আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২ টি
হাদীস নং: ২২৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ الفطر مسلمانوں پر کھجور اور جو سے ادا کرنے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، زید بن اسلم، عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم صدقہ الفطر ایک صاع کھانے یعنی گندم یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ الفطر مسلمانوں پر کھجور اور جو سے ادا کرنے کے بیان میں
عبیداللہ بن مسلمہ بن قعنب، داود بن قیس، عیاض بن عبداللہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے تو ہم صدقہ الفطر ہر چھوٹے اور بڑے آزاد یا غلام کی طرف سے ایک صاع کھانے سے یا ایک صاع پنیر سے یا ایک صاع جَو سے یا ایک صاع کھجور سے یا ایک صاع کشمش سے نکالا کرتے تھے ہم ہمیشہ اسی طرح نکالتے رہے کہ ہمارے پاس حضرت معاویہ بن ابوسفیان حج یا عمرہ کرنے کے لئے آئے تو آپ نے منبر پر لوگوں سے گفتگو کی اور اس گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میرے خیال میں ملک شام کے سرخ گیہوں کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں تو لوگوں نے اسی کو لے لیا یعنی اسی طرح عمل شروع کردیا ابوسعید فرماتے ہیں بہرحال میں ہمیشہ اسی طرح ادا کرتا رہا جس طرح ادا کرتا تھا جب تک میں زندہ رہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کُنَّا نُخْرِجُ إِذْ کَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَکَاةَ الْفِطْرِ عَنْ کُلِّ صَغِيرٍ وَکَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوکٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّی قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَکَلَّمَ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَکَانَ فِيمَا کَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ إِنِّي أَرَی أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَائِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِکَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ کَمَا کُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ الفطر مسلمانوں پر کھجور اور جو سے ادا کرنے کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، اسماعیل بن امیہ، عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ہر چھوٹے اور بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے تین قسموں سے ایک صاع صدقہ الفطر ادا کرتے تھے کھجور سے ایک صاع پنیر سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع ہم ہمیشہ اسی طرح ادا کرتے رہے کہ معاویہ (رض) نے خیال کیا کہ گندم سے دو مد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہیں بہر حال میں تو ہمیشہ اسی طرح ادا کرتا رہا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا عَنْ کُلِّ صَغِيرٍ وَکَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوکٍ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ کَذَلِکَ حَتَّی کَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَی أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ کَذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ الفطر مسلمانوں پر کھجور اور جو سے ادا کرنے کے بیان میں
محمد رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حارث بن عبدالرحمن بن ابوذباب، عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ہم صدقہ الفطر تین قسم کی چیزوں سے ادا کرتے تھے پنیر کھجور اور جو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کُنَّا نُخْرِجُ زَکَاةَ الْفِطْرِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ الْأَقِطِ وَالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ الفطر مسلمانوں پر کھجور اور جو سے ادا کرنے کے بیان میں
عمروناقد، حاتم بن اسماعیل، ابن عجلان، عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ جب معاویہ نے گندم کے نصف صاع کو کھجور کے ایک صاع کے برابر قرار دیا تو ابوسعید نے انکار کیا اور فرمایا میں تو اس میں نہیں نکالوں گا مگر میں تو جس سے رسول اللہ ﷺ کے دور میں نکالتا تھا اس میں نکالوں گا کھجور سے ایک صاع یا کشمش یا جو یا پنیر سے ایک صاع۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنْ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ أَنْکَرَ ذَلِکَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي کُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز عید سے پہلے صدقہ الفطر ادا کرنے کے حکم کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ صدقہ الفطر لوگوں کی نماز عید کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَکَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز عید سے پہلے صدقہ الفطر ادا کرنے کے حکم کے بیان میں۔
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ الفطر لوگوں کے نماز کی طرف نکلنے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَکَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ صنعانی، زید بن اسلم، ابوصالح ذکوان، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو سونے یا چاندی والا اس میں اس کا حق ادا نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن آگ کی چٹانیں بنائی جائیں گی اور ان کو جہنم کی آگ میں خوب گرم کیا جائے گا اور ان سے اس کے پہلو، پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا، جب وہ ٹھنڈے ہوجائیں گے تو ان کو دوبارہ گرم کیا جائے گا اس دن برابر یہ عمل اس کے ساتھ ہوتا رہے گا جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ کردیا جائے تو اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھا دیا جائے گا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ اونٹ والوں کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اونٹوں والا بھی جو ان میں سے ان کا حق ادا نہ کرے اور ان کے حق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن ان کا دودھ نکال دے تو قیامت کے دن ایک ہموار زمین میں اس کو اوندھا لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ نہایت فربہ ہو کر آئے گا کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا جو اس کو اپنے کھروں سے نہ روندے اور منہ سے نہ کاٹے جب اس پر سے سب سے پہلا گزر جائے گا تو دوسرا آجائے گا پچاس ہزار سال کی مقدار والے دن میں یہاں تک کہ بندوں کا فیصلہ ہوجائے پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گائے اور بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا گائے اور بکری والوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو ان میں سے ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر یہ کہ قیامت کے دن اس کو ہموار زمین پر اوندھا لٹایا جائے گا اور ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا جو اس کو اپنے پاؤں سے نہ روندے اور وہ ایسی ہوں گی کہ کوئی ان میں مڑے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور نہ سینگ کے بغیر نہ سینگ ٹوٹی ہوئی، سب اس کو ماریں گی اپنے سینگوں سے جب پہلی اس پر سے گزر جائے گی تو دوسری آجائے گی یہی عذاب پچاس ہزار سال والے دن میں ہوتا رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہوجائے تو اس کو جنت یا دوزخ کی راہ دکھائی جائے گی۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گھوڑے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا گھوڑے کی تین اقسام ہیں، ایک مالک پر وبال ہے دوسرا مالک کے لئے پردہ ہے، تیسرا مالک کے لئے ثواب کا ذریعہ ہے، بہر حال جس کو آدمی نے دکھاوے کے لئے باندھ رکھا ہے فخر اور مسلمانوں کی دشمنی کے لئے تو یہ گھوڑا اس کے لئے بوجھ اور وبال ہے اور وہ جو اس کے لئے پردہ پوشی ہے وہ یہ ہے کہ جس کو آدمی نے اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھا ہے پھر اس کی پشتوں اور گردنوں سے وابستہ اللہ کے حقوق بھی نہ بھولا ہو تو یہ گھوڑا مالک کے لئے عزت کا ذریعہ ہے اور باعث ثواب وہ گھوڑا ہے جس کو آدمی نے اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھا ہو۔ اہل اسلام کے لئے سبزہ زار یا باغ میں تو یہ گھوڑے باغ یا سبزہ زار سے جو کچھ کھائیں گے تو ان کے کھانے کی تعداد کے موافق اس کے لئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی لید اور پیشاب کی مقدار کے لئے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جائے تو اس کے قدموں کے نشانات اور لید کے برابر نیکیاں اللہ لکھ دیتا ہے اور جب اس کا مالک اس کو کسی نہر سے لے کر گزرتا ہے اور پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو تب بھی اللہ اس کے لئے پانی کے قطروں کے تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے جو اس نے پیا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ گدھوں کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا گدھوں کے بارے میں سوائے ایک آیت کے کوئی احکام نازل نہیں ہوئے وہ آیت بےمثل اور جمع کرنے والی ہے (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه) 99 ۔ الزلزلۃ : 7) یعنی جس نے ذرہ کے برابر نیکی کی وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ کے برابر بدی کی وہ بھی اسے دیکھے گا یعنی قیامت کے دن۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الصَّنْعَانِيَّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ ذَکْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ کُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْإِبِلُ قَالَ وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ أَوْفَرَ مَا کَانَتْ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا کُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ قَالَ وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا جَلْحَائُ وَلَا عَضْبَائُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا کُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْخَيْلُ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَائً وَفَخْرًا وَنِوَائً عَلَی أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ فَمَا أَکَلَتْ مِنْ ذَلِکَ الْمَرْجِ أَوْ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا کُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا أَکَلَتْ حَسَنَاتٌ وَکُتِبَ لَهُ عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَی نَهْرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحُمُرُ قَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْئٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
یونس بن عبدالاعلی صدفی، عبداللہ بن وہب، ہشام بن سعد، زید بن اسلم اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے کچھ الفاظ کا تغیر وتبدل ہے لیکن معنی و مفہوم وہی ہے۔
حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَی آخِرِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا حَقَّهَا وَذَکَرَ فِيهِ لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا وَقَالَ يُکْوَی بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
محمد بن عبدالملک اموی، عبدالعزیزبن مختار، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خزانہ والا جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس پر وہ خزانہ جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور اس کو چٹانوں کی طرح بنا کر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا یہاں تک اللہ اپنے بندوں کا فیصلہ کر دے اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے پھر اس کو جنت یا جہنم کی طرف راستہ دکھایا جائے گا اور کوئی اونٹوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا مگر یہ کہ اس کو ایک ہموار زمین پر لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ فربہ ہو کر آئیں گے جیسا کہ وہ اونٹ دنیا میں بہت فربہی کے وقت تھے وہ اس کو روندیں گے اس پر جب ان کا آخری گزر جائے گا تو پہلے والا واپس آکر دوبارہ روندے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ اس دن میں کرے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا اور کوئی بکریوں والا ایسا نہیں جو ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو مگر یہ کہ اس کو ہموار زمین پر لٹایا جائے گا اور وہ بہت فربہ ہو کر آئیں گے اور وہ سب اپنے کھروں کے ساتھ اس کو روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی اس وقت ان میں کوئی مُنڈی یا الٹے سینگوں والی نہ ہوگی جب اس پر ان میں سے آخری گزرے گی تو پہلی کو اس پر لوٹایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کا فیصلہ پچاس ہزار سال والے دن میں کرلیں پھر اس کو جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔ سہیل کہتے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے گائے کا ذکر کیا یا نہیں، صحابہ نے عرض کیا گھوڑوں کا کیا حکم ہے یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا گھوڑے کی پیشانی میں خیر ہے سہیل کہتے ہیں کہ مجھے خیر قیامت کے دن تک میں شک ہے آپ ﷺ نے فرمایا گھوڑے کی تین اقسام ہیں اور یہ آدمی کے لئے ثواب، پردہ اور بوجھ ہے پس وہ جو اس کے لئے ثواب ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جس نے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں باندھا اور اللہ ہی کے لئے اسے تیار رکھا کوئی بھی چیز اس کے پیٹ میں غائب نہیں کی جاتی مگر اللہ اس کے لئے ثواب لکھتا ہے اور اگر اس کو کہیں چراگاہ میں چرایا اس نے اس میں جو کچھ بھی کھایا اللہ اس کے بدلہ اس کے لئے ثواب لکھتا ہے اور اگر کسی نہر سے اس کو پلایا تو اس کے مالک کے لئے ہر قطرہ کے بدلے ثواب ہے جو اس کے پیٹ میں غائب ہوتا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اس کے پیشاب اور لید کا بھی ذکر فرمایا اور اگر وہ ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم پر جو وہ رکھے گا اس کے لئے ثواب لکھا جاتا ہے اور وہ گھوڑا جو اس کے لئے پردہ پوشی ہے وہ یہ ہے جس کو آدمی احسان اور زینت کے لئے باندھتا ہے اور اس کو اس کی سواری کا حق اور اس کے پیٹ کا حق اپنی تنگی آسانی میں نہ بھولا اور وہ گھوڑا جو اس پر بوجھ ہے وہ یہ ہے کہ جس کو فخر سرکشی اور لوگوں کو دکھانے کے لئے باندھا ہو یہ وہ ہے جو اس پر بوجھ ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ گدھوں کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا مگر یہ آیت جامع اور بےمثل ہے (فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه) 99 ۔ الزلزلۃ : 7)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ صَاحِبِ کَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيُجْعَلُ صَفَائِحَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ کُلَّمَا مَضَی عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ کَأَوْفَرِ مَا کَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَائُ وَلَا جَلْحَائُ کُلَّمَا مَضَی عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يَحْکُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَی سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَی الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَی النَّارِ قَالَ سُهَيْلٌ فَلَا أَدْرِي أَذَکَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا أَوْ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُکُّ الْخَيْرُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَلِرَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَکَلَتْ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ کَانَ لَهُ بِکُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا وَلَوْ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ کُتِبَ لَهُ بِکُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَکَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَی حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَائَ النَّاسِ فَذَاکَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ قَالُوا فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، سہیل ہی سے دوسری سند سے اسی حدیث کی طرح مذکور ہے۔
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن بزیع، یزید بن زریع، روح بن قاسم، سہیل بن ابوصالح سے ایک اور سند کے ساتھ یہی حدیث ذکر فرمائی ہے لیکن اس میں عقصاء غضباء سے بدلا ہے اور اس میں پیشانی کا ذکر نہیں۔
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بَدَلَ عَقْصَائُ عَضْبَائُ وَقَالَ فَيُکْوَی بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ وَلَمْ يَذْکُر جَبِينُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، ذکوان، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آدمی نے اللہ کا حق یا زکوٰۃ اپنے اونٹوں کی ادا نہ کی۔ باقی حدیث سہیل کی طرح ہے
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْئُ حَقَّ اللَّهِ أَوْ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، محمد بن رافع، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اونٹ والا اس کا حق ادا نہ کرے تو وہ قیامت کے دن زیادہ ہو کر آئیں گے اور ان کے مالک کو ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور وہ اس کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے اور جو گائے والا اس کا حق ادا نہ کرے گا تو قیامت کے دن پہلے سے بہت زیادہ ہو کر آئیں گی اور ان کے مالک کو ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور اس کو اپنے سینگوں سے زخمی اور اپنے کھروں سے روندیں گی اور جو بکریوں والا ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ ہو کر آئیں گی اور ان کا مالک ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور وہ اس کو اپنے سینگوں سے زخمی اور کھروں سے روندیں گی ان میں کوئی بےسینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور جو خزانے والا اس کا حق ادا نہیں کرتا تو اس کا خزانہ قیامت کے دن لایا جائے گا گنجے اژدھے کی صورت میں منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا جب وہ اس کے پاس آئے گا تو وہ اس سے بھاگے گا تو وہ خزانہ اس کو پکارے گا اپنا خزانہ لے جو تو نے چھپا رکھا تھا تو وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اس کے منہ میں اپنا ہاتھ ڈال دے گا وہ اسے اونٹ کے چبانے کی طرح چبا جائے گا ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے عبید بن عمیر (رض) سے سنا وہ کہتے تھے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اونٹوں کا کیا حق ہے فرمایا ان کے دودھ کو پانی پر نکال لینا (تاکہ فقیروں کو دودھ مل جائے) اس کا ڈول اور اس کے نر اور اس کے نطفے کو مانگے دے دینا اور اس کی سواری کو اللہ کی راہ میں دینا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ قَطُّ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَکْثَرَ مَا کَانَتْ وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّائُ وَلَا مُنْکَسِرٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ کَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَائَ کَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ خُذْ کَنْزَکَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ فَإِذَا رَأَی أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَکَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُا هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ و قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُا قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَی الْمَائِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة روکنے کے گناہ کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اونٹوں اور گائیوں بکریوں والا ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن ایک ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا اور کھروں والا جانور اس کو اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں والا اس کو اپنے سینگوں سے زخمی کرے گا اس دن کوئی جانور بغیر سینگ اور ٹوٹے ہوئے سینگ والا نہ ہوگا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا حق کیا ہے فرمایا اس کے نر کو چھوڑنا اور اس کے ڈول کسی کو بخش دینا پانی پر ان کا دوھ نکالنا اور اللہ کے راستے میں ان پر سواری کرانا اور کوئی مال والا جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی صورت میں تبدیل کیا جائے گا جو اپنے مالک کا پیچھا کرے گا جہاں وہ جائے گا وہ اس کے پیچھے بھاگے گا کہا جائے گا یہ تیرا وہ مال ہے جس پر تو بخل کیا کرتا تھا جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا ڈالے گا جیسا کہ نر اونٹ چبا لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّائُ وَلَا مَکْسُورَةُ الْقَرْنِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ إِطْرَاقُ فَحْلِهَا وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَلَبُهَا عَلَی الْمَائِ وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهُ إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَيُقَالُ هَذَا مَالُکَ الَّذِي کُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ فَإِذَا رَأَی أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة وصول کرنے والوں کی راضی کرنے کے بیان میں
ابوکامل فضیل بن حسین جحدری، عبدالواحد بن زیاد، محمد بن ابواسماعیل، عبدالرحمن بن ہلال عبسی، جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ کچھ اعرابیوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہم پر زکوٰۃ وصول کرنے والے زیادتی کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو خوش کردیا کرو جریر کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سنا ہے تو ہر زکوٰۃ وصول کرنے والا مجھ سے راضی ہو کر ہی گیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنْ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضُوا مُصَدِّقِيکُمْ قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة وصول کرنے والوں کی راضی کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، اسحاق، ابواسامہ، محمد بن ابواسماعیل اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، معرور بن سوید، حضرت ابوذر (رض) روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں، میں آکر آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو نہ ٹھہر سکا اور کھڑا ہوگیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ بہت مال والے ہیں سوائے اس کے جو اس اس طرح اپنے سامنے سے اپنے پیچھے سے اپنے دائیں اور بائیں سے اور ان میں سے کم لوگ وہ ہیں جو اونٹ اور گائے اور بکریوں والے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو وہ قیامت کے دن بڑھ چڑھ کر فربہ ہو کر آئیں گی ان کو اپنے سینگوں سے زخمی کریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب ان کا پچھلا گزر جائے گا تو اس پر ان کا پہلا لوٹ آئے گا یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي مَنْ هُمْ قَالَ هُمْ الْأَکْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَهَکَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَکَاتَهَا إِلَّا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا کَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا کُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّی يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں
ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، معرور، ابوذر (رض) روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں بیٹھنے والے تھے باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو آدمی زمین پر مرتا ہے اور اونٹ یا گائے یا بکری چھوڑتا ہے جن کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا تھا۔
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمَعْرُورِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَکِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَکَاتَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زکوة ادا نہ کرنے پر سزا کی سختی کے بیان میں
عبدالرحمن بن سلام جمحی، ابن مسلم، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے لئے یہ بات باعث مسرت نہیں کہ میرے لئے احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسری شب مجھ پر آجائے اور ان میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی ہو سوائے اس دینار کے کہ اس کو میں اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے بچا رکھوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ
তাহকীক: