আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
تفاسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯৫ টি
হাদীস নং: ৪৮৮১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
باب : سورة المجادلہ کی تفسیر مجاہد نے کہا يحادون الله کا معنی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کبتوا ذلیل کئے گئے۔ استحوذ غالب ہوگیا۔
58- الْمُجَادِلَةُ: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُحَادُّونَ: يُشَاقُّونَ اللَّهَ، كُبِتُوا: أُخْزُوا مِنَ الْخِزْيِ، اسْتَحْوَذَ: غَلَبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حشر! جلاء کے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سورة التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورة التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورة الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورة الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 4882 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حشر! جلاءکے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر (جعفر بن ابی) نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سورة الحشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا بلکہ اسے سورة النضیر کہا۔
حدیث نمبر: 4883 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے“۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلا دیئے تھے اور انہیں کاٹ ڈالا تھا۔ یہ درخت مقام بویرہ میں تھے پھر اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين کہ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا سو یہ دونوں اللہ ہی کے حکم کے موافق ہیں اور تاکہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
حدیث نمبر: 4884 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: قول ”اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فے دلوایا“ کی تفسیر۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کئی مرتبہ عمرو بن دینار سے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر (رض) نے بیان کیا کہ بنی نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بغیر لڑائی کے دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ ان اموال کا خرچ کرنا خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ چناچہ آپ ﷺ اس میں سے ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا تھا اس سے سامان جنگ اور گھوڑوں کے لیے خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ رب العزت کے راستہ میں جہاد کے موقع پر کام آئیں۔
حدیث نمبر: 4885 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لیا کرو اور جس سے آپ روکیں اس سے رک جایا کرو“۔
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودوانے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود (رض) کا یہ کلام قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت کو معلوم ہوا جو ام یعقوب کے نام سے معروف تھی وہ آئی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ؟ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا آخر کیوں نہ میں انہیں لعنت کروں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ملعون ہے۔ اس عورت نے کہا کہ قرآن مجید تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں میں نے تو اس میں کہیں یہ بات نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے بغور پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا کہ رسول ( ﷺ ) تمہیں جو کچھ دیں لے لیا کرو اور جس سے تمہیں روک دیں، رک جایا کرو۔ اس نے کہا کہ پڑھی ہے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ان چیزوں سے روکا ہے۔ اس پر عورت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا جاؤ اور دیکھ لو۔ وہ عورت گئی اور اس نے دیکھا لیکن اس طرح کی ان کے یہاں کوئی معیوب چیز اسے نہیں ملی۔ پھر عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ اگر میری بیوی اسی طرح کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی ؟ ہرگز نہیں۔
حدیث نمبر: 4886 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ: وَمَا لِي أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ، قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي أَرَى أَهْلَكَ يَفْعَلُونَهُ، قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ مَا جَامَعْتُهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے مسلمانو! اور رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لیا کرو اور جس سے آپ روکیں اس سے رک جایا کرو“۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور بن معتمر کی حدیث کا ذکر کیا جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والیوں پر لعنت بھیجی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا کہ میں نے بھی ام یعقوب نامی ایک عورت سے سنا تھا وہ عبداللہ بن مسعود (رض) منصور کی حدیث کے مثل بیان کرتی تھی۔
حدیث نمبر: 4887 حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ حَدِيثَ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنَ امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، مِثْلَ حَدِيثِ مَنْصُورٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دارالسلام اور ایمان میں ان سے پہلے ہی ٹھکانا پکڑے ہوئے ہیں“، آیت میں انصار مراد ہیں۔
ہم سے احمد بن یونس بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب (رض) نے (زخمی ہونے کے بعد انتقال سے پہلے) فرمایا تھا میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کا حق پہچانے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو دارالسلام اور ایمان میں نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے پہلے ہی سے قرار پکڑے ہوئے ہیں یہ کہ ان میں جو نیکوکار ہیں ان کی عزت کرے اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرے۔
حدیث نمبر: 4888 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَأُوصِي الْخَلِيفَةَ بِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُهَاجِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَعْفُوَ عَنْ مُسِيئِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں“ آخرت آیت تک۔
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب خود (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا (کہ وہ آپ کی دعوت کریں) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے ؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی (ابوطلحہ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو ، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں (انصاری صحابی) اور ان کی بیوی (کے عمل) کو پسند فرمایا۔ یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ويؤثرون على أنفسهم ولو کان بهم خصاصة یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔
حدیث نمبر: 4889 حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُنَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِيهِ شَيْئًا، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ وَتَعَالَيْ، فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ ضَحِكَ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ سورة الحشر آية 9.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ“۔
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے علی (رض) کے کاتب عبیداللہ بن ابی رافع سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے علی (رض) سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد (رض) کو روانہ کیا اور فرمایا کہ چلے جاؤ اور جب مقام خاخ کے باغ پر پہنچ جاؤ گے (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا) تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی، اس کے ساتھ ایک خط ہوگا، وہ خط تم اس سے لے لینا۔ چناچہ ہم روانہ ہوئے ہمارے گھوڑے ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ لے جا رہے تھے۔ آخر جب ہم اس باغ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہم نے ہودج میں اس عورت کو پا لیا ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال دے ورنہ ہم تیرا سارا کپڑا اتار کر تلاشی لیں گے۔ آخر اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ہم لوگ وہ خط لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے چند آدمیوں کی طرف جو مکہ میں تھے اس خط میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تیاری کا ذکر لکھا تھا (کہ نبی کریم ﷺ ایک بڑی فوج لے کر آتے ہیں تم اپنا بچاؤ کرلو) ۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا : حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں میں قریش کے ساتھ بطور حلیف (زمانہ قیام مکہ میں) رہا کرتا تھا لیکن ان کے قبیلہ و خاندان سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی قریش میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کی رعایت سے قریش مکہ میں رہ جانے والے ان کے اہل و عیال اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ جبکہ ان سے میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے تو اس موقع پر ان پر ایک احسان کر دوں اور اس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ یا رسول اللہ ! میں نے یہ عمل کفر یا اپنے دین سے پھرجانے کی وجہ سے نہیں کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یقیناً انہوں نے تم سے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر (رض) بولے کہ یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ بدر کی جنگ میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔ تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر والوں کے تمام حالات سے واقف تھا اور اس کے باوجود ان کے متعلق فرما دیا کہ جو جی چاہے کرو کہ میں نے تمہیں معاف کردیا۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ حاطب بن ابی بلتعہ (رض) ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوکم کہ الایۃ۔ اے ایمان والو ! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں کہ اس آیت کا ذکر حدیث میں داخل ہے یا نہیں یہ عمرو بن دینار کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 4890 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا، فَذَهَبْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا يَا حَاطِبُ ؟قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِنْ قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَصْطَنِعَ إِلَيْهِمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْفَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، قَالَ عَمْرٌو: وَنَزَلَتْ فِيهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1، قَالَ: لَا أَدْرِي الْآيَةَ فِي الْحَدِيثِ، أَوْ قَوْلُ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯১
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں“۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا محمد بن مسلم سے، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان مومن عورتوں کا امتحان لیا کرتے تھے جو ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا يا أيها النبي إذا جاءک المؤمنات يبايعنك کہ اے نبی ! جب آپ سے مسلمان عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں ارشاد غفور رحيم تک۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) نے کہا چناچہ جو عورت اس شرط (آیت میں مذکور یعنی ایمان وغیرہ) کا اقرار کرلیتی نبی کریم ﷺ اس سے زبانی طور پر فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کرلی اور ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ! نبی کریم ﷺ کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا صرف آپ ان سے زبانی بیعت لیتے تھے کہ آیت میں مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے کی اور اسحاق بن راشد نے زہری سے بیان کیا کہ ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا۔
حدیث نمبر: 4891 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الممتحنة آية 12، قَالَ عُرْوَةُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ، قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ بَايَعْتُكِ، كَلَامًا وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا يُبَايِعُهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكِ. تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدٍ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯২
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے اس آیت کی تلاوت کی أن لا يشرکن بالله شيئا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور ہمیں نوحہ (یعنی میت پر زور زور سے رونا پیٹنا) کرنے سے منع فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کی اس ممانعت پر ایک عورت (خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی، میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا آؤں نبی کریم ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا چناچہ وہ گئیں اور پھر دوبارہ آ کر نبی کریم ﷺ سے بیعت کی۔
حدیث نمبر: 4892 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا: أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، وَنَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ، فَقَبَضَتِ امْرَأَةٌ يَدَهَا، فَقَالَتْ: أَسْعَدَتْنِي فُلَانَةُ أُرِيدُ أَنْ أَجْزِيَهَا، فَمَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَتْ، وَرَجَعَتْ، فَبَايَعَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৩
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے زبیر سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ولا يعصينک في معروف یعنی اور بھلی باتوں (اور اچھے کاموں میں) آپ کی نافرمانی نہ کریں گی۔ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے (نبی کریم ﷺ سے بیعت کے وقت) عورتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4893 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَ: إِنَّمَا هُوَ شَرْطٌ شَرَطَهُ اللَّهُ لِلنِّسَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৪
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوادریس نے بیان کیا اور انہوں نے عبادہ بن صامت (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے۔ آپ ﷺ نے سورة النساء کی آیتیں پڑھیں۔ سفیان نے اس حدیث میں اکثر یوں کہا کہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ پھر تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کر بیٹھا اور اس پر اسے سزا بھی مل گئی تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی لیکن کسی نے اپنے کسی عہد کے خلاف کیا اور اللہ نے اسے چھپالیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اللہ چاہے تو اسے اس پر عذاب دے اور اگر چاہے معاف کر دے، سفیان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا انہوں نے زہری سے اور یوں ہی کہا آیت پڑھی۔
حدیث نمبر: 4894 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنَاهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَقَرَأَ آيَةَ النِّسَاءِ وَأَكْثَرُ لَفْظِ سُفْيَانَ قَرَأَ الْآيَةَ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ. تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، فِي الْآيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৫
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”(اے رسول!) جب ایمان والی عورتیں آپ کے پاس آئیں تاکہ وہ آپ سے بیعت کریں“۔
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمر اور عثمان (رض) عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا (ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد) نبی کریم ﷺ اترے گویا اب بھی میں نبی کریم ﷺ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ بلال (رض) آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی يا أيها النبي إذا جاءک المؤمنات يبايعنک على أن لا يشرکن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن یعنی اے نبی ! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔ جب آپ ﷺ آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو ؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ ! ان کے سوا اور کسی عورت نے (شرم کی وجہ سے) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال (رض) نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں بلال (رض) کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
حدیث نمبر: 4895 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّالْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ، فَكُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ مَعَ بِلَالٍ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا يَسْرِقْنَ وَلا يَزْنِينَ وَلا يَقْتُلْنَ أَوْلادَهُنَّ وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ سورة الممتحنة آية 12 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَدْرِي الْحَسَنُ مَنْ هِيَ، قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ وَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ، فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৬
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”عیسیٰ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہو گا“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو حشر میں میرے بعد جمع کرے گا اور میں عاقب ہوں۔ یعنی سب پیغمبروں کے بعد دنیا میں آنے والا ہوں۔
حدیث نمبر: 4896 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْعَاقِبُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৭
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور دوسروں کے لیے بھی ان میں سے (آپ کو بھیجا) جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں“۔
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث سالم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورة الجمعہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں وآخرين منهم لما يلحقوا بهم الایۃ اور دوسروں کے لیے بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ (نبی کریم ﷺ ہادی اور معلم ہیں) بیان کیا میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا۔ مجلس میں سلمان فارسی (رض) بھی موجود تھے نبی کریم ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تب بھی ان لوگوں (یعنی فارس والوں) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے یا یوں فرمایا کہ ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا۔
حدیث نمبر: 4897 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا، وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، ثُمَّ قَالَ: لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৮
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور دوسروں کے لیے بھی ان میں سے (آپ کو بھیجا) جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں“۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، انہیں ثور نے اور ان سے ابوالغیث نے، انہیں ابوہریرہ (رض) نے اور انہیں نبی کریم ﷺ نے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پالیں گے۔
حدیث نمبر: 4898 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৯
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”اور جب کبھی انہوں نے اموال تجارت دیکھا“ آخر تک۔
مجھ سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ابوسفیان نے جابر بن عبداللہ (رض) سے، انہوں نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن سامان تجارت لیے ہوئے اونٹ آئے ہم اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے انہیں دیکھ کر سوائے بارہ آدمی کے سب لوگ ادھر ہی دوڑ پڑے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها الایۃ یعنی اور بعض لوگوں نے جب کبھی ایک سودے یا تماشے کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑے ہوئے پھیل گئے۔
حدیث نمبر: 4899 حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، وَعَنْ أبي سفيان عنجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَت غِيرٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَارَ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০০
تفاسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: آیت کی تفسیر ”جب منافق آپ کے پاس آتے تو کہتے ہیں کہ بیشک ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ «لَكَاذِبُونَ» تک۔
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم (رض) نے بیان کیا کہ میں ایک غزوہ (غزوہ تبوک) میں تھا اور میں نے (منافقوں کے سردار) عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا کہ جو لوگ (مہاجرین) رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہیں ان پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ خود ہی رسول اللہ ﷺ سے جدا ہوجائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا اب اگر ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا (سعد بن عبادہ انصاری) سے کیا یا عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا۔ (راوی کو شک تھا) انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا میں نے تمام باتیں آپ کو سنا دیں۔ نبی کریم ﷺ نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قسم کھالی کہا کہ انہوں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے مجھ کو جھوٹا سمجھا اور عبداللہ کو سچا سمجھا۔ مجھے اس کا اتنا صدمہ ہوا کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر میں گھر میں بیٹھ رہا۔ میرے چچا نے کہا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ تمہاری تکذیب کریں گے اور تم پر ناراض ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی إذا جاءک المنافقون جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجھے بلوایا اور اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ اے زید ! اللہ تعالیٰ نے تم کو سچا کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 4900 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنْتُ فِي غَزَاةٍ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ، يَقُولُ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَلَئِنْ رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي أَوْ لِعُمَرَ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَانِي، فَحَدَّثْتُهُ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَكَذَّبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَدَّقَهُ، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِي عَمِّي: مَا أَرَدْتَ إِلَى أَنْ كَذَّبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَقَتَكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ سورة المنافقون آية 1، فَبَعَثَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ يَا زَيْدُ.
তাহকীক: