আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
خون بہا کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৪ টি
হাদীস নং: ৬৯০২
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی قوم کے گھر میں جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی دیت نہیں
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں (جب کہ تم گھر کے اندر ہو) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6902 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৩
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاقلہ کا بیان
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی (رض) سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6903 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟ وَقَالَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ ؟، فَقَالَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৪
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے جنین کا بیان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو (پتھر سے) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ (جنین) گرگیا پھر اس (سلسلہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 6904 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৫
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے جنین کا بیان
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ (رض) نے کہ عمر (رض) نے ان سے ایک عورت کے حمل گرا دینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو مغیرہ (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔ پھر محمد بن مسلمہ (رض) نے بھی گواہی دی کہ جب نبی کریم ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے۔
حدیث نمبر: 6905 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فقال: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ. حدیث نمبر: 6906 فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৭
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے جنین کا بیان
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر (رض) نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم ﷺ سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے ؟ مغیرہ (رض) نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمر (رض) نے کہا کہ اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ چناچہ محمد بن مسلمہ (رض) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے سنا، وہ عمر (رض) سے بیان کرتے تھے کہ امیرالمؤمنین نے ان سے عورت کے حمل گرا دینے کے (خون بہا کے سلسلے میں) ان سے اسی طرح مشورہ کیا تھا آخر تک۔
حدیث نمبر: 6907 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي السِّقْطِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : أَنَا سَمِعْتُهُقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، حدیث نمبر: 6908 قَالَ: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا. حدیث نمبر: 6908 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯০৮
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے جنین کا بیان اور یہ کہ دیت باپ پر اور باپ کے عصبہ پر ہے بیٹے پر نہیں۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین (کے گرنے) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہوگی۔
حدیث نمبر: 6909 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১০
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے جنین کا بیان اور یہ کہ دیت باپ پر اور باپ کے عصبہ پر ہے بیٹے پر نہیں۔
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مرگئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہوگی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 6910 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، أن أبا هريرة رضي الله عنه، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১১
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو غلام یا بچہ عاریتا طلب کرے اور ذکر کیا جاتا ہے کہ ام سلیم نے کتاب کے معلم کے پاس لکھ بھیجا کہ میرے پاس چند لڑکے بھیج دو جو اون صاف کریں اور کسی آزاد کو میرے پاس نہ بھیجنا۔
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو طلحہ (رض) میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس لائے اور کہا : یا رسول اللہ ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ ! نبی کریم ﷺ نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کردیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 6911 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১২
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کان میں اور کنویں میں دب کر مرجانے والوں کا خون معاف ہے
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چوپائے اگر کسی کو زخمی کردیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 6912 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৩
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوپاؤں کا خون کرنا معاف ہے اور ابن سیرین نے کہا کہ صحابہ کے جانور کے لات مارنے کا تاوان نہیں دلاتے تھے اور لگام پھرنے کا تاوان دلاتے تھے اور حماد نے کہا کہ جانور کے لات مارنے کا تاوان نہ دلوایاجائے مگر اس صورت میں کہ کوئی آدمی اس کو گدگدائے، شریح نے کہا کہ سوار اس وقت تک ہر جانہ نہ دے گا کہ وہ اس کو گدگداتا رہے اور اس کو لات مار دے اور حکم اور حماد نے کہا کہ جب کرایہ لینے والا جانور کو ہانکے اور اس پر کوئی عورت بیٹھی ہوئی ہو وہ گرپڑے تو اس پر کچھ نہیں اور شعبی نے کہا کہ اگر جانور کو ہنکایا اور اسے تھکا دیا تو وہ اس کے صدمہ کا ذمہ دار ہے جو پہنچے اور اگر اس کے پیچھے چھوڑا ہوا آرہا ہے تو وہ ذمہ دار نہیں۔
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا بےزبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے، اسی طرح کان میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 6913 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৪
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا گناہ جو کسی ذمی کو بغیر گناہ کے قتل کردے
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے، کہا ہم سے مجاہد نے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کرچکا ہو (اس کی امان دے چکا ہو) جیسے ذمی، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا (چہ جائے کہ اس میں داخل ہو) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 6914 حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৫
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے، کہا میں نے علی (رض) سے کہا۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے علی (رض) سے پوچھا کیا آپ کے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں (یعنی مشہور مصحف میں) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ علی (رض) نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے ؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 6915 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيٍّ . ح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ،أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ، فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟، قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৬
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ مسلمان یہودی کو غصہ کی حالت میں طمانچہ مارے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو ۔
حدیث نمبر: 6916 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৯১৭
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ مسلمان یہودی کو غصہ کی حالت میں طمانچہ مارے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے۔
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری (رض) سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا : اے محمد ! ( ﷺ ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا : یا رسول اللہ ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد ﷺ سے بھی وہ افضل ہیں ؟ اور اس وقت مجھے غصہ آگیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہوگئی) آپ ﷺ نے فرمایا (دیکھو خیال رکھو) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہوگا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہوجائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ (علیہ السلام) (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونا تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہوچکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔
حدیث نمبر: 6917 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبيه ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي، قَالَ: أَدْعُوهُ، فَدَعَوْهُ، قَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ، فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ.
তাহকীক: