আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬০৮ টি

হাদীস নং: ৩০৯০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، حضرت ابن جریج، ابوزبیر سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوالزبیر (رض) نے اس سند کے ساتھ حدیث کی خبر دی سوائے اس کے اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے اور اس حدیث میں یہ زیادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ فرماتے جس طرح کہ چٹکی سے پکڑ کر انسان کنکری مارتا ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی الْجَمْرَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ کَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، حصین، کثیر بن مدرک، حضرت عبدالرحمن بن یزید (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عبداللہ اور ہم مزدلفہ میں تھے تو میں نے آپ ﷺ پر نازل کی گئی سورت البقرہ سنی آپ ﷺ اس مقام پر فرما رہے تھے لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَحْنُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
سریج بن یونس، ہشیم، حصین، کثیر ابن مدرک اشجعی، حضرت عبدالرحمن بن یز ید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) جس وقت مزدلفہ سے واپس ہوئے تو تلبیہ پڑھتے رہے تو لوگ کہنے لگے کہ کیا یہ دیہاتی آدمی ہیں ؟ حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہوگئے ہیں ؟ میں نے اس ذات ﷺ سے سنا کہ جس پر سورت البقرہ نازل کی گئی ہے وہ اس جگہ فرما رہے تھے (لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ )
و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّی حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ هَذَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي هَذَا الْمَکَانِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
حسن حلوانی، یحییٰ بن آدم، سفیان، حضرت حصین سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔
و حَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
یوسف بن حماد، زیاد یعنی بکانی، حصین، کثیر بن مدرک اشجعی، حضرت عبدالرحمن بن یزید (رض) اور حضرت اسود بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ دونوں فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن مسعود (رض) سے سنا کہ وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس ذات سے سنا کہ جس پر یہاں سورت البقرہ نازل کی گئی آپ ﷺ فرما رہے تھے لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ پھر حضرت عبداللہ نے بھی تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پڑھا۔
و حَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَکَّائِيَّ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ کَثِيرِ بْنِ مُدْرِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَا سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ بِجَمْعٍ سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا يَقُولُ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ ثُمَّ لَبَّی وَلَبَّيْنَا مَعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں
احمد بن حنبل، محمد بن مثنی، عبداللہ بن نمیر، سعید بن یحییٰ اموی، یحییٰ بن سعید، عبداللہ بن ابی سلمہ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ہم اگلے دن صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی تکبیر پڑھ رہا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُکَبِّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں
محمد بن ابی حاتم، ہارون بن عبداللہ، یعقوب دورقی، یزید بن ہارون، عبدالعزیز بن ابی سلمہ، عمر بن حسین، عبداللہ بن ابی سلمہ، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہہ رہا تھا باقی ہم تکبیر کہہ رہے تھے راوی نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ (رض) سے کہا واللہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نے ان سے کیوں نہ کہا کہ رسول اللہ کس طرح کرتے تھے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ فَمِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ فَأَمَّا نَحْنُ فَنُکَبِّرُ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْکُمْ کَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، حضرت محمد بن ابی بکر ثقفی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا جب کہ وہ دونوں منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے کہ تم اس دن یعنی عرفہ کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے ؟ حضرت انس (رض) فرمانے لگے کہ کوئی تو ہم میں سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھتا تھا اور کوئی بھی اس پر نکیر نہیں کرتا تھا اور کوئی ہم میں سے اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتا تھا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہیں کرتا تھا۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًی إِلَی عَرَفَةَ کَيْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ وَيُکَبِّرُ الْمُکَبِّرُ مِنَّا فَلَا يُنْکَرُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کے بیان میں
سریج بن یونس، عبداللہ بن رجاء، حضرت موسیٰ بن عقبہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے حضرت محمد بن ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے عرض کیا کہ آپ عرفہ کی صبح تلبیہ پڑھنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور آپ ﷺ کے صحابہ اس سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہہ رہا تھا اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے کسی ساتھی کو منع نہیں کرتا تھا۔
و حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ قَالَ سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَمِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَی صَاحِبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، موسیٰ بن عقبہ، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ سے واپس ہوئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ ایک گھاٹی میں اترے تو آپ ﷺ نے پیشاب فرمایا پھر وضو فرمایا اور وضو میں آپ ﷺ نے پانی زیادہ نہیں بہایا مختصر وضو کیا حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ نماز آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر پڑھیں گے آپ ﷺ سوار ہوئے تو جب مزدلفہ آیا تو آپ ﷺ اترے اور وضو فرمایا اور پورا وضو فرمایا پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے مغرب کی نماز پڑھائی پھر ہر انسان نے اپنے اونٹ کو ان جگہ میں بٹھا دیا پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور مغرب اور عشاء کے درمیان آپ ﷺ نے کوئی نماز سنن ونوافل وغیرہ نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوئَ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَائَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ کُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الْعِشَائُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
محمد بن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید، موسیٰ بن عقبہ مولیٰ زبیر، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات کے بعد قضاء حاجت کے لئے کسی گھاٹی کی طرف گئے جب میں نے آپ ﷺ کو وضو کرایا تو میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ نماز پڑھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر نماز پڑھیں۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَی بَعْضِ تِلْکَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْمَائِ فَقُلْتُ أَتُصَلِّي فَقَالَ الْمُصَلَّی أَمَامَکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ عبداللہ بن مبارک، ابوکریب، ابراہیم بن عقبہ کریب، حضرت اسامہ بن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے تو جب آپ ﷺ ایک گھاٹی کی طرف اترے تو آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور حضرت اسامہ (رض) نے وضو کرانے کا نہیں کہا پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور آپ ﷺ نے مختصر وضو فرمایا حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ نماز ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی نماز کچھ آگے چل کر پڑھیں گے حضرت اسامہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا انْتَهَی إِلَی الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ أَرَاقَ الْمَائَ قَالَ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ قَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ قَالَ ثُمَّ سَارَ حَتَّی بَلَغَ جَمْعًا فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابرہیم، یحییٰ بن آدم، زہیر، ابوخیمثہ، ابراہیم بن عقبہ، کریب، اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ کریب نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا کہ جس وقت تم عرفہ کی شام کو رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار ہوئے تھے تو اس کے بعد آپ ﷺ نے کیا کیا تھا ؟ حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اس گھاٹی میں آئے جس میں لوگ مغرب کی نماز کے لئے اپنے اونٹوں کو بٹھاتے تھے رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور حضرت اسامہ (رض) نے وضو کرانے کا نہیں فرمایا پھر آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! نماز ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نماز تیرے آگے ہے یعنی کچھ آگے چل کر پڑھتے ہیں پھر ہم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آگئے تو مغرب کی اقامت ہوئی پھر لوگوں نے اونٹوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا دیا اور پھر انہیں نہیں کھولا یہاں تک کہ عشاء کی نماز کی اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر لوگوں نے اپنے اونٹوں کو کھولا راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس (رض) کو اپنے پیچھے بٹھایا اور میں قریش کے پہلے چلے جانے والوں میں سے پیدل جانے والا تھا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي کُرَيْبٌ أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ کَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَقَالَ جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ وَمَا قَالَ أَهَرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوئِ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ حَتَّی جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّی أَقَامَ الْعِشَائَ الْآخِرَةَ فَصَلَّی ثُمَّ حَلُّوا قُلْتُ فَکَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ قَالَ رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَی رِجْلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم وکیع، سفیان، محمد بن عقبہ، کریب، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اس گھاٹی پر آئے جس جگہ امراء لوگ اترتے ہیں آپ ﷺ اترے اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا اور پانی بہانے کا نہیں کہا پھر آپ ﷺ نے وضو کے لئے پانی منگوایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا مختصر وضو حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! نماز ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تیرے آگے ہے یعنی نماز کچھ آگے چل کر پڑھیں گے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَی النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَائُ نَزَلَ فَبَالَ وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا خَفِيفًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عطاء، سباع، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات سے واپس آئے تو جب آپ ﷺ گھاٹی کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر آپ ﷺ قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور جب آپ ﷺ لوٹے تو میں نے برتن میں پانی لے کر آپ ﷺ کو وضو کروایا پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور مزدلفہ آئے اور وہاں آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَائٍ مَوْلَی ابْنِ سِبَاعٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ کَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمَّا جَائَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَی الْغَائِطِ فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَکِبَ ثُمَّ أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ سے واپس لوٹے تو حضرت اسامہ (رض) آپ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ آگئے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ قَالَ أُسَامَةُ فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَی هَيْئَتِهِ حَتَّی أَتَی جَمْعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
ابوربیعم قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، حضرت ہشام (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ (رض) سے سوال کیا گیا اور میں بھی وہاں موجود تھا یا فرمایا کہ میں نے حضرت اسامہ (رض) سے پوچھا کہ اسامہ (رض) عرفات سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے سوار تھے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات سے جس وقت واپس ہوئے تو کیسے چل رہے تھے ؟ حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ آہستہ چل رہے تھے تو جب روشنی پاتے تو تیز رفتار ہوجاتے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا شَاهِدٌ أَوْ قَالَ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ قُلْتُ کَيْفَ کَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ قَالَ کَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ہشام بن عروہ (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، عدی بن ثابت عبداللہ بن یزید، حضرت ابوایوب خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِالْمُزْدَلِفَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کے استح کے بیان میں
قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، حضرت یحییٰ بن سعید (رض) اس سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں ابن رمح اپنی روایت میں حضرت عبداللہ بن یزید خطمی کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابن زبیر (رض) کے زمانہ میں کوفہ کے امیر تھے۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ وَکَانَ أَمِيرًا عَلَی الْکُوفَةِ عَلَی عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
tahqiq

তাহকীক: