আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬০৮ টি

হাদীস নং: ২৯৭১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
عمرو ناقد، ابواحمدزبیری، سفیان، محمد بن ابی خلف، روح بن عبادہ، شعبہ، حضرت سلیمان تیمی (رض) سے اس سند کے ساتھ ان دونوں حدیثوں کی طرح روایت ہے اور سفیان کی حدیث میں حج میں تمتع کے الفاظ ہیں۔
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابی العلاء، حضرت مطرف (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت عمران بن حصین (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ میں تجھے آج ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ آج کے بعد اس حدیث کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ تجھے نفع عطاء فرمائیں گے اور جان لے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے ایک جماعت کو ذی الحج کے عشرہ میں عمرہ کروایا تو کوئی آیت اس کو منسوخ کرنے والی نازل نہیں ہوئی اور نہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ اس (فانی دنیا) سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد ہر آدمی جس طرح چاہے اپنی رائے سے بیان کرے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّي لَأُحَدِّثُکَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُکَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِکَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّی مَضَی لِوَجْهِهِ ارْتَأَی کُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَائَ أَنْ يَرْتَئِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن حاتم، وکیع، سفیان، حضرت جریری (رض) نے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور ابن حاتم (رض) نے اپنی روایت میں کہا کہ پھر ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا یعنی حضرت عمر (رض) ۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ ارْتَأَی رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ يَعْنِي عُمَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حمید بن ہلال، حضرت مطرف (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے عمران بن حصین (رض) نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کروں گا شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تجھے نفع دے وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھا کیا پھر ان سے منع بھی نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا سے رحلت فرما گئے اور نہ ہی اس کی حرمت کے بارے میں قرآن نازل ہوا اور مجھ پر سلام کیا جاتا تھا جب تک کہ میں نے داغ نہیں لگوایا تو جب میں نے داغ لیا تو سلام چھوٹ گیا پھر میں نے داغ لینا چھوڑا تو مجھ پر پھر سلام کیا جانے لگا۔
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أُحَدِّثُکَ حَدِيثًا عَسَی اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَکَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّی مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَقَدْ کَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّی اکْتَوَيْتُ فَتُرِکْتُ ثُمَّ تَرَکْتُ الْکَيَّ فَعَادَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن ہلال (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مطرف (رض) سے سنا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عمران بن حصین (رض) اور حضرت معاذ (رض) کی حدیث کی طرح فرمایا۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت مطرف (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمران بن حصین (رض) نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں وہ وفات پا گئے مجھے بلا بھیج کر فرمایا کہ میں تجھ سے کچھ احادیث بیان کروں گا شاید کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تجھے نفع عطا فرمائے تو اگر میں زندہ رہا تو تم ان احادیث کو میرے نام سے ظاہر نہ کرنا اور اگر میں وفات پا گیا تو اگر تو چاہے تو اسے بیان کردینا کیونکہ مجھ پر فرشتوں کی طرف سے سلام کیا گیا اور میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمایا پر اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم بھی نازل نہیں ہوا اور نہ ہی نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا کوئی آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہے کہہ دے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ إِنِّي کُنْتُ مُحَدِّثَکَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَکَ بِهَا بَعْدِي فَإِنْ عِشْتُ فَاکْتُمْ عَنِّي وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا کِتَابُ اللَّهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، سعیدابن ابی عروبہ، قتادہ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمائے پھر اس کے بارے میں قرآن بھی نازل نہیں ہوا اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں حج اور عمرہ کا اکٹھا ادا کرنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا کِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالصمد، ہمام، قتادہ، مطرف، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا اور اس بارے میں قرآن میں نازل نہیں ہوا تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
حجاج بن شاعر، عبیداللہ بن عبدالمجید، اسماعیل بن مسلم، محمد بن واسع، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، حضرت عمران بن حصین (رض) نے اس حدیث کے ساتھ روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حج تمتع فرمایا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا۔
و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
حامد بن عمر بکروای، محمد بن ابی بکر مقدمی، بشربن مفضل، عمران بن مسلم، حضرت ابورجاء (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمران بن حصین (رض) نے فرمایا کہ حج میں تمتع کی آیت اللہ کی کتاب قرآن مجید میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسے کرنے کا حکم فرمایا پھر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی کہ جس آیت نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کردیا ہو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دینا سے رحلت فرما گئے۔ اب اس کے بعد اس بارے میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي رَجَائٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي کِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کے جواز کے بیان میں
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، عمران، قصیر، ابورجاء، حضرت عمران بن حصین (رض) نے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا (وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) یعنی ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کو کیا اور اس حدیث میں أَمَرَنَا بِهَا یعنی ہمیں آپ ﷺ نے اس کا حکم فرمایا یہ نہیں فرمایا۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ وَأَمَرَنَا بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کرنے والوں پر قربانی کے واجب ہونے اور اس بات کے بیان میں کہ قربانی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں حج دنوں میں تین روزے اور اپنے گھر کی طرف لوٹ کر سات روزے رکھے۔
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے۔ کہ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں عمرہ کے ساتھ حج ملا کر فرمایا اور قربانی کی اور قربانی کے جانور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے گئے اور شروع میں رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کے ساتھ حج کا تمتع کیا اور لوگوں میں سے کسی کے پاس اپنی قربانی نہیں تھی پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی ہو تو وہ ان کاموں میں سے کسی سے حلال نہ ہو جن سے احرام کی حالت میں دور رہا تھا جب تک کہ وہ حج سے فارغ نہ ہوجائے اور تم میں سے جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر کے بال کٹوا لے اور حلال ہوجائے پھر حج کا تلبیہ پڑھے احرام باندھے اور اس کے بعد قربانی کرے اور اگر قربانی نہ پائے تو پھر وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے جب اپنے گھر کی طرف واپس لوٹے تو سات روزے رکھے۔ الغرض جس وقت رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے طواف کیا اور حجر اسود کو استلام کیا پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا اور باقی چار چکروں میں اپنی حالت میں چلے پھر جب طواف سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ میں مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھیں پھر سلام پھیرا اور لوٹے اور صفا پر تشریف لائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا یہاں تک کہ اپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کیوجہ سے اپنے اوپر حرام کیا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ وَأَهْدَی فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَکَانَ مِنْ النَّاسِ مَنْ أَهْدَی فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَهْدَی فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْکُمْ أَهْدَی فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَکَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَيْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ وَمَشَی أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَکَعَ حِينَ قَضَی طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی قَضَی حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَی وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنْ النَّاسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج تمتع کرنے والوں پر قربانی کے واجب ہونے اور اس بات کے بیان میں کہ قربانی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں حج دنوں میں تین روزے اور اپنے گھر کی طرف لوٹ کر سات روزے رکھے۔
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے تمتع بالحج اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں کے تمتع بالحج کی روایت اسی طرح نقل فرمائی جس طرح کہ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) نے حضرت عبداللہ (رض) سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَی الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ عرض کرتی ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ قربانی نہ کرلوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِکَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
ابن نمیر، خالد بن مخلد، مالک، نافع، ابن عمر، حضرت حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کو کیا ہوا کہ آپ ﷺ حلال نہیں ہوئے باقی روایت اسی طرح سے ہے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ لَمْ تَحِلَّ بِنَحْوِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، حضرت حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ کیا بات ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے اور اپنے سر کے بال جمائے ہیں تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ حج کا احرام نہ کھول دوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِکَ قَالَ إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَحِلَّ مِنْ الْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ پھر آگے مالک کی حدیث کی طرح نقل کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ قربانی نہ کرلوں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
ابن ابی عمر، ہشام بن سلیمان مخزومی، عبدالمجید، ابن جریج، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت حفصہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع کے سال اپنی ازواج مطہرات (رض) کو حکم فرمایا کہ وہ حلال ہوجائیں تو میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز نے حلال ہونے سے روکا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈال رکھا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ میں اپنی قربانی ذبح نہ کرلوں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَتْ حَفْصَةُ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تَحِلَّ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ هَدْيِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) فتنہ کے دور میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے نکلے اور فرمایا کہ اگر ہمیں بیت اللہ تک جانے سے روک دیا گیا جس طرح کہ ہم (قریش) نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا وہ نکلے اور عمرہ کا احرام باندھا اور چلے یہاں تک کہ جب مقام حج اور عمرہ یبداء پر آئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کو واجب کرلیا ہے تو وہ نکلے یہاں تک کہ جب وہ بیت اللہ پر آئے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات چکر لگائے اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور اسی کو کافی خیال کیا اور قربانی کی۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَهَرَ عَلَی الْبَيْدَائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا جَائَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَی أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৯০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، یحییٰ (قطان) ، عبیداللہ، نافع، عبداللہ بن عبداللہ، سالم بن عبداللہ، حضرت نافع (رض) نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ (رض) اور حضرت سالم بن عبداللہ (رض) نے حضرت عبداللہ (رض) سے کہا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر (رض) سے قتال کے لئے آیا کہ آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع نہ ہوجائے حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان یہ چیز حائل ہوئی تو میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا جس وقت کہ کفار قریش آپ ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ چلے جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں اپنا عمرہ پورا کرلوں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی گئی تو میں وہی کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی، (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) 33 ۔ الأحزاب : 21) ، پھر چلے یہاں تک کہ جب بیداء کے مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تو حج کے درمیان بھی رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی واجب کرلیا ہے۔ تو آپ نکلے اور مقام قدید سے قربانی خریدی اور حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی پھر ان سے حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ یوم النحر کے دن حج کے ساتھ دونوں سے حلال ہوئے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ فَإِنَّا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ يُحَالُ بَيْنَکَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَانْطَلَقَ حَتَّی أَتَی ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّی بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ تَلَا لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَائِ قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّی حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক: