আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৯ টি
হাদীস নং: ৬১৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور ایک کھجور اپنے دہان مبارک میں نرم کر کے اس کے منہ میں ڈالی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر اسے مجھے دے دیا۔ یہ ابوموسیٰ کی بڑی اولاد تھی۔
حدیث نمبر: 6198 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ، فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَكَانَ أَكْبَرَ وَلَدِ أَبِي مُوسَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انبیاء کے نام پر نام رکھنے کا بیان اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے ابراہیم یعنی اپنے صاحبزادے کا بوسہ لیا۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے، کہا ہم سے زیاد بن علاقہ نے، کہا ہم نے مغیرہ بن شعبہ (رض) سے سنا، بیان کیا کہ جس دن ابراہیم (رض) کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تھا۔ اس کو ابوبکرہ نے بھی نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6199 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، رَوَاهُ أَبُو بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا بچے کا نام اپنا نام رکھنے کا بیان۔
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے سر مبارک رکوع سے اٹھایا تو یہ دعا کی اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام، وعياش بن أبي ربيعة، والمستضعفين بمكة اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ میں دیگر موجود کمزور مسلمانوں کو نجات دیدے۔ اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف اے اللہ ! قبیلہ مضر کے کفاروں کو سخت پکڑ، اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔
حدیث نمبر: 6200 أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارنے کا بیان اور ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا اے ابوہر۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا عائش ! یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا اور ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔ بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ وہ چیزیں دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 6201 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَ، هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَتْ: وَهُوَ يَرَى مَا لَا نَرَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے ساتھی کو اس کے نام میں سے کوئی حرف کم کر کے پکارنے کا بیان اور ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا اے ابوہر۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ ام سلیم (رض) مسافروں کے سامان کے ساتھ تھیں اور نبی کریم ﷺ کے غلام انجشہ عورتوں کے اونٹ کو ہانک رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انجش ! ذرا اس طرح آہستگی سے لے چل جیسے شیشوں کو لے کرجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 6202 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي الثَّقَلِ وَأَنْجَشَةُ غُلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ بِهِنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَنْجَشُ رُوَيْدَكَ، سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچہ کی کنیت رکھنے اور جس کے بچہ پیدا نہ ہوا ہو اس کی کنیت رکھنے کا بیان۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم ﷺ جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے يا أبا عمير ما فعل النغير اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہوجاتا اور نبی کریم ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چناچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔
حدیث نمبر: 6203 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ: أَحْسِبُهُ فَطِيمًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابو تراب کنیت رکھنے کا بیان اگرچہ اس کی دوسری کنیت بھی ہو۔
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد نے کہ علی (رض) کو ان کی کنیت ابوتراب سب سے زیادہ پیاری تھی اور اس کنیت سے انہیں پکارا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے کیونکہ یہ کنیت ابوتراب خود رسول اللہ ﷺ نے رکھی تھی۔ ایک دن فاطمہ (رض) سے خفا ہو کر وہ باہر چلے آئے اور مسجد کی دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ نبی کریم ﷺ ان کے پیچھے آئے اور فرمایا کہ یہ تو دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو علی (رض) کی پیٹھ مٹی سے بھر چکی تھی۔ نبی کریم ﷺ ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑتے ہوئے (پیار سے) فرمانے لگے ابوتراب اٹھ جاؤ۔
حدیث نمبر: 6204 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: إِنْ كَانَتْ أَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَيْهِ لَأَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعَى بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبُو تُرَابٍ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُهُ، فَقَالَ: هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ، فَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْتَلَأَ ظَهْرُهُ تُرَابًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ وَيَقُولُ: اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند نام کا بیان۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس کا ہوگا جو اپنا نام ملک الاملاک (شہنشاہ) رکھے۔
حدیث نمبر: 6205 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند نام کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین نام۔ اور کبھی سفیان نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ روایت اس طرح بیان کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین ناموں (جمع کے صیغے کے ساتھ) میں اس کا نام ہوگا جو ملک الاملاک اپنا نام رکھے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ ابوالزناد کے غیر نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے شاہان شاہ ۔
حدیث نمبر: 6206 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً قَالَ: أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ، وَقَالَ سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ: أَخْنَعُ الْأَسْمَاءِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ، قَالَ سُفْيَانُ: يَقُولُ غَيْرُهُ تَفْسِيرُهُ شَاهَانْ شَاهْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کی کنیت رکھنے کا بیان اور مسورنے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا مگر یہ کہ ابن ابی طالب چاہے ( یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن ابی شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں اسامہ بن زید (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کا بنا ہوا ایک کپڑا بچھا ہوا تھا، اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ نبی کریم ﷺ بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے یہ دونوں روانہ ہوئے اور راستے میں ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی تھا۔ عبداللہ نے ابھی تک اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس مجلس میں کچھ مسلمان بھی تھے۔ بتوں کی پرستش کرنے والے کچھ مشرکین بھی تھے اور کچھ یہودی بھی تھے۔ مسلمان شرکاء میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس پر (نبی کریم ﷺ کی) سواری کا غبار اڑ کر پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ناک پر رکھ لی اور کہنے لگا کہ ہم پر غبار نہ اڑاؤ، اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے (قریب پہنچنے کے بعد) انہیں سلام کیا اور کھڑے ہوگئے۔ پھر سواری سے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور قرآن مجید کی آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ بھلے آدمی جو کلام تم نے پڑھا اس سے بہتر کلام نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ واقعی یہ حق ہے مگر ہماری مجلسوں میں آ کر اس کی وجہ سے ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ جو تمہارے پاس جائے بس اس کو یہ قصے سنا دیا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ (رض) نے عرض کیا : ضرور، یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلسوں میں بھی تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ اس معاملہ پر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں کا جھگڑا ہوگیا اور قریب تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اٹھا دیں۔ لیکن نبی کریم ﷺ انہیں خاموش کرتے رہے آخر جب سب لوگ خاموش ہوگئے تو نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر بیٹھے اور روانہ ہوئے۔ جب سعد بن عبادہ کے یہاں پہنچے تو ان سے فرمایا کہ اے سعد ! تم نے نہیں سنا آج ابوحباب نے کس طرح باتیں کی ہیں۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ باتیں کہی ہیں سعد بن عبادہ (رض) بولے، میرا باپ آپ پر صدقے ہو، یا رسول اللہ ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگذر فرمائیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کو سچا کلام دے کر یہاں بھیجا جو آپ پر اتارا۔ آپ کے تشریف لانے سے پہلے اس شہر (مدینہ منورہ) کے باشندے اس پر متفق ہوگئے تھے کہ اسے (عبداللہ بن ابی کو) شاہی تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ باندھ دیں لیکن اللہ نے سچا کلام دے کر آپ کو یہاں بھیج دیا اور یہ تجویز موقوف رہی تو وہ اس کی وجہ سے چڑ گیا اور جو کچھ آپ نے آج ملاحظہ کیا، وہ اسی جلن کی وجہ سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو معاف کردیا۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ، مشرکین اور اہل کتاب سے جیسا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ تم ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے (اذیت دہ باتیں) سنو گے۔ دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا بہت سے اہل کتاب خواہش رکھتے ہیں۔ الخ۔ چناچہ نبی کریم ﷺ انہیں معاف کرنے کے لیے اللہ کے حکم کے مطابق توجیہ کیا کرتے تھے۔ بالآخر آپ کو (جنگ کی) اجازت دی گئی۔ جب نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کیا اور اللہ کے حکم سے اس میں کفار کے بڑے بڑے بہادر اور قریش کے سردار قتل کئے گئے تو نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ فتح مند اور غنیمت کا مال لیے ہوئے واپس ہوئے، ان کے ساتھ کفار قریش کے کتنے ہی بہادر سردار قید بھی کر کے لائے تو اس وقت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے بت پرست مشرک ساتھی کہنے لگے کہ اب ان کا کام جم گیا تو نبی کریم ﷺ سے بیعت کرلو، اس وقت انہوں نے اسلام پر بیعت کی اور بظاہر مسلمان ہوگئے (مگر دل میں نفاق رہا) ۔
حدیث نمبر: 6207 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ وَأُسَامَةُ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي حَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَا حَتَّى مَرَّا بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ، وَفِي الْمُسْلِمِينَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا غَشِيَتِ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ، خَمَّرَ ابْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ وَقَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ وَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِمَّا تَقُولُ، إِنْ كَانَ حَقًّا فَلَا تُؤْذِنَا بِهِ فِي مَجَالِسِنَا، فَمَنْ جَاءَكَ فَاقْصُصْ عَلَيْهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَاغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ، فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْيَهُودُ حَتَّى كَادُوا يَتَثَاوَرُونَ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَابَّتَهُ، فَسَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْ سَعْدُ، أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُباب ؟ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ اعْفُ عَنْهُ وَاصْفَحْ، فَوَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ، وَلَقَدِ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبَحْرَةِ عَلَى أَنْ يُتَوِّجُوهُ وَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ، فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَ شَرِقَ بِذَلِكَ فَذَلِكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ، فَعَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَعْفُونَ عَنِ الْمُشْرِكِينَ وَأَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ، وَيَصْبِرُونَ عَلَى الْأَذَى، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ سورة آل عمران آية 186 الْآيَةَ وَقَالَ: وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سورة البقرة آية 109، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَأَوَّلُ فِي الْعَفْوِ عَنْهُمْ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ فِيهِمْ، فَلَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَقَتَلَ اللَّهُ بِهَا مَنْ قَتَلَ مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ وَسَادَةِ قُرَيْشٍ، فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَنْصُورِينَ غَانِمِينَ مَعَهُمْ أُسَارَى مِنْ صَنَادِيدِ الْكُفَّارِ، وَسَادَةِ قُرَيْشٍ. قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ: هَذَا أَمْرٌ قَدْ تَوَجَّهَ، فَبَايِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَسْلَمُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرک کی کنیت رکھنے کا بیان اور مسورنے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا مگر یہ کہ ابن ابی طالب چاہے ( یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے عباس بن عبدالمطلب (رض) نے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے۔
حدیث نمبر: 6208 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ، قَالَ: نَعَمْ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ، لَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پوچھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ثابت بنانی نے، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، راستہ میں حدی خواں نے حدی پڑھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے انجشہ ! شیشوں کو آہستہ آہستہ لے کر چل، تجھ پر افسوس۔
حدیث نمبر: 6209 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَحَدَا الْحَادِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْفُقْ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ بِالْقَوَارِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے بیان کیا، ان سے انس و ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے، انجشہ نامی غلام عورتوں کی سواریوں کو حدی پڑھتا لے کر چل رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا انجشہ ! شیشوں کو آہستہ لے چل۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ مراد عورتیں تھیں۔
حدیث نمبر: 6210 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ غُلَامٌ يَحْدُو بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: يَعْنِي النِّسَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا انجشہ ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں (کہ سواری سے گر نہ جائیں) ۔
حدیث نمبر: 6211 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصریح سے بات نہ کہنا جھوٹ میں داخل نہیں ہے اور اسحٰق نے کہا میں نے انس (رض) سے سنا کہ ابوطلحہ کا ایک بیٹا مر گیا ابوطلحہ (رض) نے پر چھا لڑکا کیسا ہے ؟ ام سلیم (رض) نے جواب دیا اس کی جان آرام میں ہے اور میں گمان کرتی ہوں کہ اس نے راحت پائی ابوطلحہ (رض) نے گمان کیا کہ ام سلیم ٹھیک کہتی ہے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ مدینہ منورہ پر (ایک رات نامعلوم آواز کی وجہ سے) ڈر طاری ہوگیا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ ابوطلحہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔ پھر (واپس آ کر) فرمایا ہمیں تو کوئی (خوف کی) چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا تو گویا دریا تھا۔
حدیث نمبر: 6212 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کا یہ کہنا کہ کیا یہ چیز نہیں ہے اور اس سے مراد یہ ہو کہ کیا یہ واقعہ نہیں ہے۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی، انہوں نے عروہ سے سنا، کہا کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ان کی (پیشین گوئیوں کی) کوئی حیثیت نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ بات، سچی بات ہوتی ہے جسے جِن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی (کاہن) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے۔ اس کے بعد کاہن اس (ایک سچی بات میں) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6213 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسُوا بِشَيْءٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کئے گئے اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا۔
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 6214 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کا باین اور اللہ تعالیٰ کا قول کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کس طرح بلند کئے گئے اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا۔
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ (رض) (خالہ) کے گھر گزاری، نبی کریم ﷺ بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم ﷺ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
حدیث نمبر: 6215 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی اور مٹی میں لکڑی مارنے کا بیان
ہم سے مسدد نے کہا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے عثمان بن غیاث نے، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری نے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے۔ میں گیا تو وہاں ابوبکر (رض) موجود تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ عمر (رض) تھے۔ میں نے ان کے لیے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے (دنیا میں) انہیں دوچار ہونا پڑے گا۔ میں گیا تو وہاں عثمان (رض) تھے۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتادی جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھی۔ عثمان (رض) نے کہا خیر اللہ مددگار ہے۔
حدیث نمبر: 6216 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ، أَوْ تَكُونُ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَقُمْتُ، فَفَتَحْتُ لَهُ، وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ. قَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے ہاتھ سے زمین میں کسی چیز کو کریدنے کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہوچکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا : پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کرلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورة واللیل میں ہے فأما من أعطى واتقى جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا آخر تک۔
حدیث نمبر: 6217 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَقَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ. قَالَ: اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5الْآيَةَ..
তাহকীক: