আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮১ টি

হাদীস নং: ৫০৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باندیوں سے محبت کرنے اور باندی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنے کی برتری کا بیان
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین دن تک قیام کیا اور یہیں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی (رض) کے ساتھ خلوت کی۔ پھر میں نے نبی کریم ﷺ کے ولیمہ کی مسلمانوں کو دعوت دی۔ اس دعوت ولیمہ میں نہ تو روٹی تھی اور نہ گوشت تھا۔ دستر خوان بچھانے کا حکم ہوا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم ﷺ کا ولیمہ تھا۔ بعض مسلمانوں نے پوچھا کہ صفیہ امہات المؤمنین میں سے ہیں (یعنی نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا ہے) یا لونڈی کی حیثیت سے آپ نے ان کے ساتھ خلوت کی ہے ؟ اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم ﷺ ان کے لیے پردہ کا انتظام فرمائیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر ان کے لیے پردہ کا اہتمام نہ کریں تو اس سے ثابت ہوگا کہ وہ لونڈی کی حیثیت سے آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر جب کوچ کرنے کا وقت ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے اپنی سواری پر بیٹھنے کے لیے جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ ڈالا تاکہ لوگوں کو وہ نظر نہ آئیں۔
حدیث نمبر: 5085 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، ‏‏‏‏‏‏أُمِرَ بِالْأَنْطَاعِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُونَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی کا آزاد کرنا ہی اس کا مہر ہے
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی اور شعیب بن حبحاب نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ (رض) کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
حدیث نمبر: 5086 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نادار کے نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر وہ نادار ہیں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں مالدار کردے گا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو آپ کے لیے وقف کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ پھر آپ نے نظر کو نیچی کرلیا اور پھر اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ کو ان سے نکاح کی ضرورت نہیں ہے تو ان سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس (مہر کے لیے) کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ ! نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو ممکن ہے تمہیں کوئی چیز مل جائے۔ وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں نے کچھ نہیں پایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مل جائے تو لے آؤ۔ وہ گئے اور واپس آگئے اور عرض کیا : اللہ کی قسم، یا رسول اللہ ! میرے پاس لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں البتہ میرے پاس ایک تہمد ہے۔ انہیں (خاتون کو) اس میں سے آدھا دے دیجئیے۔ سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنو گے تو ان کے لیے اس میں سے کچھ نہیں بچے گا اور اگر وہ پہن لے تو تمہارے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ اس کے بعد وہ صحابی بیٹھ گئے۔ کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا کہ وہ واپس جا رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں بلوایا جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ انہوں نے گن کر بتائیں۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تم انہیں بغیر دیکھے پڑھ سکتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ۔ میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ ان سورتوں کے بدلے جو تمہیں یاد ہیں۔
حدیث نمبر: 5087 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَهْلٌ:‏‏‏‏ مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسب و خاندان میں اسلام اور دینداری کے لزوم کا بیان نسب و صہر اور کفو کی طرف اشارہ ہے کفو اور کفایت کے معنی نسب وخاندان صہر دامادی۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ (رض) نے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس (مہشم) نے جو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ سالم بن معقل (رض) کو لے پالک بیٹا بنایا، اور پھر ان کا نکاح اپنے بھائی کی لڑکی ہندہ بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ سے کردیا۔ پہلے سالم (رض) ایک انصاری خاتون (شبیعہ بنت یعار) کے آزاد کردہ غلام تھے لیکن حذیفہ نے ان کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے زید کو (جو آپ ہی کے آزاد کردہ غلام تھے) اپنا لے پالک بیٹا بنایا تھا جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو لے پالک بیٹا بنا لیتا تو لوگ اسے اسی کی طرف نسبت کر کے پکارا کرتے تھے اور لے پالک بیٹا اس کی میراث میں سے بھی حصہ پاتا آخر جب سورة الحجرات میں یہ آیت اتری ادعوهم لآبائهم‏ کہ انہیں ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو اللہ تعالیٰ کے فرمان ومواليكم‏ تک تو لوگ انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارنے لگے جس کے باپ کا علم نہ ہوتا تو اسے مولى اور دینی بھائی کہا جاتا۔ پھر سہلہ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامدی (رض) جو ابوحذیفہ (رض) کی بیوی ہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم تو سالم کو اپنا حقیقی جیسا بیٹا سمجھتے تھے اب اللہ نے جو حکم اتارا وہ آپ کو معلوم ہے پھر آخر تک حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 5088 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا تَبَنَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5، ‏‏‏‏‏‏فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ العَامِرِيِّ وَهِيَ امْرَأَةُ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسب و خاندان میں اسلام اور دینداری کے لزوم کا بیان نسب و صہر اور کفو کی طرف اشارہ ہے کفو اور کفایت کے معنی نسب وخاندان صہر دامادی۔
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر (رض) کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم ﷺ کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ ! میں اس وقت حلال ہوجاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا۔ اور (ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا) مقداد بن اسود (رض) کے نکاح میں تھیں۔
حدیث نمبر: 5089 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا:‏‏‏‏ لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهَا:‏‏‏‏ حُجِّي وَاشْتَرِطِي، ‏‏‏‏‏‏وَقُولِي:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسب و خاندان میں اسلام اور دینداری کے لزوم کا بیان نسب و صہر اور کفو کی طرف اشارہ ہے کفو اور کفایت کے معنی نسب وخاندان صہر دامادی۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے عبیداللہ عموی نے، کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہوگی) ۔
حدیث نمبر: 5090 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ:‏‏‏‏ لِمَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلِحَسَبِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَجَمَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلِدِينِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسب و خاندان میں اسلام اور دینداری کے لزوم کا بیان نسب و صہر اور کفو کی طرف اشارہ ہے کفو اور کفایت کے معنی نسب وخاندان صہر دامادی۔
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے، ان سے ان کے والد سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے بیان کیا کہ ایک صاحب (جو مالدار تھے) رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے پاس موجود صحابہ سے پوچھا کہ یہ کیسا شخص ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو غور سے سنی جائے۔ سہل نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ اس پر چپ ہو رہے۔ پھر ایک دوسرے صاحب گزرے، جو مسلمانوں کے غریب اور محتاج لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ اس قابل ہے کہ اگر کسی کے یہاں نکاح کا پیغام بھیجے تو اس سے نکاح نہ کیا جائے اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ یہ شخص اکیلا پہلے شخص کی طرح دنیا بھر سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 5091 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ قَالَ أَنْ يُسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ سَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَاخَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلَ هَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفا یت میں مالداری کالحاظ اور مفلس کا مالدار عورت سے نکاح کا بیان
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے آیت وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کرسکو گے۔ کے متعلق سوال کیا۔ عائشہ (رض) نے کہا میرے بھانجے ! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کرلیں۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورة نساء میں آیت ويستفتونک في النساء‏ سے وترغبون أن تنکحوهن‏ تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کرلینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کرلیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہوگی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کرلیتے ہیں۔ عائشہ (رض) نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہیے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5092 حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي، ‏‏‏‏‏‏هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ:‏‏‏‏ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) کے صاحبزادے حمزہ اور سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نحوست عورت میں، گھر میں اور گھوڑے میں ہوسکتی ہے (نحوست بےبرکتی اگر ہو تو ان میں ہوسکتی ہے) ۔
حدیث نمبر: 5093 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد عسقلانی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5094 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر (نحوست) کسی چیز میں ہو تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 5095 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی نحوست سے پرہیز کرنے کا بیان، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ تمہارے بعض بچے اور بیوی تمہارے لئے دشمن ہیں
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا اور انہوں نے اسامہ بن زید (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے۔
حدیث نمبر: 5096 حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد عورت کا غلام سے نکاح کرنے کا بیان
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی انہیں ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے انہیں قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ بریرہ کے ساتھ تین سنت قائم ہوتی ہیں، انہیں آزاد کیا اور پھر اختیار دیا گیا (کہ اگر چاہیں تو اپنے شوہر سابقہ سے اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہیں) اور رسول اللہ ﷺ نے (بریرہ (رض) کے بارے میں) فرمایا کہ ولاء آزاد کرانے والے کے ساتھ قائم ہوئی ہے اور نبی کریم ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو ایک ہانڈی (گوشت کی) چولہے پر تھی۔ پھر نبی کریم ﷺ کے لیے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (چولہے پر) ہانڈی (گوشت کی) بھی تو میں نے دیکھی تھی۔ عرض کیا گیا کہ وہ ہانڈی اس گوشت کی تھی جو بریرہ کو صدقہ میں ملا تھا اور آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور اب ہمارے لیے ان کی طرف سے تحفہ ہے۔ ہم اسے کھا سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5097 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ عَتَقَتْ فَخُيِّرَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ‏‏‏‏‏‏وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبُرْمَةٌ عَلَى النَّارِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَمْ أَرَ الْبُرْمَةَ ؟فَقِيلَ:‏‏‏‏ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار عورتوں سے زیادہ نہ رکھنے کا بیان، اللہ تعالیٰ کا قول دو دو، تین تین، چار، چار علی بن حسین فرماتے ہیں اس سے مراد دو دو، تین تین، یا چار چار ہیں (مجموعہ مراد نہیں) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان اولی اجنحۃ مثنی وثلاث ورباع یعنی دو دو یا تین تین یا چار چار
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وإن خفتم أن لا،‏‏‏‏ تقسطوا في اليتامى‏ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے۔ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یتیم لڑکی ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کرتے اور اچھی طرح اس سے سلوک نہ کرتے اور نہ اس کے مال کے بارے میں انصاف کرتے ایسے شخصوں کو یہ حکم ہوا کہ اس یتیم لڑکی سے نکاح نہ کریں بلکہ اس کے سوا جو عورتیں بھلی لگیں ان سے نکاح کرلیں۔ دو دو، تین تین یا چار چار تک کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 5098 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ وَهُوَ وَلِيُّهَا فَيَتَزَوَّجُهَا عَلَى مَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَعْدِلُ فِي مَالِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَزَوَّجْ مَا طَابَ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهَا مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پلانے والی ماں کا بیان۔ (آپ ﷺ کا فرمان کہ) جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن ابوبکر نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے اور آپ نے سنا کہ کوئی صاحب ام المؤمنین حفصہ (رض) کے گھر میں اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ شخص آپ کے گھر میں آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ فلاں شخص ہے، آپ ﷺ نے حفصہ (رض) کے ایک دودھ کے چچا کا نام لیا۔ اس پر عائشہ (رض) نے پوچھا : کیا فلاں، جو ان کے دودھ کے چچا تھے، اگر زندہ ہوتے تو میرے یہاں آ جاسکتے تھے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں جیسے خون ملنے سے حرمت ہوتی ہے، ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 5099 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پلانے والی ماں کا بیان، (آپ ﷺ کا فرمان کہ) جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ آپ حمزہ (رض) کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا۔
حدیث نمبر: 5100 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُقَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پلانے والی ماں کا بیان، (آپ ﷺ کا فرمان کہ) جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے خبر دی کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری بہن (ابوسفیان کی لڑکی) سے نکاح کرلیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اسے پسند کرو گی (کہ تمہاری سوکن بہن بنے) ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، میں تو پسند کرتی ہوں اگر میں اکیلی آپ کی بیوی ہوتی تو پسند نہ کرتی۔ پھر میری بہن اگر میرے ساتھ بھلائی میں شریک ہو تو میں کیونکر نہ چاہوں گی (غیروں سے تو بہن ہی اچھی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ ام حبیبہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! لوگ کہتے ہیں آپ ابوسلمہ کی بیٹی سے جو ام سلمہ کے پیٹ سے ہے، نکاح کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میری ربیبہ اور میری پرورش میں نہ ہوتی (یعنی میری بیوی کی بیٹی نہ ہوتی) جب بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی۔ وہ دوسرے رشتے سے میری دودھ بھتیجی ہے، مجھ کو اور ابوسلمہ کے باپ کو دونوں کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے۔ دیکھو، ایسا مت کرو اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو مجھ سے نکاح کرنے کے لیے نہ کہو۔ عروہ راوی نے کہا ثوبیہ ابولہب کی لونڈی تھی۔ ابولہب نے اس کو آزاد کردیا تھا۔ (جب اس نے نبی کریم ﷺ کے پیدا ہونے کی خبر ابولہب کو دی تھی) پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا جب ابولہب مرگیا تو اس کے کسی عزیز نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کیا حال ہے کیا گزری ؟ وہ کہنے لگا جب سے میں تم سے جدا ہوا ہوں کبھی آرام نہیں ملا مگر ایک ذرا سا پانی (پیر کے دن مل جاتا ہے) ابولہب نے اس گڑھے کی طرف اشارہ کیا جو انگوٹھے اور کلمہ کے انگلی کے بیچ میں ہوتا ہے یہ بھی اس وجہ سے کہ میں نے ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 5101 حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَأَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَتْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَوَتُحِبِّينَ ذَلِكِ ؟ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَإِنَّا نُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ ! قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ. فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي، ‏‏‏‏‏‏مَا حَلَّتْ لِي، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي، ‏‏‏‏‏‏وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ وَثُوَيْبَةُ:‏‏‏‏ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ أَبُو لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيبَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهُ:‏‏‏‏ مَاذَا لَقِيتَ ؟ قَالَ أَبُو لَهَبٍ:‏‏‏‏ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ أَنِّي سُقِيتُ فِي هَذِهِ بِعَتَاقَتِي ثُوَيْبَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص یہ کہے کہ دو سال کی عمر کے بعد رضاعت کی حرمت ثابت نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کوئی رضاعت پوری کرنا چاہے تو اس کی مدت دو سال ہے اور واقعہ یہ ہے کہ عورت کا دودھ پینے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے ان کے دادا نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے۔
حدیث نمبر: 5102 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّهُ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کا دودھ پینے پر شوہر کا بیٹا شمار ہونے کا بیان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح نے ان کے یہاں اندر آنے کی اجازت چاہی۔ وہ عائشہ (رض) کے رضاعی چچا تھے (یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ) میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دی پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو ان کے ساتھ اپنے معاملے کو بتایا، نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں اندر آنے کی اجازت دے دوں۔
حدیث نمبر: 5103 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، ‏‏‏‏‏‏جَاءَيَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏بَعْدَ أَنْ نَزَلَ الْحِجَابُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پلانے والی کی شہادت سے رضاعت کے ثبوت کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن حارث (رض) نے (عبداللہ بن ابی ملیکہ نے) بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت (ام یحییٰ بن ابی اہاب) سے نکاح کیا۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاں سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا) آپ ﷺ نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیرلیا۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو ۔ (حدیث کے راوی) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کر کے۔
حدیث نمبر: 5104 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيعُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَرْضَعْتُكُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ لِي:‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْرَضَ عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ دَعْهَا عَنْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، ‏‏‏‏‏‏يَحْكِي أَيُّوبَ.
tahqiq

তাহকীক: