আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

کھانے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯১ টি

হাদীস নং: ৫৩৭৩
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تمہیں جو رزق حلال دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جاننے والا ہوں
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں منصور نے ان سے ابو وائل نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بھوکے کو کھلاؤ پلاؤ، بیمار کی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔ سفیان ثوری نے کہا کہ (حدیث میں) لفظ عاني سے مراد قیدی ہے۔
حدیث نمبر: 5373 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ. قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الأَسِيرُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৪
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تمہیں جو رزق حلال دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جاننے والا ہوں
ہم سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوحازم (سلمہ بن اشجعی) نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات تک آل محمد ﷺ پر کبھی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ کچھ دن برابر انہوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا ہو اور اسی سند سے۔
حدیث نمبر: 5374 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৫
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تمہیں جو رزق حلال دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک کام کرو، میں تمہارے کاموں کو جاننے والا ہوں
ابوحازم سے روایت ہے کہ ان سے ابوہریرہ (رض) نے (بیان کیا کہ فاقہ کی وجہ سے) میں سخت مشقت میں مبتلا تھا، پھر میری ملاقات عمر بن خطاب (رض) سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا۔ آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گرپڑا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے سر کے پاس کھڑے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ ! میں نے کہا حاضر ہوں، یا رسول اللہ ! تیار ہوں۔ پھر نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا۔ آپ سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا۔ میں نے اس میں دودھ پیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دوبارہ پیو (ابوہریرہ ! ) میں نے دوبارہ پیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالہ کی طرح بھرپور ہوگیا۔ ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر عمر (رض) سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اے عمر ! اللہ تعالیٰ نے اسے اس ذات کے ذریعہ پورا کرا دیا، جو آپ سے زیادہ مستحق تھی۔ اللہ کی قسم ! میں نے تم سے آیت پوچھی تھی حالانکہ میں اسے تم سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پڑھ سکتا تھا۔ عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے تم کو اپنے گھر میں داخل کرلیا ہوتا اور تم کو کھانا کھلا دیتا تو لال لال (عمدہ) اونٹ ملنے سے بھی زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی۔
حدیث نمبر: 5375 وَعَنْ أَبي حَازِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ بِيَدِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ عُدْ، ‏‏‏‏‏‏فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ فَوَلَّى اللَّهُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৬
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ پڑھنے اور دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں تھا اور (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے ! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چناچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔
حدیث نمبر: 5376 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৭
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے سامنے سے کھانے کا بیان اور انس (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام لو اور ہر شخص کو اپنے آگے سے کھانا چاہئے
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ دیلی نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان ابونعیم نے بیان کیا، ان سے عمر بن ابی سلمہ (رض) نے، وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ (رض) کے (ابوسلمہ سے) بیٹے ہیں۔ بیان کیا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھایا اور برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے نزدیک سے کھا۔
حدیث نمبر: 5377 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ نَوَاحِي الصَّحْفَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كُلْ مِمَّا يَلِيكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৮
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے سامنے سے کھانے کا بیان اور انس (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام لو اور ہر شخص کو اپنے آگے سے کھانا چاہئے
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، ان سے ابونعیم وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا، آپ کے ساتھ آپ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ (رض) بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ اور اپنے سامنے سے کھا۔
حدیث نمبر: 5378 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِّ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭৯
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو کہ پیالے میں چاروں طرف ڈھونڈے، جب کی اس کے ساتھی کو ناگوار نہ گذرے
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کی کھانے کی دعوت کی جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لیے تیار کیا تھا۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے (کھانے کے لیے) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔
حدیث نمبر: 5379 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮০
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے وغیرہ میں دائیں ہاتھ سے کام کرنے کا بیان، عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا اپنے دائیں ہاتھ سے کھا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اشعث نے، انہیں ان کے والد نے، انہیں مسروق نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جہاں تک ممکن ہوتا پاکی حاصل کرنے میں، جوتا پہننے اور کنگھا کرنے میں داہنی طرف سے ابتداء کرتے۔ اشعث اس حدیث کا راوی جب واسط شہر میں تھا تو اس نے اس حدیث میں یوں کہا تھا کہ ہر ایک کام میں نبی کریم ﷺ داہنی طرف سے ابتداء کرتے۔
حدیث نمبر: 5380 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَشْعَثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ قَالَ بِوَاسِطٍ قَبْلَ هَذَا فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮১
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے
ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ (رض) نے اپنی بیوی ام سلیم (رض) سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز میں ضعف و نقاہت کو محسوس کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ فاقہ سے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ چناچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے (یعنی انس (رض) کے) کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور ایک حصہ مجھے چادر کی طرح اوڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ بیان کیا کہ میں جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ صحابہ تھے۔ میں ان سب حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے انس ! تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہوگا۔ میں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا : کھانے کے ساتھ ؟ میں نے عرض کی، جی ہاں۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھڑے ہوجاؤ۔ چناچہ آپ روانہ ہوئے۔ میں سب کے آگے آگے چلتا رہا۔ جب ابوطلحہ (رض) کے پاس واپس پہنچا تو انہوں نے کہا : ام سلیم ! نبی کریم ﷺ صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لائے ہیں، حالانکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا سامان نہیں جو سب کو کافی ہو سکے۔ ام سلیم (رض) اس پر بولیں کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ (رض) (استقبال کے لیے) نکلے اور نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ابوطلحہ (رض) اور نبی کریم ﷺ گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور گھر میں داخل ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ام سلیم ! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ یہاں لاؤ۔ ام سلیم (رض) روٹی لائیں، نبی کریم ﷺ نے حکم دیا اور اس کا چورا کرلیا گیا۔ ام سلیم (رض) نے اپنے گھی کے ڈبہ میں سے گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا، پھر نبی کریم ﷺ نے دعا کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا کرانی چاہی، اس کے بعد فرمایا کہ ان دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چناچہ دس صحابہ کو بلایا۔ سب نے کھایا اور شکم سیر ہو کر باہر چلے گئے۔ پھر فرمایا کہ دس کو اور بلا لو، انہیں بلایا گیا اور سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دس صحابہ کو اور بلا لو، پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اور ان لوگوں نے بھی خوب پیٹ بھر کر کھایا اور باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اس طرح تمام صحابہ نے پیٹ بھر کر کھایا، اس وقت اسی (80) صحابہ کی جماعت وہاں موجود تھی۔
حدیث نمبر: 5381 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِطَعَامٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:‏‏‏‏ قُومُوا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا عِنْدَكِ ؟ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَدَمَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ ثَمَانُونَ رَجُلًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮২
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابوعثمان نہدی نے بھی بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر (رض) نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے۔ ایک صاحب نے اپنے پاس سے ایک صاع کے قریب آٹا نکالا، اسے گوندھ لیا گیا، پھر ایک مشرک لمبا تڑنگا اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ بیچنے کی ہیں یا عطیہ ہیں یا نبی کریم ﷺ نے (عطیہ کے بجائے) ہبہ فرمایا۔ اس شخص نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کی ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس سے ایک بکری خریدی پھر ذبح کی گئی اور آپ نے اس کی کلیجی بھونے جانے کا حکم دیا اور قسم اللہ کی ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں رہا جسے نبی کریم ﷺ نے اس بکری کی کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو مگر وہ موجود تھا تو اسے وہیں دے دیا اور اگر وہ موجود نہیں تھا تو اس کا حصہ محفوظ رکھا، پھر اس بکری کے گوشت کو پکا کر دو بڑے کو نڈوں میں رکھا اور ہم سب نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھایا پھر بھی دونوں کو نڈوں میں کھانا بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر لاد لیا۔ عبدالرحمٰن راوی نے ایسا ہی کوئی کلمہ کہا۔
حدیث نمبر: 5382 حَدَّثَنَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَدَّثَ أَبُو عُثْمَانَ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ هِبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏بَلْ بَيْعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، ‏‏‏‏‏‏فَصُنِعَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ يُشْوَى وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَهَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا قَصْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৩
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو پیٹ بھر کر کھانا کھائے
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ (صفیہ بن شبیہ) نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہوجانے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 5383 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৪
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول "کہ نہ تو اندھے پر کوئی حرج ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ مریض پر کوئی حرج ہے۔ آخر آیت لعلکم تعقلون تک۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، انہوں نے بشیر بن یسار سے سنا، کہا کہ ہم سے سوید بن نعمان (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف (سنہ 7 ھ میں) نکلے جب ہم مقام صہباء پر پہنچے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ صہباء خیبر سے دوپہر کی راہ پر ہے تو اس وقت نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے اسی کو سوکھا پھانک لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی، ہم نے بھی کلی کی۔ اس کے بعد آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا (مغرب کے لیے کیونکہ پہلے سے باوضو تھے) ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے اس حدیث میں یوں سنا کہ آپ نے نہ ستو کھاتے وقت وضو کیا نہ کھانے سے فارغ ہو کر۔
حدیث نمبر: 5384 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكَلْنَا مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ مِنْهُ عَوْدًا وَبَدْءًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৫
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتلی روٹی اور خوان وسفرہ پر کھانے کا بیان
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہا کہ ہم انس (رض) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت ان کا روٹی پکانے والا خادم بھی موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی چپاتی (میدہ کی روٹی) نہیں کھائی اور نہ ساری دم پختہ بکری کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔
حدیث نمبر: 5385 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ وَعِنْدَهُ خَبَّازٌ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً مَسْمُوطَةً حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৬
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتلی روٹی اور خوان وسفرہ پر کھانے کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، علی بن عبداللہ المدینی نے کہا کہ یہ یونس اسکاف ہیں (نہ کہ یونس بن عبید بصریٰ ) ان سے قتادہ نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی تشتری رکھ کر (ایک وقت مختلف قسم کا) کھانا کھایا ہو اور نہ کبھی آپ نے پتلی روٹیاں (چپاتیاں) کھائیں اور نہ کبھی آپ ﷺ نے میز پر کھایا۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر کس چیز پر آپ کھاتے تھے ؟ کہا کہ آپ سفرہ (عام دستر خوان) پر کھانا کھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 5386 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيٌّ هُوَ الْإِسْكَافُ:‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ لِقَتَادَةَ:‏‏‏‏ فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى السُّفَرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৭
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتلی روٹی اور خوان وسفرہ پر کھانے کا بیان
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے صفیہ (رض) سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم ﷺ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے صفیہ (رض) کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر (کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا) حلوہ رکھا۔
حدیث نمبر: 5387 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي بِصَفِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالْأَقِطُ وَالسَّمْنُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَعَمْرٌو:‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏بَنَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৮
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتلی روٹی اور خوان وسفرہ پر کھانے کا بیان
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ اہل شام (حجاج بن یوسف کے فوجی) شام کے لوگ عبداللہ بن زبیر (رض) کو عار دلانے کے لیے کہنے لگے یا ابن ذات النطاقین اے دو کمر بند والی کے بیٹے اور ان کی والدہ، اسماء (رض) نے کہا، اے بیٹے ! یہ تمہیں دو کمر بند والی کی عار دلاتے ہیں، تمہیں معلوم ہے وہ کمر بند کیا تھے ؟ وہ میرا کمر بند تھا جس کے میں نے دو ٹکڑے کردیئے تھے اور ایک ٹکڑے سے نبی کریم ﷺ کے برتن کا منہ باندھا تھا اور دوسرے سے دستر خوان بنایا (اس میں توشہ لپیٹا) ۔ وہب نے بیان کیا کہ پھر جب عبداللہ بن زبیر (رض) کو اہل شام دو کمر بند والی کی عار دلاتے تھے، تو وہ کہتے ہاں۔ اللہ کی قسم ! یہ بیشک سچ ہے اور وہ یہ مصرعہ پڑھتے تلک شكاة ظاهر عنک عارها‏. یہ تو ویسا طعنہ ہے جس میں کچھ عیب نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 5388 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ يُعَيِّرُونَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ ذَاتِ النِّطَاقَيْنِ. فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُمْ يُعَيِّرُونَكَ بِالنِّطَاقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏هَلْ تَدْرِي مَا كَانَ النِّطَاقَانِ ؟ إِنَّمَا كَانَ نِطَاقِي شَقَقْتُهُ نِصْفَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْكَيْتُ قِرْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدِهِمَا وَجَعَلْتُ فِي سُفْرَتِهِ آخَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَ أَهْلُ الشَّأْمِ إِذَا عَيَّرُوهُ بِالنِّطَاقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِيهًا وَالْإِلَهِ تِلْكَ شَكَاةٌ ظَاهِرٌ عَنْكَ عَارُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮৯
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتلی روٹی اور خوان وسفرہ پر کھانے کا بیان
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) کی خالہ ام حفید بنت حارث بن حزن (رض) نے نبی کریم ﷺ کو گھی، پنیر اور ساہنہ ہدیہ کے طور پر بھیجی۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو بلایا اور انہوں نے آپ کے دستر خوان پر ساہنہ کو کھایا لیکن آپ ﷺ نے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا جیسے آپ ﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر کھایا نہ جاتا اور نہ آپ انہیں کھانے کے لیے فرماتے۔
حدیث نمبر: 5389 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُسْتَقْذِرِ لَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৯০
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستو کا بیان
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے، انہیں سوید بن نعمان (رض) نے خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ مقام صہبا میں تھے۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ آخر نبی کریم ﷺ نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے (اس نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 5390 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ عَلَى رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِطَعَامٍ فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا سَوِيقًا فَلَاكَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلُكْنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَصَلَّيْنَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৯১
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کوئی چیز نہیں کھاتے تھے جب تک کہ آپ سے بیان نہ کیا جاتا اور آپ کو معلوم نہ ہوجاتا کہ کیا ہے
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن یعلیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری نے خبر دی، انہیں ابن عباس (رض) نے خبر دی اور انہیں خالد بن ولید (رض) نے جو سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کے لقب سے مشہور ہیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ (رض) کے گھر میں داخل ہوئے۔ ام المؤمنین ان کی اور ابن عباس (رض) کی خالہ ہیں۔ ان کے یہاں بھنا ہوا ساہنہ موجود تھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت الحارث (رض) نجد سے لائی تھیں۔ انہوں نے وہ بھنا ہوا ساہنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا نبی کریم ﷺ کسی کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلاں کھانا ہے لیکن اس دن آپ نے بھنے ہوئے ساہنے کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کو بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس وقت آپ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ ساہنہ ہے، یا رسول اللہ ! (یہ سن کر) آپ نے اپنا ہاتھ ساہنہ سے ہٹا لیا۔ خالد بن ولید (رض) بولے کہ یا رسول اللہ ! کیا ساہنہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں لیکن یہ میرے ملک میں چونکہ نہیں پایا جاتا، اس لیے طبیعت پسند نہیں کرتی۔ خالد (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھایا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ مجھے دیکھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 5391 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُدَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدْ قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ:‏‏‏‏ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ خَالِدٌ:‏‏‏‏ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৯২
کھانے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کافی ہوتا ہے
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔
حدیث نمبر: 5392 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ.
tahqiq

তাহকীক: