আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

انبیاء علیہم السلام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮৭ টি

হাদীস নং: ৩৮৩৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ ان کے والد قاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ عائشہ (رض) کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لیے کھڑے ہوجایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دو بار کہتے تھے کہ اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا اب ویسا ہی کسی پرندے کے بھیس میں ہے۔
حدیث نمبر: 3837 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّالْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ وَلَا يَقُومُ لَهَا وَيُخْبِرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُونَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ مَرَّتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
حدیث نمبر : 3838 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ :‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ :‏‏‏‏ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ،‏‏‏‏ فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
حدیث نمبر: 3838 حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا، کیا تم لوگوں سے یحییٰ بن مہلب نے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے (قرآن مجید کی آیت میں) کے متعلق فرمایا کہ اس کے (معنی ٰ ہیں) بھرا ہوا پیالہ جس کا مسلسل دور چلے۔ عکرمہ نے بیان کیا اور عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں (یہ لفظ استعمال کرتے تھے) اسقنا كأسا دهاقا‏. یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو۔
حدیث نمبر: 3839 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ:‏‏‏‏ حَدَّثَكُمْ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ:‏‏‏‏ وَكَأْسًا دِهَاقًا سورة النبأ آية 34، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَلْأَى مُتَتَابِعَةً. حدیث نمبر: 3840 قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ:‏‏‏‏ اسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ہاں اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ اور امیہ بن ابی الصلت (جاہلیت کا ایک شاعر) مسلمان ہونے کے قریب تھا۔
حدیث نمبر: 3841 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ:‏‏‏‏ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ابوبکر (رض) کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور ابوبکر (رض) اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اور ابوبکر (رض) نے بھی اس میں سے کھالیا۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے ؟ یہ کیسی کمائی سے ہے ؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لیے کہانت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھا لیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی، آپ کھا بھی چکے ہیں۔ ابوبکر (رض) نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں۔
حدیث نمبر: 3842 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَخِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ،‏‏‏‏ فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَهُ الْغُلَامُ أَتَدْرِي مَا هَذَا ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَمَا هُوَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ إِلَّا أَنِّي خَدَعْتُهُ،‏‏‏‏ فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ،‏‏‏‏ فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا، مجھ کو نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ حبل الحبلة تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے۔ عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ حبل الحبلة کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اونٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نوزائیدہ بچہ (بڑھ کر) حاملہ ہو، نبی کریم ﷺ نے اس طرح کی خریدو فروخت ممنوع قرار دے دی تھی۔
حدیث نمبر: 3843 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لُحُومَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ،‏‏‏‏ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ غیلان بن جریر نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک (رض) کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرماتے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا۔
حدیث نمبر: 3844 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ:‏‏‏‏ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَيُحَدِّثُنَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَكَانَ يَقُولُ لِي:‏‏‏‏ فَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَفَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے قطن ابوالہیثم نے کہا، ہم سے ابویزید مدنی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا، بنو ہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص (خداش بن عبداللہ عامری) نے نوکری پر رکھا، اب یہ ہاشمی نوکر اپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے اپنے نوکر بھائی سے التجا کی میری مدد کر اونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہوگی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا (اور چلا گیا) ۔ پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھا تھا اس نے پوچھا سب اونٹ تو باندھے، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے ؟ نوکر نے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوا اس کی رسی ؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی۔ اس کے (مرنے سے پہلے) وہاں سے ایک یمنی شخص گزر رہا تھا۔ ہاشمی نوکر نے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو ؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں۔ اس نوکر نے کہا جب بھی تم مکہ پہنچو کیا میرا ایک پیغام پہنچا دو گے ؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا۔ اس نوکر نے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکارنا : اے قریش کے لوگو ! جب وہ تمہارے پاس جمع ہوجائیں تو پکارنا : اے بنی ہاشم ! جب وہ تمہارے پاس آجائیں تو ان سے ابوطالب پوچھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کردیا۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مرگیا، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہاں بھی گیا۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہوگیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی (لیکن وہ مرگیا تو) میں نے اسے دفن کردیا۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طرف سے یہی ہونا چاہیے تھا۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی، موسم حج میں آیا اور آواز دی : اے قریش کے لوگو ! لوگوں نے بتادیا کہ یہاں ہیں قریش اس نے آواز دی، اے بنو ہاشم ! لوگوں نے بتایا کہ بنو ہاشم یہ ہیں اس نے پوچھا ابوطالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کردیا ہے۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہاں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کرلو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی اس کی قسم کھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کردیں گے۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہوگئے کہ ہم قسم کھا لیں گے۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا۔ اس نے کہا : اے ابوطالب ! آپ مہربانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کردیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں (یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان) اس سے وہاں قسم نہ لیں۔ ابوطالب نے اسے معاف کردیا۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اور شخص آیا اور کہا : اے ابوطالب ! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑتے ہیں۔ یہ دو اونٹ میری طرف سے آپ قبول کرلیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھانے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے۔ ابوطالب نے اسے بھی منظور کرلیا۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس (رض) نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا۔
حدیث نمبر: 3845 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى،‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ،‏‏‏‏ فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لَا تَنْفِرُ الْإِبِلُ،‏‏‏‏ فَأَعْطَاهُ عِقَالًا فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا وَاحِدًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَيْنَ عِقَالُهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَشْهَدُ وَرُبَّمَا شَهِدْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ أَنْتَ مُبْلِغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَتَبَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ،‏‏‏‏ فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ فَوَلِيتُ دَفْنَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ فَمَكُثَ حِينًا،‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا آلَ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذِهِ قُرَيْشٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا أَبُو طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبْلِغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ إِنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ نَحْلِفُ،‏‏‏‏ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلَا تُصْبِرْ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ،‏‏‏‏ فَفَعَلَ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ،‏‏‏‏ هَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلَا تُصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ،‏‏‏‏ فَقَبِلَهُمَا وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ فَحَلَفُوا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے (مصلحت کی وجہ سے) رسول اللہ ﷺ سے پہلے برپا کرا دی تھی۔ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہوچکے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپا کیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اور عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر بن اشج نے اور عبداللہ بن عباس (رض) کے مولا کریب نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے بتایا صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہاں جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے۔
حدیث نمبر: 3846 حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا،‏‏‏‏ قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ. حدیث نمبر: 3847 وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو،‏‏‏‏ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ،‏‏‏‏ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ السَّعْيُ بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا،‏‏‏‏ وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ لَا نُجِيزُ الْبَطْحَاءَ إِلَّا شَدًّا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مطرف نے خبر دی، کہا میں نے ابوالسفر سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا انہوں نے کہا : اے لوگو ! میری باتیں سنو کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور (جو کچھ تم نے سمجھا ہے) وہ مجھے سناؤ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہاں سے اٹھ کر (بغیر سمجھے) چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ ابن عباس (رض) نے یوں کہا اور ابن عباس (رض) نے یوں کہا۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھاتا تو اپنا کوڑا، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا۔
حدیث نمبر: 3848 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا،‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَقُولُوا الْحَطِيمُ فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ أَوْ قَوْسَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہوگئے تھے اس بندریا نے زنا کرایا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا۔
حدیث نمبر: 3849 حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قِرْدَةً اجْتَمَعَ عَلَيْهَا قِرَدَةٌ قَدْ زَنَتْ فَرَجَمُوهَا فَرَجَمْتُهَا مَعَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زمانہ جاہلیت کی قسامت کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، انہوں نے کہا کہ جاہلیت کی عادتوں میں سے یہ عادتیں ہیں۔ نسب کے معاملہ میں طعنہ مارنا، میت پر نوحہ کرنا، تیسری عادت کے متعلق (عبیداللہ راوی) بھول گئے تھے اور سفیان نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کو بارش کی علت سمجھنا ہے۔
حدیث نمبر: 3850 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خِلَالٌ مِنْ خِلَالِ الْجَاهِلِيَّةِ:‏‏‏‏ الطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ،‏‏‏‏ وَالنِّيَاحَةُ،‏‏‏‏ وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ وَيَقُولُونَ إِنَّهَا الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بیان۔
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ان سے ہشام نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے پھر آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم ہوا او آپ مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے۔ وہاں دس سال رہے پھر آپ نے وفات فرمائی اس حساب سے آپ کی کل عمر شریف تریسٹھ سال ہوتی ہے اور یہی صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3851 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا النَّضْرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً،‏‏‏‏ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ،‏‏‏‏ ثُمَّ تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان بن بشر اور اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے قیس بن ابوحازم سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے خباب بن ارت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کعبہ کے سائے تلے چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے آپ دعا کیوں نہیں فرماتے ؟ اس پر آپ ﷺ سیدھے بیٹھ گئے۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام و کمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک (تنہا) جائے گا اور (راستے) میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہوگا۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈر ہوگا۔
حدیث نمبر: 3852 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بَيَانٌ،‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيلُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ سَمِعْنَا قَيْسًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ خَبَّابًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ بِمِشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ،‏‏‏‏ وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ،‏‏‏‏ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ. زَادَ بَيَانٌ:‏‏‏‏ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے سورة النجم پڑھی اور سجدہ کیا اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ تمام لوگوں نے سجدہ کیا صرف ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں اس نے کنکریاں اٹھا کر اس پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں نے پھر اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3853 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ،‏‏‏‏ فَسَجَدَ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا سَجَدَ إِلَّا رَجُلٌ رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًا فَرَفَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا يَكْفِينِي فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا بِاللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (نماز پڑھتے ہوئے) سجدہ کی حالت میں تھے، قریش کے کچھ لوگ وہیں اردگرد موجود تھے۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی بچہ دان لایا اور نبی کریم ﷺ کی پیٹھ مبارک پر اسے ڈال دیا۔ اس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اپنا سر نہیں اٹھایا پھر فاطمہ (رض) آئیں اور گندگی کو پیٹھ مبارک سے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اسے بددعا دیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! قریش کی اس جماعت کو پکڑ لے۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا (امیہ کے بجائے آپ نے بددعا) ابی بن خلف (کے حق میں فرمائی) شبہ راوی حدیث شعبہ کو تھا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بدر کی لڑائی میں یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے اور ایک کنویں میں انہیں ڈال دیا گیا تھا سوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کا ہر ایک جوڑ الگ الگ ہوگیا تھا اس لیے کنویں میں نہیں ڈالا جاسکا۔
حدیث نمبر: 3854 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ،‏‏‏‏ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام،‏‏‏‏ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ،‏‏‏‏ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ،‏‏‏‏ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ شُعْبَةُ الشَّاكُّ،‏‏‏‏ فَرَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍأَوْ أُبَيٍّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا یا (منصور نے) اس طرح بیان کیا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رض) نے کہا کہ ابن عباس (رض) سے ان دونوں آیتوں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے (ایک آیت ولا تقتلوا النفس التي حرم الله اور دوسری آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏ ہے۔ ابن عباس (رض) سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورة الفرقان کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی إلا من تاب وآمن‏ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورة النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کرلیں۔
حدیث نمبر: 3855 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مَا أَمْرُهُمَا وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الأنعام آية 151،‏‏‏‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ،‏‏‏‏ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ،‏‏‏‏ وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ سورة مريم آية 60 الْآيَةَ،‏‏‏‏ فَهَذِهِ لِأُولَئِكَ،‏‏‏‏ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ:‏‏‏‏ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ ثُمَّ قَتَلَ،‏‏‏‏ فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ،‏‏‏‏ فَذَكَرْتُهُ لِمُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِلَّا مَنْ نَدِمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا نبی کریم ﷺ کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں ابوبکر صدیق (رض) آگئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی
حدیث نمبر: 3856 حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ صَنَعَهُ الْمُشْرِكُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حِجْرِ الْكَعْبَةِ إِذْ أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ،‏‏‏‏ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ فِي عُنُقِهِ،‏‏‏‏ فَخَنَقَهُ خَنْقًا شَدِيدًا،‏‏‏‏ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ وَدَفَعَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ سورة غافر آية 28 الْآيَةَ. تَابَعَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان۔
مجھ سے عبداللہ بن حماد آملی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن مجالد نے بیان کیا، ان سے بیان نے، ان سے وبرہ نے ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ عمار بن یاسر (رض) نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب نبی کریم ﷺ کے ساتھ پانچ غلام، دو عورتوں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم کے سوا اور کوئی (مسلمان) نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 3857 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الْآمُلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بَيَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَبَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا بیان۔
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم مروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعد بن مسیب سے سنا، کہا کہ میں نے ابواسحاق سعد بن ابی وقاص (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جس دن میں اسلام لایا ہوں دوسرے لوگ بھی اسی دن اسلام لائے اور اسلام میں داخل ہونے والے تیسرے آدمی کی حیثیت سے مجھ پر سات دن گزرے۔
حدیث نمبر: 3858 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكُثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ.
tahqiq

তাহকীক: