আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৯ টি
হাদীস নং: ৬১৫৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا تربت یمینک (تیرا دایاں) ہاتھ خاک آلود ہو) اور عقری حلقتی (مونڈی کاٹی) فرمانا۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (حج سے) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ (رض) اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہوگئی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا عقرى حلقى (یہ قریش کا محاورہ ہے) اب تم ہمیں روکو گی ! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کرلیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔
حدیث نمبر: 6157 حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لِأَنَّهَا حَاضَتْ، فَقَالَ: عَقْرَى حَلْقَى، لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْفِرِي إِذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৫৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لفظ زعموا کے استعمال کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر نے، ان سے ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ (رض) نے پردہ کردیا ہے۔ میں نے سلام کیا تو نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ام ہانی ! مرحبا ہو۔ جب آپ غسل کرچکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے بھائی (علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاشت کی تھی۔
حدیث نمبر: 6158 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَاكَ ضُحًى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৫৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سوار ہوجا، افسوس ويلك دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 6159 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ: ارْكَبْهَاقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوالزناد سے، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہوجا۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ ﷺ نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہوجا۔
حدیث نمبر: 6160 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ: ارْكَبْهَاقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَفِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے (دوسری سند) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ويحك اے انجشہ ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔
حدیث نمبر: 6161 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا افسوس ويلك تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ (یہ فرمایا) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑجائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے۔
حدیث نمبر: 6162 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ثَلَاثًا، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًاإِنْ كَانَ يَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا : یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس ! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ (قبیلہ والے) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ (یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہوگا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑجائے گی۔ (ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے) ان کی نشانی ان کا ایک مرد (سردار لشکر) ہوگا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا (فرمایا) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہوگا۔ ابوسعید (رض) نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی (رض) کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے (نہروان میں) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم ﷺ نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔
حدیث نمبر: 6163 حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَالضَّحَّاكِ ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا، فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، قَالَ: وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں تو تباہ ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس (کیا بات ہوئی ؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم ﷺ اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ ويحك کے لفظ ويلك. روایت کیا ہے (معنی دونوں کے ایک ہی ہیں) ۔
حدیث نمبر: 6164 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ، قَالَ: وَيْحَكَ، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: مَا أَجِدُ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ: خُذْهُ، تَابَعَهُ يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ ایک دیہاتی نے کہا : یا رسول اللہ ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے (اس کی نیت ہجرت کی تھی) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس ! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 6165 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس ( ويلكم یا ويحكم ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ (واقد بن محمد کو) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا ويحكم اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے ويلكم یا ويحكم کے لفظ نقل کئے ہیں۔
حدیث نمبر: 6166 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْقَالَ شُعْبَةُ : شَكَّ هُوَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَقَالَ النَّضْرُ : ، عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ : عَنْ أَبِيهِ ، وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا (کسی کو) ویلک کہنا۔
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس نے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، افسوس ويلك تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کرلی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا ؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 6167 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ ؟ قَالَ: وَيْلَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَفَقُلْنَا: وَنَحْنُ كَذَلِكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، فَقَالَ: إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 6168 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৬৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہوسکا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابو وائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے۔
حدیث نمبر: 6169 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔
حدیث نمبر: 6170 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ بزرگ و برتر کی محبت کی نشانی کا بیان اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تمہیں محبوب رکھے گا۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔
حدیث نمبر: 6171 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی کو کہنا کہ دور ہوجا۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے ؟ وہ بولا الدخ. نبی کریم ﷺ نے فرمایا چل دور ہوجا۔
حدیث نمبر: 6172 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ: قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَمَا هُوَ ؟قَالَ: الدُّخُّ، قَالَ: اخْسَأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کا کسی کو کہنا کہ دور ہوجا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم ﷺ کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے نبی کریم ﷺ کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی (عربوں کے) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے اس پر اسے دفع کردیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کردیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ الدخ. ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اگر یہ وہی (دجال) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جاسکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔ سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب انصاری (رض) کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم ﷺ چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم ﷺ کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتادیا کہ اے صاف ! (یہ اس کا نام تھا) محمد آ رہے ہیں۔ چناچہ وہ متنبہ ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہوجاتی۔ سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ کانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6173 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: مَاذَا تَرَى ؟ قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ: هُوَ الدُّخُّ، قَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطُ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ. حدیث نمبر: 6174 قَالَ سَالِمٌ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ. حدیث نمبر: 6175 قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ: فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: خَسَأْتُ الْكَلْبَ، بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے۔
قَالَ سَالِمٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ: فَقَالَ: ""إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ""قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: خَسَأْتُ الْكَلْبَ، بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی کو مرحبا کہنے کا بیان اور حضرت عائشہ (رض) کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ (رض) سے فرمایا مرحباً اے میری بیٹی اور ام ہانی کا بیان ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا مرحباً اے ام ہانی۔
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو نہ وہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہوگئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے) انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہوسکتے ہیں (جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتادیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں اور جو لوگ نہیں آسکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ (بیت المال کو) ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔
حدیث نمبر: 6176 حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ الَّذِينَ جَاءُوا غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَىفَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مُضَرُ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا فَقَالَ: أَرْبَعٌ وَأَرْبَعٌ: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ اپنے باپوں کے نام سے پکارے جائیں گے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے ان سے ابن عمر (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔
حدیث نمبر: 6177 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ.
তাহকীক: