আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

انبیاء علیہم السلام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮৭ টি

হাদীস নং: ৩৮৯৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد (مکہ سے مدینہ کی طرف) ہجرت باقی نہیں رہی۔
حدیث نمبر: 3899 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑجائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کردیا ہے اور آج (سر زمین عرب میں) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کرسکتا ہے، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے۔
حدیث نمبر: 3900 وَحَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ كَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ،‏‏‏‏ وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ (رض) نے کہ سعد بن معاذ (رض) نے کہا کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول ﷺ کی تکذیب کی اور انہیں (ان کے وطن مکہ سے) نکالا۔ اے اللہ ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں عائشہ (رض) نے خبر دی کہ (یہ الفاظ سعد (رض) فرماتے تھے) من قوم کذبوا نبيك وأخرجوه من قريش‏. یعنی جنہوں نے تیرے رسول ﷺ کو جھٹلایا، باہر نکال دیا۔ اس سے قریش کے کافر مراد ہیں۔
حدیث نمبر: 3901 حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هِشَامٌ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ أَنَّ سَعْدًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ،‏‏‏‏ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ،‏‏‏‏وَقَالَ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ:‏‏‏‏ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ قُرَيْشٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا۔ پھر آپ ﷺ پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے ہجرت کی حالت میں دس سال گزارے۔ (مدینہ میں) جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔
حدیث نمبر: 3902 حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً،‏‏‏‏ فَمَكُثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ،‏‏‏‏ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔
حدیث نمبر: 3903 حَدَّثَنِي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ،‏‏‏‏ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے، ان سے عبید یعنی ابن حنین نے اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے، فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کرلے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے پسند کرلے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کرلیا۔ اس پر ابوبکر (رض) رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ (ابوسعید (رض) کہتے ہیں) ہمیں ابوبکر (رض) کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے نبی کریم ﷺ تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور ابوبکر (رض) ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔
حدیث نمبر: 3904 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ،‏‏‏‏ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ،‏‏‏‏ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
Missing ابن شہاب نے بیان کیا اور مجھے عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے خبر دی، وہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی اور انہوں نے سراقہ بن جعشم (رض) کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیا اور ہمارے قریب کھڑا ہوگیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا سراقہ ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( ﷺ ) ۔ سراقہ (رض) نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔ (سراقہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہوجائے گا) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لیے ممکن تھا، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا۔ لیکن میں کھڑا ہوگیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں۔ فال (اب بھی) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لیے جا رہا تھا۔ آخر جب میں نے رسول اللہ ﷺ کی قرآت سنی، نبی کریم ﷺ میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن ابوبکر (رض) باربار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گرپڑا اور اسے اٹھنے کے لیے ڈانٹا میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس وقت میں نے نبی کریم ﷺ کو امان کے لیے پکارا۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہوگئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا۔ اسی سے مجھے یقین ہوگیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت غالب آ کر رہے گی۔ اس لیے میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے۔ آپ ﷺ نے عامر بن فہیرہ (رض) کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کی ملاقات زبیر (رض) سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے۔ زبیر (رض) نے نبی کریم ﷺ اور ابوبکر (رض) کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہوچکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے (دوپہر کو) انہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آگئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا۔ اس نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں۔ (یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا۔ یہودی بےاختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو ! تمہارے یہ بزرگ سردار آگئے جن کا تمہیں انتظار تھا۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور نبی کریم ﷺ کا مقام حرہ پر استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ ابوبکر (رض) لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ خاموش بیٹھے رہے۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ ابوبکر (رض) ہی کو سلام کر رہے تھے۔ لیکن جب نبی کریم ﷺ پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر (رض) نے اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچان لیا۔ آپ ﷺ نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد (قباء) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر (جمعہ کے دن) نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ سہیل اور سہل (رضی اللہ عنہما) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا۔ یہ دونوں بچے اسعد بن زرارہ (رض) کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انشاء اللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہوگی۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جاسکے۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے، لیکن نبی کریم ﷺ نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی۔ اس کی تعمیر کے وقت خود آپ ﷺ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے اور نبی کریم ﷺ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو۔
حدیث نمبر: 3905 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً،‏‏‏‏ فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُهَاجِرًا نَحْوَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى بَلَغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ وَأَعْبُدَ رَبِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ:‏‏‏‏ فَإِنَّ مِثْلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ وَلَا يُخْرَجُ،‏‏‏‏ إِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ،‏‏‏‏ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ،‏‏‏‏ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ،‏‏‏‏ فَأَنَا لَكَ جَارٌ ارْجِعْ وَاعْبُدْ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ،‏‏‏‏ فَرَجَعَ وَارْتَحَلَ مَعَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ،‏‏‏‏ فَطَافَ ابْنُ الدَّغِنَةِ عَشِيَّةً فِي أَشْرَافِ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ،‏‏‏‏ أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ،‏‏‏‏ وَيَحْمِلُ الْكَلَّ وَيَقْرِي الضَّيْفَ،‏‏‏‏ وَيُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ،‏‏‏‏ فَلَمْ تُكَذِّبْ قُرَيْشٌ بِجِوَارِ ابْنِ الدَّغِنَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ:‏‏‏‏ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَلْيُصَلِّ فِيهَا،‏‏‏‏ وَلْيَقْرَأْ مَا شَاءَ وَلَا يُؤْذِينَا بِذَلِكَ،‏‏‏‏ وَلَا يَسْتَعْلِنْ بِهِ،‏‏‏‏ فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ذَلِكَ ابْنُ الدَّغِنَةِ لِأَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ بِذَلِكَ يَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ،‏‏‏‏ وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِصَلَاتِهِ وَلَا يَقْرَأُ فِي غَيْرِ دَارِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَكْرٍ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ،‏‏‏‏ وَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ،‏‏‏‏ فَيَنْقَذِفُ عَلَيْهِ نِسَاءُ الْمُشْرِكِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ وَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا بَكَّاءً لَا يَمْلِكُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَفْزَعَ ذَلِكَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلُوا إِلَى ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّا كُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَكْرٍ بِجِوَارِكَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ،‏‏‏‏ فَقَدْ جَاوَزَ ذَلِكَ فَابْتَنَى مَسْجِدًا بِفِنَاءِ دَارِهِ،‏‏‏‏ فَأَعْلَنَ بِالصَّلَاةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهِ،‏‏‏‏ وَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا،‏‏‏‏ فَانْهَهُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَعَلَ،‏‏‏‏ وَإِنْ أَبَى إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ بِذَلِكَ فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْكَ ذِمَّتَكَ فَإِنَّا قَدْ كَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَكَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لِأَبِي بَكْرٍ الِاسْتِعْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَأَتَى ابْنُ الدَّغِنَةِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَاقَدْتُ لَكَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَى ذَلِكَ،‏‏‏‏ وَإِمَّا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيَّ ذِمَّتِي فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ فَإِنِّي أَرُدُّ إِلَيْكَ جِوَارَكَ وَأَرْضَى بِجِوَارِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،‏‏‏‏ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ:‏‏‏‏ إِنِّي أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ،‏‏‏‏ فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَرَجَعَ عَامَّةُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَى رِسْلِكَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَهَلْ تَرْجُو ذَلِكَ بِأَبِي أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَحَبَسَ أَبُو بَكْرٍ نَفْسَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَصْحَبَهُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ كَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ وَهُوَ الْخَبَطُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ فِدَاءٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا جَاءَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ،‏‏‏‏ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُكَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ الصَّحَابَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَأَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَى رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِالثَّمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ،‏‏‏‏ فَقَطَعَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا فَرَبَطَتْ بِهِ عَلَى فَمِ الْجِرَابِ،‏‏‏‏ فَبِذَلِكَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ فَكَمَنَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ،‏‏‏‏ فَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا بِسَحَرٍ فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ كَبَائِتٍ،‏‏‏‏ فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُكْتَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّى يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِكَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ،‏‏‏‏ وَيَرْعَى عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ،‏‏‏‏ فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلٍ وَهُوَ لَبَنُ مِنْحَتِهِمَا وَرَضِيفِهِمَا حَتَّى يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْكَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ،‏‏‏‏ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيَا خِرِّيتًا،‏‏‏‏ وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ،‏‏‏‏ فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ،‏‏‏‏ وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ السَّوَاحِلِ. حدیث نمبر: 3906 قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ،‏‏‏‏ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا سُرَاقَةُ،‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُرَاقَةُ:‏‏‏‏ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بِأَعْيُنِنَا،‏‏‏‏ ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً،‏‏‏‏ ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ،‏‏‏‏ وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَحَطَطْتُ بِزُجِّهِ الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَهُ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي،‏‏‏‏ فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى دَنَوْتُ مِنْهُمْ،‏‏‏‏ فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ،‏‏‏‏ فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَى كِنَانَتِي،‏‏‏‏ فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ،‏‏‏‏ فَرَكِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ،‏‏‏‏ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا،‏‏‏‏ فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِثْلُ الدُّخَانِ،‏‏‏‏ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ فَنَادَيْتُهُمْ بِالْأَمَانِ،‏‏‏‏ فَوَقَفُوا فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمْ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ،‏‏‏‏ وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ،‏‏‏‏ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْفِ عَنَّا،‏‏‏‏ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ أَمْنٍ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَفَكَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي رَكْبٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنْ الشَّأْمِ فَكَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ،‏‏‏‏ وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فَكَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ،‏‏‏‏ فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ،‏‏‏‏ فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ،‏‏‏‏ فَلَمَّا أَوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ:‏‏‏‏ يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ،‏‏‏‏ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ،‏‏‏‏ فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِكَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ،‏‏‏‏ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامِتًا،‏‏‏‏ فَطَفِقَ مَنْ جَاءَ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَيِّي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى أَصَابَتِ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ،‏‏‏‏ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ،‏‏‏‏ فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً،‏‏‏‏ وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى،‏‏‏‏ وَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ وَكَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ:‏‏‏‏ هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ،‏‏‏‏ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَا:‏‏‏‏ لَا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرْ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرْ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَهْ فَارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ،‏‏‏‏ فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرَ هَذَا الْبَيْتِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء (رض) نے کہ جب نبی کریم ﷺ اور ابوبکر (رض) مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کرلو۔ چناچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین (دو پٹکوں والی) ہوگیا اور ابن عباس (رض) نے اسماء کو ذات النطاقين‏.‏ کہا۔
حدیث نمبر: 3907 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَشُقِّيهِ،‏‏‏‏ فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا جب نبی کریم ﷺ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا کی۔ (اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا) رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا۔ ابوبکر (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں (ریوڑ کی ایک بکری کا) تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔
حدیث نمبر: 3908 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ،‏‏‏‏ فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكَ فَدَعَا لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِرَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ،‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء (رض) نے کہ عبداللہ بن زبیر (رض) ان کے پیٹ میں تھے، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہوچکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ (رض) پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ (رض) کے منہ میں اسے رکھ دیا۔ چناچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ (رض) کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ ﷺ کا مبارک لعاب تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ عبداللہ (رض) سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متابعت خالد بن مخلد نے کی ہے۔ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء (رض) نے کہ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں۔
حدیث نمبر: 3909 حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ،‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ،‏‏‏‏ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّكَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ. تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ سب سے پہلا بچہ جو اسلام میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہوا، عبداللہ بن زبیر (رض) ہیں۔ انہیں لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائے تو نبی کریم ﷺ نے ایک کھجور لے کر اسے چبایا پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا۔ اس لیے سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم ﷺ کا لعاب مبارک تھا۔
حدیث نمبر: 3910 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَوَّلُ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً فَلَاكَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيهِ،‏‏‏‏ فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر صدیق (رض) آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر (رض) بوڑھے ہوگئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم ﷺ ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر ! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں ؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر (رض) کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ابوبکر (رض) پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آچکا تھا۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ سوار آگیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے گرا دے چناچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار (سراقہ) نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا۔ اس کے بعد آپ ﷺ (مدینہ پہنچ کر) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہوجائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چناچہ آپ ﷺ اور ابوبکر (رض) سوار ہوگئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہوگیا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آگئے۔ اللہ کے نبی آگئے۔ نبی کریم ﷺ مدینہ کی طرف چلتے رہے اور (مدینہ پہنچ کر) ابوایوب (رض) کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔ عبداللہ بن سلام (رض) (ایک یہودی عالم نے) اپنے گھر والوں سے آپ ﷺ کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے (سنتے ہی) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کرچکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے (نانہالی) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے ؟ ابوایوب (رض) نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا (اچھا تو جاؤ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ ابوایوب (رض) نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔ آپ ﷺ ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آگئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہوگیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کردیں گے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو ! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہوجاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہوگا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابن سلام ! اب ان کے سامنے آجاؤ۔ عبداللہ بن سلام (رض) باہر آگئے اور کہا : اے یہود ! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔
حدیث نمبر: 3911 حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ،‏‏‏‏ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ،‏‏‏‏ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ،‏‏‏‏ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا،‏‏‏‏ فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ،‏‏‏‏ فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَكَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ فَجَاءُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ،‏‏‏‏ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ:‏‏‏‏ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ،‏‏‏‏ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ،‏‏‏‏ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ،‏‏‏‏ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا،‏‏‏‏ فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ ؟فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ:‏‏‏‏ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ،‏‏‏‏ وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ،‏‏‏‏ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ،‏‏‏‏ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ،‏‏‏‏ وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ،‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا،‏‏‏‏ وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا نَعْلَمُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَهَا:‏‏‏‏ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَيُّ رَجُلٍ فِيكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ ذَاكَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا،‏‏‏‏ وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟قَالُوا:‏‏‏‏ حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟قَالُوا:‏‏‏‏ حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ ؟قَالُوا:‏‏‏‏ حَاشَى لِلَّهِ مَا كَانَ لِيُسْلِمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ سَلَامٍ،‏‏‏‏ اخْرُجْ عَلَيْهِمْ،‏‏‏‏ فَخَرَجَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ،‏‏‏‏ اتَّقُوا اللَّهَ،‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَاءَ بِحَقٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ كَذَبْتَ،‏‏‏‏ فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے یعنی ابن عمر (رض) سے اور وہ عمر بن خطاب (رض) سے، فرمایا آپ نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ (اپنے عہد خلافت میں) چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کردیا تھا، لیکن عبداللہ بن عمر (رض) کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) بھی مہاجرین میں سے ہیں۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں ؟ تو عمر (رض) نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے۔ اس لیے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 3912 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ يَعْنِى،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ فِي أَرْبَعَةٍ،‏‏‏‏ وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ هُوَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لَيْسَ هُوَ كَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں ابو وائل شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 3913 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَبَّابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، کہا کہ ہم سے خباب (رض) نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا۔ مصعب بن عمیر (رض) بھی انہیں میں سے ہیں۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی۔ اور ان کے کفن کے لیے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کرلیا۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 3914 وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ،‏‏‏‏ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً،‏‏‏‏ كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ،‏‏‏‏ فَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ،‏‏‏‏ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ بِهَا وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ إِذْخِرٍ،‏‏‏‏ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر (رض) نے پوچھا، کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر (رض) نے تمہارے والد ابوموسیٰ (رض) کو کیا جواب دیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا : اے ابوموسیٰ ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمارا اسلام، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جو ہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پاجائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہوجائے۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا اللہ کی قسم ! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا (خیر ابھی تم سمجھو) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پاجائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہوجائے۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا : اللہ کی قسم ! آپ کے والد (عمر رضی اللہ عنہ) میرے والد (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) سے بہتر تھے۔
حدیث نمبر: 3915 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَوْفٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرِي مَا ؟ قَالَ أَبِي:‏‏‏‏ لِأَبِيكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏هَلْ يَسُرُّكَ إِسْلَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ،‏‏‏‏ وَجِهَادُنَا مَعَهُ،‏‏‏‏ وَعَمَلُنَا كُلُّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا،‏‏‏‏ وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ ؟ فَقَالَ أَبِي:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ،‏‏‏‏ قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا،‏‏‏‏ وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا،‏‏‏‏ وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ،‏‏‏‏ وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبِي:‏‏‏‏ لَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ،‏‏‏‏ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا،‏‏‏‏ وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
مجھ سے محمد بن صباح نے خود بیان کیا یا ان سے کسی اور نے نقل کر کے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے، ان سے عاصم احول نے، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ابن عمر (رض) سے میں نے سنا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ تم نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی تو وہ غصہ ہوجایا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں عمر (رض) کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے، اس لیے ہم گھر واپس آگئے پھر عمر (رض) نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا اور فرمایا کہ جا کر دیکھ آؤ نبی کریم ﷺ ابھی بیدار ہوئے یا نہیں چناچہ میں آیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوچکے تھے) اس لیے اندر چلا گیا اور آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی پھر میں عمر (رض) کے پاس آیا اور آپ کو نبی کریم ﷺ کے بیدار ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد ہم آپ ﷺ کی خدمت میں دوڑتے ہوئے حاضر ہوئے عمر (رض) بھی اندر گئے اور آپ ﷺ سے بیعت کی اور میں نے بھی (دوبارہ) بیعت کی۔
حدیث نمبر: 3916 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏إِذَا قِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَوَجَدْنَاهُ قَائِلًا،‏‏‏‏ فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلِ اسْتَيْقَظَ،‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَبَايَعْتُهُ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى عُمَرَ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ،‏‏‏‏ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ. ثُمَّ بَايَعْتُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن یوسف نے، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے حدیث سنی وہ بیان کرتے تھے کہ ابوبکر (رض) نے عازب (رض) سے ایک پالان خریدا اور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر (رض) سے عازب (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے سفر ہجرت کا حال پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ چونکہ ہماری نگرانی ہو رہی تھی (یعنی کفار ہماری تاک میں تھے) اس لیے ہم (غار سے) رات کے وقت باہر آئے اور پوری رات اور دن بھر بہت تیزی کے ساتھ چلتے رہے، جب دوپہر ہوئی تو ہمیں ایک چٹان دکھائی دی۔ ہم اس کے قریب پہنچے تو اس کی آڑ میں تھوڑا سا سایہ بھی موجود تھا۔ ابوبکر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا جو میرے ساتھ تھا۔ آپ اس پر لیٹ گئے، اور میں قرب و جوار کی گرد جھاڑنے لگا۔ اتفاق سے ایک چرواہا نظر پڑا جو اپنی بکریوں کے تھوڑے سے ریوڑ کے ساتھ اسی چٹان کی طرف آ رہا تھا اس کا مقصد اس چٹان سے وہی تھا جس کے لیے ہم یہاں آئے تھے (یعنی سایہ حاصل کرنا) میں نے اس سے پوچھا لڑکے تو کس کا غلام ہے ؟ اس نے بتایا کہ فلاں کا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی بکریوں سے کچھ دودھ نکال سکتے ہو اس نے کہا کہ ہاں پھر وہ اپنے ریوڑ سے ایک بکری لایا تو میں نے اس سے کہا کہ پہلے اس کا تھن جھاڑ لو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر اس نے کچھ دودھ دوہا۔ میرے ساتھ پانی کا ایک چھاگل تھا۔ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ یہ پانی میں نے نبی کریم ﷺ کے لیے ساتھ لے رکھا تھا۔ وہ پانی میں نے اس دودھ پر اتنا ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا تو میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا دودھ نوش فرمایئے یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا جس سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ہم نے پھر کوچ شروع کیا اور ڈھونڈنے والے لوگ ہماری تلاش میں تھے۔
حدیث نمبر: 3917 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ابْتَاعَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ،‏‏‏‏ فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْءٌ مِنْ ظِلٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي،‏‏‏‏ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ،‏‏‏‏ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنَ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا،‏‏‏‏ فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا لِفُلَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ لَبَنٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ انْفُضْ الضَّرْعَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَحَلَبَ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ،‏‏‏‏ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَصَبَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَضِيتُ،‏‏‏‏ ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تھا تو آپ کی صاحبزادی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ رہا تھا میں نے ان کے والد کو دیکھا کہ انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا اور دریافت کیا بیٹی! طبیعت کیسی ہے؟
قَالَ الْبَرَاءُ:‏‏‏‏ فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى،‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟"".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن ابی عبلہ نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن وساج نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ کے خادم انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ) تشریف لائے تو ابوبکر (رض) کے سوا اور کوئی آپ کے اصحاب میں ایسا نہیں تھا جس کے بال سفید ہو رہے ہوں، اس لیے آپ نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا تھا۔ اور دحیم نے بیان کیا، ان سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابو عبید نے بیان کیا، ان سے عقبہ بن وساج نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر ابوبکر (رض) کی تھی اس لیے انہوں نے مہندی اور وسمہ کا خضاب استعمال کیا۔ اس سے آپ کے بالوں کا رنگ خوب سرخی مائل بہ سیاہی ہوگیا۔
حدیث نمبر: 3919 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي أَصْحَابِهِ أَشْمَطُ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ. حدیث نمبر: 3920 وَقَالَ دُحَيْمٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِهِ أَبُو بَكْرٍ فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ،‏‏‏‏ حَتَّى قَنَأَ لَوْنُهَا.
tahqiq

তাহকীক: