আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬০৮ টি

হাদীস নং: ২৯১১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے لئے نکلے تو ہم میں سے کسی نے عمرہ کا احرام باندھا اور کسی نے حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی ساتھ نہیں لایا تو وہ حلال ہوجائے احرام کھول دے اور قربانی کر اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی ساتھ لایا ہے تو وہ حلال نہ ہو احرام نہ کھولے جب تک کہ اپنی قربانی ذبح نہ کرلے اور جس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے حج کو پورا کرلے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی اور حالت حیض میں رہی یہاں تک کہ عرفہ کا دن آگیا اور میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے سر کے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور میں حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ کو چھوڑ دوں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ جب میں حج سے فارغ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) میرے بھائی کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا کہ میں مقام تنعیم سے عمرہ کروں اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں جسے میں نے حائضہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا اور اس عمرہ کا احرام کھولنے سے پہلے میں نے حج کا احرام باندھ لیا تھا۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ حَتَّی قَدِمْنَا مَکَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَی فَلَا يَحِلُّ حَتَّی يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّی کَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُکَ الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنْ التَّنْعِيمِ مَکَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَدْرَکَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ حجہ الوداع والے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور میں قربانی کا جانور نہیں لائی تھی نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس قربانی کا جانور ہو تو وہ اپنے عمرہ کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہوجائے عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو اب میں اپنا حج کیسے کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے سر کے بال کھول ڈال اور کنگھی کر اور عمرہ کی ادائیگی سے رک جا اور حج کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب میں اپنے حج سے فارغ ہوگئی تو آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کو حکم فرمایا تو انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کرایا اور یہ میرے اس عمرہ کی جگہ تھا جسے میں نے چھوڑ دیا تھا۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَتْ فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَکَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي قَالَ انْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِکِي عَنْ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَکَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَکْتُ عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا ارادہ ہو کہ وہ حج کا احرام باندھے تو وہ حج کا احرام باندھ لے اور جس کا ارادہ ہو عمرہ کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا اور لوگوں (صحابہ (رض) نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھا اور کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا اور کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا اور میں ان لوگوں میں سے تھی کہ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ وَکُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے لئے ذی الحجہ کے چاند کے مطابق نکلے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا ارادہ ہو کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے تو وہ احرام باندھ لے اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ نے عمرہ کا احرام باندھا اور ان میں سے کچھ نے حج کا احرام باندھا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں ان میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آگئے تو میں نے عرفہ کا دن اس حال میں پایا کہ میں حائضہ تھی اور میں اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئی تھی تو میں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے عمرہ کو چھوڑ دے اور اپنے سر کے بال کھول ڈال اور کنگھی کر اور حج کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے اسی طرح کیا تو جب کنکریوں کی رات ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج کو پوار کردیا تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ عبدالرحمن بن ابوبکر (رض) میرے بھائی کو بھیجا انہوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کیا اور تنعیم کی طرف نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ کو پورا فرما دیا اور اس میں نہ کوئی قربانی کا جانور تھا اور نہ ہی کوئی صدقہ اور نہ کوئی روزہ تھا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَکَانَ مِنْ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ قَالَتْ فَکُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّی قَدِمْنَا مَکَّةَ فَأَدْرَکَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعِي عُمْرَتَکِ وَانْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَی اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَی اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَکُنْ فِي ذَلِکَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم حج کرنے کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو پسند کرتا ہو کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے تو وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور اس سے آگے حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزری۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ لَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوکریب، وکیع، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ذی الحجہ کے چاند کے مطابق نکلے ہم میں سے کچھ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور کچھ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اس سے آگے حدیث اسی طرح سے ہے جس طرح گزری اس سلسلہ میں عروہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ (رض) کے حج اور ان کے عمرہ دونوں کو پورا فرما دیا ہشام نے کہا کہ اس میں قربانی واجب ہوئی نہ روزہ اور نہ صدقہ واجب ہوا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ فَکُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا و قَالَ فِيهِ قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِکَ إِنَّهُ قَضَی اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَکُنْ فِي ذَلِکَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی اسود، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہ الوادع کے سال نکلے تو ہم میں سے کچھ نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہوا تھا تو جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا وہ تو حلال ہوگئے احرام کھول دیا اور جنہوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا تو وہ یوم النحر قربانی والے دن سے پہلے حلال نہیں ہوئے احرام نہیں کھولے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا حج کے سوا کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں تک کہ جب سرف کے مقام پر یا اس کے قریب پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو حائضہ ہوگئی ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے تو تو حج کے مناسک ادا کر سوائے اس کے کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر جب تک کہ تو غسل نہ کرلے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ أَنَفِسْتِ يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَغْتَسِلِي قَالَتْ وَضَحَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
سلیمان بن عبیداللہ ابوایوب غیلانی ابوعامرعبدالملک بن عمرو عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون عبدالرحمن بن قاسم سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم سوائے حج کے اور کوئی ذکر نہیں کر رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو میں حائضہ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم ! کاش کہ میں اس سال نہ نکلتی آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہوا ؟ شاید کہ تو حائضہ ہوگئی ہے ؟ میں نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو وہ چیز ہے کہ جسے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے تم اسی طرح کرو جس طرح حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا جب تک کہ تو پاک نہ ہوجائے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم مکہ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا کہ تم اپنے احرام کو عمرہ کا احرام کر ڈالو تو پھر وہ لوگ تو حلال ہوگئے کہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ، حضرت ابوبکر (رض) عمر (رض) اور دیگر مالدار لوگوں کے پاس قربانی کے جانور تھے پھر جس وقت وہ چلے تو انہوں نے احرام باندھ لیا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب یوم النحر کا دن ہوا تو میں پاک ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں طواف افاضہ کرلوں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر ہمیں گائے کا گوشت دیا گیا میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی ازواج مطہرات (رض) کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ تو جب محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگ تو حج اور عمرہ کرکے واپس لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے واپس لوٹوں گی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کو حکم فرمایا تو وہ مجھے اپنے اونٹ پر بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں ان دنوں ایک کم عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آجاتی تو پالان کی پچھلی لکڑی میرے چہرے کو لگتی تھی یہاں تک کہ ہم تنعیم کی طرف آگئے تو میں نے اس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور یہ عمرہ اس عمرہ کے بدلہ میں تھا جو لوگوں نے کیا تھا
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّی جِئْنَا سَرِفَ فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ قَالَ مَا لَکِ لَعَلَّکِ نَفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَذَا شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَطْهُرِي قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْتُ مَکَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ فَکَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ قَالَتْ فَأُتِيَنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا أَهْدَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَی جَمَلِهِ قَالَتْ فَإِنِّي لَأَذْکُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ حَتَّی جِئْنَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَائً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوایوب بن غیلانی، بہز، حماد، عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا (حج کا احرام باندھا) یہاں تک کہ جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو میں حائضہ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے جبکہ میں رو ہی تھی آگے حدیث پچھلی حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ حماد کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) اور دوسرے صاحب ثروت صحابہ (رض) کے پاس قربانی کا جانور تھا اور نہ ہی حضرت عائشہ کا قول ہے کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور اونگھنے لگتی تھی جس کی وجہ سے میرے چہرے پر کجاوے کی پچھلی لکڑی لگ جاتی تھی۔
و حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ فَکَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلَا قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
اسماعیل بن ابی اویس، مالک بن انس، یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي خَالِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن سلیمان، افلح بن حمید، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حج کے مہینوں میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو آپ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف آئے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور وہ پسند کرتا ہو کہ اپنے اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل لے تو وہ ایسے کرلے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ اس طرح نہ کرے تو ان میں سے کچھ نے اس پر عمل کیا اور کچھ نے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس قربانی کا جانور تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے جو آدمی اس کی طاقت رکھتے تھے ان کے پاس بھی ہدی تھی رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! تم کس وجہ سے رو رہی ہو میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جو فرمایا میں نے سن لیا اور میں نے عمرہ کے بارے میں سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس سے کیا غرض ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نماز نہ پڑھ سکوں گی آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا تم اپنے حج میں رہو شاید کہ اللہ تمہیں عمرہ کی توفیق عطا فرما دے اور بات دراصل یہ ہے کہ تم حضرت آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں میں سے ہو اللہ نے تمہارے لئے بھی وہی مقدر کیا ہے جو دوسری عورتوں کے لئے مقدر کیا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں اپنے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے نکلی یہاں تک کہ جب ہم منیٰ پہنچ گئے تو میں وہاں پاک ہوگئی پھر ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ وادی محصب میں اترے تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کو بلایا اور فرمایا کہ اپنی بہن کے ساتھ حرم سے نکلو تاکہ یہ عمرہ کا احرام باندھ لیں پھر بیت اللہ کا طواف کریں اور میں یہاں تم دونوں کا انتظار کر رہا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نکلے میں نے احرام باندھا پھر میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کا طواف (سعی) کی پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے درمیانی حصہ میں آپ ﷺ کی جگہ میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم فارغ ہوگئی ہو ؟ میں نے عرض کیا ہاں پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) کو یہاں سے کوچ کرنے کی اجارت عطا فرمائی تو آپ ﷺ نکلے اور جب بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ ﷺ مدینہ کی طرف نکلے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّی نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ مِنْکُمْ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا فَمِنْهُمْ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِکُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ قُلْتُ سَمِعْتُ کَلَامَکَ مَعَ أَصْحَابِکَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ قَالَ وَمَا لَکِ قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ فَلَا يَضُرُّکِ فَکُونِي فِي حَجِّکِ فَعَسَی اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَکِيهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ کَتَبَ اللَّهُ عَلَيْکِ مَا کَتَبَ عَلَيْهِنَّ قَالَتْ فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّی نَزَلْنَا مِنًی فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ اخْرُجْ بِأُخْتِکَ مِنْ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُکُمَا هَا هُنَا قَالَتْ فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ هَلْ فَرَغْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، عباد بن عباد مہلبی، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم میں سے کچھ نے حج افراد کا احرام باندھا اور کچھ نے حج قران کا اور کچھ نے حج تمتع کا احرام باندھا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، حضرت قاسم بن محمد (رض) نے فرمایا کہ حضرت عائشہ (رض) حج کا احرام باندھ کر آئی تھیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ جَائَتْ عَائِشَةُ حَاجَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان یعنی ابن بلال، یحییٰ ابن سعید، حضرت عمرۃ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ماہ ذی قعدہ سے ابھی پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا حج کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے بعد حلال ہوجائے احرام کھول دے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قربانی کے دن ہماری طرف گائے کا گوشت آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو مجھے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ازواج مطہرات کی طرف سے گائے ذبح کی ہے یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم تو نے یہ حدیث بالکل اسی طرح بیان کی ہے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّی إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَکَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ يَحْيَی فَذَکَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْکَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَی وَجْهِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، حضرت یحییٰ بن سعید سے اس سند کی ساتھ اسی حدیث کی طرح نقل کی گئی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، ابن عون، ابراہیم، اسود، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! لوگ تو دو مناسک حج اور عمرہ کر کے واپس ہوں گے اور میں ایک ہی مناسک کر کے لوٹوں گی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو انتظار کر اور جب تو پاک ہوجائے گی تو تنعیم کی طرف نکل اور وہاں سے احرام باندھ پھر ہم سے فلاں مقام کے پاس آکر مل جانا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ح وَعَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُکَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُکٍ وَاحِدٍ قَالَ انْتَظِرِي فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ غَدًا وَلَکِنَّهَا عَلَی قَدْرِ نَصَبِکِ أَوْ قَالَ نَفَقَتِکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، قاسم، ابراہیم، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) عرض کرتی ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ ! دوسرے لوگ تو دو عبادتیں کر کے واپس لوٹیں گے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ وَإِبْرَاهِيمَ قَالَ لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنْ الْآخَرِ أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُکَيْنِ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور حج کے علاوہ ہمارا اور کوئی ارادہ نہیں تھا تو جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جو آدمی ہدی (قربانی کا جانور) لے کر نہ آیا ہو تو وہ حلال ہوجائے احرام کھول دے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جو لوگ ہدی ساتھ نہیں لائے تھے وہ تو حلال ہوگئے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات (رض) بھی ہدی ساتھ نہیں لائی تھیں اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول دئیے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کرسکی تو جب حصبہ کی رات ہوئی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ لوگ تو عمرہ اور حج کر کے واپس لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس لوٹوں گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا جن راتوں میں ہم مکہ آئے تھے اس وقت تم نے طواف نہیں کیا تھا ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم کی طرف جاؤ اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرلو اور پھر فلاں فلاں جگہ ہم سے آکر مل جانا حضرت صفیہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں تمہیں روکنے والی ہوں آپ ﷺ نے (پیار سے) فرمایا زخمی اور سر منڈی کیا تو نے قربانی کے دن (یوم نحر) طواف نہیں کیا تھا ؟ حضرت صفیہ (رض) نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب چلو حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں اس حال میں ملی کہ آپ ﷺ مکہ سے بلندی پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں بلندی پر چڑھ رہی تھی اور آپ ﷺ اتر رہے تھے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَکَّةَ قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيکِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُکِ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَکُمْ قَالَ عَقْرَی حَلْقَی أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَی قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَکَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا و قَالَ إِسْحَقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام کی اقسام کے بیان میں
سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے نہ ہم نے حج کا ذکر کیا اور نہ ہی عمرہ کا ذکر کیا۔
و حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي لَا نَذْکُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَنْصُورٍ
tahqiq

তাহকীক: