আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

اذان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৩ টি

হাদীস নং: ৬৮৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جو شخص کسی عذر کی وجہ سے صف چھوڑ کر امام کے بازو میں کھڑا ہو۔
ہم سے زکریا بن یحییٰ بلخی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے خبر دی، انہوں نے عائشہ (رض) سے۔ آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں حکم دیا کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس لیے آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ عروہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے آپ کو کچھ ہلکا پایا اور باہر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر (رض) نماز پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے جب نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارے سے انہیں اپنی جگہ قائم رہنے کا حکم فرمایا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر صدیق (رض) کے بازو میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر (رض) نبی کریم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر (رض) کی پیروی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 683 حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ كَمَا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ایک شخص نے امامت شروع کر دی پھر پہلا امام آ گیا اب پہلا شخص (مقتدیوں میں ملنے کے لیے) پیچھے سرک گیا یا نہیں سرکا، بہرحال اس کی نماز جائز ہو گی۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوحازم سلمہ بن دینار سے خبر دی، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی (صحابی رضی اللہ عنہ) سے کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف میں (قباء میں) صلح کرانے کے لیے گئے، پس نماز کا وقت آگیا۔ مؤذن (بلال (رض) نے) ابوبکر (رض) سے آ کر کہا کہ کیا آپ نماز پڑھائیں گے۔ میں تکبیر کہوں۔ ابوبکر رضی اللہ نے فرمایا کہ ہاں چناچہ ابوبکر صدیق (رض) نے نماز شروع کردی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ نماز میں تھے۔ آپ ﷺ صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے۔ لوگوں نے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا (تاکہ ابوبکر (رض) نبی کریم ﷺ کی آمد پر آگاہ ہوجائیں) لیکن ابوبکر (رض) نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے متواتر ہاتھ پر ہاتھ مارنا شروع کیا تو صدیق اکبر (رض) متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ آپ ﷺ نے اشارہ سے انہیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ (کہ نماز پڑھائے جاؤ) لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو امامت کا اعزاز بخشا، پھر بھی وہ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں شامل ہوگئے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر جب میں نے آپ کو حکم دے دیا تھا پھر آپ ثابت قدم کیوں نہ رہے۔ ابوبکر (رض) بولے کہ ابوقحافہ کے بیٹے (یعنی ابوبکر) کی یہ حیثیت نہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نماز پڑھا سکیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عجیب بات ہے۔ میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے۔ (یاد رکھو) اگر نماز میں کوئی بات پیش آجائے تو سبحان اللہ کہنا چاہیے جب وہ یہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی اور یہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 684 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، ‏‏‏‏‏‏فَصَفَّقَ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ رَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ اگر جماعت کے سب لوگ قرآت میں برابر ہوں تو امامت بڑی عمر والا کرے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حماد بن زید نے خبر دی ایوب سختیانی سے، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے مالک بن حویرث (رض) سے، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے ملک سے حاضر ہوئے۔ ہم سب ہم عمر نوجوان تھے۔ تقریباً بیس راتیں ہم آپ کی خدمت میں ٹھہرے رہے۔ آپ ﷺ بڑے ہی رحم دل تھے۔ آپ ﷺ نے (ہماری غربت کا حال دیکھ کر) فرمایا کہ جب تم لوگ اپنے گھروں کو جاؤ تو اپنے قبیلہ والوں کو دین کی باتیں بتانا اور ان سے نماز پڑھنے کے لیے کہنا کہ فلاں نماز فلاں وقت اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں۔ اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو کوئی ایک اذان دے اور جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حدیث نمبر: 685 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ فَلَبِثْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ فَعَلَّمْتُمُوهُمْ مُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اس بارے میں کہ جب امام کسی قوم کے ہاں گیا اور انہیں (ان کی فرمائش پر) نماز پڑھائی (تو یہ جائز ہو گا)۔
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے محمود بن ربیع نے خبر دی، کہا کہ میں نے عتبان بن مالک انصاری (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (میرے گھر تشریف لانے کی) اجازت چاہی اور میں نے آپ کو اجازت دی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ اپنے گھر میں جس جگہ پسند کرو میں نماز پڑھ دوں میں جہاں چاہتا تھا اس کی طرف میں نے اشارہ کیا۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھ لی۔ پھر آپ نے جب سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 686 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُعِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصارِيَّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنْتُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ؟ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں زائدہ بن قدامہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے خبر دی، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا، کاش ! رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت آپ ہم سے بیان کرتیں، (تو اچھا ہوتا) انہوں نے فرمایا کہ ہاں ضرور سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے عرض کی جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظام کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو ۔ عائشہ (رض) نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن آپ بیہوش ہوگئے۔ جب ہوش ہوا تو پھر آپ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی نہیں، یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا کہ لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو ۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی لیکن (دوبارہ) پھر آپ بیہوش ہوگئے۔ جب ہوش ہوا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ لگن میں پانی لاؤ اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر آپ بیہوش ہوگئے۔ پھر جب ہوش ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ ﷺ نے ابوبکر (رض) کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو نماز پڑھانے کے لیے حکم فرمایا ہے۔ ابوبکر (رض) بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر (رض) سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر (رض) نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ آخر (بیماری) کے دنوں میں ابوبکر (رض) نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا تو دو مردوں کا سہارا لے کر جن میں ایک عباس (رض) تھے ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے اور ابوبکر (رض) نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا، لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارے سے انہیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو ! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے بازو میں بٹھا دو ۔ چناچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر (رض) کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا کہ پھر ابوبکر (رض) نماز میں نبی کریم ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر (رض) کی نماز کی پیروی کر رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ بیٹھے بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ پھر میں عبداللہ بن عباس (رض) کی خدمت میں گیا اور ان سے عرض کی کہ عائشہ (رض) نے نبی کریم ﷺ کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی۔ انہوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ عائشہ (رض) نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا جو عباس (رض) کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ علی (رض) تھے۔
حدیث نمبر: 687 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَفَعَلْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَاغْتَسَلَ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَلَّى النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا، ‏‏‏‏‏‏يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ يَأْتَمُّ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍفَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هُوَ عَلِيُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہم سے امام مالک (رح) نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ عروہ سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہ آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی۔ آپ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده‏ کہے تو تم ربنا ولک الحمد‏ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 688 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ لوگ اس کی پیروی کریں۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ ﷺ اس پر سے گرپڑے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں پہلو پر زخم آئے۔ تو آپ ﷺ نے کوئی نماز پڑھی۔ جسے آپ ﷺ بیٹھ کر پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لیے جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده‏ کہے تو تم ربنا ولک الحمد‏ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ حمیدی نے آپ ﷺ کے اس قول جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو۔ کے متعلق کہا ہے کہ یہ ابتداء میں آپ ﷺ کی پرانی بیماری کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد آخری بیماری میں آپ ﷺ نے خود بیٹھ کر نماز پڑھی تھی اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس وقت لوگوں کو بیٹھنے کی ہدایت نہیں فرمائی اور اصل یہ ہے کہ جو فعل آپ ﷺ کا آخری ہو اس کو لینا چاہیے اور پھر جو اس سے آخری ہو۔
حدیث نمبر: 689 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْصَرَفَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا:‏‏‏‏ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ:‏‏‏‏ قَوْلُهُ إِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا هُوَ فِي مَرَضِهِ الْقَدِيمِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَالنَّاسُ خَلْفَهُ قِيَامًا لَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْقُعُودِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام کے پیچھے مقتدی کب سجدہ کریں؟
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے سفیان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا، وہ جھوٹے نہیں تھے۔ (بلکہ نہایت ہی سچے تھے) انہوں نے بتلایا کہ جب نبی کریم ﷺ سمع الله لمن حمده‏ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک نہ جھکتا جب تک نبی کریم ﷺ سجدہ میں نہ چلے جاتے پھر ہم لوگ سجدہ میں جاتے۔ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے ابواسحٰق سے جیسے اوپر گزرا۔
حدیث نمبر: 690 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَقَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْسُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نَحْوَهُ بِهَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: (رکوع یا سجدہ میں) امام سے پہلے سر اٹھانے والے کا گناہ کتنا ہے؟
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن زیاد سے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ (رض) سے سنا، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو (رکوع یا سجدہ میں) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے۔
حدیث نمبر: 691 حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَوْ لَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غلام کی اور آزاد کئے ہوئے غلام کی امامت کا بیان۔
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ ﷺ کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم (رض) کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔
حدیث نمبر: 692 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৩
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غلام کی اور آزاد کئے ہوئے غلام کی امامت کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالتیاح یزید بن حمید ضبعی نے انس بن مالک (رض) سے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا (اپنے حاکم کی) سنو اور اطاعت کرو، خواہ ایک ایسا حبشی (غلام تم پر) کیوں نہ حاکم بنادیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو۔
حدیث نمبر: 693 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৪
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر امام اپنی نماز کو پورا نہ کرے اور مقتدی پورا کریں۔
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ اشیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں۔ پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی تو بھی (تمہاری نماز کا) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا۔
حدیث نمبر: 694 حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُصَلُّونَ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৫
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: باغی اور بدعتی کی امامت کا بیان۔
امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے نقل کیا۔ انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہ وہ خود عثمان غنی (رض) کے پاس گئے۔ جب کہ باغیوں نے ان کو گھیر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہی عام مسلمانوں کے امام ہیں مگر آپ پر جو مصیبت ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ ان حالات میں باغیوں کا مقررہ امام نماز پڑھا رہا ہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ کر گنہگار نہ ہوجائیں۔ عثمان (رض) نے جواب دیا نماز تو جو لوگ کام کرتے ہیں ان کاموں میں سب سے بہترین کام ہے۔ تو وہ جب اچھا کام کریں تم بھی اس کے ساتھ مل کر اچھا کام کرو اور جب وہ برا کام کریں تو تم ان کی برائی سے الگ رہو اور محمد بن یزید زبیدی نے کہا کہ امام زہری نے فرمایا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہیجڑے کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ مگر ایسی ہی لاچاری ہو تو اور بات ہے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 695 قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ وَقَالَ لَنَا:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، ‏‏‏‏‏‏وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ لَا نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ لَا بُدَّ مِنْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: باغی اور بدعتی کی امامت کا بیان۔
ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا شعبہ سے، انہوں نے ابوالتیاح سے، انہوں نے انس بن مالک سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ابوذر سے فرمایا (حاکم کی) سن اور اطاعت کر۔ خواہ وہ ایک ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو جس کا سر منقے کے برابر ہو۔
حدیث نمبر: 696 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ:‏‏‏‏ اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: جب صرف دو ہی نمازی ہوں تو مقتدی امام کے دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ ابن عباس (رض) سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بتلایا کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ (رض) کے گھر پر رہ گیا۔ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد جب ان کے گھر تشریف لائے تو یہاں چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ ﷺ سو گئے پھر نماز (تہجد کے لیے) آپ ﷺ اٹھے (اور نماز پڑھنے لگے) تو میں بھی اٹھ کر آپ ﷺ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ﷺ نے مجھے اپنی داہنی طرف کرلیا۔ آپ ﷺ نے پانچ رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعت (سنت فجر) پڑھ کر سو گئے اور میں نے آپ ﷺ کے خراٹے کی آواز بھی سنی۔ پھر آپ ﷺ فجر کی نماز کے لیے برآمد ہوئے۔
حدیث نمبر: 697 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَامَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ قَالَ خَطِيطَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اسے پھر دائیں طرف کر لے تو دونوں میں سے کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہو گی۔
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن حارث مصری نے عبد ربہ بن سعید سے بیان کیا، انہوں نے مخرمہ بن سلیمان سے، انہوں نے ابن عباس (رض) کے غلام کریب سے انہوں نے ابن عباس (رض) سے۔ آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات ام المؤمنین میمونہ کے ہاں سو گیا۔ اس رات نبی کریم ﷺ کی بھی وہیں سونے کی باری تھی۔ آپ ﷺ نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ اس لیے آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر دائیں طرف کردیا۔ پھر تیرہ رکعت (وتر سمیت) نماز پڑھی اور سو گئے۔ یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے اور نبی کریم ﷺ جب سوتے تو خراٹے لیتے تھے۔ پھر مؤذن آیا تو آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے اس کے بعد (فجر کی) نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عمرو نے بیان کیا میں نے یہ حدیث بکیر بن عبداللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھ سے کریب نے بھی بیان کی تھی۔
حدیث نمبر: 698 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْكُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ فَحَدَّثْتُ بِهِ بُكَيْرًا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: نماز شروع کرتے وقت امامت کی نیت نہ ہو، پھر کچھ لوگ آ جائیں اور وہ ان کی امامت کرنے لگے (تو کیا حکم ہے)۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سختیانی سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن سعید بن جبیر سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابن عباس (رض) سے کہ آپ نے بتلایا کہ میں نے ایک دفعہ اپنی خالہ میمونہ (رض) کے گھر رات گذاری۔ نبی کریم ﷺ رات میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا۔ میں (غلطی سے) آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے میرا سر پکڑ کے دائیں طرف کردیا۔ (تاکہ صحیح طور پر کھڑا ہوجاؤں) ۔
حدیث نمبر: 699 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور کسی کو کام ہو وہ اکیلے نماز پڑھ کر چل دے تو یہ کیسا ہے؟
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے پھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 700 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০১
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: اگر امام لمبی سورۃ شروع کر دے اور کسی کو کام ہو وہ اکیلے نماز پڑھ کر چل دے تو یہ کیسا ہے؟
( دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عمرو سے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا، آپ نے فرمایا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے ساتھ (فرض) نماز پڑھتے پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو (وہی) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک بار عشاء میں انہوں نے سورة البقرہ شروع کی۔ (مقتدیوں میں سے) ایک شخص نماز توڑ کر چل دیا۔ معاذ (رض) اس کو برا کہنے لگے۔ یہ خبر نبی کریم ﷺ کو پہنچی (اس شخص نے جا کر معاذ کی شکایت کی) آپ ﷺ نے معاذ کو فرمایا تو بلا میں ڈالنے والا ہے، بلا میں ڈالنے والا، بلا میں ڈالنے والا تین بار فرمایا۔ یا یوں فرمایا کہ تو فسادی ہے، فسادی، فسادی۔ پھر آپ ﷺ نے معاذ کو حکم فرمایا کہ مفصل کے بیچ کی دو سورتیں پڑھا کرے۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ مجھے یاد نہ رہیں (کہ کون سی سورتوں کا آپ نے نام لیا۔ )
حدیث نمبر: 701 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى الْعِشَاءَ فَقَرَأَ بِالْبَقَرَةِ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَأَنَّ مُعَاذًا تَنَاوَلَ مِنْهُ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَتَّانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَتَّانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَتَّانٌ، ‏‏‏‏‏‏ثَلَاثَ مِرَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ فَاتِنًا، ‏‏‏‏‏‏فَاتِنًا، ‏‏‏‏‏‏فَاتِنًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُ بِسُورَتَيْنِ مِنْ أَوْسَطِ الْمُفَصَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَمْرٌو:‏‏‏‏ لَا أَحْفَظُهُمَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০২
اذان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: امام کو چاہئے کہ قیام ہلکا کرے (مختصر سورتیں پڑھے) اور رکوع اور سجود پورے پورے ادا کرے۔
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قیس بن ابی حازم سے سنا، کہا کہ مجھے ابومسعود انصاری نے خبر دی کہ ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! قسم اللہ کی میں صبح کی نماز میں فلاں کی وجہ سے دیر میں جاتا ہوں، کیونکہ وہ نماز کو بہت لمبا کردیتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کے وقت اس دن سے زیادہ (کبھی بھی) غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ (عوام کو عبادت سے یا دین سے) نفرت دلا دیں، خبردار تم میں لوگوں کو جو شخص بھی نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے۔ کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت والے سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 702 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَيْسًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو مَسْعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ.
tahqiq

তাহকীক: