আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯৫ টি
হাদীস নং: ৪৯২২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت مدثر ابن عباس نے کہا عسیر بمعنے شدید سخت دشوار اور قسورہ کے معنی ہیں آدمیوں کا شور و غوغا اور ابوہریرہ (رض) نے کہا اس کا معنی شیر ہے اور ہر سخت چیز قسورہ ہے مسنتفرۃ خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے۔
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ يا أيها المدثر میں نے عرض کیا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ اقرأ باسم ربک الذي خلق سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ابوسلمہ نے اس پر کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا تھا اور جو بات ابھی تم نے مجھ سے کہی وہی میں نے بھی ان سے کہی تھی لیکن جابر (رض) نے کہا تھا کہ میں تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں غار حرا میں ایک مدت کے لیے خلوت نشیں تھا۔ جب میں وہ دن پورے کر کے پہاڑ سے اترا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اس آواز پر اپنے دائیں طرف دیکھا لیکن کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پھر بائیں طرف دیکھا ادھر بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دی، سامنے دیکھا ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پیچھے کی طرف دیکھا اور ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ اب میں نے اپنا سر اوپر کی طرف اٹھایا تو مجھے ایک چیز دکھائی دی۔ پھر میں خدیجہ (رض) کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ فرمایا کہ پھر انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور ٹھنڈا پانی مجھ پر بہایا۔ فرمایا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربک فکبر یعنی اے کپڑے میں لپٹنے والے ! اٹھئیے پھر لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے۔
حدیث نمبر: 4922 حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، قُلْتُ: يَقُولُونَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ، فَقَالَ جَابِرٌ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ، فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ، فَنُودِيتُ، فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ أَمَامِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، وَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ شَيْئًا، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، قَالَ: فَدَثَّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ 1 قُمْ فَأَنْذِرْ 2 وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ 3 سورة المدثر آية 1-3.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «قم فأنذر» کی تفسیر۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے اور ان کے غیر (ابوداؤد طیالسی) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر عبداللہ (رض) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غار حرا میں تنہائی اختیار کئے ہوئے تھا۔ یہ روایت بھی عثمان بن عمر کی حدیث کی طرح ہے جو انہوں نے علی بن مبارک سے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 4923 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاوَرْتُ بِحِرَاءٍ، مِثْلَ حَدِيثِعُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «وربك فكبر» کی تفسیر۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حرب نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ؟ فرمایا کہ يا أيها المدثر میں نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ اقرأ باسم ربک الذي خلق سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے پوچھا تھا کہ قرآن کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ يا أيها المدثر اے کپڑے میں لپٹنے والے ! میں نے ان سے یہی کہا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ اقرأ باسم ربك سب سے پہلے نازل ہوئی تھی تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وہی خبر دے رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے غار حرا میں تنہائی اختیار کی جب میں وہ مدت پوری کرچکا اور نیچے اتر کر وادی کے بیچ میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا۔ میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا اور مجھے دکھائی دیا کہ فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہے۔ پھر میں خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو اور میرے اوپر ٹھنڈا پانی ڈالو اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربک فکبر اے کپڑے میں لپٹنے والے ! اٹھئیے پھر لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی کیجئے۔
حدیث نمبر: 4924 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، فَقُلْتُ: أُنْبِئْتُ أَنَّهُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1، فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ سورة المدثر آية 1، فَقُلْتُ: أُنْبِئْتُ أَنَّهُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ سورة العلق آية 1، فَقَالَ: لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاوَرْتُ فِي حِرَاءٍ فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي هَبَطْتُ، فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِيَ، فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: دَثِّرُونِي وَصُبُّوا عَلَيَّ مَاءً بَارِدًا، وَأُنْزِلَ عَلَيَّ يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ 1 قُمْ فَأَنْذِرْ 2 وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ 3 سورة المدثر آية 1-3.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئیے“۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ درمیان میں وحی کا سلسلہ رک جانے کا حال بیان فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں رو رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس کے ڈر سے گھبرا گیا پھر میں گھر واپس آیا اور خدیجہ سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔ انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے آیت يا أيها المدثر سے والرجز فاهجر تک نازل کی۔ یہ سورت نماز فرض کئے جانے سے پہلے نازل ہوئی تھی الرجز سے مراد بت ہے۔
حدیث نمبر: 4925 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ رُعْبًا، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَدَثَّرُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ إِلَى وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ وَهِيَ الْأَوْثَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور بتوں سے الگ رہیئے“۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ درمیان میں وحی کے سلسلے کے رک جانے سے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ کرسی پر آسمان اور زمین کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر اتنا ڈرا کہ زمین پر گرپڑا۔ پھر میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑا اوڑھا دو ! مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی يا أيها المدثر سے والرجز فاهجر تک ابوسلمہ نے بیان کیا کہ الرجز بت کے معنی میں ہے۔ پھر وحی گرم ہوگئی اور سلسلہ نہیں ٹوٹا۔
حدیث نمبر: 4926 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَزَمَّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ إِلَى قَوْلِهِ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَالرِّجْزَ: الْأَوْثَانَ، ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”آپ اس کو (یعنی قرآن کو) جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا جلایا کریں“۔
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا اور موسیٰ ثقہ تھے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنی زبان ہلایا کرتے تھے۔ سفیان نے کہا کہ اس ہلانے سے آپ کا مقصد وحی کو یاد کرنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی لا تحرک به لسانک لتعجل به آپ جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں، اس کا جمع کردینا اور اس کا پڑھوا دینا، یہ ہر دو کام تو ہمارے ذمہ ہیں۔
حدیث نمبر: 4927 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ حَرَّكَ بِهِ لِسَانَهُ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «إن علينا جمعه وقرآنه» کی تفسیر۔
ہم سے عبداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد لا تحرک به لسانک الایۃ یعنی آپ قرآن کو لینے کے لیے زبان نہ ہلایا کریں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) نے کہا جب نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ اپنے ہونٹ ہلایا کرتے تھے اس لیے آپ سے کہا گیا لا تحرک به لسانک الخ یعنی وحی پر اپنی زبان نہ ہلایا کریں، اس کا تمہارے دل میں جما دینا اور اس کا پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔ جب ہم اس کو پڑھ چکیں یعنی جبرائیل تجھ کو سنا چکیں تو جیسا جبرائیل نے پڑھ کر سنایا تو بھی اس طرح پڑھ۔ پھر یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کہ ہم تیری زبان سے اس کو پڑھوا دیں گے۔
حدیث نمبر: 4928 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16 يَخْشَى أَنْ يَنْفَلِتَ مِنْهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ أَنْ تَقْرَأَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ سورة القيامة آية 18، يَقُولُ: أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18 ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 أَنْ نُبَيِّنَهُ عَلَى لِسَانِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» کی تفسیر۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد لا تحرک به لسانک لتعجل به الایۃ یعنی آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں کے متعلق بتلایا کہ جب جبرائیل آپ پر وحی نازل کرتے تو رسول اللہ ﷺ اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور آپ پر یہ بہت سخت گزرتا، یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جو سورة لا أقسم بيوم القيامة میں ہے یعنی لا تحرک به لسانک الایۃ یعنی آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں۔ یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کردینا اور اس کا پڑھوانا، پھر جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے یاد کرتے جایا کریں۔ یعنی جب ہم وحی نازل کریں تو آپ غور سے سنیں۔ پھر اس کا بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کی زبانی لوگوں کے سامنے بیان کرا دیں۔ بیان کیا کہ چناچہ اس کے بعد جب جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر آتے تو نبی کریم ﷺ خاموش ہوجاتے اور جب چلے جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔ آیت أولى لک فأولى میں تهديد یعنی ڈرانا دھمکانا مراد ہے۔
حدیث نمبر: 4929 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1 لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17، قَالَ: عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْلَى لَكَ فَأَوْلَى تَوَعُّدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت والمرسلات اور مجاہد نے کہا جمالات بمعنی ڈوریاں ہیں ارکعو نماز پڑھو لا یصلون وہ نماز نہیں پڑھتے تھے اور ابن عباس (رض) سے لا ینطقون اور و اللہ ربنا ما کنا مشرکین اور الیوم نختم کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مختلف حالتوں میں ہوں گے کبھی تو وہ لوگ بولیں گے کبھی ان پر مہر لگائی جائے گی۔
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ پر سورة والمرسلات نازل ہوئی تھی اور ہم اس کو آپ کے منہ سے سیکھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک سانپ نکل آیا۔ ہم لوگ اس کے مارنے کو بڑھے لیکن وہ بچ نکلا اور اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا اور تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حدیث نمبر: 4930 حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ فَابْتَدَرْنَاهَا، فَسَبَقَتْنَا، فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت والمرسلات اور مجاہد نے کہا جمالات بمعنی ڈوریاں ہیں ارکعو نماز پڑھو لا یصلون وہ نماز نہیں پڑھتے تھے اور ابن عباس (رض) سے لا ینطقون اور و اللہ ربنا ما کنا مشرکین اور الیوم نختم کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ مختلف حالتوں میں ہوں گے کبھی تو وہ لوگ بولیں گے کبھی ان پر مہر لگائی جائے گی۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ آپ پر سورة والمرسلات نازل ہوئی۔ ہم نے اسے آپ کے منہ سے یاد کرلیا۔ اس وحی سے آپ کے دہن مبارک کی تازگی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ اتنے میں ایک سانپ نکل پڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے زندہ نہ چھوڑو۔ بیان کیا کہ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ نکل گیا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے اور وہ تمہارے شر سے بچ گیا۔
حدیث نمبر: 4931 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ فَتَلَقَّيْنَاهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ خَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمُ اقْتُلُوهَا، قَالَ: فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا، قَالَ: فَقَالَ: وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ دوزخ بڑے بڑے محل جیسے آگ کے انگارے پھینکے گی“۔
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس (رض) سے آیت إنها ترمي بشرر کالقصر یعنی وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے (تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں) اور ان کا نام قصر. رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 4932 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ: كُنَّا نَرْفَعُ الْخَشَبَ بِقَصَرٍ ثَلَاثَةَ أَذْرُعِ، أَوْ أَقَلَّ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”گویا کہ وہ انگارے پیلے پیلے رنگ والے اونٹ ہیں“۔
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے سنا، آیت ترمي بشرر کالقصر کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم قصر. کہتے تھے، كأنه جمالات صفر سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 4933 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ: كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ، كَأَنَّهُ جِمَالَاتٌ صُفْرٌ حِبَالُ السُّفُنِ، تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”آج وہ دن ہے کہ اس میں یہ لوگ بول ہی نہیں سکیں گے“۔
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے کہ نبی کریم ﷺ پر سورة والمرسلات نازل ہوئی، پھر نبی کریم ﷺ نے اس کی تلاوت کی اور میں نے اسے آپ ہی کے منہ سے یاد کرلیا۔ وحی سے آپ کی منہ کی تازگی اس وقت بھی باقی تھی کہ اتنے میں غار کی طرف ایک سانپ لپکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو۔ ہم اس کی طرف بڑھے لیکن وہ بھاگ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ وہ بھی تمہارے شر سے اس طرح بچ نکلا جیسا کہ تم اس کے شر سے بچ گئے۔ عمر بن حفص نے کہا مجھے یہ حدیث یاد ہے، میں نے اپنے والد سے سنی تھی، انہوں نے اتنا اور بڑھایا تھا کہ وہ غار منیٰ میں تھا۔
حدیث نمبر: 4934 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ، فَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا وَإِنِّي لَأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا، إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوهَا، فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا، قَالَ عُمَرُ: حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فِي غَارٍ بِمِنًى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”وہ دن کہ جب صور پھونکا جائے گا تو تم گروہ ہو کر آؤ گے، «أفواجا» کے معنی «زمرا» یعنی گروہ گروہ کے ہیں“۔
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو صور پھونکے جانے کے درمیان چالیس فاصلہ ہوگا۔ ابوہریرہ (رض) کے شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس دن مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں پھر شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس مہینے مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ شاگردوں نے پوچھا کیا چالیس سال مراد ہیں ؟ کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ کہا کہ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا۔ جس کی وجہ سے تمام مردے جی اٹھیں گے جیسے سبزیاں پانی سے اگ آتی ہیں۔ اس وقت انسان کا ہر حصہ گل چکا ہوگا۔ سوا ریڑھ کی ہڈی کے اور اس سے قیامت کے دن تمام مخلوق دوبارہ بنائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 4935 حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُونَ، قَالَ: أَرْبَعُونَ يَوْمًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ شَهْرًا، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: أَبَيْتُ، قَالَ: ثُمَّ يُنْزِلُ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلَى إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَهُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت والنازعات اور مجاہد نے کہا کہ آیۃ الکبری سے مراد حضرت موسیٰ کا عصا اور ان کا ہاتھ ہے اور کہا جاتا ہے کہ ناخرہ اور نخرکے ایک ہی معنی جیسے طامع اور طمع اور باخل وبخیل کے ایک معنی ہیں بعض نے کہا کہ نخرہ کے معنے بوسیدہ اور ناخرہ اس کھوکھلی ہڈی کو کہتے ہیں جس سے ہوا گذرے تو آواز پیدا ہو اور ابن عباس نے کہا کہ ایان مرسٰھا سے مراد ہے کہ کب اس کی انتہا کا وقت ہے اور مرسی السفینۃ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جہاں لنگر انداز ہو۔
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سہل بن سعد (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہا آپ اپنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرما رہے تھے کہ میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو کے برابر فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 4936 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِإِصْبَعَيْهِ هَكَذَا بِالْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ: بُعِثْتُ وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة إذا السماء انفطرت کی تفسیر ربیع بن خثیم نے کہا فجرت کے معنی بہ نکلیں اور اعمش اور عاصم نے فعدلک کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ حجاز والوں نے فعدلک تشدید دال کے ساتھ پڑھا ہے۔ جب تشدید کے ساتھ ہو تو معنی یہ ہوگا کہ بڑی خلقت مناسب اور معتدل رکھی اور تخفیف کے ساتھ پڑھو تو معنی یہ ہوگا جس صورت میں چاہا تجھے بنادیا خوبصورت یا بدصورت لمبا یا ٹھگنا چھوٹے قد والا۔
82- سورة {إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ}: وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ: فُجِّرَتْ: فَاضَتْ وَقَرَأَ الْأَعْمَشُ وَعَاصِمٌ، فَعَدَلَكَ: بِالتَّخْفِيفِ وَقَرَأَهُ أَهْلُ الْحِجَازِ بِالتَّشْدِيدِ وَأَرَادَ مُعْتَدِلَ الْخَلْقِ وَمَنْ خَفَّفَ يَعْنِي فِي أَيِّ صُورَةٍ شَاءَ إِمَّا حَسَنٌ، وَإِمَّا قَبِيحٌ أَوْ طَوِيلٌ أَوْ قَصِيرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سورۃ «ويل للمطففين» کی تفسیر۔
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس دن لوگ دونوں جہان کے پالنے والے کے سامنے حساب دینے کے لیے کھڑے ہوں گے تو کانوں کی لو تک پسینہ میں ڈوب جائیں گے۔
حدیث نمبر: 4938 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، حَتَّى يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت اذا السماء انشقت ! مجاہد نے کہا کہ کتابہ بشمالہ سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب اپنی پیٹھ کے پیچھے سے لے گا وسق جانوروں کو جمع کرلیتی ہے ظن ان لن یحور اس نے گمان کیا کہ ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آئے گا۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة الطارق کی تفسیر مجاہد نے کہا ذات الرجع ، ابر کی صفت ہے (تو سماء سے ابر مراد ہے) یعنی باربار برسنے والا۔ ذات الصدع باربار اگانے والی، پھوٹنے والی، یہ زمین کی صفت ہے۔
86- سورة الطَّارِقِ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: ذَاتِ الرَّجْعِ: سَحَابٌ يَرْجِعُ بِالْمَطَرِ، ذَاتِ الصَّدْعِ: تَتَصَدَّعُ بِالنَّبَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة لا أقسم کی تفسیر مجاہد نے کہا بهذا البلد سے مکہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خاص تیرے لیے یہ شہر حلال ہوا اوروں کو وہاں لڑنا گناہ ہے۔ والد سے آدم، وما ولد سے ان کی اولاد مراد ہے۔ لبدا بہت سارا۔ النجدين دو رستے بھلے اور برے۔ مسغبة بھوک۔ متربة مٹی میں پڑا رہنا مراد ہے۔ فلا اقتحم العقبة یعنی اس نے دنیا میں گھاٹی نہیں پھاندی پھر گھاٹی پھاندنے کو آگے بیان کیا۔ برده غلام آزاد کرنا بھوک اور تکلیف کے دن بھوکوں کو کھانا کھلانا۔
90- سورة {لاَ أُقْسِمُ}: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ: بِمَكَّةَ لَيْسَ عَلَيْكَ مَا عَلَى النَّاسِ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ، وَوَالِدٍ: آدَمَ، وَمَا وَلَدَ، لُبَدًا: كَثِيرًا، وَالنَّجْدَيْنِ: الْخَيْرُ وَالشَّرُّ، مَسْغَبَةٍ، مَجَاعَةٍ: مَتْرَبَةٍ، السَّاقِطُ فِي التُّرَابِ يُقَالُ: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، فَلَمْ يَقْتَحِمْ الْعَقَبَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ فَسَّرَ الْعَقَبَةَ، فَقَالَ: وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ، فَكُّ رَقَبَةٍ، أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ.
তাহকীক: