আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০৮ টি
হাদীস নং: ২৯৯১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
ابن نمیر، عبیداللہ، حضرت نافع (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اس وقت حج کا ارادہ فرمایا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر (رض) سے قتال کرنے کے لئے آیا اور اس سے آگے حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری اور اس کے آخر میں ہے کہ جو حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا کرے گا اس کے لئے ایک طواف کافی ہے اور حلال نہ ہو یہاں تک کہ ان دونوں سے حلال نہ ہوجائے یعنی احرام نہ کھولے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَکَانَ يَقُولُ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ کَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے جس سال کہ حجاج نے حضرت ابن زبیر (رض) پر نزول کیا حج کا ارادہ کیا ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے امکانات ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ کو حج سے نہ روک دیں تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی اتباع بہترین چیز ہے میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کو واجب کرلیا ہے پھر حضرت ابن عمر (رض) نکلے یہاں تک کہ بیداء مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ کا ایک ہی حکم ہے تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کرلیا ہے اور مقام قدید سے ایک قربانی کا جانور خرید کر ساتھ رکھ لیا اور پھر چلے اور حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھتے تھے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ آئے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور نہ قربانی کی اور نہ سر منڈایا اور نہ ہی بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ان چیزوں میں سے کسی چیز سے حلال ہوئے جن کو احرام کی وجہ سے حرام کیا تھا یہاں تک کہ جب قربانی کا دن ہوا تو قربانی کی اور سر منڈایا اور حضرت ابن عمر (رض) نے وہی پہلے والے طواف کو حج اور عمرہ کے لئے کافی سمجھا اور حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی طرح کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ کَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوکَ فَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ أَصْنَعُ کَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَائِ قَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا قَالَ ابْنُ رُمْحٍ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَی هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَی ذَلِکَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ وَرَأَی أَنْ قَدْ قَضَی طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ کَذَلِکَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
ابوربیع زہرانی، ابوکامل، حماد، زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے یہی واقعہ نقل کیا گیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کیا سوائے پہلی حدیث کے جس وقت ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں گے انہوں نے فرمایا کہ میں وہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا اور حدیث کے آخر میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کیا ہے جس طرح کہ لیث نے اس سے ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوکَ عَنْ الْبَيْتِ قَالَ إِذَنْ أَفْعَلَ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ هَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا ذَکَرَهُ اللَّيْثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج افراد اور قران کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، عبداللہ بن عون ہلالی، عباد ابن عباد مہلی، عبیداللہ بن عمر، نافع، ابن عمر، یحییٰ کی ایک روایت میں حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کا احرام باندھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَی قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج افراد اور قران کے بیان میں
سریج بن یونس، ہشیم، حمید، بکر، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے بکر کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر (رض) سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے اکیلے حج کا تلبیہ پڑھا، بکر کہتے ہیں کہ میں پھر حضرت انس (رض) سے ملا اور میں نے ان کو حضرت ابن عمر (رض) کا قول بیان کا تو حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ تم ہمیں بچہ سمجھتے ہو میں نے نبی ﷺ سے خود سنا آپ ﷺ نے فرمایا (لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا) عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ پڑھا۔
و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَکْرٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا قَالَ بَکْرٌ فَحَدَّثْتُ بِذَلِکَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَبَّی بِالْحَجِّ وَحْدَهُ فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ أَنَسٌ مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَبَّيْکَ عُمْرَةً وَحَجًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج افراد اور قران کے بیان میں
امیہ بن بسطام عیشی، یزید ابن زریع، حبیب بن شہید، بکربن عبداللہ، حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کیا ہے حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہم نے حج کا احرام باندھا تھا راوی کہتے ہیں کہ میں حضرت انس (رض) کی طرف لوٹا اور میں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عمر (رض) کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ گویا ہم بچے تھے۔
و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ قَالَ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ فَرَجَعْتُ إِلَی أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ کَأَنَّمَا کُنَّا صِبْيَانًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، عبشر، اسماعیل بن ابی خالد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ کیا میرے لئے وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرنا درست ہے ؟ تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ہاں تو اس نے عرض کی کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وقوف عرفہ نہ کرو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا اس سے پہلے کہ آپ ﷺ عرفات تشریف لاتے وقوف کے لئے تو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کا زیادہ حق ہے کہ اسے لیا جائے یا حضرت ابن عباس (رض) کے قول کا اگر تو سچا ہے تو بتا کہ کس پر عمل کیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کے استح کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، جریر، بیان، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ کیا میں بیت اللہ کا طواف کرلوں ؟ میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ تجھے کس نے روکا ہے ؟ تو وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے فلاں کے بیٹے کو دیکھا کہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہیں آپ (رضی اللہ عنہ) تو ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے ان کو دیکھا کہ وہ دنیا کے فتنہ میں مبتلا ہوگئے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم میں سے اور تم میں سے کون ایسا ہے کہ جسے دنیا کے فتنہ میں مبتلا نہ کردیا گیا ہو پھر حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کا فلاں آدمی کی سنت سے زیادہ حق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اگر تو سچا ہے تو بتا۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ وَبَرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُکَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَکْرَهُهُ وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا فَقَالَ وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّکُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَی بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عمر (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ عمرہ کرنے کے لئے آیا اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا جبکہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف سعی نہیں کیا وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے ؟ تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے یعنی طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگائے یعنی سعی کی اور فرمایا کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ بہترین نمونہ ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَيْنِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع زہرانی، حماد بن زید، عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، عمر بن دینار، ابن عمر اس سند کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) نے نبی کریم ﷺ سے ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، حضرت محمد بن عبدالرحمن (رض) سے روایت ہے کہ عراق والوں میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ حضرت عروہ بن زبیر (رض) سے اس آدمی کے بارے میں پوچھو کہ جو حج کا احرام باندھ لے اور جب وہ بیت اللہ کا طواف کرلے تو کیا وہ حلال ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ تو اگر وہ تجھے کہیں کہ وہ حلال نہیں ہوسکتا تو ان سے کہنا کہ ایک آدمی تو اس طرح کہتا ہے یعنی حلال ہوسکتا ہے حضرت عروہ نے کہا کہ اس نے جو کہا برا کہا پھر وہ آدمی (عراق والا) مجھ سے ملا اور مجھ سے اس نے پوچھا تو میں نے اسے حضرت عروہ کا قول بیان کردیا اس آدمی نے کہا حضرت عروہ سے کہو کہ ایک آدمی خبر دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کیا ہے اور حضرت اسماء اور حضرت زبیر (رض) کی کیا شان ہے کہ انہوں نے بھی اس طرح کیا راوی محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پھر حضرت عروہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو حضرت عروہ (رض) نے فرمایا کہ وہ کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا انہوں نے فرمایا کہ وہ خود میرے پاس آکر کیوں نہیں پوچھتا میرے خیال میں وہ عراقی ہے میں نے کہا میں نہیں جانتا حضرت عروہ (رض) نے فرمایا اس آدمی نے جھوٹ بولا ہے البتہ رسول اللہ ﷺ نے جو حج کیا ہے حضرت عائشہ (رض) نے مجھے اس کی خبر دی کہ جس وقت آپ ﷺ پہلے مکہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا پھر بیت اللہ کا طواف کیا حج کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر حج کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے بھی اسی طرح کیا پھر حضرت عثمان (رض) نے حج کیا میں نے ان کو دیکھا کہ انہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کو طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا پھر حضرت معاویہ (رض) اور حضرت عبداللہ (رض) بن عمر (رض) نے بھی حج کیا پھر میں نے بھی حضرت زبیر بن عوام (رض) کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اور حج کے علاوہ کچھ نہیں کیا پھر میں نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار بھی اسی طرح کرتے ہیں اور وہ بھی حج کے علاوہ کچھ نہیں کرتے پھر میں نے سب سے آخر میں حضرت ابن عمر (رض) کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا اور عمرہ کے بعد حج کے احرام کو نہیں کھولا اور یہ حضرت ابن عمر (رض) تو عراق والوں کے پاس موجود ہی ہیں یہ ان سے کیوں نہیں پوچھتے اور جتنے اسلاف تھے سب کے سب مکہ میں آتے ہی بیت اللہ کے طواف سے ابتداء کرتے تھے پھر حلال نہیں ہوتے تھے احرام نہیں کھولتے تھے اور میں نے اپنی ماں اور خالہ کو بھی دیکھا کہ جس وقت وہ آئیں تو وہ بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں پھر حلال نہیں ہوتی تھیں میری ماں نے مجھے خبر دی کہ میں اور میری بہن حضرت عائشہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) اور فلاں فلاں آدمی صرف عمرہ کرنے آئے تھے تو جب رکن کو چھو لیا تو وہ سب حلال ہوگئے اور اس نے تجھ سے جو ذکر کیا جھوٹ کیا
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا فَإِنْ قَالَ لَکَ لَا يَحِلُّ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ قُلْتُ فَإِنَّ رَجُلًا کَانَ يَقُولُ ذَلِکَ قَالَ بِئْسَ مَا قَالَ فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ فَقُلْ لَهُ فَإِنَّ رَجُلًا کَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ وَمَا شَأْنُ أَسْمَائَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِکَ قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَکَرْتُ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا قُلْتُ لَا أَدْرِي قَالَ فَإِنَّهُ قَدْ کَذَبَ قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَکَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَکْرٍ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِکَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِکَ ثُمَّ لَمْ يَکُنْ غَيْرُهُ ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِکَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَی مَا کَانُوا يَبْدَئُونَ بِشَيْئٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَأَانِ بِشَيْئٍ أَوَّلَ مِنْ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّکْنَ حَلُّوا وَقَدْ کَذَبَ فِيمَا ذَکَرَ مِنْ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، منصور بن عبدالرحمن، حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم احرام باندھے ہوئے نکلے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے اور میرے پاس قربانی کو جانور نہیں تھا تو میں حلال ہوگئی احرام کھول ڈالا اور حضرت زبیر (رض) کے پاس قربانی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا حضرت اسماء فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے کپڑے پہنے پھر میں نکلی اور حضرت زبیر (رض) کے پاس جا کر بیٹھ گئی تو انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے کھڑی ہوجا کیونکہ میں احرام کی حالت میں ہوں حضرت اسماء (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا کہ کیا تمہیں ڈر ہے کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَی إِحْرَامِهِ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ فَلَمْ يَکُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَکَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ قَالَتْ فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَی الزُّبَيْرِ فَقَالَ قُومِي عَنِّي فَقُلْتُ أَتَخْشَی أَنْ أَثِبَ عَلَيْکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
عباس بن عبدالعظیم عنبری، ابوہشام مغیرہ، ابن سلمہ مخزومی، وہب، منصور بن عبدالرحمن، حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ نے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے پھر ابن جریج کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی سوائے اس کے اس میں سے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے دور ہوجا میں نے کہا کہ مجھ سے ایسے ڈرتے ہو کہ میں تجھ پر کود پڑوں گی۔
و حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي فَقُلْتُ أَتَخْشَی أَنْ أَثِبَ عَلَيْکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
ہارون بن سعیدایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو، حضرت ابواسود (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ جو حضرت اسماء بنت ابوبکر (رض) کے مولیٰ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسماء (رض) سے سنا جب وہ حجون کے مقام سے گزریں تو فرماتیں کہ اللہ اپنے رسول ﷺ پر رحمت نازل فرمائے کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ یہاں اترے اور ہمارے پاس اس دن بوجھ تھوڑا تھا اور سواریاں کم تھیں اور زادراہ بھی تھوڑا تھا تو میں نے اور میری بہن حضرت عائشہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) اور فلاں فلاں نے عمرہ کیا تو جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو ہم حلال ہوگئے اور پھر شام کو ہم نے حج کو احرام باندھا، ہارون نے اپنی روایت میں حضرت اسماء کے مولیٰ ذکر کیا ہے اور عبداللہ کا نام ذکر نہیں کیا۔
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ أَنَّهُ کَانَ يَسْمَعُ أَسْمَائَ کُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ تَقُولُ صَلَّی اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنْ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ أَنَّ مَوْلَی أَسْمَائَ وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، شعبہ، حضرت مسلم قری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس بارے میں رخصت دے دی جبکہ حضرت ابن زبیر (رض) اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ یہ حضرت ابن زبیر (رض) کی والدہ موجود ہیں جو بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے تو تم ان کی خدمت میں جاؤ اور ان سے پوچھو تب ہم ان کے پاس گئے تو وہ ایک موٹی اور نابینا عورت تھی ہمارے پوچھنے پر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَکَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَی عَنْهَا فَقَالَ هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَائُ فَقَالَتْ قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
ابن مثنی، عبدالرحمن، ابن بشار، محمد یعنی ابن جعفر، حضرت شعبہ (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے باقی عبدالرحمن نے اپنی حدیث مبارکہ میں متعہ کا لفظ کہا اور مُتْعَةُ الْحَجِّ کا لفظ نہیں کہا اور ابن جعفر کی روایت میں ہے کہ شعبہ نے کہا ہے کہ مسلم قری نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ (مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ ) کہا۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ قَالَ مُسْلِمٌ لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَائِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت مسلم قری (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے حج کو احرام باندھا تو نہ نبی ﷺ حلال ہوئے اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے جو قربانی ساتھ لائے تھے وہ حلال ہوئے اور ان میں سے باقی صحابہ حلال ہوگئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) انہی حضرات میں سے تھے جن کے ساتھ قربانی تھی اس لئے وہ حلال نہیں ہوئے احرام نہیں کھولا۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَکَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عمرہ کا احرام باندھنے والا طواف کے ساتھ سعی کرنے سے پہلے حلال نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا۔
محمد بن بشار، محمد یعنی ابن جعفر، طلحہ بن عبیداللہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ جن کے پاس قربانی نہیں تھی وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) اور ایک دوسرے آدمی تھے تو وہ دونوں حلال ہوگئے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَانَ مِمَّنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبداللہ بن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں جاہلیت کے زمانہ میں لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا زمین پر تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور وہ لوگ محرم کو صفر بناتے تھے اور وہ کہتے کہ جب اونٹنیوں کی پشتیں اچھی ہوجائیں اور راستہ سے حاجیوں کے پاؤں کے نشان مٹ جائیں اور صفر کا مہینہ ختم ہوجائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ حلال ہوجاتا ہے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ (رض) ذی الحج کی چار تاریخ کی صبح حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا ڈالو تو انہیں یہ گراں گزرا تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم کیسے حلال ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تم سارے حلال ہوجاؤ۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَتَعَاظَمَ ذَلِکَ عِنْدَهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے جواز کے بیان میں
نصربن علی جہضمی، شعبہ، ایوب، ابی العالیہ البراء، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا اور ذی الحجہ کی چار تاریخ کی رات گزرنے کے بعد مکہ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی اور فرمایا کہ جس نے صبح کی نماز پڑھ لی ہے تو جو چاہتا ہے کہ عمرہ کرے تو وہ عمرہ کرلے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَقَالَ لَمَّا صَلَّی الصُّبْحَ مَنْ شَائَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً
তাহকীক: