আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০ টি
হাদীস নং: ১৫১৯৩
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد رجوع پر گواہ بنا لے اور وہ نہ جانتی ہو یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
(١٥١٨٧) سعید بن جبیر حضرت علی (رض) سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ پھر اس نے رجوع پر گواہ بنا لیے۔ لیکن عورت کو علم نہ تھا، فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے دوسرے نے دخول کیا یا نہ کیا ہو۔
(٦) باب مَا جَائَ فِی الإِشْہَادِ عَلَی الرَّجْعَۃِ
رجوع پر گواہ بنانے کا بیان
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ }
اللہ کا فرمان : { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ } [الطلاق : ٢] ” ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔ “
(٦) باب مَا جَائَ فِی الإِشْہَادِ عَلَی الرَّجْعَۃِ
رجوع پر گواہ بنانے کا بیان
قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ }
اللہ کا فرمان : { فَاَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ اَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ وَّاَشْہِدُوْا ذَوَی عَدْلٍ مِّنْکُمْ } [الطلاق : ٢] ” ان کو اچھائی سے روک لو یا بھلائی سے جدا کر دو اور دو عدل والے گواہ بنا لو۔ “
(۱۵۱۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ حَسَّانَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ مَالِکٍ الْجَزَرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ ثُمَّ یُشْہِدُ عَلَی رَجْعَتِہَا وَلَمْ تَعْلَمْ بِذَلِکَ قَالَ: ہِیَ امْرَأَۃُ الأَوَّلِ دَخَلَ بِہَا الآخَرُ أَمْ لَمْ یَدْخُلْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৪
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد رجوع پر گواہ بنا لے اور وہ نہ جانتی ہو یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
(١٥١٨٨) عبیداللہ نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں تو ان کے پاس اجازت لے کر جاتے تھے اور جب رجوع کر کے اس پر گواہ بنا لیے تو پھر ان کے پاس بغیر اجازت کے چلے جاتے۔
(۱۵۱۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ امْرَأَتَہُ صَفِیَّۃَ بِنْتَ أَبِی عُبَیْدٍ تَطْلِیقَۃً أَوْ تَطْلِیقَتَیْنِ فَکَانَ لاَ یَدْخُلُ عَلَیْہَا إِلاَّ بِإِذْنٍ فَلَمَّا رَاجَعَہَا أَشْہَدَ عَلَی رَجْعَتِہَا وَدَخَلَ عَلَیْہَا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৫
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد رجوع پر گواہ بنا لے اور وہ نہ جانتی ہو یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ پہلے کی بیوی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث مختلف سندوں سے گزر چکی ہے۔
(١٥١٨٩) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ عمران بن حصین سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے کر گواہ نہیں بنایا تھا اور رجوع کیا تب بھی گواہ نہیں بنایا تو عمران بن حصین فرماتے ہیں : اس نے بغیر عدت کے طلاق دی اور سنت طریقے کے علاوہ رجوع کیا وہ اب گواہ بنا لے۔
(۱۵۱۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَۃَ وَیُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ وَأَیُّوبَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُشْہِدْ وَرَاجَعَ وَلَمْ یُشْہِدْ؟ قَالَ عِمْرَانُ : طَلَّقَ فِی غَیْرِ عِدَّۃٍ وَرَاجَعَ فِی غَیْرِ سُنَّۃٍ فَلْیُشْہِدِ الآنَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৬
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٠) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کرلیا، اس کے پاس کپڑے کا پھندا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : کیا تو رفاعہ کے پاس واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو۔ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت کے منتظر تھے، انھوں نے ابوبکر (رض) کو آواز دی : اے ابوبکر (رض) ! کیا سن رہے ہو ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کس بات کا اظہار کر رہی ہے۔
(ب) زعفرانی کی روایت میں حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک ” یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کرلے۔ “
(ب) زعفرانی کی روایت میں حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ رفاعہ قرظی کی عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، پھر اس نے حدیث کو اس کی مثل ذکر کیا ہے، اس قول تک ” یہاں تک کہ وہ تجھ سے لطف اندوز ہو اور تو اس سے جماع کرلے۔ “
(۱۵۱۹۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- سَمِعَہَا تَقُولُ : جَائَ تِ امْرَأَۃُ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنِّی کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ وَإِنَّمَا مَعَہُ مِثْلُ ہُدْبَۃِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : أَتُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ ۔ قَالَتْ : وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْبَابِ یَنْتَظِرُ أَنْ یُؤْذَنَ لَہُ فَنَادَی : یَا أَبَا بَکْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ مَا تَجْہَرُ بِہِ ہَذِہِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃَ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ إِلَی قَوْلِہِ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ ۔ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- سَمِعَہَا تَقُولُ : جَائَ تِ امْرَأَۃُ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : إِنِّی کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ وَإِنَّمَا مَعَہُ مِثْلُ ہُدْبَۃِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَالَ : أَتُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ ۔ قَالَتْ : وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْبَابِ یَنْتَظِرُ أَنْ یُؤْذَنَ لَہُ فَنَادَی : یَا أَبَا بَکْرٍ أَلاَ تَسْمَعُ مَا تَجْہَرُ بِہِ ہَذِہِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃَ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ جَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمِثْلِہِ إِلَی قَوْلِہِ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ ۔ لَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৭
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩١) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس عورت نے بعد میں عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کرلی، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگی کہ وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے تین طلاقیں دے دی ہیں۔ اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کی۔ اس کے پاس کپڑے کی جھالر ہے اور اس نے اپنی چادر کی جھالر کو پکڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے اور فرمایا : شاید کہ تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے، یہ ممکن نہیں جب تک تو اس سے جماع نہ کرے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔ کہتی ہیں کہ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے تھے، ان کو اجازت نہ ملی تھی تو خالد نے ابوبکر (رض) کو آواز دی آپ اس عورت کو ڈانٹتے نہیں ہیں یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کس چیز کا اظہار کر رہی ہے۔
(۱۵۱۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیَّ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَبَتَّ طَلاَقَہَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ فَجَائَ تْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَتْ إِنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَۃَ فَطَلَّقَہَا آخِرَ ثَلاَثِ تَطْلِیقَاتٍ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِیرِ وَإِنَّہُ وَاللَّہِ مَا مَعَہُ إِلاَّ مِثْلُ ہَذِہِ الْہُدْبَۃِ وَأَخَذَتْ بِہُدْبَۃٍ مِنْ جِلْبَابِہَا قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضَاحِکًا وَقَالَ : لَعَلَّکِ تُرِیدِینَ أَنْ تَرْجِعِی إِلَی رِفَاعَۃَ لاَ حَتَّی تَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ وَیَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ ۔ قَالَتْ : وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَۃِ لَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فَطَفِقَ خَالِدٌ یُنَادِی أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَلاَ تَزْجُرُ ہَذِہِ عَمَّا تَجْہَرُ بِہِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৮
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٢) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بنو قریظہ کی عورت نے ان کے کسی مرد سے شادی کی، اس نے طلاق دے دی تو دوسرے نے اس سے شادی کرلی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کے ساتھ تو کپڑے کا جھالر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ممکن نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا اور وہ تیرا مزہ چکھ لے۔
(۱۵۱۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ تَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنْہُمْ فَطَلَّقَہَا فَتَزَوَّجَہَا آخَرُ فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا مَعَہُ إِلاَّ مِثْلُ ہَذِہِ الْہُدْبَۃِ فَقَالَ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِی عُسَیْلَتَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِیٍّ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১৯৯
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٣) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عورت پہلے خاوند کے لیے جائز نہیں یہاں تک دوسرا شوہر اس کا مزہ چکھے اور یہ عورت اس کا مزہ چکھے۔
(۱۵۱۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ یَتَزَوَّجُ الْمَرْأَۃَ فَیُطَلِّقُہَا ثَلاَثًا فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّی یَذُوقَ الآخَرُ عُسَیْلَتَہَا وَتَذُوقَ عُسَیْلَتَہُ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০০
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٤) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ایک شخص نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اس نے کسی دوسرے خاوند سے شادی کرلی اس نے دخول کیا تو اس کے ساتھ کپڑے کا جھالر تھا اس نے عورت کی خواہش کو پورا نہ کیا تو اس نے طلاق دینے میں دیر نہ کی۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس کے بارے میں سوال کیا، کہنے لگی : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی، میں نے دوسرے خاوند سے نکاح کیا۔ جب اس نے دخول کیا تو اس کے ساتھ کپڑے کے جھالر کی مانند ہے۔ وہ صرف ایک ہی مرتبہ میرے قریب آسکا، اس نے میری حاجت کو پورا نہ کیا، کیا میں پہلے خاوند کے لیے حلال ہوں، فرمایا : تو پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرا تیرے مزے کو چکھے اور تو اس کے مزے کو چکھے۔
(۱۵۱۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَہُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَیْرَہُ وَدَخَلَ بِہَا وَمَعَہُ مِثْلُ الْہُدْبَۃِ فَلَمْ یَصِلْ مِنْہَا إِلَی شَیْئٍ تُرِیدُہُ فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ طَلَّقَہَا فَأَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- فَسَأَلَتْہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ زَوْجِی طَلَّقَنِی وَإِنِّی تَزَوَّجْتُ زَوْجًا غَیْرَہُ فَدَخَلَ بِی وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُ إِلاَّ مِثْلُ الْہُدْبَۃِ فَلَمْ یَقْرَبْنِی إِلاَّ ہَنَۃً وَاحِدَۃً لَمْ یَصِلْ مِنِّی إِلَی شَیْئٍ أَفَأَحِلُّ لِزَوْجِی الأَوَّلِ؟ فَقَالَ : لاَ تَحِلِّینَ لِزَوْجِکِ الأَوَّلِ حَتَّی یَذُوقَ الآخَرُ عُسَیْلَتَکِ وَتَذُوقِینَ عُسَیْلَتَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০১
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٥) قاسم حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تو اس نے مجامعت سے پہلے ہی طلاق دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا یہ پہلے کے لیے حلال ہے فرمایا : نہیں یہاں تک کہ یہ اس کے مزے کو چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا تھا۔
(۱۵۱۹۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا فَطَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَتَحِلُّ لِلأَوَّلِ؟ قَالَ : لاَ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَہَا کَمَا ذَاقَ الأَوَّلُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا الأَسْوَدُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا الأَسْوَدُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০২
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٦) زبیر بن عبدالرحمن بن زبیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں تین طلاقیں دے دیں۔ عبدالرحمن بن زبیر نے اس سے نکاح کرلیا تو ان پر اعتراض کیا گیا کہ وہ جماع کی طاقت نہیں رکھتے تو اس نے مجامعت سے پہلے ہی طلاق دے دی۔ رفاعہ نے اس سے نکاح کا ارادہ کیا جس نے عبدالرحمن کے نکاح کرنے سے پہلے طلاق دی تھی، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح سے منع کردیا اور فرمایا : وہ تیرے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ مزہ چکھ لے۔
(۱۵۱۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّبِیرِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رِفَاعَۃَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَمِیمَۃَ بِنْتَ وَہْبٍ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثًا فَنَکَحَہَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِیرِ فَاعْتُرِضَ عَنْہَا فَلَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَمَسَّہَا فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَمَسَّہَا فَأَرَادَ رِفَاعَۃُ أَنْ یَنْکِحَہَا وَہُوَ زَوْجُہَا الَّذِی کَانَ طَلَّقَہَا قَبْلَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَنَہَاہُ عَنْ تَزْوِیجِہَا وَقَالَ : لاَ تَحِلُّ لَکَ حَتَّی تَذُوقَ الْعُسَیْلَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৩
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٧) زبیر بن عبدالرحمن بن زبیر فرماتے ہیں کہ رفاعہ نے اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو طلاق دے دی، اس نے اس کے ہم معنیٰ حدیث ذکر کی ہے۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
(۱۵۱۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَۃَ الْقُرَظِیِّ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزَّبِیرِ : أَنَّ رِفَاعَۃَ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَمِیمَۃَ بِنْتَ وَہْبٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ وَلَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَقَالَ تَمِیمَۃَ بِنْتَ وَہْبٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ وَلَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَقَالَ تَمِیمَۃَ بِنْتَ وَہْبٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৪
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٨) سلمان بن رزین حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تھے ایسے شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں تو کسی دوسرے نے اس سے شادی کرلی تھی اور اس نے دروازہ بند کردیا پردہ لٹکا دیا دوپٹہ اٹھا لیا۔ پھر اس کو جدا کردیا، فرمایا : پہلے کے لیے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ دوسرا اس کے مزے کو چکھے۔
(۱۵۱۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ رَزِینٍ الأَحْمَرِیِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ رَزِینٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُئِلَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَہَا غَیْرُہُ وَأَغْلَقَ الْبَابَ وَأَرْخَی السِّتْرَ وَکَشَفَ الْخِمَارَ ثُمَّ فَارَقَہَا قَالَ: لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَہَا الآخَرُ
لَفْظُ حَدِیثِ الْعَبْدِیِّ وَکَمَا قَالَ الْعَبْدِیُّ فِی إِسْنَادِہِ قَالَہُ أَیْضًا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ فَقَدْ رَوَاہُ وَکِیعٌ مَرَّۃً عَنْ سُفْیَانَ فَقَالَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ رَزِینِ بْنِ سُلَیْمَانَ الأَحْمَرِیِّ۔[ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ رَزِینٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُئِلَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَہَا غَیْرُہُ وَأَغْلَقَ الْبَابَ وَأَرْخَی السِّتْرَ وَکَشَفَ الْخِمَارَ ثُمَّ فَارَقَہَا قَالَ: لاَ تَحِلُّ لِلأَوَّلِ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَہَا الآخَرُ
لَفْظُ حَدِیثِ الْعَبْدِیِّ وَکَمَا قَالَ الْعَبْدِیُّ فِی إِسْنَادِہِ قَالَہُ أَیْضًا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ وَالصَّحِیحُ رِوَایَۃُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ فَقَدْ رَوَاہُ وَکِیعٌ مَرَّۃً عَنْ سُفْیَانَ فَقَالَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ رَزِینِ بْنِ سُلَیْمَانَ الأَحْمَرِیِّ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৫
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥١٩٩) خالی۔
(۱۵۱۹۹) وَخَالَفَہُ شُعْبَۃُ فِی إِسْنَادِہِ فَرَوَاہُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ رَزِینٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا خَلَفٌ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔
وَبَلَغَنِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ أَنَّہُ وَہَّنَ حَدِیثَ شُعْبَۃَ وَسُفْیَانَ جَمِیعًا وَعَنْ أَبِی زُرْعَۃَ أَنَّہُ قَالَ: حَدِیثُ سُفْیَانَ أَصَحُّ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا خَلَفٌ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔
وَبَلَغَنِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیِّ أَنَّہُ وَہَّنَ حَدِیثَ شُعْبَۃَ وَسُفْیَانَ جَمِیعًا وَعَنْ أَبِی زُرْعَۃَ أَنَّہُ قَالَ: حَدِیثُ سُفْیَانَ أَصَحُّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৬
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥٢٠٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منبر پر ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی عورت کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس سے الگ ہوگئی۔
(۱۵۲۰۰) قَالَ الشَّیْخُ رِوَایَۃُ وَکِیعٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْیَانَ أَصَحُّ فَقَدْ رَوَاہُ قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ فَقَالَ حَدَّثَنَا عَلْقَمَۃُ بْنُ مَرْثَدٍ عَنْ رَزِینٍ الأَحْمَرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمِنْبَرِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَبَانَتْ مِنْہُ فَذَکَرَہُ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِیرٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا قَیْسٌ فَذَکَرَہُ۔
وَکَانَ شُعْبَۃُ یَقُولُ سُفْیَانُ أَحْفَظُ مِنِّی وَقَالَ یَحْیَی الْقَطَّانُ إِذَا اخْتَلَفَا أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْیَانَ۔ [ضعیف]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِیرٍ الْمُحَارِبِیُّ بِالْکُوفَۃِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا قَیْسٌ فَذَکَرَہُ۔
وَکَانَ شُعْبَۃُ یَقُولُ سُفْیَانُ أَحْفَظُ مِنِّی وَقَالَ یَحْیَی الْقَطَّانُ إِذَا اخْتَلَفَا أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْیَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৭
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥٢٠١) یحییٰ بن یزید ہنائی فرماتے ہیں کہ انس بن مالک سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے ایسی عورت سے شادی کی تھی جس کو اس کے خاوند نے تین طلاقیں دے دی تھیں، لیکن دوسرے نے ابھی دخول نہ کیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ مرد اس کا مزہ چکھے اور عورت اس کے مزے کو چکھے۔
(۱۵۲۰۱) وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَزِیدَ الْہُنَائِیِّ قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَقَدْ کَانَ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا أَحْسَبُہُ قَالَ ثَلاَثًا فَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا الثَّانِی فَقَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی یَذُوقَ عُسَیْلَتَہَا وَتَذُوقَ عُسَیْلَتَہُ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৮
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ ثلثہ کے نکاح کا بیان
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
اللہ کا فرمان : { فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ } [البقرۃ ٢٣٠] ” اگر اس نے طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں ہے جب تک کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔ “
اور آیت میں
(١٥٢٠٢) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس قول : { فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ } [البقرۃ ٢٣٠]” اگر خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دی تو یہ بیوی خاوند کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرلے۔ “ فرمایا : { فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ } [البقرۃ ٢٣٠] جب پہلے کے بعد دوسرے سے شادی کرلی، اس نے دخول بھی کرلیا تب پہلے پر کوئی گناہ ہے کہ وہ اس سے نکاح کرے جب دوسرا طلاق دے دے یا فوت ہوجائے۔
(ب) قاسم بن محمد دوسرے کی موت کے بارے میں فرماتے ہیں : اگر وہ دخول سے پہلے فوت ہوجائے تو پھر پہلے کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔
(ب) قاسم بن محمد دوسرے کی موت کے بارے میں فرماتے ہیں : اگر وہ دخول سے پہلے فوت ہوجائے تو پھر پہلے کے لیے اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔
(۱۵۲۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ} یَقُولُ : إِنْ طَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ثُمَّ قَالَ {فإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا} یَقُولُ : إِذَا تَزَوَّجَتْ بَعْدَ الأَوَّلِ فَدَخَلَ بِہَا الآخَرُ فَلاَ حَرَجَ عَلَی الأَوَّلِ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا إِذَا طَلَّقَہَا الآخَرُ أَوْ مَاتَ عَنْہَا۔ وَرُوِّینَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِی مَوْتِ الثَّانِی عَنْہَا قَبْلَ أَنْ یَمَسَّہَا لاَ یَحِلُّ لِزَوْجِہَا الأَوَّلِ أَنْ یَتَزَوَّجَہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২০৯
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی جو مرد کے نکاح میں ہو اسے تین طلاق دینے کے بعد خرید لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٥٢٠٣) ابن الکواء نے حضرت علی (رض) سے پوچھا : وہ لونڈی جو کسی شخص کے نکاح میں تھی اس نے دو طلاقیں دے دیں، پھر اس لونڈی کو خرید لیا، فرماتے ہیں : اس شخص کے لیے یہ لونڈی حلال نہیں ہے۔
(۱۵۲۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزَّاہِرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ یَعْنِی الْحَنَفِیَّ قَالَ : سَأَلَ ابْنُ الْکَوَّائِ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الْمَمْلُوکَۃِ تَکُونُ تَحْتَ الرَّجُلِ فَیُطَلِّقُہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ یَشْتَرِیہَا فَقَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২১০
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی جو مرد کے نکاح میں ہو اسے تین طلاق دینے کے بعد خرید لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٥٢٠٤) ابوعبدالرحمن حضرت زید بن ثابت (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی شخص لونڈی کو تین طلاقیں دینے کے بعد خرید لیتا ہے تو یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں جب تک یہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔
(۱۵۲۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی الرَّجُلِ یُطَلِّقُ الأَمَۃَ ثَلاَثًا ثُمَّ یَشْتَرِیہَا : إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ قَالَ وَسَمِعْتُ مَالِکًا یَقُولُ : قَالَ ذَلِکَ غَیْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২১১
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی جو مرد کے نکاح میں ہو اسے تین طلاق دینے کے بعد خرید لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٥٢٠٥) ابن ابو زناد اپنے والد سے جو مدینہ کے فقہاء میں سے ہیں نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لونڈی سے شادی کی، پھر وہ تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہوگئی، اس کے مالک نے اس کو چھپالیا، پھر اس کے خاوند نے اس لونڈی کو خرید لیا تو مالک کے چھپانے کی وجہ سے یہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی ملکیت میں آنے کی بنا پر۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔
(۱۵۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فِی مَنْ تَزَوَّجَ أَمَۃً ثُمَّ بَانَتْ مِنْہُ بِالْبَتَّۃِ ثُمَّ اسْتَسَرَّہَا سَیِّدُہَا ثُمَّ ابْتَاعَہَا زَوْجُہَا بَعْدَ ذَلِکَ فَلاَ تَحِلُّ لَہُ بِاسْتِسْرَارِ سَیِّدِہَا إِیَّاہَا وَلاَ تَحِلُّ لَہُ بِمِلْکِ یَمِینِہِ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২১২
طلاق سے رجوع کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لونڈی جو مرد کے نکاح میں ہو اسے تین طلاق دینے کے بعد خرید لے تو کیا حکم ہے ؟
(١٥٢٠٦) ابراہیم عبیدہ سلمانی سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں ہے مگر اسی طریقہ سے جیسے یہ اس پر حرام ہوئی ہے کہ ایک شخص نے لونڈی کو دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس کو خرید لیا۔ فرماتے ہیں : جب لونڈی کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے دو طلاقیں دے دیں، پھر لونڈی کا مالک اس سے ہمبستری کرتا رہا تو مالک نے خاوند کے لیے حلال نہیں کردی۔ اگر اس کا خاوند ہوتا تو پہلے کے لیے حلال کرتا۔
(۱۵۲۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْیَانَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُبَیْدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ إِلاَّ مِنَ الْبَابِ الَّذِی حَرُمَتْ عَلَیْہِ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ مَمْلُوکَۃً فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ اشْتَرَاہَا وَقَالَ : إِذَا کَانَ تَحْتَ الرَّجُلِ مَمْلُوکَۃٌ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ وَقَعَ عَلَیْہَا سَیِّدُہَا فَقَالَ : لاَ یُحِلُّہَا السَّیِّدُ لِزَوْجِہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ زَوْجًا۔ [ضعیف]
তাহকীক: