আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

انبیاء علیہم السلام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৫৮৭ টি

হাদীস নং: ৩৭৯৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ (اے اللہ!) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (خندق کھودتے وقت) فرمایا حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ ! انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس (رض) نے بیان کیا نبی کریم ﷺ سے اسی طرح، اور انہوں نے بیان کیا اس میں یوں ہے پس انصار کی مغفرت فرما دے۔
حدیث نمبر: 3795 حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ. وَعَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ (اے اللہ!) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے سنا آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر (خندق کھودتے ہوئے) یہ شعر پڑھتے تھے نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( ﷺ ) سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جب یہ سنا تو) اس کے جواب میں یوں فرمایا اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما۔
حدیث نمبر: 3796 حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمْ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا کہ (اے اللہ!) انصار اور مہاجرین پر اپنا کرم فرما۔
مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للمهاجرين والأنصار‏‏‏. اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 3797 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (اس آیت کی تفسیر میں) ”اور اپنے نفسوں پر وہ دوسروں کو مقدم رکھتے ہیں، اگرچہ خود وہ فاقہ ہی میں مبتلا ہوں“۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داود نے بیان کیا، ان سے فضیل بن غزوان نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ ایک صاحب (خود ابوہریرہ (رض) ہی مراد ہیں) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا۔ (تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا۔ چناچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو ۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو (بھوکا) سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں، لیکن ان دونوں نے (اپنے بچوں سمیت رات) فاقہ سے گزار دی، صبح کے وقت جب وہ صحابی آپ ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا (یہ فرمایا کہ اسے) پسند کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ويؤثرون على أنفسهم ولو کان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون‏ اور وہ (انصار) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر (دوسرے غریب صحابہ کو) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
حدیث نمبر: 3798 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَ:‏‏‏‏ مَا مَعَنَا إِلَّا الْمَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيفُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا عِنْدَنَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَيِّئِي طَعَامَكِ وَأَصْبِحِي سِرَاجَكِ وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءً،‏‏‏‏ فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا وَأَصْبَحَتْ سِرَاجَهَا وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ،‏‏‏‏ فَجَعَلَا يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلَانِ فَبَاتَا طَاوِيَيْنِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَحِكَ اللَّهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ سورة الحشر آية 9.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৯৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو“۔
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر اور عباس (رض) انصار کی ایک مجلس سے گزرے، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں، پوچھا آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں ؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے (یہ آپ ﷺ کے مرض الوفات کا واقعہ ہے) اس کے بعد یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی، بیان کیا کہ اس پر آپ ﷺ باہر تشریف لائے، سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لاسکے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا، وہ ملنا ابھی باقی ہے، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرتے رہنا۔
حدیث نمبر: 3799 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَاذَانُ أَخُو عَبْدَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَرَّ أَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا،‏‏‏‏ فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ،‏‏‏‏ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو“۔
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن غسیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے، آپ ﷺ اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے، اور (سر مبارک پر) ایک سیاہ پٹی (بندھی ہوئی تھی) آپ منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : امابعد اے لوگو ! دوسروں کی تو بہت کثرت ہوجائے گی لیکن انصار کم ہوجائیں گے اور وہ ایسے ہوجائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان و نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکو کاروں کی پذیرائی کرنی چاہیے۔ اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 3800 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ مُتَعَطِّفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ،‏‏‏‏ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَتَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَضُرُّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعُهُ،‏‏‏‏ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو“۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہوجائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں کی پذیرائی کیا کرنا، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔
حدیث نمبر: 3801 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عنه،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ،‏‏‏‏ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے، آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے، سعد بن معاذ (رض) کے رومال (جنت میں) اس سے کہیں بہتر ہیں یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے، انہوں نے انس (رض) سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3802 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا أَوْ أَلْيَنُ. رَوَاهُ قَتَادَةُ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيُّ،‏‏‏‏ سَمِعَا أَنَسًا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ کے داماد فضل بن مساور نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے ابوسفیان نے اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذ (رض) کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے جابر (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا، ایک صاحب نے جابر (رض) سے کہا کہ براء (رض) تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذ (رض) کی نعش رکھی ہوئی تھی، ہل گئی تھی، جابر (رض) نے کہا ان دونوں قبیلوں (اوس اور خزرج) کے درمیان (زمانہ جاہلیت میں) دشمنی تھی، میں نے خود نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذ (رض) کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا۔
حدیث نمبر: 3803 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ خَتَنُ أَبِي عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ. وَعَنْالْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ لِجَابِرٍ فَإِنَّ الْبَرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اهْتَزَّ السَّرِيرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَانَ بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَيَّيْنِ ضَغَائِنُ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ ایک قوم (یہود بنی قریظہ) نے سعد بن معاذ (رض) کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے (نبی کریم ﷺ نے ایام جنگ میں) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے سعد ! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سعد (رض) نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3804 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ،‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا سَعْدُ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৫
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہیں قتادہ نے خبر دی اور انہیں انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں (اپنے گھر کی طرف) جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا تھا، پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہوگیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے کہ اسید بن حضیر (رض) اور ایک دوسرے انصاری صحابی (کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی) اور حماد نے بیان کیا، انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں انس (رض) نے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر (رض) کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی۔ یہ نبی کریم ﷺ کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3805 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلَيْنِ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ وَإِذَا نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى تَفَرَّقَا،‏‏‏‏ فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَهُمَا. وَقَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ عَنْ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ إِنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ حَمَّادٌ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৬
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا قرآن چار ( صحابہ) عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) سے سیکھو۔
حدیث نمبر: 3806 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:‏‏‏‏ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَأُبَيٍّ،‏‏‏‏ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৭
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا کہ ابواسید (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبدالاشھل کا، پھر بنو عبدالحارث کا، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے۔ سعد بن عبادہ (رض) نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے، ان سے کہا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے تم کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے (اعتراض کی کیا بات ہے) ۔
حدیث نمبر: 3807 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَأَبُو أُسَيْدٍ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ بَنُو النَّجَّارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ:‏‏‏‏ وَكَانَ ذَا قِدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى نَاسٍ كَثِيرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৮
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو (رض) کی مجلس میں عبداللہ بن مسعود (رض) کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود سے، نبی کریم ﷺ نے انہیں کے نام سے ابتداء کی، اور ابوحذیفہ کے غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور ابی بن کعب سے۔
حدیث نمبر: 3808 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:‏‏‏‏ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮০৯
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبہ سے سنا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورة لم يكن الذين کفروا‏ سناؤں۔ ابی بن کعب (رض) بولے کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، اس پر ابی بن کعب (رض) فرط مسرت سے رونے لگے۔
حدیث نمبر: 3809 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَسَمَّانِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَبَكَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১০
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
حدیث نمبر: 3810 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ أُبَيٌّ،‏‏‏‏ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو زَيْدٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَحَدُ عُمُومَتِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১১
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس (رض) نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم ﷺ کے قریب سے ادھر ادھر چلنے لگے تو ابوطلحہ (رض) اس وقت اپنی ایک ڈھال سے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے چناچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں۔ اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو ۔ نبی کریم ﷺ حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ (رض) عرض کرتے : یا نبی اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ نبی کریم ﷺ کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر (رض) اور ام سلیم (رض) (ابوطلحہ کی بیوی) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے (غازیوں کی مدد میں) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں۔ (اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کرلے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ (رض) کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی۔
حدیث نمبر: 3811 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ بِهِ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ،‏‏‏‏ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ الْقِدِّ يَكْسِرُ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا،‏‏‏‏ وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنَ النَّبْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ انْشُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ فَأَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ،‏‏‏‏ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ،‏‏‏‏ إِمَّا مَرَّتَيْنِ،‏‏‏‏ وَإِمَّا ثَلَاثًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১২
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عبداللہ بن سلام (رض) کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں، بیان کیا کہ آیت وشهد شاهد من بني إسرائيل‏ (سورۃ الاحقاف : 10) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی (راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔
حدیث نمبر: 3812 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ سورة الأحقاف آية 10 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَالِكٌ الْآيَةَ أَوْ فِي الْحَدِيثِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৩
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر سمان نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریم ﷺ سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے العروة مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ یہ خواب جب میں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور العروة (گھنا درخت) عروة الوثقى ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔ یہ بزرگ عبداللہ بن سلام تھے اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمد نے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام (رض) سے انہوں نے منصف‏. (خادم) کے بجائے وصيف کا لفظ ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 3813 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولَ:‏‏‏‏ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ،‏‏‏‏ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا وَسْطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ،‏‏‏‏ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ لِهُ ارْقَهْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي،‏‏‏‏ فَرَقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَاهَا فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ لَهُ اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تِلْكَ الرَّوْضَةُ:‏‏‏‏ الْإِسْلَامُ،‏‏‏‏ وَذَلِكَ الْعَمُودُ:‏‏‏‏ عَمُودُ الْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ:‏‏‏‏ عُرْوَةُ الْوُثْقَى،‏‏‏‏ فَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَوَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ لِي خَلِيفَةُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْابْنِ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَصِيفٌ مَكَانَ مِنْصَفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮১৪
انبیاء علیہم السلام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام (رض) سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک (باعظمت) مکان میں داخل ہو گے (کہ رسول ﷺ بھی اس میں تشریف لے گئے تھے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے (اپنی روایتوں میں) البيت‏.‏ (گھر) کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 3814 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تَجِيءُ فَأُطْعِمَكَ سَوِيقًا وَتَمْرًا وَتَدْخُلَ فِي بَيْتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ بِأَرْضٍ الرِّبَا بِهَا فَاشٍ إِذَا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيرٍ أَوْ حِمْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ رِبًا،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ،‏‏‏‏ وَأَبُو دَاوُدَ،‏‏‏‏ وَوَهْبٌ عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْت.
tahqiq

তাহকীক: