আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২ টি

হাদীস নং: ২৪৬৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، محمد بن ابوبکر مقدمی، ابوبکر، نافع، عبدالرحمن بن مہدی، اعمش، اس سند کے ساتھ بھی اس سے قبل حدیث مبارکہ مروی ہے
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، زہیر بن حرب، ابومعاویہ، اعمش، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
محمد بن ابوبکر مقدمی، ابن ابی علیہ، حماد بن زید، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، ایوب، محمد، عبیدہ، علی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے خوارج کا ذکر کیا تو فرمایا ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ والا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہاتھ والا یا عورت کے پستان جیسے ہاتھ والا ہوگا اور اگر تم فخر نہ کرو تو میں تم سے بیان کروں وہ وعدہ جو اللہ نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا محمد ﷺ کی زبانی دیا میں نے عرض کیا آپ نے محمد ﷺ سے سنا ہے تو آپ (رض) نے فرمایا ہاں رب کعبہ کی قسم ہاں رب کعبہ کی قسم ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ ذَکَرَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُکُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَی لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ إِي وَرَبِّ الْکَعْبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابوعدی، ابن عون، محمد بن عبیدہ، اسی حدیث مبارکہ کی دوسری سند ذکر کردی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ لَا أُحَدِّثُکُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْهُ فَذَکَرَ عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق بن ہمام، عبدالملک بن ابی سلیمان، سلمہ بن کہیل، زید بن وہب جہنی (رض) سے روایت ہے کہ وہ اس لشکر میں شریک تھا جو سیدنا علی (رض) کی معیت میں خوارج سے جنگ کے لئے چلا۔ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا اے لوگو ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ایک قوم میری امت سے نکلے گی وہ قرآن اس طرح پڑھیں گے کہ تم ان کی قرأت سے مقابلہ نہ کرسکو گے اور نہ تمہاری نماز ان کی نماز کا مقابلہ کرسکے گی اور نہ تمہارے روزے ان کے روزوں جیسے ہوں گے وہ قرآن پڑھتے ہوئے گمان کریں گے کہ وہ ان کے لئے مفید ہے حالانکہ وہ ان کے خلاف ہوگا اور ان کی نماز ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے ان سے قتال کرنے والے لشکر کو اگر یہ معلوم ہوجائے جو نبی کریم کی زبانی ان کے لئے فیصلہ کیا گیا ہے اسی عمل پر بھروسہ کرلیں اور نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی کے بازو کی بانہہ نہ ہوگی اور اس کے بازو کی نوک عورت کے پستان کی طرح لوتھڑا ہوگی اس پر سفید بال ہونگے فرمایا تم معاویہ (رض) اور اہل شام سے مقابلہ کے لئے جاتے ہوئے ان کو چھوڑ جاتے ہو کہ یہ تمہارے پیچھے تمہاری اولادوں اور تمہارے اموال کو نقصان پہنچائیں۔ اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حرام خون بہایا اور ان کے مویشی وغیرہ لوٹ لئے تم اور لوگوں کو چھوڑو اور ان کی طرف اللہ کے نام پر چلو سلمہ بن کہیل کہتے ہیں پھر مجھے زید بن و ہب نے ایک منزل کے متعلق بیان کیا۔ یہاں تک کہ ہم ایک پل سے گزرے اور جب ہمارا خوارج سے مقابلہ ہوا تو عبداللہ بن و ہب راسبی انکا سردار تھا۔ اس نے اپنے لشکر سے کہا تیر پھینک دو اور اپنی تلواریں میانوں سے کھینچ لو میں خوف کرتا ہوں کہ تمہارے ساتھ وہی معاملہ نہ ہو جو تمہارے ساتھ حروراء کے دن ہوا تھا تو وہ لوٹے اور انہوں نے نیزوں کو دور پھینک دیا اور تلواروں کو میان سے نکالا۔ لوگوں نے ان سے نیزوں کے ساتھ مقابلہ کیا اور یہ ایک دوسرے پر قتل کئے گئے ہم میں صرف دو آدمی کام آئے علی (رض) نے فرمایا ان میں سے ناقص ہاتھ والے کو تلاش کرو تلاش کرنے پر نہ ملا تو علی (رض) خود کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان لوگوں پر آئے جو ایک دوسرے پر قتل ہوچکے تھے آپ نے فرمایا ان کو ہٹاؤ پھر اس کو زمین کے ساتھ ملا ہوا پایا آپ نے اَللَّهُ أَکْبَرُ کہہ کر فرمایا اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول ﷺ نے پہنچایا تو پھر عبیدہ سلمانی نے کھڑے ہو کر کہا اے امیرالمومنین اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ آپ نے خود نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی۔ تو علی (رض) نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی یہاں تک عبیدہ نے تین بار قسم کا مطالبہ کیا اور آپ نے تین بار ہی اس کے لئے قسم کھائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَيْسَ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاتَّكَلُوا عَنْ الْعَمَلِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى رَأْسِ عَضُدِهِ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ فَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا حَتَّى قَالَ مَرَرْنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ يَوْمَئِذٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ فَقَالَ لَهُمْ أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا سُيُوفَكُمْ مِنْ جُفُونِهَا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ فَرَجَعُوا فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَسَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمْ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ قَالَ وَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَمَا أُصِيبَ مِنْ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْتَمِسُوا فِيهِمْ الْمُخْدَجَ فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ قَالَ أَخِّرُوهُمْ فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلِلَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ يَحْلِفُ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیربن اشج، بسربن سعید بن عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ حروریہ کے خروج کے وقت وہ حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا خوارج نے کہا اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا کلمہ تو حق ہے لیکن اس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کا حال بیان کیا تھا میں ان میں ان لوگوں کی نشانیاں پہچان رہا ہوں یہ زبان سے تو حق کہتے ہیں مگر وہ زبان سے تجاوز نہیں کرتا اور حلق کی طرف اشارہ فرمایا۔ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض اللہ کے ہاں یہی ہیں ان میں سے ایک سیاہ آدمی ہے اس کا ہاتھ بکری کے تھن یا پستان کے سر کی طرح ہے پھر جب ان کو حضرت علی (رض) نے قتل کیا تو فرمایا کہ دیکھو لوگوں نے دیکھا تو وہ نہ ملا پھر کہا دوبارہ جاؤ اللہ کی قسم میں نے جھوٹ بولا نہ مجھے جھوٹ کہا گیا دو یا تین مرتبہ یہی فرمایا پھر انہوں نے اس کو ایک کھنڈر میں پایا تو اس کو لائے یہاں تک کہ اسے حضرت علی (رض) کے سامنے رکھ دیا حضرت عبیداللہ کہتے ہیں میں اس جگہ موجود تھا جب انہوں نے یہ کام کیا اور حضرت علی (رض) نے ان کے حق میں یہ فرمایا یونس نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ مجھے بکیر نے کہا مجھے ایک شخص نے ابن حنین سے روایت بیان کیا کہ اس نے کہا کہ میں نے اس اسود کو دیکھا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا لَا حُکْمَ إِلَّا لِلَّهِ قَالَ عَلِيٌّ کَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ نَاسًا إِنِّي لَأَعْرِفُ صِفَتَهُمْ فِي هَؤُلَائِ يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ وَأَشَارَ إِلَی حَلْقِهِ مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ مِنْهُمْ أَسْوَدُ إِحْدَی يَدَيْهِ طُبْيُ شَاةٍ أَوْ حَلَمَةُ ثَدْيٍ فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْظُرُوا فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا شَيْئًا فَقَالَ ارْجِعُوا فَوَاللَّهِ مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ فَأَتَوْا بِهِ حَتَّی وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَنَا حَاضِرُ ذَلِکَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ زَادَ يُونُسُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ بُکَيْرٌ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ ذَلِکَ الْأَسْوَدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب میرے بعد میری امت سے ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ اس کے حلق سے متجاوز نہ ہوگا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائے گی جیسا تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں نہ لوٹے گی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ شریر اور بد کر دار ہوگی۔ آگے اس سند کی تحقیق فرمائی ہے جو ابن صامت نے کی۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي أَوْ سَيَکُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ فَقَالَ ابْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ أَخَا الْحَکَمِ الْغِفَارِيِّ قُلْتُ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ کَذَا وَکَذَا فَذَکَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابوشیبہ، علی بن مسہر، سیبانی، یسیربن دمرو، حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ میں نے سنا نبی کریم ﷺ خوارج کا ذکر فرما رہے تھے اور آپ نے مشرقی کی طرف اشارہ فرمایا کہ ایک قوم ہے جو اپنی زبانوں سے قرآن پڑھتی ہے لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرتا وہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْخَوَارِجَ فَقَالَ سَمِعْتُهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ قَوْمٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ ہے کہ اس سے اقوام نکلیں گی۔
حَدَّثَنَاه أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ يَخْرُجُ مِنْهُ أَقْوَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے مخلوق میں سب سے زیادہ برے ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابشیبہ، اسحاق، یزید، یزید بن ہارون، عوام بن حوشب، ابواسحاق شیبانی، اسیربن عمرو، سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مشرق سے ایک قوم آئے گی ان کے سر منڈے ہوئے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتِيهُ قَوْمٌ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُئُوسُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، محمد بن زیاد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حسن بن علی (رض) نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھو، تھو ! اس کو پھینک دو ۔ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِخْ کِخْ ارْمِ بِهَا أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابوشیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، شعبہ، اسی حدیث کی دوسری سند ہے اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابن مثنی، ابوعدی، شعبہ، حضرت ابن معاذ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ کَمَا قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ أَنَّا لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابویونس، جو کہ مولیٰ ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اپنے اہل کی طرف گیا تو میں نے بستر پر گری ہوئی ایک کھجور پائی میں نے اسے کھانے کے لئے اٹھایا پھر مجھے خوف ہوا کہ وہ صدقہ کی نہ ہو لہذا میں نے اسے پھینک دیا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَی أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَی فِرَاشِي ثُمَّ أَرْفَعُهَا لِآکُلَهَا ثُمَّ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً فَأُلْقِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرراق بن ہمام، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایات میں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اپنے اہل کی طرف لوٹتا ہوں تو اپنے بستر پر ایک کھجور گری ہوئی پاتا ہوں یا اپنے گھر میں تو اس کو کھانے کے لئے اٹھاتا ہوں پھر میں ڈرتا ہوں کہ وہ صدقہ کی نہ ہو تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْقَلِبُ إِلَی أَهْلِي فَأَجِدُ التَّمْرَةَ سَاقِطَةً عَلَی فِرَاشِي أَوْ فِي بَيْتِي فَأَرْفَعُهَا لِآکُلَهَا ثُمَّ أَخْشَی أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً أَوْ مِنْ الصَّدَقَةِ فَأُلْقِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
یحییٰ بن یحیی، وکیع، سفیان، منصور، طلحہ بن مصرف، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور پائی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَکَلْتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
ابوکریب، ابواسامہ، زائدہ، منصور، طلحہ بن مصرف، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ راستہ میں پڑی ہوئی ایک کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِتَمْرَةٍ بِالطَّرِيقِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَکَلْتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی ال بنو ہاشم اور عبد المطت و غیرہ کے لئے زکوة کی تحریم بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، معاذ بن ہشام، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور پائی تو فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھا لیتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَکُونَ صَدَقَةً لَأَکَلْتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی آل کیلئے صدقہ کا استعمال ترک کرنے کا بیان میں
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، مالک، زہری، عبداللہ بن عبداللہ بن نوفل بن حارث، حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث (رض) سے روایت ہے کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب جمع ہوئے تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اگر ہم دو نوجوانوں یعنی عباس بن عبدالمطلب اور فضل بن عباس (رض) کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجیں اور یہ دونوں جا کر آپ سے گفتگو کریں کہ آپ ﷺ انہیں عامل صدقات بنادیں اور دونوں اسی طرح وصول کر کے ادا کریں جس طرح دوسرے لوگ ادا کرتے ہیں اور انہیں بھی وہی مل جائے جو اور لوگوں کو ملتا ہے، یہ بات ان دونوں کے درمیان جاری تھی کہ علی بن ابی طالب (رض) تشریف لے آئے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے تو انہیں نے اس کا علی (رض) سے ذکر کیا تو علی (رض) نے فرمایا تم ایسا نہ کرو اللہ کی قسم آپ ﷺ ایسا کرنے والے نہیں ہیں ربیعہ بن حارث نے ان کی بات سے اعراض کرتے ہوئے کہا اللہ کی قسم تم ہم پر حسد کرتے ہوئے کہہ رہے ہو اور اللہ کی قسم تمہیں رسول اللہ ﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا تو ہم نے اس پر آپ سے حسد نہیں کیا حضرت علی (رض) نے فرمایا اچھا ان دونوں کو بھیجو پس ہم دونوں چلے گئے اور علی (رض) لیٹ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی تو ہم حضور ﷺ سے پہلے حجرہ کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ آپ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے کانوں سے پکڑا پھر فرمایا تمہارے دلوں میں جو بات ہے ظاہر کردو پھر آپ ﷺ گھر تشریف لے گئے اور ہم بھی داخل ہوئے اور آپ اس دن حضرت زینت بنت جحش (رض) کے پاس تھے ہم نے ایک دوسرے سے گفتگو کی پھر ہم میں سے ایک نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی اور سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اب ہم جوان ہوچکے ہیں ہم آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں تاکہ آپ ہمیں زکوٰۃ وصول کرنے کی خدمت پر مامور فرما دیں ہم بھی اسی طرح ادا کریں گے جیسے اور لوگ آپ کے پاس آ کر ادا کرتے ہیں اور ہم کو بھی کچھ مل جائے گا جیسے اور لوگوں کو ملتا ہے آپ کافی دیر تک خاموش رہے حتی کہ ہم نے ارادہ کیا ہم دوبارہ گفتگو کریں اور حضرت زینب پردہ کے پیچھے سے مزید گفتگو نہ کرنے کا اشارہ فرما رہی تھیں پھر آپ نے فرمایا کہ صدقہ آل محمد ﷺ کے لئے مناسب نہیں۔ کیونکہ یہ لوگوں کا میل کچیل ہوتا ہے میرے پاس محمیہ اور نوفل بن حارث بن عبدالمطب کو بلاؤ اور وہ خمس پر مامور تھے۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے محمیہ سے کہا اس نوجوان فضل بن عباس سے اپنی بیٹی کا نکاح کردو تو اس نے نکاح کردیا اور نوفل بن حارث سے فرمایا کہ تم اپنی بیٹی کا نکاح اس نوجوان سے کردو تو انہوں نے مجھ سے نکاح کردیا اور محمیہ سے کہا کہ خمس سے ان دونوں کا اتنا اتنا مہر ادا کردو، زہری کہتے ہیں کہ میرے شیخ نے مہر کی رقم معین نہیں کی۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ قَالَ اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَوْ بَعَثْنَا هَذَيْنِ الْغُلَامَيْنِ قَالَا لِي وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَاهُ فَأَمَّرَهُمَا عَلَی هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَأَدَّيَا مَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَأَصَابَا مِمَّا يُصِيبُ النَّاسُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمَا فِي ذَلِکَ جَائَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِمَا فَذَکَرَا لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَا تَفْعَلَا فَوَاللَّهِ مَا هُوَ بِفَاعِلٍ فَانْتَحَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا تَصْنَعُ هَذَا إِلَّا نَفَاسَةً مِنْکَ عَلَيْنَا فَوَاللَّهِ لَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَفِسْنَاهُ عَلَيْکَ قَالَ عَلِيٌّ أَرْسِلُوهُمَا فَانْطَلَقَا وَاضْطَجَعَ عَلِيٌّ قَالَ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ سَبَقْنَاهُ إِلَی الْحُجْرَةِ فَقُمْنَا عِنْدَهَا حَتَّی جَائَ فَأَخَذَ بِآذَانِنَا ثُمَّ قَالَ أَخْرِجَا مَا تُصَرِّرَانِ ثُمَّ دَخَلَ وَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَتَوَاکَلْنَا الْکَلَامَ ثُمَّ تَکَلَّمَ أَحَدُنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُ النَّاسِ وَقَدْ بَلَغْنَا النِّکَاحَ فَجِئْنَا لِتُؤَمِّرَنَا عَلَی بَعْضِ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ فَنُؤَدِّيَ إِلَيْکَ کَمَا يُؤَدِّي النَّاسُ وَنُصِيبَ کَمَا يُصِيبُونَ قَالَ فَسَکَتَ طَوِيلًا حَتَّی أَرَدْنَا أَنْ نُکَلِّمَهُ قَالَ وَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلْمِعُ عَلَيْنَا مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ أَنْ لَا تُکَلِّمَاهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ وَکَانَ عَلَی الْخُمُسِ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ فَجَائَاهُ فَقَالَ لِمَحْمِيَةَ أَنْکِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَکَ لِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَأَنْکَحَهُ وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ أَنْکِحْ هَذَا الْغُلَامَ ابْنَتَکَ لِي فَأَنْکَحَنِي وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ أَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنْ الْخُمُسِ کَذَا وَکَذَا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَلَمْ يُسَمِّهِ لِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم ﷺ کی آل کیلئے صدقہ کا استعمال ترک کرنے کا بیان میں
ہارون بن معروف، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی، عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب، عباس بن عبدالمطلب، عبدالمطلب بن ربیعہ، فضل بن عباس (رض) ، یہ حدیث بھی اسی طرح مروی ہے کچھ تبد یلی اس طرح ہے کہ عبداللہ بن حارث بن نوفل الہاشمی (رض) سے روایت ہے کہ ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبد المطلب (رض) نے عبد المطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ ہے کہ حضرت علی نے اپنی چادر ڈالی اور لیٹ گئے اور فرمایا کہ میں بھی قوم میں صحیح رائے رکھنے والا ہوں اللہ کی قسم میں اس جگہ سے نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ تمہارے دونوں بیٹے تمہارے پاس اس پیغام کا جواب لے کر واپس نہ آجائیں جو تم نے دے کر ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا ہے اور حدیث میں فرمایا پھر آپ نے ہم سے یہ فرمایا یہ صدقات لوگوں کا میل کچیل ہی ہوتے ہیں اور یہ محمد ﷺ کے لئے حلال نہیں اور نہ آل محمد ﷺ کے لئے یہ بھی کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلا لاؤ اور وہ بنی اسد کے آدمی تھے رسول اللہ ﷺ نے انہیں مال خمس کا حاکم بنایا تھا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيِّ أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةَ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَلِلْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ائْتِيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَقَالَ فِيهِ فَأَلْقَی عَلِيٌّ رِدَائَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ وَقَالَ أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ وَاللَّهِ لَا أَرِيمُ مَکَانِي حَتَّی يَرْجِعَ إِلَيْکُمَا ابْنَاکُمَا بِحَوْرِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ لَنَا إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ وَقَالَ أَيْضًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوَا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْئٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَی الْأَخْمَاسِ
tahqiq

তাহকীক: