আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

خون بہا کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৪ টি

হাদীস নং: ৬৮৮২
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کسی کا خون ناحق کرنا چاہے
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں (مسلمانوں) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں۔ حرم میں زیادتی کرنے والا، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔
حدیث نمبر: 6882 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ:‏‏‏‏ مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৩
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : اللہ تعالیٰ نے ( سورة نساء میں) فرمایا اور یہ کسی مومن کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق قتل کر دے ، بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہوجائے اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر ڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا اس پر واجب ہے اور دیت بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے سوا اس کے کہ وہ لوگ خود ہی اسے معاف کردیں تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآں حالیکہ وہ بذات خود مومن ہے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا واجب ہے اور اگر ایسی قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو دیت واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا بھی ، پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا واجب ہے ، یہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے ، بڑا ہی حکمت والا ہے
11- بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا}:
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৪
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب ایک بار قتل کا اقرار کرے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے کیا ہے ؟ کیا فلاں نے کیا ہے ؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے (ہاں) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کرلیا چناچہ نبی کریم ﷺ کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6884 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهَا:‏‏‏‏ مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ ؟، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ، ‏‏‏‏‏‏فَاعْتَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ:‏‏‏‏ بِحَجَرَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৫
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے عوض مرد کے قتل کئے جانے کا بیان
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 6885 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৬
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد عورت کے درمیان زخموں میں قصاص لینے کا بیان اور اہل علم نے کہا اور مرد عورت کے بدلے قتل کیا جائے اور حضرت عمر سے منقول ہے کہ عورت کا قصاص مرد سے ہر قتل عمد یا اس سے کم تر زخمی ہونے کی صورت میں لیا جائے گا عمر بن عبدالعزیز اور ابراہیم اور ابو زناد نے اپنے اصحاب سے یہی نقل کیا ہے اور ربیع کی بہن نے ایک آدمی کو زخمی کر ڈالا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قصاص لو۔
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس (رض) کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
حدیث نمبر: 6886 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُلِدُّونِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَفَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৭
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنا حق لے یا بادشاہ کی اطلاع کے بغیر قصاص لے
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن (قیامت کے دن) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 6887 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৮
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنا حق لے یا بادشاہ کی اطلاع کے بغیر قصاص لے
اور اسی اسناد کے ساتھ (روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا) اگر کوئی شخص تیرے گھر میں (کسی سوراخ یا جنگلے وغیرہ سے) تم سے اجازت لیے بغیر جھانک رہا ہو اور تم اسے کنکری مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی سزا نہیں ہے نہ گناہ ہوگا نہ دنیا کی کوئی سزا لاگو ہوگی۔
حدیث نمبر: 6888 وَبِإِسْنَادِهِلَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ وَلَمْ تَأْذَنْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏خَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، ‏‏‏‏‏‏مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮৯
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنا حق لے یا بادشاہ کی اطلاع کے بغیر قصاص لے
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہ ایک صاحب نبی کریم ﷺ کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے ؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک (رض) نے۔
حدیث نمبر: 6889 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَدَّدَ إِلَيْهِ مِشْقَصًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ حَدَّثَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯০
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص ہجوم میں مر جائے یا قتل ہوجائے۔
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے خبر دی، کہا ہم کو ہمارے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہوگئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو ! پیچھے کی طرف والوں سے بچو ! چناچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے (جو مسلمان ہی تھے) بھڑ گئے۔ اچانک حذیفہ (رض) نے دیکھا تو ان کے والد یمان (رض) تھے۔ حذیفہ (رض) نے کہا : اللہ کے بندو ! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے۔ اس پر حذیفہ (رض) نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حذیفہ (رض) کو آخر وقت تک رہا۔
حدیث نمبر: 6890 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَاحَ إِبْلِيسُ:‏‏‏‏ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ:‏‏‏‏ أَبِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُذَيْفَةُ:‏‏‏‏ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯১
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص اپنے کو غلطی سے قتل کردے تو اس کی دیت نہیں ہے۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے، اور ان سے سلمہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر ! ہمیں اپنی حدی سنائیے۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا۔ چناچہ عامر (رض) اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہوگئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہوگئے، انہوں نے خودکشی کرلی (کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہوگئے تھے) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہوگئے تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ (اللہ کے راستہ میں) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہوگا ؟
حدیث نمبر: 6891 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ أَسْمِعْنَا يَا عَامِرُ مِنْ هُنَيْهَاتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَدَا بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ السَّائِقُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ عَامِرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَحِمَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَلَّا أَمْتَعْتَنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُصِيبَ صَبِيحَةَ لَيْلَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْقَوْمُ:‏‏‏‏ حَبِطَ عَمَلُهُ قَتَلَ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَجَعْتُ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، ‏‏‏‏‏‏زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ كَذَبَ مَنْ قَالَهَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ اثْنَيْنِ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّ قَتْلٍ يَزِيدُهُ عَلَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯২
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی کسی کو کاٹے اور اس کے دانت گر جائیں
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے زرارہ بن ابی اوفی سے سنا، ان سے عمران بن حصین (رض) نے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
حدیث نمبر: 6892 حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৩
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی کسی کو کاٹے اور اس کے دانت گر جائیں
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔
حدیث نمبر: 6893 حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ فِي غَزْوَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَعَضَّ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৪
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دانت کے بدلے دانت ہے
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس (رض) نے کہ نضرت کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس مقدمہ لائے تو نبی کریم ﷺ نے قصاص کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 6894 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ ابْنَةَ النَّضْرِ لَطَمَتْ جَارِيَةً، ‏‏‏‏‏‏فَكَسَرَتْ ثَنِيَّتَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاص.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৫
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت کا بیان
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اور یہ برابر یعنی چھنگلیا اور انگوٹھا دیت میں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 6895 حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ، يَعْنِي الْخِنْصَرَ وَالإِبْهَامَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৬
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کی دیت کا بیان
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح سنا۔
حدیث نمبر: 6895 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৭
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب چند لوگ ایک شخص کو قتل کریں تو کیا ان سب سے بدلہ یا قصاص لیا جائے گا، اور مطرف نے شعبی سے نقل کیا کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے متعلق گواہی دی، کہ اس نے چوری کی ہے تو حضرت علی نے اس کا ہاتھ کٹوادیا، پھر وہ ایک دوسرے آدمی کو لے کر آئے اور کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی (چور یہ ہے) حضرت علی نے ان دونوں کی شہادت باطل کی، اور ان سے پہلے کو دیت دلائی، اور کہا کہ اگر میں جانتا کہ تم نے قصدا ایسا کیا ہے تو میں تمہارے ہاتھ کٹوا دیتا اور مجھ سے ابن بشار نے بواسطہ یحییٰ، عبیداللہ، نافع، ابن عمر نقل کیا ہے کہ ایک لڑکا پوشیدہ طور پر قتل کیا گیا، تو حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر اس میں تمام اہل صنعاء شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کردیتا اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کردیا تو حضرت عمر نے اسی طرح فرمایا اور ابوبکر و ابن زبیر، وعلی، وسوید بن مقرن نے طمانچہ کا قصاص دلایا ہے اور حضرت عمر نے کوڑوں کا قصاص دلوایا ہے حضرت علی نے تین کوڑوں کا قصاص دلایا ہے۔ اور شریح نے کوڑوں اور نوچنے کا قصاص دلایا ہے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ (رض) نے کہا، ہم نے نبی کریم ﷺ کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہوگا ؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
حدیث نمبر: 6897 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْعَائِشَةُ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا لَا تَلُدُّونِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْنَا:‏‏‏‏ كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَفَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৮
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ کا بیان۔ اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تیرے دو گواہ ہونے چاہیے، یا اس سے قسم لوں گا اور ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اس کا قصاص حضرت معاویہ نے نہیں لیا، اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاة کو جنہیں بصرہ کا حاکم بناکر بھیجا تھا ایک مقتول کے متعلق جوگھی بیچنے والوں کے گھر کے پاس پایا گیا تھا، لکھ کر بھیجا کہ اگر اس کے وارث گواہ پائیں تو خیر ورنہ کسی پر ظلم نہ کرنا اس لئے کہ اس کا فیصلہ قیامت تک نہ ہوسکے گا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے ؟ پھر یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہوگا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چناچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔
حدیث نمبر: 6898 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ:‏‏‏‏ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ:‏‏‏‏ قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْكُبْرَ الْكُبْرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَهُمْ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَحْلِفُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯৯
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامہ کا بیان۔ اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تیرے دو گواہ ہونے چاہیے، یا اس سے قسم لوں گا اور ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اس کا قصاص حضرت معاویہ نے نہیں لیا، اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاة کو جنہیں بصرہ کا حاکم بناکر بھیجا تھا ایک مقتول کے متعلق جوگھی بیچنے والوں کے گھر کے پاس پایا گیا تھا، لکھ کر بھیجا کہ اگر اس کے وارث گواہ پائیں تو خیر ورنہ کسی پر ظلم نہ کرنا اس لئے کہ اس کا فیصلہ قیامت تک نہ ہوسکے گا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا : قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا : ابوقلابہ ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کردیا۔ میں نے عرض کیا : یا امیرالمؤمنین ! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہوگی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کردیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں (اشراف عرب) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک (رض) نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک (رض) کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس (رض) نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑگئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چناچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہوگئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مرگئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہوسکتا ہے اسلام سے پھرگئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا : عنبہ ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کردی ہے۔ واللہ ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ (ابوقلابہ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم ﷺ کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم ﷺ سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے (خیبر کے ارادہ سے) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی اور کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں (خیبر میں) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم ﷺ نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہوں نے انکار کردیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا : یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں (کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے) نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہوجائیں۔ صحابہ نے عرض کیا : ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا (ابوقلابہ نے کہا کہ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہوگیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کردیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو (جس نے قتل کیا تھا) پکڑا کہ عمر (رض) کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کردیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کرلیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گرپڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مرگئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مرگیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔
حدیث نمبر: 6899 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِيأَبُو رَجَاءٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ ،‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ :‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَقُولُ:‏‏‏‏ الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِي:‏‏‏‏ مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ ؟، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ:‏‏‏‏ عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ، ‏‏‏‏‏‏أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِمَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ:‏‏‏‏ رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْقَوْمُ:‏‏‏‏ أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَطَعَ فِي السَّرَقِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَنَسٌ :‏‏‏‏ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَصَحُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُدْرِكُوا، ‏‏‏‏‏‏فَجِيءَ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَلُوا، ‏‏‏‏‏‏وَسَرَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ، ‏‏‏‏‏‏لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُتِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ قَتَلَ صَاحِبَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمَاتُوا جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০০
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی قوم کے گھر میں جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی دیت نہیں
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم ﷺ تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
حدیث نمبر: 6900 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بِمَشَاقِصَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০১
خون بہا کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی قوم کے گھر میں جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی دیت نہیں
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی (رض) نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (گھر کے اندر آنے کا) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔
حدیث نمبر: 6901 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، ‏‏‏‏‏‏لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ.
tahqiq

তাহকীক: