আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
کھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১ টি
হাদীস নং: ৫৪৩৪
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو اپنے بھائیوں کے کھلانے میں تکلف کرے۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری (رض) نے بیان کیا کہ جماعت انصار میں ایک صاحب تھے جنہیں ابوشعیب کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچتا تھا۔ ابوشعیب (رض) نے ان غلام سے کہا کہ تم میری طرف سے کھانا تیار کر دو ۔ میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں۔ چناچہ وہ نبی کریم ﷺ کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلا کر لائے۔ ان کے ساتھ ایک صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہم پانچ آدمیوں کی تم نے دعوت کی ہے مگر یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آگئے ہیں، اگر چاہو تو انہیں اجازت دو اور اگر چاہو منع کر دو ۔ ابوشعیب (رض) نے کہا کہ میں نے انہیں بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دستر خوان والے دوسرے دستر خوان والوں کو اپنے دستر خوان سے اٹھا کر کوئی چیز دیں۔ البتہ ایک ہی دستر خوان پر ان کے شرکاء کو اس میں سے کوئی چیز دینے نہ دینے کا اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 5434 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ، قَالَ: بَلْ أَذِنْتُ لَهُ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، يَقُولُ: إِذَا كَانَ الْقَوْمُ عَلَى الْمَائِدَةِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُنَاوِلُوا مِنْ مَائِدَةٍ إِلَى مَائِدَةٍ أُخْرَى وَلَكِنْ يُنَاوِلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي تِلْكَ الْمَائِدَةِ أَوْ يَدَعُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৫
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کسی کو کھانے کی دعوت دے اور خود کسی کام میں مشغول ہوجائے۔
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے نضر سے سنا، انہیں ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے خبر دی اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ میں نوعمر تھا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ نبی کریم ﷺ اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اوپر کدو کے قتلے تھے۔ آپ کدو تلاش کرنے لگے۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو کدو کے قتلے آپ کے سامنے جمع کر کے رکھنے لگا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ (پیالہ نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھنے کے بعد) غلام اپنے کام میں لگ گیا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ اسی وقت سے میں کدو پسند کرنے لگا، جب میں نے نبی کریم ﷺ کا یہ عمل دیکھا۔
حدیث نمبر: 5435 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ النَّضْرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُلَامٍ لَهُ خَيَّاطٍ فَأَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ وَعَلَيْهِ دُبَّاءٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أَجْمَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الْغُلَامُ عَلَى عَمَلِهِ، قَالَ أَنَسٌ: لَا أَزَالُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مَا صَنَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৬
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوربہ کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا۔ جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
حدیث نمبر: 5436 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، فَذَهَبْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبَ خُبْزَ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمِئِذٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৭
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوکھے ہوئے گوشت کا بیان
ہم سے حکیم ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں شوربہ لایا گیا۔ اس میں کدو اور سوکھے گوشت کے ٹکڑے تھے، پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اس میں سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5437 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ يَأْكُلُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৮
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوکھے ہوئے گوشت کا بیان
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں (اور جمع کر کے نہ رکھیں) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک (کھاتے تھے) اور آل محمد ﷺ نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔
حدیث نمبر: 5438 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا فَعَلَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ، وَإِنْ كُنَّا لَنَرْفَعُ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৯
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص اپنے دوست کے پاس کوئی چیز لائے یا اس کو دسترخوان پر دے تو اس کے متعلق ابن مبارک نے کہا کہ ایک ہی دسترخوان پر ایک دوسرے کو دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن ایک دسترخوان سے دوسرے دسترخوان پر نہ دے
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ اس دعوت میں گیا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا، پیش کیا۔ انس (رض) نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے کہ پھر میں نبی کریم ﷺ کے سامنے کدو کے قتلے (تلاش کر کر کے) اکٹھے کرنے لگا۔
حدیث نمبر: 5439 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ. وَقَالَثُمَامَةُ: عَنْ أَنَسٍ، فَجَعَلْتُ أَجْمَعُ الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪০
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تازہ کھجوریں اور ککڑی ملا کر کھانے کا بیان
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 5440 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪১
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ (رض) کے یہاں سات دن تک مہمان رہا، وہ اور ان کی بیوی اور ان کے خادم نے رات میں (جاگنے کی) باری مقرر کر رکھی تھی۔ رات کے ایک تہائی حصہ میں ایک صاحب نماز پڑھتے رہے پھر وہ دوسرے کو جگا دیتے اور میں نے ابوہریرہ (رض) کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں ایک مرتبہ کھجور تقسیم کی اور مجھے بھی سات کھجوریں دیں، ایک ان میں خراب تھی۔
حدیث نمبر: 5441 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا، يُصَلِّي هَذَا ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪২
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھجور تقسیم کی پانچ مجھے عنایت فرمائیں چار تو اچھی کھجوریں تھیں اور ایک خراب تھی جو میرے دانتوں کے لیے سب سے زیادہ سخت تھی۔
حدیث نمبر: 5441 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا تَمْرًا، فَأَصَابَنِي مِنْهُ خَمْسٌ أَرْبَعُ تَمَرَاتٍ وَحَشَفَةٌ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْحَشَفَةَ هِيَ أَشَدُّهُنَّ لِضِرْسِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৩
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تر اور خشک کھجور کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول وھزی الیک بجذع النخلہ تساقط علیک رطبا جنیا اور محمد بن یوسف نے بواسطہ سفیان، منصور بن صفیہ، منصور کی ماں حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کی وفات سے پہلے ہم لوگ اسودین یعنی کھجور اور پانی سے شکم سیر ہوتے تھے
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر (رض) کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر (رض) کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چناچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم ﷺ اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہوگئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھی۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر ! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے ؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو ۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم ﷺ دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر ! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو ۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہوگئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کردیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ اس حدیث میں جو عروش کا لفظ ہے عروش اور عريش عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس (رض) نے کہا کہ (سورۃ الانعام میں لفظ) معروشات سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت (سورۃ البقرہ) عروشها خاویة علی یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
حدیث نمبر: 5443 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الْأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ، فَجَلَسَتْ فَخَلَا عَامًا، فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ، فَيَأْبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ، فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ، فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ: لَا أُنْظِرُهُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: افْرُشْ لِي فِيهِ، فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا جَابِرُ، جُدَّ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنَ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، يُقَالُ: عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৪
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمار کھانے کا بیان
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔
حدیث نمبر: 5444 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذَا أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৫
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عجوہ کا بیان
ہم سے جمعہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مروان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہر دن صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں، اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو۔
حدیث نمبر: 5445 حَدَّثَنَا جُمْعَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَصَبَّحَ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৬
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوکھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھانے کا بیان
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ (جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے (جو کھانے میں شریک ہے) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر (رض) کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 5446 حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ: أَصَابَنَا عَامُ سَنَةٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْكُلُ، وَيَقُولُ: لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقِرَانِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، قَالَ شُعْبَةُ: الْإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৭
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ککڑیوں کا بیان
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر (رض) سے سنا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 5447 حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৮
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھجور کے درخت کی برکت کا بیان
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مثل مسلمان کے ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
حدیث نمبر: 5448 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً تَكُونُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ وَهِيَ النَّخْلَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৪৯
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک وقت میں دو کھانے یا دو قسم کی غذا کھانے بیان
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 5449 حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْقِثَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৫০
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دس دس آدمیوں کو اندر بلانے اور دس اور دس آدمیوں کے دسترخوان پر بیٹھنے کا بیان
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس (رض) نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس (رض) نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس (رض) نے کہ ان کی والدہ ام سلیم (رض) نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا خطيفة (آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں (بلانے کے لیے) بھیجا۔ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں ؟ چناچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چناچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 5450 حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْأَنَسٍ، وَعَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أُمَّهُ عَمَدَتْ إِلَى مُدٍّ مِنْ شَعِيرٍ جَشَّتْهُ وَجَعَلَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً وَعَصَرَتْ عُكَّةً عِنْدَهَا، ثُمَّ بَعَثَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَدَعَوْتُهُ، قَالَ: وَمَنْ مَعِي، فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يَقُولُ وَمَنْ مَعِي، فَخَرَجَ إِلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ صَنَعَتْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَدَخَلَ فَجِيءَ بِهِ، وَقَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، فَدَخَلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَالَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً، حَتَّى عَدَّ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৫১
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن اور (بدبودار) ترکاریوں کے کھانے کی کراہت کا بیان، اس بارے میں ابن عمر (رض) کی روایت آپ ﷺ سے منقول ہے
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا کہ انس (رض) نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ کو لہسن کے بارے میں کچھ کہتے نہیں سنا۔ البتہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص (لہسن) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
حدیث نمبر: 5451 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قِيلَ لِأَنَسٍ: مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الثُّومِ، فَقَالَ: مَنْ أَكَلَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৫২
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن اور (بدبودار) ترکاریوں کے کھانے کی کراہت کا بیان، اس بارے میں ابن عمر (رض) کی روایت آپ ﷺ سے منقول ہے
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ (رض) کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو تو اسے چاہیے کہ ہم سے دور رہے، یا یہ فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے۔
حدیث نمبر: 5452 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا زَعَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৫৩
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کباث یعنی پیلو کے پھل کا بیان
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ (رض) نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے، ہم پیلو توڑ رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ جابر (رض) نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
حدیث نمبر: 5453 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ نَجْنِي الْكَبَاثَ، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَيْطَبُ، فَقَالَ: أَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا رَعَاهَا.
তাহকীক: