আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০৮ টি
হাদীস নং: ৩০৭১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، ابوبکر، وکیع، سفیان، ابراہیم، عبدالاعلی، حضرت سوید (رض) بن غفلہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ تجھے بہت چاہتے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَ حَفِيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کو استح کے بیان میں۔
محمد بن مثنی، عبدالرحمن، حضرت سفیان (رض) سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بہت چاہتے تھے اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ وہ حجر اسود سے چمٹ گئے ہوں۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَلَکِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَ حَفِيًّا وَلَمْ يَقُلْ وَالْتَزَمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں اونٹ پر طواف کیا اور چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام فرمایا اس وجہ سے تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ لیں اور لوگ آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں اس لئے لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، عبدہ بن حمید، محمد یعنی ابن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کو طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی یہ بلند ہونا اس وجہ سے تاکہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھ سکیں اور آپ ﷺ سے مسائل وغیرہ پوچھ سکیں کیونکہ لوگوں نے آپ ﷺ کو گھیر رکھا تھا۔
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَکْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا طَافَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَی رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ خَشْرَمٍ وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
حکم بن موسی، شعیب بن اسحاق، ہشام بن عروہ، عروہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع میں کعبۃ اللہ کے گرد اپنے اونٹ پر طواف کیا اور حجر اسود کا استلام کیا آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے کہ لوگوں کو اس سے ہٹایا جائے۔
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْکَعْبَةِ عَلَی بَعِيرِهِ يَسْتَلِمُ الرُّکْنَ کَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، سلیمان بن داود، معروف بن خربوذ، حضرت ابوالطفیل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا اور آپ ﷺ کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے حجر اسود کا استلام کرتے اور پھر اس چھڑی کو بوسہ دیتے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يَقُولُا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّکْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو استلام کرنے کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن عبدالرحمن ابن نوفل، عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کرلے حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ نماز میں (وَالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ ) پڑھ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ شَکَوْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَکِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَائِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاکِبَةٌ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَی جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَکِتَابٍ مَسْطُورٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام بن عروہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ کوئی آدمی اگر صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کیوں میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ صفاومروہ کے درمیان طواف سعی کرے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کسی آدمی کا حج اور نہ ہی عمرہ پورا ہوگا جب تک کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف ( سعی) نہ کرے اور اگر اس طرح سے ہے جیسا کہ تو کہتا ہے تو اللہ اس طرح فرماتے ترجمہ کوئی حرج نہیں جو صفا ومروہ کے درمیان طواف (سعی) نہ کرے اور کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کا شان نزول کیا ہے اس کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں سمندر کے ساحل پر انصار دو بتوں کے نام کا احرام باندھتے تھے ان بتوں کو اساف اور نائلہ کہا جاتا ہے پھر وہ آتے اور صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی کرتے پھر حلق کراتے یعنی سر منڈاتے تو جب اسلام آیا تو انہوں نے ناپسند کیا کہ صفاومروہ کے درمیان طواف (سعی) کریں اس وجہ سے کہ جاہلیت کے زمانہ میں وہ اس طرح کرتے تھے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ صفا مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے آخر تک حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر انہوں نے سعی کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ لَهَا إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَی يَقُولُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَتْ مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ لَکَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا کَانَ ذَاکَ إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَی شَطِّ الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُمَا إِسَافٌ وَنَائِلَةُ ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يَحْلِقُونَ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ کَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا لِلَّذِي کَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ إِلَی آخِرِهَا قَالَتْ فَطَافُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، حضرت ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ اگر میں صفا ومروہ کے درمیان طواف سعی نہ کروں تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کیوں میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَا ى ِرِاللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ : 158) کہ صفا مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان طواف سعی کرے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جیسے تم کہتے ہو کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف سعی نہ کرے تو یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل کی گئی کہ وہ جاہلیت کے زمانہ میں مناہ بت کے نام کا احرام باندھتے تھے تو صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ان کے لئے حلال نہیں تھا تو جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ حج کے لئے آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی میری عمر کی قسم ! اللہ اس کا حج پورا نہیں کرے گا کہ جو صفا مروہ کے درمیان طواف سعی نہیں کرے گا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا أَرَی عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ لِمَ قُلْتُ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الْآيَةَ فَقَالَتْ لَوْ کَانَ کَمَا تَقُولُ لَکَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ کَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی هَذِهِ الْآيَةَ فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن ابی عمر، سفیان، زہری، حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا میری یہ رائے ہے کہ اگر کوئی صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور میں بھی صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے کی پرواہ نہیں کرتا۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اے میرے بھانجے ! جو تو نے کہا برا کہا رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف (سعی) کیا اور یہی سنت ہے اور جو لوگ مُشَلَل میں منات (بت) کا احرام باندھتے تھے وہ لوگ صفامروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے تو جب اسلام آیا اور اس بارے میں ہم نے نبی ﷺ سے پوچھا تو اللہ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف کرے اور اگر اس طرح ہوتا جیسا کہ تم کہتے ہو تو یہ آیت اس طرح آتی کہ ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف نہ کریں زہری کہتے ہیں کہ اس نے حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے اس کا ذکر کیا تو وہ اس سے خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہی دراصل علم ہے اور میں نے اہل علم میں سے بہت سے لوگوں سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے درمیان ہمارا طواف کرنا جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے تھا اور دوسرے انصار لوگوں نے کہا کہ ہمیں صفا مروہ کے درمیان طواف کا حکم نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے (البقرہ) حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میری رائے یہ ہے کہ یہ آیت ان سب لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَی عَلَی أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا قَالَتْ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَکَانَتْ سُنَّةً وَإِنَّمَا کَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا کَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَلَوْ کَانَتْ کَمَا تَقُولُ لَکَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَعْجَبَهُ ذَلِکَ وَقَالَ إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ إِنَّمَا کَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنْ الْعَرَبِ يَقُولُونَ إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ و قَالَ آخَرُونَ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَائِ وَهَؤُلَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
محمد بن رافع، حجین بن مثنی، لیث، عقیل، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں حرج خیال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ترجمہ۔ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا مروہ کے درمیان طواف کرے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو مسنون قرار دیا ہے تو اب کسی کے لئے بھی جائز نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کو چھوڑ دے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُکَ الطَّوَافَ بِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عروہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) خبر دیتی ہیں کہ انصار کے لوگ اسلام لانے سے پہلے غسان اور مناہ (بتوں کے نام) کے لئے احرام باندھتے تھے تو وہ اس وجہ سے صفا مروہ کے درمیان طواف کرنے کا گناہ سمجھتے تھے اور یہ ان کے آباواجداد کا طریقہ تھا کہ جو مناہ کے لئے احرام باندھتا تو وہ صفا مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتا تھا جس وقت وہ لوگ اسلام لے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ترجمہ کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تو جو کوئی آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی نفلی نیکی کرے گا تو اللہ قدر دان اور جاننے والا ہے۔
و حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَکَانَ ذَلِکَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ حِينَ أَسْلَمُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاکِرٌ عَلِيمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اسکے بغیر حج نہیں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، عاصم، حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ انصار صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت نازل ہوئی ترجمہ کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے تو جو آدمی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی کرے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَتْ الْأَنْصَارُ يَکْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّی نَزَلَتْ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سعی مکرر نہ کرنے کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ (رض) صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) نہیں کرتے تھے مگر ایک مرتبہ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سعی مکرر نہ کرنے کے بیان میں
عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ سوائے ایک طواف کے اور وہ بھی پہلے طواف کے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل بن جعفر، محمد بن ابی حرملہ، کریب مولیٰ ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں عرفات سے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا تو جب رسول اللہ ﷺ مزدلفہ کے بائیں طرف ایک گھاٹی پر پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر آپ ﷺ نے پیشاب کیا پھر آپ ﷺ آئے اور میں نے آپ ﷺ کو وضو کروایا تو آپ ﷺ نے ہلکا مختصر وضو کیا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! نماز کا وقت ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز آگے ہے پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آگیا تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ کی صبح فضل (رض) کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَائَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوئَ فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا خَفِيفًا ثُمَّ قُلْتُ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الصَّلَاةُ أَمَامَکَ فَرَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّی ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍقَالَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
راوی کریب کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے مجھے حضرت فضل کے بارے میں خبر دی کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ تک پہنچ گئے۔
کُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّی بَلَغَ الْجَمْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، ابن خشرم، عیسی، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن عباس (رض) خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت فضل (رض) کو مزدلفہ سے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا حضرت فضل خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ تک کنکریاں مارنے کے لئے پہنچ گئے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ کِلَاهُمَا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ قَالَ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کے استح کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابی زبیر، ابی معبد مولیٰ ابن عباس، حضرت فضل بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے حضرت فضل کہتے ہیں کہ آپ ﷺ عرفہ کی شام اور اگلے دن یعنی مزدلفہ کی صبح لوگوں سے فرماتے کہ آہستہ چلو اور آپ ﷺ اپنی اونٹنی کو روکتے ہوئے جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺ وادی محسر میں داخل ہوگئے اور محسر منٰی میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ جمرہ کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھا لاؤ حضرت فضل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْکُمْ بِالسَّکِينَةِ وَهُوَ کَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّی دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًی قَالَ عَلَيْکُمْ بِحَصَی الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَی بِهِ الْجَمْرَةُ وَقَالَ لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّی رَمَی الْجَمْرَةَ
তাহকীক: