمرہ کا احرام باندھا پھر اس کے بعد لیث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں یہ زائد ہے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نرم دل آدمی تھے حضرت عائشہ (رض) جب بھی آپ ﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ کرتیں تو آپ ﷺ اسے پورا فرما دیتے آپ ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے آپ کو تنعیم سے احرام بندھوا کر عمرہ کرایا ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جس طرح انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتْ الشَّيْئَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنْ التَّنْعِيمِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے جبکہ عورتیں اور بچے بھی ہمارے ساتھ تھے جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ جس آدمی کے پاس ہدی قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ حلال کیسے ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کلی طور پر حلال ہوجاؤ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنی عورتوں سے مقاربت کی اور سلے ہوئے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی پھر جب ترویہ کا دن ہوا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور ہمیں صفا مروہ کا پہلا طواف ہی کافی ہوگیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ اونٹ اور گائے کی قربانی میں ہم میں سے سات آدمی شریک ہوجائیں یعنی سات آدمی مل کر ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی کریں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَائَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَکَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِکَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ جب ہم حلال ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم احرام باندھ کر منیٰ جائیں حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں جبکہ ہم نے ابطح کے مقام سے احرام باندھا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَی مِنًی قَالَ فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْأَبْطَحِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عبد بن حمید، محمد بن بکر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے طواف کیا اور نہ ہی آپ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کیا مگر ایک ہی طواف کیا محمد بن بکر کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ پہلے والا طواف کیا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا زَادَ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ تشریف لائے اور ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں احرام کھول دیں عطاء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم حلال ہوجاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ عطاء کہتے ہیں کہ یہ حکم ان پر ضروری نہ تھا لیکن ان کی بیویاں ان کے لئے حلال ہوگئی تھیں ہم نے کہا کہ اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ نے ہمیں اپنی بیویوں سے مقاربت کا حکم فرمایا تو کیا ہم اس حال میں عرفہ میں آئیں گے کہ ہم سے مقاربت کے اثرات ظاہر ہو رہے ہوں گے عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر (رض) یہ کہتے ہوئے اٹھے ہاتھوں کو ہلا رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میں نے ہدی نہ بھیجی ہوتی تو میں بھی حلال ہوجاتا جیسا کہ تم حلال ہوئے ہو۔ اور اگر میں اس معاملہ کی طرف پہلے متوجہ ہوجاتا جس طرف بعد میں متوجہ ہوا تو میں ہدی ہی نہ بھیجتا اب تم حلال ہوجاؤ تو ہم نے اطاعت کی عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ حضرت علی صدقات وغیرہ وصول کر کے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ اپنی ہدی بھیج دو اور احرام کی حالت میں ٹھہرے رہو راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) آپ ﷺ کے لئے ہدی لائے سراقہ بن مالک بن جعثم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم صرف اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَائٌ قَالَ حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَائَ قَالَ عَطَائٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَکِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَکُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَی نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاکِيرُنَا الْمَنِيَّ قَالَ يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحَرِّکُهَا قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ فَحِلُّوا فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدِ وَامْکُثْ حَرَامًا قَالَ وَأَهْدَی لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَقَالَ لِأَبَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے حج کا احرام باندھا تو جب ہم مکہ میں آگئے تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں اور اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل لیں تو یہ بات ہم کو دشوار لگی اور ہم نے اپنے سینوں میں تنگی محسوس کی یہ بات نبی ﷺ تک پہنچ گئی ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ تک یہ بات کیسے پہنچی ؟ آسمان سے یا لوگوں میں سے کسی نے آپ ﷺ تک یہ بات پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! تم حلال ہوجاؤ احرام کھول دو اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح کہ تم نے کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا اور وہ سارے کام کئے جو ایک حلال کرتا ہے یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آیا یعنی ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو ہم نے مکہ سے پشت پھیری اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَکَبُرَ ذَلِکَ عَلَيْنَا وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَدْرِي أَشَيْئٌ بَلَغَهُ مِنْ السَّمَائِ أَمْ شَيْئٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْتُمْ قَالَ فَأَحْلَلْنَا حَتَّی وَطِئْنَا النِّسَائَ وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَکَّةَ بِظَهْرٍ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابن نمیر، ابونعیم، حضرت موسیٰ بن نافع کہتے ہیں کہ میں عمرہ کے احرام سے تمتع کا احرام کر کے ذی الحجہ کی آٹھ یوم ترویہ سے چار دن پہلے مکہ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ اب تمہارا حج مکہ والوں کے حج کی طرح ہوجائے گا میں عطاء بن ابی رباح کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو عطاء نے کہا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے جس سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا اسی سال آپ ﷺ کی ہدی آپ ﷺ کے ساتھ تھی اور کچھ صحابہ نے حج افراد کا احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایسے احرام سے حلال ہوجاؤ اور تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور بال کٹواؤ اور حلال ہو کر رہو یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آٹھ ذی الحجہ ہوگا تو تم حج کا احرام باندھ لینا اور اپنے پہلے والے احرام کو تمتع کرلو لوگوں نے عرض کیا کہ ہم اسے تمتع کیسے کریں اور ہم نے تو حج کی نیت کی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اور میں اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے تب انہوں نے اسی طرح کرلیا۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ نَافِعٍ قَالَ قَدِمْتُ مَکَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ النَّاسُ تَصِيرُ حَجَّتُکَ الْآنَ مَکِّيَّةً فَدَخَلْتُ عَلَی عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ عَطَائٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِکُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً قَالُوا کَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ قَالَ افْعَلُوا مَا آمُرُکُمْ بِهِ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّی يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن معمر بن ربعی قیسی، ابوہشام مغیرہ، ابن سلمہ مخزومی، ابی عوانہ، ابی بشر، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں اور ہم حلال ہوجائیں عمرہ کرکے احرام کھولتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اس لئے آپ ﷺ اپنے اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام نہ کرسکے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ قَالَ وَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت ابونضرہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ حضرت ابن عباس (رض) ہمیں حج تمتع کرنے کا حکم فرماتے تھے اور حضرت ابن زیبر حج تمتع سے منع فرماتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث تو میرے ہی ہاتھوں سے لوگوں میں پھیلی ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے تو جب حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے خلیفہ بنے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لئے جو چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے حلال کرتا ہے اور قرآن مجید نے اس کے احکام نازل فرمائے ہیں کہ تم حج اور عمرہ پورا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور ان عورتوں سے نکاح کرو تو کوئی آدمی ایسا نہ لایا جائے جس نے ایک عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کیا ہو (متعہ) ورنہ میں پتھروں کے ساتھ مار مار کر اس کو رجم کر دوں گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ وَکَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَی عَنْهَا قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَی يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَائَ بِمَا شَائَ وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَ أَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ وَأَبِتُّوا نِکَاحَ هَذِهِ النِّسَائِ فَلَنْ أُوتَی بِرَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَةً إِلَی أَجَلٍ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں
زہیر بن حرب، عفان، ہمام، قتادہ، حضرت قتادہ (رض) نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے جس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے حج کو اپنے عمرہ سے علیحدہ کرو کیونکہ اس سے تمہارا حج بھی پورا ہوجائے گا اور تمہارا عمرہ بھی پورا ہوگا۔
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَافْصِلُوا حَجَّکُمْ مِنْ عُمْرَتِکُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّکُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں
خلف بن ہشام، ابوربیع، قتیبہ، حماد، حماد بن زید، ایوب، مجاہد، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے اس حال میں کہ ہم حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے حج کا احرام باندھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں۔
و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ لَبَّيْکَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے حج کی کیفیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم، ابوبکر، حاتم بن اسماعیل مدنی، حضرت جعفر بن محمد (رض) نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس گئے تو انہوں نے ہم لوگوں کے بارے میں پوچھا یہاں تک کہ میری طرف متوجہ ہوئے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی بن حسین (رض) ہوں تو حضرت جابر (رض) نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور انہوں نے میری قمیص کا سب سے اوپر والا بٹن کھولا پھر نیچے والا بٹن کھولا پھر حضرت جابر (رض) نے اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان میں رکھی اور میں ان دنوں ایک نوجوان لڑکا تھا تو حضرت جابر (رض) نے فرمایا اے میرے بھتیجے خوش آمدید جو چاہے تو مجھ سے پوچھ تو میں نے حضرت جابر (رض) سے پوچھا اور حضرت جابر نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت بھی آگیا تو حضرت جابر (رض) ایک چادر اوڑھے ہوئے کھڑے ہوگئے جب بھی اپنی اس چادر کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر رکھتے تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے دو کنارے نیچے گرجاتے اور ان کے بائیں طرف ایک کھونٹی کے ساتھ ایک چادر لٹکی ہوئی تھی حضرت جابر (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی پھر میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں خبر دیں پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے نو کا اشارہ کیا اور فرمانے لگے کہ نبی ﷺ نو سال تک مدینہ میں رہے اور آپ ﷺ نے حج نہیں فرمایا پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کرنے والے ہیں چناچہ مدینہ منورہ سے بہت لوگ آگئے اور وہ سارے کے سارے اس بات کے متلاشی تھے کہ آپ ﷺ کے ساتھ حج کے لئے جائیں تاکہ وہ آپ ﷺ کے اعمال حج کی طرح اعمال کریں۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے جب ہم ذوالحلیفہ آئے تو حضرت اسماء بنت عمیس (رض) کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی حضرت اسماء (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں اب کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم غسل کرو اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر اپنا احرام باندھ لو تو رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی پھر قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی اونٹنی بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوگئی تو میں نے انتہائی نظر تک اپنے سامنے دیکھا تو مجھے سواری پر اور پیدل چلتے ہوئے لوگ نظر آئے اور میرے دائیں بائیں اور پیدل چلتے ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ تھے اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تھا جس کی مراد آپ ﷺ ہی زیادہ جانتے تھے اور آپ ﷺ جو عمل کرتے تھے تو ہم بھی وہی عمل کرتے تھے اور آپ ﷺ نے توحید کے ساتھ تلبیہ کے کلمات پر اضافہ پڑھا ( لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ ) اور لوگوں نے بھی اسی طرح پڑھا اور رسول اللہ ﷺ نے ان تلبیہ کے کلمات پر اضافہ نہیں فرمایا اور رسول اللہ ﷺ یہی تلبیہ کے کلمات پڑھتے رہے حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف حج کی نیت کی تھی اور ہم عمرہ کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ آئے تو آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام فرمایا اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلے پھر آپ ﷺ مقام ابراہیم کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی) 2 ۔ البقرۃ : 125) اور تم بناؤ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ، پھر آپ ﷺ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کیا آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ ) پڑھی پھر آپ ﷺ حجر اسود کی طرف آئے اور اس کا استلام کیا پھر آپ ﷺ دروازہ سے صفا کی طرف نکلے تو جب آپ ﷺ صفا کے قریب ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں وہاں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے پھر آپ ﷺ نے صفا سے آغاز فرمایا اور صفا پر چڑھے آپ ﷺ نے بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ کی توحید اور اس کی بڑائی بیان کی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی ملک ہے اور اسی کے لئے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے اکیلے سارے لشکروں کو شکست دی پھر آپ ﷺ نے دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح فرمایا پھر آپ ﷺ مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے قدم مبارک بطن وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ دوڑے یہاں تک کہ ہم بھی چڑھ گئے اور پھر آہستہ چلے یہاں تک کہ مروہ پر آگئے اور مروہ پر بھی اسی طرح کیا جس طرح کہ صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں اس طرف پہلے متوجہ ہوجاتا جس طرف کہ بعد میں متوجہ ہوا ہوں تو میں ہدی نہ بھیجتا اور میں اس احرام کو عمرہ کا احرام کردیتا تو تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے اور اسے عمرہ کے احرام میں بدل لے تو سراقہ بن جعثم کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے دو مرتبہ نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور حضرت علی (رض) یمن سے نبی ﷺ کا اونٹ لے کر آئے تو انہوں نے حضرت فاطمہ (رض) کو بھی انہیں میں پایا جو کہ حلال ہوگئے، احرام کھول دیا ہے اور حضرت فاطمہ (رض) نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے تو حضرت علی (رض) نے ان پر اعتراض فرمایا تو حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا کہ مجھے میرے ابا نے اس کا حکم دیا راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) عراق میں یہ کہہ رہے تھے کہ میں حضرت فاطمہ (رض) کے احرام کھولنے کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا اور فاطمہ (رض) نے جو کچھ مجھے بتایا اس کی خبر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دی اور اپنے اعتراض کرنے کا بھی ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (حضرت) فاطمہ نے سچ کہا سچ کہا جس وقت تم نے حج کا ارادہ کیا تھا تو کیا کہا تھا ؟ حضرت علی (رض) نے کہا کہ میں نے کہا اے اللہ میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں کہ جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تو ہدی ہے تو تم حلال نہ ہونا راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) یمن سے جو اونٹ لے کر آئے تھے اور جو اونٹ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے سارے جمع کر کے سو اونٹ ہوگئے تھے راوی کہتے ہیں کہ پھر سب لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے بال کٹوالئے سوائے نبی ﷺ کے اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی تو جب ترویہ کا دن ہوا آٹھ ذی الحجہ تو انہوں نے منیٰ کی طرف جا کر حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے اور آپ ﷺ نے منٰی میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ نے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمہ کو نمرہ کے مقام پر لگانے کا حکم فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ چلے اور قریش کو اس بات کا یقین تھا کہ آپ ﷺ مشعر حرام کے پاس ٹھہریں گے جس طرح کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں کرتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ تیار ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں آگئے وہاں آپ ﷺ نے نمرہ کے مقام پر اپنا لگا ہوا خیمہ پایا آپ ﷺ اس خیمے میں ٹھہرے یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا پھر آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کو تیار کرنے کا حکم فرمایا اور بطن وادی میں آکر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہیں آگاہ رہو کہ جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے ہر چیز میرے قدموں کے نیچے پامال ہے اور جاہلیت کے زمانہ کے خون معاف کرتا ہوں اور وہ خون ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جب کہ نبو سعد دودھ پیتا بچہ تھا جسے ہذیل نے بنو سعد سے جنگ کے دوران قتل کردیا تھا اور جاہلیت کے زمانہ کا سود بھی پامال کردیا گیا ہے اور میں اپنے سود میں سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتا ہوں تم لوگ عورتوں کے حقوق ادا کرنے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرم گاہوں کو حلال سمجھا ہے اور تمہارے لئے ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے کسی آدمی کو نہ آئے دیں کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ اس طرح کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو مگر ایسی مار کہ ان کو چوٹ نہ لگے اور ان عورتوں کا تم پر بھی حق ہے کہ تم انہیں حسب استطاعت کھانا پینا اور لباس دو اور میں تم میں ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور تم لوگ اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں اللہ کے احکام کی تبلیغ کردی اور آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا اور آپ ﷺ نے خیر خواہی کی یہ سن آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اور لوگوں کی طرف منہ موڑتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! گواہ رہنا، اے اللہ ! گواہ رہنا، گواہ رہنا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے پھر اذان اور اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت ہوئی تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان اور کوئی نفل وسنن وغیرہ نہیں پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر موقف میں آئے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کا پیٹ پتھروں کی طرف کردیا جو کہ جبل رحمت کے دامن میں بچھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ حبل المشاہ کو سامنے لے کر قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ دیر تک کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور کچھ زردی جاتی رہی یہاں تک کہ ٹکیہ غروب ہوگئی۔ اس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ (رض) کو اپنے پیچھے اونٹنی پر سوار کیا اور آپ ﷺ چل پڑے اور اونٹنی قصویٰ کی مہار اتنی کھنچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوے کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا اور آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے اے لوگو آہستہ آہستہ چلو اور جب کوئی پہاڑ کا ٹیلہ آجاتا تو مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تھے تاکہ اونٹنی آسانی سے اوپر چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ آگیا تو یہاں آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل وغیرہ نہیں پڑھے پھر رسول اللہ ﷺ آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور جس وقت کہ صبح ظاہر ہوئی تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ قصویٰ اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے اور قبلے کی طرف رخ کر کے دعا، تکبیر اور تہلیل و توحید میں مصروف رہے دیر تک وہاں کھڑے رہے جب خوب اجالا ہوگیا تو آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس (رض) کو اپنے پیچھے سوار کیا اور طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے حضرت فضل بن عباس خوبصورت بالوں والے اور گورے رنگ والے ایک خوبصورت آدمی تھے رسول اللہ ﷺ جب انہیں ساتھ لے کر چلے تو کچھ عورتوں کی سواریاں بھی چلتی ہوئی انہیں ملیں تو فضل ان کی طرف دیکھنے لگے آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک فضل کے چہر پر رکھ کر ادھر سے چہرہ پھیر دیا فضل دوسری طرف بھی عورتوں کی سواریاں دیکھنے لگے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرف سے بھی فضل کا چہرہ پھیر دیا یہاں تک کہ وادی محسر میں پہنچ گئے آپ ﷺ نے اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور اس درمیانی راستہ سے چلنا شروع کیا کہ جو جمرہ کبری کی طرف جانکلتا ہے یہاں تک کہ درخت کے پاس جو جمرہ ہے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر فرمایا اور آپ ﷺ نے ہر کنکری وادی کے اندر سے شہادت والی انگلی کے اشارہ سے ماری جیسے چٹکی سے پکڑ کر کوئی چیز پھینکی جاتی ہے پھر آپ ﷺ قربان گاہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے تریسٹھ اونٹ قربان کئے (ذبح کئے) پھر حضرت علی (رض) کو برچھا عطا فرمایا اور انہوں نے باقی قربانیاں ذبح کیں آپ ﷺ نے اپنی قربانیوں میں حضرت علی (رض) کو شریک کرلیا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے ہر جانور میں سے ایک ایک بوٹی کٹوا کر ہانڈی میں پکوائی جائے پھر آپ ﷺ اور علی (رض) نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور شوربہ بھی پیا پھر نبی ﷺ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے طواف افاضہ فرمایا اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر بنو عبدالمطلب کے پاس آئے جو کہ زم زم پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پانی پلا رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالمطلب کے خاندان والو ! پانی زم زم سے کھینچتے رہو اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے اس پانی پلانے کی خدمت پر غالب آجائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا تو لوگوں نے آپ ﷺ کو ایک ڈول پانی کا دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ حَاتِمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْمَدَنِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّی انْتَهَی إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَأَهْوَی بِيَدِهِ إِلَی رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَی ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَی وَحَضَرَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا کُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَی مَنْکِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَی جَنْبِهِ عَلَی الْمِشْجَبِ فَصَلَّی بِنَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ کَثِيرٌ کُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّی أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَی الْبَيْدَائِ نَظَرْتُ إِلَی مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْئٍ عَمِلْنَا بِهِ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّی إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَکَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَکَرَهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الرُّکْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَی الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّی رَأَی الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَکَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِکَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَةِ حَتَّی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَی حَتَّی إِذَا صَعِدَتَا مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَی الْمَرْوَةِ کَمَا فَعَلَ عَلَی الصَّفَا حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَی الْمَرْوَةِ فَقَالَ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَی وَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدٍ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا قَالَ فَکَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَی فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَکَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْکَرْتُ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُکَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ قَالَ فَکَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَی بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَی مِنًی فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَکَثَ قَلِيلًا حَتَّی طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُکُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ کَمَا کَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّی إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَيْکُمْ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَائُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ کُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَائِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِکَلِمَةِ اللَّهِ وَلَکُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَکُمْ أَحَدًا تَکْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِکَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْکُمْ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَکْتُ فِيکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنْ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ کِتَابُ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَی السَّمَائِ وَيَنْکُتُهَا إِلَی النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَائِ إِلَی الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّی غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَائِ الزِّمَامَ حَتَّی إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِکَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَی أَيُّهَا النَّاسُ السَّکِينَةَ السَّکِينَةَ کُلَّمَا أَتَی حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَی لَهَا قَلِيلًا حَتَّی تَصْعَدَ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّی بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّی الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَکَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ ظُعُنٌ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ عَلَی وَجْهِ الْفَضْلِ يَصْرِفُ وَجْهَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّی أَتَی بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّکَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَکَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَی الَّتِي تَخْرُجُ عَلَی الْجَمْرَةِ الْکُبْرَی حَتَّی أَتَی الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ رَمَی مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَکَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَکَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَی الْبَيْتِ فَصَلَّی بِمَکَّةَ الظُّهْرَ فَأَتَی بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَکُمْ النَّاسُ عَلَی سِقَايَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক: