আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
اذان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ৬৪৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: تکبیر ہو چکنے کے بعد کسی سے باتیں کرنا۔
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے ایک شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا جو نماز کے لیے تکبیر ہونے کے بعد گفتگو کرتا رہے۔ اس پر انہوں نے انس بن مالک (رض) سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تکبیر ہوچکی تھی۔ اتنے میں ایک شخص نبی کریم ﷺ سے راستہ میں ملا اور آپ ﷺ کو نماز کے لیے تکبیر کہی جانے کے بعد بھی روکے رکھا۔
حدیث نمبر: 643 حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَعَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں۔ پھر نماز کے لیے کہوں، اس کے لیے اذان دی جائے پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انہیں مسجد میں ایک اچھے قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ کھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء کی جماعت کے لیے مسجد میں ضرور حاضر ہوجائیں
حدیث نمبر: 644 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 645 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن خباب سے، انہوں نے ابو سعید خدری (رض) سے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جماعت سے نماز تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 646 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز گھر میں یا بازار میں پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کرتا ہے اور اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد کا راستہ پکڑتا ہے اور سوا نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے اور جب نماز سے فارغ ہوجاتا ہے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے۔ کہتے ہیں اللهم صل عليه، اللهم ارحمه اے اللہ ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما۔ اے اللہ ! اس پر رحم کر اور جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہو۔
حدیث نمبر: 647 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تُضَعَّفُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ضِعْفًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، فَإِذَا صَلَّى لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت سے نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ اور رات دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو (سورۃ بنی اسرائیل) کی یہ آیت پڑھو إن قرآن الفجر کان مشهودا یعنی فجر میں قرآن پاک کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ شعیب نے فرمایا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر (رض) کے واسطہ سے اس طرح حدیث بیان کی کہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 648 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمِيعِ، صَلَاةَ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا، وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: إِنَّ قُرْءَانَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78. حدیث نمبر: 649 قَالَ شُعَيْبٌ : وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: تَفْضُلُهَا بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سالم سے سنا۔ کہا کہ میں نے ام الدرداء سے سنا، آپ نے فرمایا کہ (ایک مرتبہ) ابودرداء آئے، بڑے ہی خفا ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی، جس نے آپ کو غضبناک بنادیا۔ فرمایا : اللہ کی قسم ! محمد ﷺ کی شریعت کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ جماعت کے ساتھ یہ لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 650 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَا أَغْضَبَكَ ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں۔
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ (رض) سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے۔
حدیث نمبر: 651 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو ( مسجد میں نماز کے لیے ) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو ( پہلے ہی ) پڑھ کر سو جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نامی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کردیا۔ اللہ تعالیٰ (صرف اسی بات پر) راضی ہوگیا اور اس کی بخشش کردی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے (ہیضے وغیرہ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مرجائے اور اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں۔ اور اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ جان جائیں کہ عشاء اور صبح کی نماز کے فضائل کتنے ہیں، تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آئیں۔
حدیث نمبر: 652 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ. حدیث نمبر: 653 ثُمَّ قَالَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ. حدیث نمبر: 654 وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان۔
پھر آپ نے فرمایا کہ شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے (ہیضے وغیرہ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں۔
ثُمَّ قَالَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان۔
اور اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ جان جائیں کہ عشاء اور صبح کی نماز کے فضائل کتنے ہیں، تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آئیں۔
وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (جماعت کے لیے) ہر ہر قدم پر ثواب ملنے کا بیان۔
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک (رض) سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اے بنو سلمہ والو ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ بنو سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان (جو مسجد سے دور تھے) چھوڑ دیں اور نبی کریم ﷺ کے قریب آ رہیں۔ (تاکہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو) لیکن نبی کریم ﷺ کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ مجاہد نے کہا (سورۃ یٰسین میں) وآثارهم سے قدم مراد ہیں۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات۔
حدیث نمبر: 655 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَنِي سَلِمَةَ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟. حدیث نمبر: 656 وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ، قَالَ خُطَاهُمْ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِيحُمَيْدٌ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَنْزِلُوا قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟ قَالَ مُجَاهِدٌ: خُطَاهُمْ آثَارُهُمْ أَنْ يُمْشَى فِي الْأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (جماعت کے لیے) ہر ہر قدم پر ثواب ملنے کا بیان۔
اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان (جو مسجد سے دور تھے) چھوڑ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں۔ (تاکہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ مجاہد نے کہا (سورۃ یٰسین میں) وآثارهم سے قدم مراد ہیں۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات۔
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ: وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ، قَالَ خُطَاهُمْ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَنْزِلُوا قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ؟ قَالَ مُجَاهِدٌ: خُطَاهُمْ آثَارُهُمْ أَنْ يُمْشَى فِي الْأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: عشاء کی نماز باجماعت کی فضیلت کے بیان میں۔
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے (اور چل نہ سکتے) تو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہوگیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔
حدیث نمبر: 657 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُقِيمَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لَا يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: دو یا زیادہ آدمی ہوں تو جماعت ہو سکتی ہے۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انہوں نے مالک بن حویرث سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب نماز کا وقت آجائے تو تم دونوں اذان دو اور اقامت کہو، پھر جو تم میں بڑا ہے وہ امام بنے۔
حدیث نمبر: 658 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک (نماز پڑھنے کے بعد) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے اللهم اغفر له، اللهم ارحمه کہ اے اللہ ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا (یہ سارا وقت) نماز ہی میں شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 659 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اول انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی للهى (اللہ کے لیے محبت) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے (برے ارادہ سے) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور (بےساختہ) آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
حدیث نمبر: 660 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ طَلَبَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ أَخْفَى حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک (رض) سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ ﷺ نے آدھی رات تک دیر کی۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ انس (رض) نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں (یعنی آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے) ۔
حدیث نمبر: 661 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ ، هَلِ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ بَعْدَ مَا صَلَّى، فَقَالَ: صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৬২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: مسجد میں صبح اور شام آنے جانے کی فضیلت کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے خبر دی، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا۔ وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔
حدیث نمبر: 662 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ.
তাহকীক: