আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

انبیاء علیہم السلام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮৭ টি

হাদীস নং: ৩৯৪২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
مجھ سے احمد یا محمد بن عبیداللہ غدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا کہ انہیں ابو عمیس نے خبر دی، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس دن کے روزے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3942 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ أَوْ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْطَارِقِ بْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَإِذَا أُنَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ يُعَظِّمُونَ عَاشُورَاءَ وَيَصُومُونَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْنُ أَحَقُّ بِصَوْمِهِ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبشر جعفر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو فرعون پر فتح عنایت فرمائی تھی چناچہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 3943 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ،‏‏‏‏ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْفَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے۔ جن امور میں نبی کریم ﷺ کو (وحی کے ذریعہ) کوئی حکم نہیں ہوتا تھا آپ ﷺ ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ پھر بعد میں نبی کریم ﷺ بھی مانگ نکالنے لگے تھے۔
حدیث نمبر: 3944 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ،‏‏‏‏ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رُءُوسَهُمْ،‏‏‏‏ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ فَرَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس یہودیوں کے آنے کا بیان۔
مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہا، ہم کو ابوبشر (جابر بن ابی وحشیہ) نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض باتوں کا انکار کیا۔
حدیث نمبر: 3945 حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ جَزَّءُوهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا بِبَعْضِهِ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْءَانَ عِضِينَ سورة الحجر آية 91.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ۔
مجھ سے حسن بن شقیق نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد سلیمان بن طرخان نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہا میں نے سنا سلمان فارسی (رض) سے کہ ان کو کچھ اوپر دس آدمیوں نے ایک مالک سے ان کو دس سے زائد آدمیوں نے لیا، ایک مالک نے دوسرے مالک سے خریدا۔
حدیث نمبر: 3946 حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ،‏‏‏‏ قَالَ أَبِي، ‏‏‏‏‏‏وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ:‏‏‏‏ أَنَّهُ تَدَاوَلَهُ تِسْعَ عَشْرَ مِنْ رَبٍّ إِلَى رَبٍّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ۔
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا کہا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عوف اعرابی نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا، کہا میں نے سلمان فارسی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں رام ہرمز (فارس میں ایک مقام ہے) کا رہنے والا ہوں۔
حدیث نمبر: 3947 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عَوْفٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَنَا مِنْ رَامَ هُرْمُزَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ۔
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں عاصم احول نے، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے سلمان فارسی (رض) نے بیان کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان میں فترة کا زمانہ (یعنی جس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا) چھ سو برس کا وقفہ گزرا ہے۔
حدیث نمبر: 3948 حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْسَلْمَانَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَتْرَةٌ بَيْنَ عِيسَى وَمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا وَسَلَّمَ سِتُّ مِائَةَ سَنَةٍ.
tahqiq

তাহকীক: