আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮১ টি

হাদীস নং: ৫১২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے خبر دی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کرلیتا۔ دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہوجاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرا لے اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے چھوتا بھی نہیں۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہوجاتا جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی، تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ ایسا اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح استبضاع کہلاتا تھا۔ تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان تمام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا تھا۔ چناچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہوجاتے اور وہ ان سے کہتی کہ جو تمہارا معاملہ تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور اب میں نے یہ بچہ جنا ہے۔ پھر وہ کہتی کہ اے فلاں ! یہ بچہ تمہارا ہے۔ وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا، وہ شخص اس سے انکار کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔ چوتھا نکاح اس طور پر تھا کہ بہت سے لوگ کسی عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو روکتی نہیں تھی۔ یہ کسبیاں ہوتی تھیں۔ اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے۔ جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کردیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جاتا، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ پھر جب محمد ﷺ حق کے ساتھ رسول ہو کر تشریف لائے آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔
حدیث نمبر: 5127 قَالَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ:‏‏‏‏ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا:‏‏‏‏ أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ مَا دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ عَلَيْهَا لَيَالٍ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا تَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ فَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلَانُ تُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ بِاسْمِهِ فَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ بِهِ الرَّجُلُ، ‏‏‏‏‏‏وَنِكَاحُ الرَّابِعِ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُونُ عَلَمًا فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ وَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَ بِهِ وَدُعِيَ ابْنَهُ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بُعِثَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ إِلَّا نِكَاحَ النَّاسِ الْيَوْمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ آیت وما يتلى عليكم في الکتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما کتب لهن وترغبون أن تنکحوهن‏ یعنی وہ (آیات بھی) جو تمہیں کتاب کے اندر ان یتیم لڑکوں کے بارے میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جنہیں تم وہ نہیں دیتے ہو جو ان کے لیے مقرر ہوچکا ہے اور اس سے بیزار ہو کہ ان کا کسی سے نکاح کرو۔ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کسی شخص کی پرورش میں ہو۔ ممکن ہے کہ اس کے مال و جائیداد میں بھی شریک ہو، وہی لڑکی کا زیادہ حقدار ہے لیکن وہ اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا البتہ اس کے مال کی وجہ سے اسے روکے رکھتا ہے اور کسی دوسرے مرد سے اس کی شادی نہیں ہونے دیتا کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اس کے مال میں حصہ دار بنے۔
حدیث نمبر: 5128 حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ هَذَا فِي الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ شَرِيكَتَهُ فِي مَالِهِ وَهُوَ أَوْلَى بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيَعْضُلَهَا لِمَالِهَا وَلَا يُنْكِحَهَا غَيْرَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشْرَكَهُ أَحَدٌ فِي مَالِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے خبر دی کہ جب حفصہ بنت عمر (رض) ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں۔ ابن حذافہ (رض) نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان (رض) سے ملا اور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکاح نہ کروں۔ عمر (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں ابوبکر (رض) سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔
حدیث نمبر: 5129 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے حسن بصری نے آیت فلا تعضلوهن‏ کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار (رض) نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کردیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی فلا تعضلوهن‏ کہ تم عورتوں کو مت روکو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کردیا۔
حدیث نمبر: 5130 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ:‏‏‏‏ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، ‏‏‏‏‏‏لَا وَاللَّهِ لَا تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی خود عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جائز ہے، مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے منگنی کی، جس کا وہ ولی قریب تھا اور ایک شخص کو حکم دیا، جس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمن بن عوف نے ام حکیم دخترقارظ سے کہا کہ تو مجھے مختار بناتی ہے، اس نے کہا جی ہاں، عبدالرحمن نے کہا، پھر تو اس حالت میں میں تجھ سے نکاح کئے لیتا ہوں، عطاء کہتے ہیں کہ گواہ کرکے یوں کہئے کہ میں نے تجھ سے نکاح کرلیا یا پھر اس کے کنبہ والوں میں سے کسی کو اجازت دے، سہل کہتے کہ ایک عورت نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اپنا نفس آپ کو دیتی ہوں، ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے آیت ويستفتونک في النساء قل الله يفتيكم فيهن‏ اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے۔ آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو۔ وہ مرد اس کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5131 حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِه فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَحْبِسُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی خود عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جائز ہے، مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے منگنی کی، جس کا وہ ولی قریب تھا اور ایک شخص کو حکم دیا، جس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمن بن عوف نے ام حکیم دخترقارظ سے کہا کہ تو مجھے مختار بناتی ہے، اس نے کہا جی ہاں، عبدالرحمن نے کہا، پھر تو اس حالت میں میں تجھ سے نکاح کئے لیتا ہوں، عطاء کہتے ہیں کہ گواہ کرکے یوں کہئے کہ میں نے تجھ سے نکاح کرلیا یا پھر اس کے کنبہ والوں میں سے کسی کو اجازت دے، سہل کہتے کہ ایک عورت نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اپنا نفس آپ کو دیتی ہوں، ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں نظر نیچی اوپر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 5132 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يُرِدْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ. قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، ‏‏‏‏‏‏وَآخُذُ النِّصْفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی چھوٹی بچیوں کا خود نکاح کردینے کا بیان، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اللائی لم یحضن اس کی دلیل ہے، کیوں کہ نابالغہ کی عدت (اس آیت میں) تین ماہ قرار پائی ہے
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ان کا نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو اس وقت ان کی عمر نو برس کی تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں۔
حدیث نمبر: 5133 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والد کا امام سے اپنی بیٹی بیاہنے کا بیان، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے پاس آپ ﷺ نے حفصہ کا پیغام بھیجا، میں نے آپ سے حفصہ کا نکاح بلاتامل کردیا
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نو سال تک رہیں۔
حدیث نمبر: 5134 حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامٌ:‏‏‏‏ وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بادشاہ کے ولی ہونے کا بیان، آپ ﷺ کا یہ قول کہ زوجنا کھا بمامعک من القرآن اس کا ثبوت ہے
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم مسلم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر نبی کریم ﷺ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کے لیے تہمد بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کرلو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ! اسے وہ بھی نہیں ملی تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔
حدیث نمبر: 5135 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي فَقَامَتْ طَوِيلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَمِسْ شَيْئًا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا أَجِدُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَجِدْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص یا والد کے لئے بالغہ یا کسی بیوہ عورت کا بغیر اس کی مرضی حاصل کیے نکاح نہ کرسکنے کا بیان
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی بشیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 5136 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَسْكُتَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص یا والد کے لئے بالغہ یا کسی بیوہ عورت کا بغیر اس کی مرضی حاصل کیے نکاح نہ کرسکنے کا بیان
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، انہیں عائشہ (رض) کے غلام ابوعمرو ذکوان نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کنواری لڑکی (کہتے ہوئے) شرماتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہوجانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔
حدیث نمبر: 5137 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رِضَاهَا صَمْتُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹی اگر نکاح سے ناراض ہو تو نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبدالرحمٰن اور مجمع نے جو دونوں یزید بن حارثہ کے بیٹے ہیں، ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ (رض) نے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا تھا، وہ ثیبہ تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو فسخ کردیا۔
حدیث نمبر: 5138 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهْيَ ثَيِّبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَدَّ نِكَاحَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹی اگر نکاح سے ناراض ہو تو نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید نے بیان کیا کہ خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کردیا تھا۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 5139 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ،‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَحَدَّثَاهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم لڑکی کے نکاح کرنے کا بیان، وان خفتم الاتقسطوا فی الیتمامی، یتیم لڑکی کے نکاح پر دلیل ہے، اگر کوئی شخص ولی سے کہے کہ فلاں عورت سے میرا نکاح کردے اور وہ خاموش ہو رہے یا کہے تیرے پاس کیا ہے، پھر وہ جواب دے کہ اتنا اور اتنا ہے، یا دونوں رکے رہیں، پھر ولی کہے کہ میں نے تجھ سے اس عورت کا نکاح کردیا، تو یہ جائز ہے، اس میں سہل کی حدیث آپ ﷺ سے روایت کی گئی ہے
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین ! اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے ؟ وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى‏ اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے۔ ما ملکت أيمانکم‏ تک۔ عائشہ (رض) نے کہا : میرے بھانجے ! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم یبان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں (اور اگر انصاف نہیں کرسکتے تو انہیں ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔ عائشہ (رض) نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت ويستفتونک في النساء‏ اور آپ سے عورتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں سے وترغبون‏ تک نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مندی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کردیتے ہیں (یہ کیا بات) ان کو چاہیے کہ جیسے مال و دولت اور حسن و جمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کرلیں۔
حدیث نمبر: 5140 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ اللَّيْثُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لَهَا:‏‏‏‏ يَا أُمَّتَاهْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي، ‏‏‏‏‏‏هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیغام دینے والا اگر ولی سے کہے کہ فلاں عورت سے میرا نکاح کردو، جواب میں ولی کہے کہ اتنے مہر کے عوض میں نے تجھ سے نکاح کردیا تو نکاح جائز ہے، اگرچہ اس کے بعد شوہر سے دریافت نہ کرے کہ قبول کرلیا یا تو راضی ہے
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ ﷺ سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس عورت کو کچھ دو ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ اس قرآن کے بدلے جو تم کو یاد ہے۔
حدیث نمبر: 5141 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏زَوِّجْنِيهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدَكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدِي شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا عِنْدِي شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مسلمان بھائی کی منگنی (پیغام نکاح) پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جب تک کہ پہلی منگنی کا معاملہ ختم نہ ہوجائے یا وہ نکاح کرلے
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5142 حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مسلمان بھائی کی منگنی (پیغام نکاح) پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جب تک کہ پہلی منگنی کا معاملہ ختم نہ ہوجائے یا وہ نکاح کرلے
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔ اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 5143 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ:‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَجَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَحَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَبَاغَضُوا، ‏‏‏‏‏‏وَكُونُوا إِخْوَانًا. حدیث نمبر: 5144 وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منگنی چھوڑنے کی وضاحت کا بیان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر (رض) نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ (رض) بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق (رض) سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر (رض) سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر (رض) مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم ﷺ انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کرلیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 5145 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا. تَابَعَهُ يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہوگئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5146 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولیمہ اور نکاح میں دف بجانے کا بیان
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو ۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 5147 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ:‏‏‏‏ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ:‏‏‏‏ وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعِي هَذِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ.
tahqiq

তাহকীক: