আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২ টি
হাদীস নং: ২৩০৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کی ترغیب کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن یحیی، ابن نمیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، زید بن وہب، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز کے وقت مدینہ کی زمین حرہ میں چل رہا تھا اور ہم احد کو دیکھ رہے تھے تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! میں نے عرض کیا لبیک اے اللہ کے رسول ! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ احد پہاڑ میرے پاس سونے کا ہو اور تیسری شب تک میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی بچ جائے سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے روک رکھوں بلکہ میں اللہ کے بندوں کو اس طرح بانٹوں اور آپ ﷺ نے اپنے سامنے ایک لپ بھر کر اشارہ کیا اور اسی طرح دائیں اور اسی طرح اپنے بائیں پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! میں نے کہا لبیک اے اللہ کے رسول ! فرمایا کثرت مال والے ہی قلیل مال والے ہوں گے قیامت کے دن سوائے ان لوگوں کے جو اس طرح اور اس طرح دیتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے پہلی مرتبہ کیا پھر ہم چلے آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوذر ! تم یہاں ہی رہنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آؤں آپ ﷺ چلے کہ مجھ سے چھپ گئے پھر میں نے کچھ گنگناہٹ اور آواز سنی تو میں نے کہا شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی امر پیش آگیا ہو میں نے آپ ﷺ کے پیچھے جانے کا ارادہ کیا تو مجھے آپ ﷺ کا حکم یاد آگیا کہ جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاؤں تم اپنی جگہ پر ہی رہنا میں نے آپ ﷺ کا انتظار کیا جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے اس کا ذکر کیا جو میں نے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے فرمایا کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو فوت ہوا اس حال میں کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا، ابوذر کہتے ہیں میں نے کہا اگر اس نے زنا کیا یا چوری کی فرمایا اگرچہ اس نے زنا یا چوری کی۔
حَدَّثَنَاأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ کُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَائً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَی أُحُدٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاکَ عِنْدِي ذَهَبٌ أَمْسَی ثَالِثَةً عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَکَذَا حَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهَکَذَا عَنْ يَمِينِهِ وَهَکَذَا عَنْ شِمَالِهِ قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ الْأَکْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَی قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ کَمَا أَنْتَ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّی تَوَارَی عَنِّي قَالَ سَمِعْتُ لَغَطًا وَسَمِعْتُ صَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَّبِعَهُ قَالَ ثُمَّ ذَکَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّی آتِيَکَ قَالَ فَانْتَظَرْتُهُ فَلَمَّا جَائَ ذَکَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ قَالَ فَقَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کی ترغیب کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، زید بن وہب، ابوذر (رض) روایت ہے کہ میں ایک رات نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے بغیر کسی ہمراہی انسان کے ٹہل رہے تھے میں نے گمان کیا آپ ﷺ اپنے ساتھ کسی کے چلنے کو ناپسند فرمائیں گے تو میں نے چاند کے سایہ میں چلنا شروع کردیا آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے مجھے دیکھ کر فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا ابوذر اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے، فرمایا اے ابوذر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میرے پاس آؤ میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا مالدار لوگ ہی قیامت کے دن کم مال والے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ نے مال عطا کیا اور پھونک سے اپنے دائیں بائیں یا سامنے اور پیچھے اڑا دے اور اس میں نیک اعمال کرے پھر میں آپ ﷺ کے ساتھ کچھ دیر چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہاں بیٹھ جا اور آپ ﷺ نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے اردگرد پتھر تھے آپ ﷺ نے فرمایا میرے آ نے تک یہاں بیٹھے رہو آپ ﷺ زمین حرہ میں ایک طرف چل دیئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کو نہ دیکھا کافی دیر ٹھہر نے کے بعد میں نے آپ ﷺ سے آتے ہوئے سنا اگرچہ اس نے چوری اور اس نے زنا کیا آپ ﷺ جب تشریف لائے تو میں نے صبر کئے بغیر عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اللہ مجھے آپ ﷺ پر قربان کرے آپ ﷺ سے حرہ کی طرف کون گفتگو کر رہا تھا میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا فرمایا وہ جبرائیل تھے جو حرہ میں میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا اپنی امت کو خوشخبری دے دو جو اللہ کے ساتھ شرک کئے بغیر مرگیا جنت میں داخل ہوگا میں نے کہا اے جبرائیل اگرچہ اس نے چوری یا زنا کیا ہو کہا جی ہاں فرمایا میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا اس نے کہا جی ہاں میں نے کہا اگرچہ اس نے چوری اور زنا کیا ہو اس نے کہا ہاں اگرچہ اس نے شراب پی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ رُفَيْعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَکْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَالَهْ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ إِنَّ الْمُکْثِرِينَ هُمْ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَائَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ اجْلِسْ هَا هُنَا قَالَ فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّی أَرْجِعَ إِلَيْکَ قَالَ فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّی لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللَّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ فَلَمَّا جَائَ لَمْ أَصْبِرْ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَائَکَ مَنْ تُکَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْکَ شَيْئًا قَالَ ذَاکَ جِبْرِيلُ عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ بَشِّرْ أُمَّتَکَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَی قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابوعلاء، حضرت احنف بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا تو میں سرداران قریش کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک آدمی موٹے کپڑے سخت جسم و چہرے والا آیا اور ان کے پاس کھڑا ہوا اور کہا بشارت دے دو مال جمع کرنے والوں کو گرم پتھر کی کہ ان کے لئے جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور ان کے سینوں پر اس طرح رکھا جائے گا کہ شانہ کی نوک سے پار ہوجائے گا اور شانوں کی نوک پر رکھا جائے گا یہاں تک کہ پستان کے سر سے پار ہوجائے اور آدمی بےقرار ہوجائے گا تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لئے میں نے کسی آدمی کو نہ دیکھا کہ جس نے اس کو کوئی جواب دیا ہو وہ پھرے اور میں نے ان کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے پاس جا بیٹھے تو میں نے کہا میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کو آپ کی بات ناگوار گزری ہے تو انہوں نے کہا یہ لوگ کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے میرے خلیل ابوالقاسم ﷺ نے مجھے بلایا میں گیا تو فرمایا کیا تم احد دیکھ رہے ہو تو میں نے اپنے اوپر پڑنے والی سورج کی شعاع کو دیکھا اور میں نے خیال کیا کہ آپ ﷺ مجھے اپنی کسی ضرورت کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں میں اس کو دیکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لئے اس کی مثل سونا ہو لیکن اگر ہو تو میں تین دینار کے علاوہ سب کا سب خرچ کر دوں اور یہ لوگ دنیا جمع کرتے ہیں اور سمجھ رکھتے میں نے کہا آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا حال ہے نہ آپ ان سے ملتے ہیں نہ ان کے پاس جاتے اور نہ ان سے کچھ مانگتے ہیں فرمایا اللہ کی قسم میں نہ ان سے دنیا مانگوں گا ورنہ دنیوی معاملہ کروں گا یہاں تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَائَ رَجُلٌ أَخْشَنُ الثِّيَابِ أَخْشَنُ الْجَسَدِ أَخْشَنُ الْوَجْهِ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَی عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُوضَعُ عَلَی حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ کَتِفَيْهِ وَيُوضَعُ عَلَی نُغْضِ کَتِفَيْهِ حَتَّی يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيَيْهِ يَتَزَلْزَلُ قَالَ فَوَضَعَ الْقَوْمُ رُئُوسَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ رَجَعَ إِلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَدْبَرَ وَاتَّبَعْتُهُ حَتَّی جَلَسَ إِلَی سَارِيَةٍ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ هَؤُلَائِ إِلَّا کَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ قَالَ إِنَّ هَؤُلَائِ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَتَرَی أُحُدًا فَنَظَرْتُ مَا عَلَيَّ مِنْ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقُلْتُ أَرَاهُ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ کُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ثُمَّ هَؤُلَائِ يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ مَا لَکَ وَلِإِخْوَتِکَ مِنْ قُرَيْشٍ لَا تَعْتَرِيهِمْ وَتُصِيبُ مِنْهُمْ قَالَ لَا وَرَبِّکَ لَا أَسْأَلُهُمْ عَنْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّی أَلْحَقَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اموال جمع کرنے والوں پر عذاب کی سختی کے بیان میں
شیبان بن فروخ، ابوالاشہب، خلیدعصری، حضرت احنف بن قیس (رض) سے روایت ہے کہ میں قریش کی ایک جماعت میں تھا کہ حضرت ابوذر یہ کہتے ہوئے گزرے، خوشخبری دے دو مال جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں سے جو ان کی پشت پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے، پھر وہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے، میں نے کہا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ ابوذر ہے میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا یہ کیا بات تھی جو میں نے آپ سے ابھی سنی، کہا میں نے وہی بات کہی جس کو میں نے ان کے نبی ﷺ سے سنا میں نے کہا آپ عطا و بخشش کے مال کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ فرمایا اس کو لے لو کیوں کہ اس سے آج کل تمہیں مدد حاصل ہوگی اور اگر یہ تیرے دین کی قیمت ہو تو چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ کُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرْ الْکَانِزِينَ بِکَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِکَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْئٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَيْلُ قَالَ مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَائِ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا کَانَ ثَمَنًا لِدِينِکَ فَدَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں
زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتے ہیں اے بنی آدم تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا نیز فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کے برسنے سے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ مَلْآنُ سَحَّائُ لَا يَغِيضُهَا شَيْئٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ کرنے کی ترغیب اور خرچ کرنے والے کے لئے بشارت کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے خرچ کر تجھ پر خرچ کیا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن کی فیاضی سے اس میں کمی واقع نہیں ہوتی کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے کتنی فیاضی کی ہے لیکن اس کے دائیں ہاتھ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور فرمایا اللہ کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں روکنے کی طاقت ہے جسے چاہتا ہے بلند کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے پست کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِي أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْکَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَی لَا يَغِيضُهَا سَحَّائُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ قَالَ وَعَرْشُهُ عَلَی الْمَائِ وَبِيَدِهِ الْأُخْرَی الْقَبْضَ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ابوربیع، حماد بن ربیعہ، ایوب، ابوقلابہ، اسماء رحبی، حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے وہ ہے جو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو اللہ کے راستہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو اپنے ساتھیوں پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے کہا عیال سے شروع کیا پھر ابوقلابہ نے کہا اس سے بڑھ کر کس آدمی کا ثواب ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر ان کی عزت وآبرو بچانے کے لئے خرچ کرتا ہے یا نفع دے اللہ ان کو اس کے سبب سے اور ان کو بےپرواہ کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَی دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَی أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَی عِيَالٍ صِغَارٍ يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمْ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، سفیان، مزاحم بن زفر، مجاہد، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ دینار جس کو تو اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جس کو تو غلام پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو تو نے مسکین پر خیرات کردیا اور وہ دینار جو تو نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار کا ہے جو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَی مِسْکِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَی أَهْلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل وعیال اور غلام پر خرچ کرنے کی فضیلت اور انکے حق کو ضائع کرنے اور انکے نفقہ کو روک کر بیٹھ جانے کے گناہ کے بیان میں۔
سعید بن محمد جرمی، عبدالرحمن بن عبدالملک بن ابجر کنانی، طلحہ بن مصرف، حضرت خیثمہ سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس آپ کا خزانچی داخل ہوا تو ابن عمر نے کہا تو نے غلاموں کو ان کا حق دے دیا ؟ اس نے کہا نہیں فرمایا جاؤ ان کو انکا کھانا دے دو ، کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کا یہی گناہ کافی ہے کہ اپنے مملوک کے حق کو روک کر بیٹھ جائے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبْجَرَ الْکِنَانِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِذْ جَائَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ قَالَ لَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَفَی بِالْمَرْئِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِکُ قُوتَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بنی عذرہ میں سے ایک آدمی نے اپنا غلام اپنے مرنے کے بعد آزاد کیا یعنی اس نے یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے اس بات کی اطلاع رسول اللہ ﷺ کو ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس اس کے علاوہ مال ہے ؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مجھ سے کون خریدے گا تو اس کو نعیم بن عبداللہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور وہ دراہم رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے گئے اور آپ ﷺ نے غلام کے مالک کو دے دیئے پھر فرمایا اپنی ذات سے ابتداء کر اور اس پر خرچ کرو اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کے لئے اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے اور اگر تیرے رشتہ داروں سے بھی کچھ بچ جائے تو اس اس طرح اور اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَکَ مَالٌ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَجَائَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ابْدَأْ بِنَفْسِکَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْئٌ فَلِأَهْلِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِکَ شَيْئٌ فَلِذِي قَرَابَتِکَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِکَ شَيْئٌ فَهَکَذَا وَهَکَذَا يَقُولُ فَبَيْنَ يَدَيْکَ وَعَنْ يَمِينِکَ وَعَنْ شِمَالِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرچ کرنے میں اپنے آپ سے ابتداء کرے پھر اہل وعیال پھر رشتہ دار۔
یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل بن علیہ، ایوب، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی ابومذکور نے اپنے غلام یعقوب کو اپنے بعد آزاد ہونے کا کہا باقی حدیث اوپر گزر چکی۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْکُورٍ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصار میں سے سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کو اپنے مال میں سب سے زیادہ باغ بیرحاء محبوب تھا اور وہ مسجد نبوی کے سامنے تھا رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے، انس کہتے ہیں جب آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3 ۔ آل عمران : 92) نازل ہوئی تو ابوطلحہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے تم نیکی کی حد کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور مجھے میرے تمام اموال میں سب سے محبوب بیر حاء ہے یہ اللہ کے لئے خیرات ہے میں اس کے ثواب اور آخرت میں ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ اس کو جہاں چاہیں رکھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت خوب یہ بہت نفع بخش مال ہے میں نے سنا جو تم نے کہا میں مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو تو ابوطلحہ نے اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا کَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَکْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَکَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَی وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي کِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَی وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِکَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ) 3 ۔ آل عمران : 92) ہوئی تو ابوطلحہ نے کہا میں نے دیکھا کہ ہمارا پروردگار ہمارا مال ہم سے طلب فرماتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنی زمین بیر حاء والی اللہ کے لئے دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کو اپنے رشتہ داروں کو دے دو تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَرَی رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا فَأُشْهِدُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بَرِيحَا لِلَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِکَ قَالَ فَجَعَلَهَا فِي حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، بکیر، کریب، حضرت میمونہ بنت حارث سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی اور میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو اسے اپنے ماموں کو دے دیتی تو تیرے لئے بڑا ثواب ہوتا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَکِ کَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِکِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حسن بن ربیع، ابواحوص، اعمش، ابو وائل، عمرو بن حارث، زوجہ عبداللہ حضرت زینب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ تمہارے زیورات سے ہو فرماتی ہیں میں حضرت عبداللہ کے پاس لوٹی اور عرض کیا کہ آپ خالی ہاتھ والے آدمی ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے تم آپ ﷺ کے پاس جا کر پوچھ کر آؤ اگر میری طرف سے آپ کو دینا کافی ہوجائے تو بہتر ورنہ تمہارے علاوہ کسی اور کو دوں، تو عبداللہ (رض) نے مجھے فرمایا تم خود ہی جا کر آپ ﷺ سے پوچھ لو میں چلی جب آپ ﷺ کے دروازہ پر پہنچی تو انصاری عورتوں میں سے ایک عورت میری حاجت ہی لے کر موجود تھی اور اللہ کے رسول ﷺ پر عظمت و جلال چھایا ہوا تھا ہماری طرف حضرت بلال آئے تو ان سے ہم نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ ﷺ کو خبر دو کہ دروازے پر موجود دو عورتیں آپ ﷺ سے سوال کرتی ہیں کہ ان کی طرف سے صدقہ ان کے خاوندوں پر کفایت کر جائے گا یا ان یتیموں پر صدقہ کردیں جو ان کی گود میں ہیں اور آپ ﷺ کو یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں حضرت بلال (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کون ہیں ؟ تو انہوں نے کہا زینب اور ایک عورت انصار سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون سی زینب ؟ عرض کیا عبداللہ کی بیوی تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے لئے دو اجر وثواب ہیں ایک رشتہ داری کا ثواب اور دوسرا صدقہ و خیرات کا ثواب۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّکَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ کَانَ ذَلِکَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلَّا صَرَفْتُهَا إِلَی غَيْرِکُمْ قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلْ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتِي حَاجَتُهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ قَالَتْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلَانِکَ أَتُجْزِئُ الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَی أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَی أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هُمَا فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عمرو بن حارث، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ حضرت زینب فرماتی ہیں میں مسجد میں تھی نبی ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے ہو باقی حدیث گزر چکی۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَذَکَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ سَوَائً قَالَ قَالَتْ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّکُنَّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے سے ثواب ہوگا ؟ اور میں ان کو چھوڑنے والی نہیں ہوں کہ ادھر ادھر پریشان ہوجائیں کیونکہ وہ میرے بیٹے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تیرے لئے ان پر خرچ کرنے میں ثواب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِکَتِهِمْ هَکَذَا وَهَکَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ نَعَمْ لَکِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
سوید بن سعید، علی بن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ہشام بن عروہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ دار بیوی اولاد اور والدین اگرچہ مشرک ہوں ان پر خرچ کرنے کی فضیلت کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید، ابومسعود بدری سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا کَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
তাহকীক: