আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

انبیاء علیہم السلام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮৭ টি

হাদীস নং: ৩৪০৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے بعد کے حالات کا بیان۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ اور آدم (علیہم السلام) نے آپس میں بحث کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہیں ان کی لغزش نے جنت سے نکالا۔ آدم (علیہ السلام) بولے اور آپ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام سے نوازا ‘ پھر بھی آپ مجھے ایک ایسے معاملے پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی پہلے مقدر کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چناچہ آدم علیہ السلام، موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 3409 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ مُوسَى:‏‏‏‏ أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ آدَمُ:‏‏‏‏ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى مَرَّتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: موسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کے بعد کے حالات کا بیان۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میرے سامنے تمام امتیں لائی گئیں اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت آسمان کے کناروں پر چھائی ہوئی ہے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ اپنی قوم کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
حدیث نمبر: 3410 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
باب : ( قارون کا بیان) بیشک قارون ، موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا الآیۃ ( سورة قص ) ( آیت میں) لتنوء‏ بمعنی لتثقل‏ یعنی بھاری ہوتی تھیں۔ ابن عباس (رض) نے أولي القوة‏ کی تفسیر میں کہا کہ اس کی کنجیوں کو لوگوں کی ایک طاقتور جماعت بھی نہ اٹھا پاتی تھی۔ الفرحين‏ بمعنی المرحين اترانے والے۔ ويكأن‏ ألم تر أن کی طرح ہے۔ الله ‏يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر‏ یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں فراخی کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے۔ باب : اس بیان میں کہ وإلى مدين أخاهم شعيبا سے اہل مدین مراد ہیں کیونکہ مدین ایک شہر تھا بحر قلزم پر اس کی مثال جیسے سورة یوسف میں فرمایا واسأل القرية‏ واسأل ‏العير‏ یعنی بستی والوں سے اور قافلہ والوں پوچھ لے ظهريا‏ یعنی ادھر ادھر پھر کر نہیں دیکھتے۔ عرب لوگ جب ان کا کام نہ نکلے تو کہتے ہیں ظهرت حاجتي یا جعلتني ظهريا‏ تو نے میرا کام پس پشت ڈال دیا ‘ یا مجھ کو پس پشت کردیا۔ ظهري اس جانور یا ظرف کو کہتے ہیں جس کو تو اپنی قوت بڑھانے کے لیے ساتھ رکھے مکانتهم اور مكانهم دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ لم يغنوا‏ زندہ نہیں رہے تھے۔ وہاں بسے ہی نہ تھے (سورۃ المائدہ میں) فلاتاس رنجیدہ نہ ہو (سورۃ الاعراف میں) آسى‏ رنجیدہ ہوں ‘ غم کروں ‘ امام حسن بصری نے کہا (سورۃ ہود میں) کافروں کا جو یہ قول نقل کیا۔ إنک لأنت الحليم‏ الرشيد تو یہ کافروں نے ٹھٹھے کے طور پر کہا تھا۔ مجاہد نے کہا سورة الشعراء میں ليكة سے مراد أيكة ہے یعنی جھاڑی میں۔ يوم الظلة‏ یعنی جس دن عذاب ایک سائبان کی شکل میں نمودار ہوا (ابر، بادل میں سے آگ برسی) ۔
33- بَابُ: {إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَى} الآيَةَ: لَتَنُوءُ سورة القصص آية 76 لَتُثْقِلُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ أُولِي الْقُوَّةِ سورة القصص آية 76 لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ يُقَالُ الْفَرِحِينَ سورة القصص آية 76 الْمَرِحِينَ وَيْكَأَنَّ اللَّهَ سورة القصص آية 82 مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ سورة الرعد آية 26 وَيُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ. 34- بَابُ: {وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا}: إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لِأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ وَمِثْلُهُ وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ سورة يوسف آية 82 وَاسْأَلْ الْعِيرُ سورة يوسف آية 94 يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَأَهْلَ الْعِيرِ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا سورة هود آية 92 لَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَيْهِ يُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ حَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا قَالَ الظِّهْرِيُّ أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ دَابَّةً أَوْ وِعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ مَكَانَتُهُمْ وَمَكَانُهُمْ وَاحِدٌ يَغْنَوْا سورة هود آية 95 يَعِيشُوا يَيْأَسُ سورة يوسف آية 87 يَحْزَنْ آسَى سورة الأعراف آية 93 أَحْزَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْحَسَنُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ سورة هود آية 87 يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ:‏‏‏‏ لَيْكَةُ:‏‏‏‏ الْأَيْكَةُ يَوْمِ الظُّلَّةِ سورة الشعراء آية 189 إِظْلَالُ الْغَمَامِ الْعَذَابَ عَلَيْهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا (دوسری سند) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ مسدد نے یونس بن متی (علیہ السلام) کے لفظ بڑھا کر روایت کیا۔
حدیث نمبر: 3412 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، ‏‏‏‏‏‏ح حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْأَعْمَشِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ زَادَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔ آپ ﷺ نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔
حدیث نمبر: 3413 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (یونس علیہ السلام کا بیان) سورۃ الصافات میں اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور بلاشبہ یونس یقیناً رسولوں میں سے تھا“ اس قول تک ”تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ دیا“۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے ‘ ان سے عبدالعزیز بن سلمہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن فضیل نے ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ لوگوں کو ایک یہودی اپنا سامان دکھا رہا تھا لیکن اسے اس کی جو قیمت لگائی گئی اس پر وہ راضی نہ تھا۔ اس لیے کہنے لگا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ یہ لفظ ایک انصاری صحابی نے سن لیے اور کھڑے ہو کر انہوں نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ ابھی ہم میں موجود ہیں اور تو اس طرح قسم کھاتا ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں میں برگزیدہ قرار دیا۔ اس پر وہ یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : اے ابوالقاسم ! میرا مسلمانوں کے ساتھ امن اور صلح کا عہد و پیمان ہے۔ پھر فلاں شخص کا کیا حال ہوگا جس نے میرے منہ پر چانٹا مارا ہے ‘ نبی کریم ﷺ نے اس صحابی سے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے منہ پر کیوں چانٹا مارا ؟ انہوں نے وجہ بیان کی تو آپ ﷺ غصے ہوگئے اس قدر کہ غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نمایاں ہوگئے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں آپس میں ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو، جب صور پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی تمام مخلوق پر بےہوشی طاری ہوجائے گی ‘ سوا ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور سب سے پہلے مجھے اٹھایا جائے گا ‘ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کو پکڑے ہوئے کھڑے ہوں گے ‘ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ انہیں طور کی بےہوشی کا بدلا دیا گیا ہوگا یا مجھ سے بھی پہلے ان کی بےہوشی ختم کردی گئی ہوگی۔ اور میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ کوئی شخص یونس بن متی سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 3414 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ اللَّيْثِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا يَهُودِيٌّ يَعْرِضُ سِلْعَتَهُ أُعْطِيَ بِهَا شَيْئًا كَرِهَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ فَسَمِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَامَ فَلَطَمَ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ تَقُولُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَذَهَبَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَبَا الْقَاسِمِ لِي ذِمَّةً وَعَهْدًا فَمَا بَالُ فُلَانٍ لَطَمَ وَجْهِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ فَذَكَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تُفَضِّلُوا بَيْنَ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ بُعِثَ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِالْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَحُوسِبَ بِصَعْقَتِهِ يَوْمَ الطُّورِ أَمْ بُعِثَ قَبْلِي. حدیث نمبر: 3415 وَلَا أَقُولُ إِنَّ أَحَدًا أَفْضَلُ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب
یہ لوگ ہفتہ کے دن زیادتی کرنے لگے۔ شرعا‏ یعنی شوارع ‘ پانی پر تیرتی ہوئی۔ آخر آیت کونوا قردة خاسئين‏ تک۔ باب : اللہ تعالیٰ کا ( سورة الاعراف میں) یہ فرمانا ان یہودیوں سے اس بستی ( ایلہ) کا حال پوچھ جو سمندر کے نزدیک تھی
36- بَابُ: {وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ}: يَتَعَدَّوْنَ يُجَاوِزُونَ فِي السَّبْتِ ‏‏‏‏إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا‏‏‏‏ شَوَارِعَ إِلَى قَوْلِهِ: ‏‏‏‏كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ‏‏‏‏.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور دی ہم نے داؤد کو زبور“۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ انہیں معمر نے خبر دی ‘ انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا داؤد (علیہ السلام) کے لیے قرآن (یعنی زبور) کی قرآت بہت آسان کردی گئی تھی۔ چناچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے اور زین کسی جانے سے پہلے ہی پوری زبور پڑھ لیتے تھے اور آپ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے تھے۔ اس کی روایت موسیٰ بن عقبہ نے کی ‘ ان سے صفوان نے ‘ ان سے عطاء بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ (رض) نے، نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3417 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام الْقُرْآنُ فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسْرَجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّهُ وَلَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏رَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَفْوَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور دی ہم نے داؤد کو زبور“۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ کی قسم ‘ جب تک میں زندہ رہوں گا ‘ دن میں روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کیا کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں نے یہ کہا ہے کہ اللہ کی قسم جب تک زندہ رہوں گا دن بھر روزے رکھوں گا اور رات بھر عبادت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں نے یہ جملہ کہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسے نبھا نہیں سکو گے ‘ اس لیے روزہ بھی رکھا کرو اور بغیر روزے کے بھی رہا کرو اور رات میں عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو۔ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو ‘ کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملتا ہے اس طرح روزہ کا یہ طریقہ بھی (ثواب کے اعتبار سے) زندگی بھر کے روزے جیسا ہوجائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اس سے افضل طریقہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور دو دن بغیر روزے کے رہا کرو۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا کرو۔ داؤد (علیہ السلام) کے روزے کا طریقہ بھی یہی تھا اور یہی سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس سے بھی افضل طریقے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے افضل اور کوئی طریقہ نہیں۔
حدیث نمبر: 3418 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْت:‏‏‏‏ قَدْ قُلْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْت:‏‏‏‏ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور دی ہم نے داؤد کو زبور“۔
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابو العباس نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا میری یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن بھر (روزانہ) روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا لیکن تم اسی طرح کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہوجائیں گی اور تمہارا جی اکتا جائے گا۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو کہ یہی (ثواب کے اعتبار سے) زندگی بھر کا روزہ ہے ‘ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) زندگی بھر کے روزے کی طرح ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں اپنے میں محسوس کرتا ہوں ‘ مسعر نے بیان کیا کہ آپ کی مراد قوت سے تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر داؤد (علیہ السلام) کے روزے کی طرح روزے رکھا کرو۔ وہ ایک دن روزے رکھا کرتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے اور دشمن سے مقابلہ کرتے تو میدان سے بھاگا نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3419 حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَمْ أُنَبَّأْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْت:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتِ الْعَيْنُ وَنَفِهَتِ النَّفْسُ صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صَوْمُ الدَّهْرِ أَوْ كَصَوْمِ الدَّهْرِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي أَجِدُ بِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مِسْعَرٌ:‏‏‏‏ يَعْنِي قُوَّةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (داؤد علیہ السلام کا بیان) اللہ تعالیٰ نے (سورۃ بنی اسرائیل میں) فرمایا کہ ”اس کی بارگاہ میں سب سے پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے“۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے عمرو بن دینار نے ‘ ان سے عمرو بن اوس ثقفی نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزے کا سب سے پسندیدہ طریقہ داؤد (علیہ السلام) کا طریقہ تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ داؤد (علیہ السلام) کی نماز کا طریقہ تھا ‘ آپ آدھی رات تک سوتے اور ایک تہائی حصے میں عبادت کیا کرتے تھے ‘ پھر بقیہ چھٹے حصے میں بھی سوتے تھے۔
حدیث نمبر: 3420 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب‏» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، کہا میں نے عوام سے سنا، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے عباس (رض) سے پوچھا، کیا میں سورة ص میں سجدہ کیا کروں ؟ تو انہوں نے آیت ومن ذريته داود وسليمان‏ تلاوت کی فبهداهم اقتده‏ تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم ﷺ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء (علیہم السلام) کی اقتداء کا حکم تھا۔
حدیث نمبر: 3421 حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْعَوَّامَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ص فَقَرَأَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 فَقَالَ:‏‏‏‏ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب‏» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ سورة ص کا سجدہ ضروری نہیں، لیکن میں نے نبی کریم ﷺ کو اس سورة میں سجدہ کرتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 3422 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ص مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک سرکش جن کل رات میرے سامنے آگیا تاکہ میری نماز خراب کر دے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے چاہا کہ اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں کہ تم سب لوگ بھی دیکھ سکو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آگئی کہ یا اللہ ! مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو۔ اس لیے میں نے اسے نامراد واپس کردیا۔ عفريت سرکش کے معنی میں ہے، خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔
حدیث نمبر: 3423 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ صَلَاتِي فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبُطَهُ عَلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي فَرَدَدْتُهُ خَاسِئًا عِفْرِيتٌ مُتَمَرِّدٌ مِنْ إِنْسٍ أَوْ جَانٍّ مِثْلُ زِبْنِيَةٍ جَمَاعَتُهَا الزَّبَانِيَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سلیمان بن داؤد (علیہما السلام) نے کہا کہ آج رات میں اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا انشاء اللہ ، لیکن انہوں نے نہیں کہا۔ چناچہ کسی بیوی کے یہاں بھی بچہ پیدا نہیں ہوا، صرف ایک کے یہاں ہوا اور اس کی بھی ایک جانب بیکار تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ لیتے (تو سب کے یہاں بچے پیدا ہوتے) اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔ شعیب اور ابن ابی الزناد نے بجائے ستر کے) نوے کہا ہے اور یہی بیان زیادہ صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3424 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً تَحْمِلُ كُلُّ امْرَأَةٍ فَارِسًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ صَاحِبُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ وَلَمْ تَحْمِلْ شَيْئًا إِلَّا وَاحِدًا سَاقِطًا إِحْدَى شِقَّيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ قَالَهَا لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شُعَيْبٌ وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ تِسْعِينَ وَهُوَ أَصَحُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر (رض) بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی ؟ فرمایا کہ مسجد الحرام ! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی ؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا ؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہوجائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔
حدیث نمبر: 3425 حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعُونَ ثُمَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں داؤد (علیہ السلام) کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کردیا۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر سلیمان (علیہ السلام) نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ میں نے سكين کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم ہمیشہ (چھری کے لیے) مدية‏. کا لفظ بولا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3426 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ. حدیث نمبر: 3427 وَقَالَ:‏‏‏‏ كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَتْ:‏‏‏‏ الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (سورۃ لقمان میں) اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی (جو یہ تھی) کہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہو“ اس فرمان تک ”بیشک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا“۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ جب آیت الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم‏ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔ نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہوگا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہوگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لا تشرک بالله إن الشرک لظلم عظيم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔
حدیث نمبر: 3428 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (زکریا علیہ السلام کا بیان) اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(یہ) تیرے پروردگار کے رحمت (فرمانے) کا تذکرہ ہے اپنے بندے زکریا پر جب انہوں نے اپنے رب کو آہستہ پکارا کہا: اے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے“ آیت «لم نجعل له من قبل سميا‏» تک۔
باب : اور ان کے سامنے بستی والوں کی مثال بیان کر الآیۃ فعززنا‏ کے معنی میں مجاہد نے کہا کہ ہم نے انہیں قوت پہنچائی۔ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا کہ طائركم‏ کے معنی تمہاری مصیبتیں ہیں۔
42- بَابُ: {وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلاً أَصْحَابَ الْقَرْيَةِ} الآيَةَ: ‏‏‏‏فَعَزَّزْنَا‏‏‏‏ قَالَ مُجَاهِدٌ شَدَّدْنَا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ‏‏‏‏طَائِرُكُمْ‏‏‏‏ مَصَائِبُكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৩০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (زکریا علیہ السلام کا بیان) اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مریم میں) فرمایا ”(یہ) تیرے پروردگار کے رحمت (فرمانے) کا تذکرہ ہے اپنے بندے زکریا پر جب انہوں نے اپنے رب کو آہستہ پکارا کہا: اے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی ہے“ آیت «لم نجعل له من قبل سميا‏» تک۔
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک (رض) نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے شب معراج کے متعلق بیان فرمایا کہ پھر آپ اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ پوچھا گیا : کون ہیں ؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا کہ محمد ﷺ ۔ پوچھا گیا : کیا انہیں لانے کے لیے بھیجا، کہا کہ جی ہاں۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو عیسیٰ اور یحییٰ (علیہما السلام) وہاں موجود تھے۔ یہ دونوں نبی آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا، دونوں نے جواب دیا اور کہا خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی۔
حدیث نمبر: 3430 حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَأُسْرِيَ بِهِ ثُمَّ صَعِدَ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جِبْرِيلُ:‏‏‏‏ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا يَحْيَى وَعِيسَى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا يَحْيَى وَعِيسَى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ.
tahqiq

তাহকীক: