আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৩২ টি
হাদীস নং: ২৪৪৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
محمد بن ابوعمر مکی، سفیان، عمر بن سعید بن مسروق، عبایہ بن رفاعہ، حضرت رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ اور عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو اونٹ عطا کئے اور عباس بن مرداس کو کچھ کم دئیے تو عباس بن مرد اس نے کہا۔ آپ میرے اور میرے گھوڑے عبید کا حصہ عیینہ اور اقرع کے درمیان مقرر کرتے ہیں حالانکہ بدر (دادا عیینہ) اور حابس (والد اقرع) مرد اس (والد عباس) سے کسی مجمع میں بڑھ نہ سکتے اور میں دونوں میں سے کسی سے کم نہ تھا اور آج جس کو نیچا کردیا گیا پھر اس کو سر بلندی حاصل نہ ہوگی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے سو اونٹ پورے کر دئیے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ کُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِکَ فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ أَتَجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا کَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا کُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ قَالَ فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
احمد بن عبدہ ضبی، ابن عیینہ، عمر بن سعید بن مسروق، اسی حدیث کی دوسری سند میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حنین کی غنیمت تقسیم کی تو ابوسفیان بن حرب کو سو اونٹ دئیے اور علقمہ بن علاثہ کو سو اونٹ دئیے باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَی أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَزَادَ وَأَعْطَی عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
مخلد بن خالد شعیری، سفیان، عمر بن سعید، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر فرمائی ہے لیکن اس حدیث میں علقمہ بن علاثہ اور صفوان بن امیہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس حدیث میں شعر ہیں۔
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ وَلَمْ يَذْکُرْ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
سریج بن یونس، اسماعیل بن جعفر، عمرو بن یحییٰ بن عمارہ، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ جب حنین فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے غنائم تقسیم کئے اور مؤلفۃ القلوب کو مال دیا تو آپ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ انصاریہ چاہتے ہیں کہ جو حصہ اوروں کو ملا ہے انہیں بھی ملے تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ان کو خطبہ دیا اللہ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا اے جماعت انصار کیا میں نے تم کو گمراہ نہ پایا۔ پھر اللہ نے تم کو میرے ذریعہ غنی کردیا اور تم متفرق تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہیں جمع فرما دیا اور انصار کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہم پر بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم مجھے جواب نہیں دیتے ؟ تو انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر بڑا احسان ہے فرمایا اگر تم چاہتے تو ایسا ایسا کہہ سکتے تھے اور معاملہ ایسا ایسا تھا اور اسی طرح آپ ﷺ نے کئی ساری چیزوں کو شمار کیا۔ عمرو کہتے ہیں کہ میں اس کو یاد نہ رکھ سکا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم پسند نہیں کرتے لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر لے جاؤ اور انصار اندرونی لباس کی مثل ہیں اور لوگ بالائی لباس کی مثل ہیں اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں۔ عنقریب میرے بعد تم کو اپنے نفوس پر دوسرے لوگوں کی ترجیح نظر آئے گی لیکن تم صبر کرنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملاقات کرو۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ حُنَيْنًا قَسَمَ الْغَنَائِمَ فَأَعْطَی الْمُؤَلَّفَةَ قُلُوبُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ أَنْ يُصِيبُوا مَا أَصَابَ النَّاسُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْکُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاکُمْ اللَّهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاکُمْ اللَّهُ بِي وَمُتَفَرِّقِينَ فَجَمَعَکُمْ اللَّهُ بِي وَيَقُولُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَلَا تُجِيبُونِي فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ فَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ شِئْتُمْ أَنْ تَقُولُوا کَذَا وَکَذَا وَکَانَ مِنْ الْأَمْرِ کَذَا وَکَذَا لِأَشْيَائَ عَدَّدَهَا زَعَمَ عَمْرٌو أَنْ لَا يَحْفَظُهَا فَقَالَ أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّائِ وَالْإِبِلِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَی رِحَالِکُمْ الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَکُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَکَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَکْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي عَلَی الْحَوْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جنگ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے بعض لوگوں کو ترجیح دی تو آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دئیے اور عیینہ کو بھی اسی کی مثل اور عیینہ کے کچھ سرداروں کو بھی اسی طرح عطا فرمایا اور تقسیم کے وقت ان لوگوں کو ترجیح دی تو ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا کا ارادہ کیا گیا۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ قسم میں رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی ضرور خبر دوں گا میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو اس کی بات پہنچا دی جو اس نے کہا تو آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا یہاں تک کہ خون کی طرح ہوگیا پھر فرمایا جب اللہ اور اس کے رسول نے انصاف نہیں کیا تو اور کون ہے جو انصاف کرے گا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ پر رحم فرمائے کہ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی تو انہوں نے صبر کیا میں نے دل میں کہا کہ آج کے بعد آپ ﷺ کو کسی بات کی خبر نہ دوں گا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ آثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَی الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَأَعْطَی عُيَيْنَةَ مِثْلَ ذَلِکَ وَأَعْطَی أُنَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ وَآثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّی کَانَ کَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ يَعْدِلْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ قَالَ قُلْتُ لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام ثابت قدم رہنے کیلئے تالیف قلبی کے طور پر دینے اور مضبوط ایمان والے کو صبر کی تلقین کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، شقیق، عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اس تقسیم میں اللہ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو چپکے سے اس کی خبر دی تو آپ اس بات سے سخت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ میں آپ ﷺ سے اس کا ذکر نہ کرتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ موسیٰ کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی تو انہوں نے صبر کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِيدًا وَاحْمَرَّ وَجْهُهُ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَذْکُرْهُ لَهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ قَدْ أَوُذِيَ مُوسَی بِأَکْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৪৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ مقام جعرانہ پر ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ حنین سے لوٹے اور حضرت بلال (رض) کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہ ﷺ اس سے مٹھی بھر بھر کر لوگوں کو دے رہے تھے اس نے کہا اے محمد ﷺ ! انصاف کریں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ویل ہو کون ہے جو انصاف کرے جب میں خائب و خاسر ہوں گا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اجازت دیں تو میں اس منافق کو قتل کر دوں تو آپ ﷺ نے کہا اللہ کی پناہ لوگ باتیں کریں گے کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہیں کرتا اور قرآن سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ قَالَ وَيْلَکَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَکُنْ أَعْدِلُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْهُ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مال غنیمت تقسیم کیا کرتے تھے باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْسِمُ مَغَانِمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
ہناد بن سری، ابوالاحوص، سعید بن مسروق، عبدالرحمن بن ابی نعم، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی نے یمن کا کچھ سونا مٹی میں ملا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چار آدمیوں اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری ایک بنی بن کلاب میں سے اور زید الخیر الطائی پھر ایک بنی نبہان میں سے، قریش اس بات پر ناراض ہوئے تو انہوں نے کہا کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے اور چھوڑ دیتے ہیں ہم کو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ایسا ان کی تالیفِ قلبی کے لئے کیا پھر ایک آدمی گھنی ڈاڑھی اور پھولے ہوئے رخسار والے آنکھیں اندر گھسی ہوئی والے اور اونچی جبین والے مونڈے ہوئے سر والے نے آ کر کہا اے محمد ﷺ اللہ سے ڈرو تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو کون ہے جو اللہ کی فرمانبرداری کرے یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے مجھے امین بنایا اہل زمین پر اور تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے وہ آدمی چلا گیا تو قوم میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی جو کہ غالباً حضرت خالد بن ولید (رض) تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کی نسل سے یہ قوم پیدا ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا اہل اسلام کو قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑیں گے وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں جس طرح تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے اگر میں ان کو پاتا تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَعَثَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي کِلَابٍ وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ ثُمَّ أَحَدُ بَنِي نَبْهَانَ قَالَ فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ فَقَالُوا أَتُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِکَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ فَجَائَ رَجُلٌ کَثُّ اللِّحْيَةِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ أَيَأْمَنُنِي عَلَی أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يُرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، عمار بن قعقاع، عبدالرحمن بن ابونعم، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے یمن سے کچھ سونا سرخ رنگے ہوئے کپڑے میں بند کر کے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور اسے مٹی سے بھی جدا کیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے چار آدمیوں عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید خیل اور چوتھے علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل کے درمیان تقسیم کیا۔ تو آپ ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ ہم اس کے زیادہ حقدار تھے یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے۔ حالانکہ میں آسمانوں کا امین ہوں میرے پاس آسمان کی خبریں صبح شام آتی ہیں تو ایک آدمی گھسی ہوئی آنکھوں والا بھرے ہوئے گا لوں والا ابھری ہوئی پیشانی والا مونڈے ہوئے سر والا گھنی داڑھی والا اٹھے ہوئے ازار بند والا کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ! اللہ سے ڈرو تو آپ ﷺ نے فرمایا تیری خرابی ہو کیا میں زمین والوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں کہ اللہ سے ڈروں، پھر وہ آدمی چلا گیا تو خالد بن ولید (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس کی گردن نہ مار ڈالوں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں شاید کہ یہ نماز پڑھتا ہو، خالد نے عرض کیا نماز پڑھنے والے کتنے ایسے ہیں جو زبان سے اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے نہیں مانتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے لوگوں کے دلوں کو چیرنے اور ان کے پیٹ چاک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کو پشت موڑ کر جاتے ہوئے دیکھ کر فرمایا اس آدمی کی نسل سے ایک قوم پیدا ہوگی جو عمدہ انداز سے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے گی لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گی وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ابوسعید (رض) فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا قَالَ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ وَزَيْدِ الْخَيْلِ وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ کُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَائِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَائِ يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَائِ صَبَاحًا وَمَسَائً قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ فَقَالَ وَيْلَکَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی الرَّجُلُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ فَقَالَ لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَکُونَ يُصَلِّي قَالَ خَالِدٌ وَکَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ قَالَ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ فَقَالَ إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، حضرت عما رہ بن قعقاع (رض) نے بھی یہ حدیث اسی سند سے ذکر کی ہے لیکن علقمہ بن علاثہ کہا ہے اور عامر بن طفیل ذکر نہیں کیا اور نَاتِئُ الْجَبْهَةِ کہا نَاشِزُ نہیں کہا اور اس میں یہ زیادہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس کی گردن نہ مار دوں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں اور فرمایا عنقریب اس آدمی کی نسل سے ایک قوم نکلے گی عمارہ کہتے میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں ان کو پا لوں تو قوم ثمود کی طرح انہیں قتل کر دوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاتِئُ الْجَبْهَةِ وَلَمْ يَقُلْ نَاشِزُ وَزَادَ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا فَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ کِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا وَقَالَ قَالَ عُمَارَةُ حَسِبْتُهُ قَالَ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
ابن نمیر، ابن فضیل، حضرت عمارہ بن قعقاع (رض) سے اسی سند یہ روایت ہے کہ اسی طرح ہے کہ آپ ﷺ نے چار آدمیوں کے درمیان تقسیم کیا زید الخیر، اقرع بن حابس، عیینہ بن حصین علقمہ بن علاثہ یا عامر طفیل اور عبدالواحد کی روایت کی طرح نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کہا اور فرمایا کہ اس کی نسل سے عنقریب ایک قوم نکلے گی اور اس میں آخری جملہ کہ اگر میں ان کو پالوں تو انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کر دوں مذکور نہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ زَيْدُ الْخَيْرِ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ وَقَالَ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ کَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَقَالَ إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ وَلَمْ يَذْکُرْ لَئِنْ أَدْرَکْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ اور عطاء بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے حروریہ کے بارے میں کچھ سنا تو انہوں نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ حروریہ کون ہیں لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اس امت میں ایک قوم نکلے گی یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے ہوگی وہ ایسی قوم ہوگی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز سے حقیر جانو گے وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلقوں یا گلوں سے نیچے نہ اترے گا وہ دین سے تیر کے نشانہ سے نکلے جانے کی طرح نکل جائیں گے تیرانداز اپنے تیر اس لکڑی اور اس کے پھل کو دیکھتا ہے اور اس کے کنارہ اخیر پر غور کرتا ہے جو اس کی چٹکیوں میں تھا کہ کہیں اس کی کسی چیز کو خون میں سے کوئی چیز لگ گئی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلَاهُ عَنْ الْحَرُورِيَّةِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُهَا قَالَ لَا أَدْرِي مَنْ الْحَرُورِيَّةُ وَلَکِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَکُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ فَيَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ أَوْ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَيَنْظُرُ الرَّامِي إِلَی سَهْمِهِ إِلَی نَصْلِهِ إِلَی رِصَافِهِ فَيَتَمَارَی فِي الْفُوقَةِ هَلْ عَلِقَ بِهَا مِنْ الدَّمِ شَيْئٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس ذوالخویصرہ جو بنی تمیم میں سے ایک ہے اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! انصاف کر۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون ہے جو انصاف کرے گا اور تو بدنصیب اور نقصان اٹھانے والا ہوگیا اگر میں نے عدل نہ کیا تو عمر بن خطاب (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کی گردن مارنے کی اجازت دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے ساتھی ایسے ہوں گے کہ تمہارا ایک آدمی اپنی نماز کو ان کی نماز سے حقیر تصور کرے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے سے، قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اس کے بھالہ کو دیکھتا ہے تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا پھر اس کے کنارے کو دیکھتا ہے تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا۔ پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو کچھ نہیں پاتا حالانکہ تیر پیٹ کی گندگی اور خون سے نکل چکا ہوتا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی ایسا سیاہ ہے کہ اس کا ایک شانہ عورت کے پستان یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا جو تھرتھراتا ہوگا۔ یہ اس وقت نکلیں گے جب لوگوں میں پھوٹ ہوگی ابوسعید کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہی رسول اللہ ﷺ سے سنا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے ان سے جہاد کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا تو آپ نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا وہ ملا تو اسے علی (رض) کے پاس لایا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے ویسا ہی پایا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالضَّحَّاکُ الْهَمْدَانِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَتَاهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ قَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ إِلَی نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ وَهُوَ الْقِدْحُ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَی قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْئٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ آيَتُهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَی عَضُدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَتَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَی حِينِ فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاتَلَهُمْ وَأَنَا مَعَهُ فَأَمَرَ بِذَلِکَ الرَّجُلِ فَالْتُمِسَ فَوُجِدَ فَأُتِيَ بِهِ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَيْهِ عَلَی نَعْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي نَعَتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابوعدی، سلیمان، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک قوم کا ذکر فرمایا جو آپ کی امت سے ہوں گے وہ لوگ لوگوں کی پھوٹ کے وقت نکلیں گے ان کی نشانی سر منڈانا ہوگی وہ بدترین مخلوق ہیں یا بدترین مخلوق میں سے ہیں ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جو دو گروہوں میں سے حق کے قریب ہوں گے پھر نبی کریم ﷺ نے ان کی مثال بیان فرمائی یا ایک بات فرمائی اس آدمی کی جو تیر پھینکتا ہے یا نشانہ تو وہ بھالہ میں نظر کرتا ہے لیکن اس میں کچھ اثر نہیں دیکھتا اور تیر کی لکڑی میں دیکھتا ہے اور کچھ نہیں دیکھتا اور اس کے اوپر کے حصہ میں دیکھتا ہے تو کچھ نہیں دیکھتا ہے ابوسعید (رض) نے فرمایا اے اہل عراق تم نے انہیں قتل کیا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ قَوْمًا يَکُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ سِيمَاهُمْ التَّحَالُقُ قَالَ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ أَشَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَی الطَّائِفَتَيْنِ إِلَی الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَی بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
شیبان بن فروخ، قاسم بن فضل حدانی، ابونضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے افتراق کے وقت ایک فرقہ مارقہ خروج کرے گا ان کو دو گروہوں میں سے اقرب الی الحق گروہ قتل کرے گا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُهَا أَوْلَی الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৫৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابونضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو گروہ ہوجائیں گے تو ان میں سے مارقہ فرقہ نکلے گا ان خوارج سے وہ جہاد کرے گا جو سب سے زیادہ حق کے قریب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَکُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داؤد بن نضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے ان میں سے ایک فرقہ مارقہ نکلے گا اور دو گروہوں میں سے ان کو وہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَمْرُقُ مَارِقَةٌ فِي فُرْقَةٍ مِنْ النَّاسِ فَيَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَی الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کے ذکر اور ان کی خصوصیات کے بیان میں
عبیداللہ قواریری، محمد بن عبداللہ بن سفیان، حبیب بن ابی ثابت، ضحاک مشرقی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں ایسی قوم کا ذکر فرمایا جو اختلاف کے وقت نکلے گی ان کو دو گروہوں سے جو حق کے زیادہ قریب ہوگا وہ قتل کرے گا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ الضَّحَّاکِ الْمِشْرَقِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَکَرَ فِيهِ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَی فُرْقَةٍ مُخْتَلِفَةٍ يَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ مِنْ الْحَقِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوارج کو قتل کرنے کی تو غیب کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن سعید اشج، وکیع، اعمش، خیثمہ، حضرت سو ید بن غفلہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا اگر میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیث بیان کروں جو آپ ﷺ نے نہیں فرمائی تو مجھے آسمان سے گرپڑنا زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں وہ بات کہوں جو آپ ﷺ نے نہیں بیان فرمائی اور جب وہ بات بیان کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہے تو جان لو کہ جنگ دھوکہ بازی کا نام ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے عنقریب اخیر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی نوعمر اور ان کے عقل والے بیوقوف ہونگے بات تو سب مخلوق سے اچھی کریں گے قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے گلوں سے نہ اترے گا دین سے وہ اسطرح نکل جائیں گے جیسا کہ تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے جب تم ان سے ملو تو ان کو قتل کردینا کیونکہ ان کو قتل کرنے والے کو اللہ کے ہاں قیامت کے دن ثواب ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُکُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَائِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُولَ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَقُلْ وَإِذَا حَدَّثْتُکُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ فَإِنَّ الْحَرْبَ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَائُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ کَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক: