আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نذروں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬২ টি
হাদীস নং: ২০১৩৩
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (ب) ہمام کی روایت میں ہے کہ وہ قربانی دے۔
(٢٠١٢٧) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی قسم کھائی تھی پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ پیدل چلے اور اگر عاجز آجائے تو اونٹ کی قربانی کرے۔
(۲۰۱۲۷) وَرُوِیَ فِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ عَنِ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ یَحْلِفُ عَلَیْہِ الْمَشْیُ فَقَالَ : یَمْشِی فَإِنْ عَجَزَ رَکِبَ وَأَہْدَی بَدَنَۃً۔ [حسن لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৪
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چلنے والا سواری کرے اور سواری کرنے والا چلے لیکن اپنی نذر کو ویسے پورا کرلے جیسے نذر مانی ہے
(٢٠١٢٨) عروہ بن اذینہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی دادی کے ساتھ چلا جس نے پیدل چل کر حج کی نذر مانی تھی۔ جب راستہ میں پہنچے تو وہ چلنے سے عاجز آگئی۔ اس نے اپنے غلام کو عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف روانہ کیا تاکہ ان سے سوال کریں۔ میں بھی ساتھ گیا۔ فرمانے لگے : اس کو حکم دو وہ سوار ہوجائے۔ پھر یہاں سے پیدل چلے جہاں سے وہ عاجز آگئی تھی۔
(۲۰۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أُذَیْنَۃَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ جَدَّۃٍ لِی عَلَیْہَا مَشْیٌ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِیقِ عَجَزَتْ فَأَرْسَلَتْ مَوْلًی لَہَا إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْأَلُہُ فَخَرَجْتُ مَعَہُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : مُرْہَا فَلْتَرْکَبْ ثُمَّ لْتَمْشِ مِنْ حَیْثُ عَجَزَتْ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৫
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چلنے والا سواری کرے اور سواری کرنے والا چلے لیکن اپنی نذر کو ویسے پورا کرلے جیسے نذر مانی ہے
(٢٠١٢٩) عبداللہ بن عباس، ابن عمر (رض) کی طرح بیان کرتے ہیں، لیکن ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ قربانی بھی کرے۔
(۲۰۱۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِثْلَ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَتَنْحَرْ بَدَنَۃً۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৬
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چلنے والا سواری کرے اور سواری کرنے والا چلے لیکن اپنی نذر کو ویسے پورا کرلے جیسے نذر مانی ہے
(٢٠١٣٠) اسماعیل عامرشعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال ہوا، جس نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی تھی۔ وہ آدھا راستہ چلا پھر سوار ہوگیا تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : آئندہ سال اتنی سواری کرے جتنا چلا اور اتنا چلے جتنی سواری کی۔ اور ایک اونٹ ذبح کرے۔
(۲۰۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ وَیَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ عَامِرٍ یَعْنِی الشَّعْبِیَّ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَمْشِیَ إِلَی الْکَعْبَۃِ فَمَشَی نِصْفَ الطَّرِیقِ ثُمَّ رَکِبَ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِذَا کَانَ عَامَ قَابِلٍ فَلْیَرْکَبْ مَا مَشَی وَیَمْشِی مَا رَکِبَ وَیَنْحَرُ بَدَنَۃً۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৭
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چلنے والا سواری کرے اور سواری کرنے والا چلے لیکن اپنی نذر کو ویسے پورا کرلے جیسے نذر مانی ہے
(٢٠١٣١) یحییٰ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میرے ذمہ چلنا تھا۔ مجھے کوکھ کی بیماری لگ گئی۔ میں نے سواری کرلی۔ جب میں مکہ آیا تو عطاء بن ابی رباح وغیرہ سے سوال کیا۔ انھوں نے کہا آپ کے ذمہ قربانی ہے، جب میں مدینہ آیا ان سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا میں اس جگہ سے دوبارہ چلوں جہاں سے چلنے پر عاجز آگیا تھا۔ میں دوبارہ وہاں سے چلا۔
(۲۰۱۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ : کَانَ عَلَیَّ مَشْیٌ فَأَصَابَتْنِی خَاصِرَۃٌ فَرَکِبْتُ حَتَّی أَتَیْتُ مَکَّۃَ فَسَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ وَغَیْرَہُ فَقَالُوا عَلَیْکَ ہَدْیٌ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ سَأَلْتُ فَأَمَرُونِی أَنْ أَمْشِیَ مِنْ حَیْثُ عَجَزْتُ فَمَشَیْتُ مَرَّۃً أُخْرَی۔
وَالَّذِی أَجَازَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ النُّذُورِ مِنْ وُجُوبِ الْمَشْیِ فِیمَا قَدَرَ عَلَیْہِ وَسُقُوطِہِ فِیمَا عَجَزَ عَنْہُ أَشْبَہُ الأَقَاوِیلِ بِحَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَبِی الْخَیْرِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَہُوَ أَوْلَی بِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی]
وَالَّذِی أَجَازَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ النُّذُورِ مِنْ وُجُوبِ الْمَشْیِ فِیمَا قَدَرَ عَلَیْہِ وَسُقُوطِہِ فِیمَا عَجَزَ عَنْہُ أَشْبَہُ الأَقَاوِیلِ بِحَدِیثِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَبِی الْخَیْرِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَہُوَ أَوْلَی بِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৮
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو احرام کی جگہ تک چلنے کا ارادہ کرے لیکن اس جگہ سے تجاوز کر جائے
(٢٠١٣٢) ولید بن مسلم کہتے ہیں میں نے ابو عمرو سے سوال کیا، جس پر بیت اللہ کی طرف چل کر جانا ہو وہ کہاں سے چلے۔ اگر اس نے کسی جگہ کا قصد کیا ہے تو پھر وہاں سے چلے وگرنہ مقررہ میقات سے چلے۔
(۲۰۱۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو یَعْنِی الأَوْزَاعِیَّ عَمَّنْ جَعَلَ عَلَیْہِ الْمَشْیَ إِلَی بَیْتِ اللَّہِ مِنْ أَیْنَ یَمْشِی قَالَ إِنْ کَانَ نَوَی مَکَانًا فَمَنْ حَیْثُ نَوَی وَإِنْ لَمْ یَکُنْ نَوَی مَکَانًا فَمِنْ مِیقَاتِہِ۔
وَأَخْبَرَنِیہِ عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
وَأَخْبَرَنِیہِ عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩৯
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مسجد نبوی یا بیت المقدس کی طرف چلنے کی نذر مانی
(٢٠١٣٣) حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ صرف تین مساجد کی طرف سفر کرنا درست ہے : 1 مسجد حرام 2 مسجد نبوی 3 مسجد اقصیٰ ۔
(۲۰۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ والْمَسْجِدِ الأَقْصَی ۔
قَالَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ ہَکَذَا حَدَّثَنَا بِہِ سُفْیَانُ ہَذِہِ الْمَرَّۃَ عَلَی ہَذَا اللَّفْظِ وَأَکْثَرُ لَفْظِہِ : تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ۔
[صحیح]
قَالَ ابْنُ الْمَدِینِیِّ ہَکَذَا حَدَّثَنَا بِہِ سُفْیَانُ ہَذِہِ الْمَرَّۃَ عَلَی ہَذَا اللَّفْظِ وَأَکْثَرُ لَفْظِہِ : تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ سُفْیَانَ۔
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪০
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مسجد نبوی یا بیت المقدس کی طرف چلنے کی نذر مانی
(٢٠١٣٤) قذعہ مولی زیاد فرماتی ہیں : میں نے ابو سعید خدری سے سنا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے چار اشیاء پسند ہیں : 1 عورت ذی محرم سے تین دن سے زائد کا سفر کرے۔ 2 عیدالفطر اور عیدالاضحی کے ایام میں روزہ رکھنے کی ممانعت 3 صبح اور عصر کے بعد نماز نہیں، طلوع شمس اور غروب شمس کے بعد پڑھ لیں۔ (٤) تین مساجد کا سفر کرنا : مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ یا بیت المقدس۔
(۲۰۱۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی قُمَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ قَزَعَۃَ مَوْلَی زِیَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : أَرْبَعٌ أَعْجَبَتْنِی وَأَیْنَقَتْنِی قَالَ : لاَ تُسَافِرُ الْمَرْأَۃُ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ مَعَ ذِی مَحْرَمٍ وَلاَ صِیَامَ فِی یَوْمَیْنِ یَوْمِ الْفِطْرِ وَیَوْمِ الأَضْحَی وَلاَ صَلاَۃَ یَعْنِی بَعْدَ صَلاَتَیْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلاَ تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَی ثَلاَثَۃِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِی والْمَسْجِدِ الْحَرَامِ والْمَسْجِدِ الأَقْصَی أَوْ قَالَ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪১
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے نزدیک نذر واجب نہیں یا ان تین مساجد میں سے افضل میں قیام کرے جو اس کے قریب ہو
(٢٠١٣٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے نذر مانی تھی۔ اگر اللہ نے آپ کو فتح دی تو میں بیت المقدس میں نماز ادا کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : یہاں پڑھ لے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دویا تین مرتبہ دہرایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تیری مرضی۔
(۲۰۱۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا قُرَیْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ الْحُصَیْبِ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ الشَّہِیدِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی نَذَرْتُ زَمَنَ الْفَتْحِ إِنْ فَتَحَ اللَّہُ عَلَیْکَ أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ : صَلِّ ہَا ہُنَا ۔ فَأَعَادَہَا عَلَیْہِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَشَأْنَکَ إِذًا۔
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ ۔ [صحیح]
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَبِیبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَائٍ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪২
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے نزدیک نذر واجب نہیں یا ان تین مساجد میں سے افضل میں قیام کرے جو اس کے قریب ہو
(٢٠١٣٦) ابراہیم بن عبداللہ بن معبد فرماتے ہیں کہ ایک عورت بیمار ہوگئی۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس میں جا کر نماز ادا کروں گی۔ وہ صحت یاب ہوگئی، اس نے جانے کی تیاری کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی حضرت میمونہ اس کے پاس آئیں۔ اس نے تھوڑا سا سفر مؤخر کردیا۔ میمونہ فرماتی ہیں : بیٹھ جا اور جو میں بنا کر لائی ہوں کھالے اور مسجد نبوی میں نماز ادا کرلے۔ کیونکہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : باقی مساجد میں نماز پڑھنے سے مسجد نبوی کی پڑھی ہوئی نماز کے برابر نہیں، یعنی اس میں ایک نماز کا ثواب ہزار نماز کے برابر ہے سوائے بیت اللہ کے۔
(۲۰۱۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدِ أَنَّہُ قَالَ : اشْتَکَتِ امْرَأَۃٌ شَکْوَی فَقَالَتْ لَئِنْ شَفَانِی اللَّہُ لأَخْرُجَنَّ فَلأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ فَبَرَأَتْ ثُمَّ تَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ فَجَائَ تْ مَیْمُونَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ- تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَأَخَّرَتْہَا ذَلِکَ فَقَالَتِ اجْلِسِی فَکُلِی مِمَّا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ -ﷺ- فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : صَلاَۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلاَّ مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৩
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے نزدیک نذر واجب نہیں یا ان تین مساجد میں سے افضل میں قیام کرے جو اس کے قریب ہو
(٢٠١٣٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری مسجد میں نماز پڑھنا ہزار نماز کا ثواب سوائے مسجد حرام کے۔
(۲۰۱۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَلْمَانَ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : صَلاَۃٌ فِی مَسْجِدِی ہَذَا خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلاَۃٍ فِیمَا سِوَاہُ إِلاَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৪
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مکہ میں نحر کی نذر مانی
(٢٠١٣٨) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ تمام نحر کی جگہ ہے۔
(ب) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ منیٰ تمام نحر کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور نحر کی جگہ ہے۔
(ب) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ منیٰ تمام نحر کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام گلیاں راستے اور نحر کی جگہ ہے۔
(۲۰۱۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : نَحَرْتُ ہَا ہُنَا وَمِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ۔ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ حَدِیثُ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : مِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیقٌ وَمَنْحَرٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ۔ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحَجِّ حَدِیثُ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : مِنًی کُلُّہَا مَنْحَرٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیقٌ وَمَنْحَرٌ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৫
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اس کے علاوہ نحر کی نذر مانی وہ صدقہ کرے
(٢٠١٣٩) ثابت بن ضحاک فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہ تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہاں پر کوئی میلہ تو نہیں لگتا ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی نذر کو پورا کر اور نافرمانی کی نذرکو پورا کرنا نہیں ہوتا اور جس کا ابن آدم مالک نہیں اس کو بھی پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔
(۲۰۱۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ حَدَّثَنِی ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاکِ قَالَ : نَذَرَ رَجُلٌ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَنْحَرَ بِبُوَانَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ کَانَ فِیہَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاہِلِیَّۃِ یُعْبَدُ؟ ۔ قَالُوا : لاَ۔ قَالَ : فَہَلْ کَانَ فِیہَا عِیدٌ مِنْ أَعْیَادِہِمْ؟ ۔ قَالُوا : لاَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہُ لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৬
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اس کے علاوہ نحر کی نذر مانی وہ صدقہ کرے
(٢٠١٤٠) میمونہ بنت کردم کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ میں دیکھا، وہ اپنی اونٹنی پر تھے اور میں اپنے باپ کے ساتھ تھی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس جگہ میرے ابو نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں نے کئی بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ کہتے ہیں : میں جانتا نہیں ہوں کہ بوانہ نامی جگہ پر پچاس ہے یا زیادہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وہاں پر کوئی تھا ؟ اس نے کہا : نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے لیے اپنی نذر پوری کر۔ میرے باپ نے بکریاں جمع کر کے ذبح کرنی شروع کی تو ایک بکری بھاگ گئی۔ اس کو پکڑ کر لائے اور کہہ رہے تھے : اللہ ! میری نذر کو پورا کرنا۔ پھر اس کو ذبح کردیا۔
(ب) حسن بن علی بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے نذر مانی۔ اگر اللہ نے میرے بیٹے کو بیٹا عطا کیا تو بوانہ نامی جگہ کئی ایک بکریاں ذبح کروں گا۔
(ب) حسن بن علی بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے نذر مانی۔ اگر اللہ نے میرے بیٹے کو بیٹا عطا کیا تو بوانہ نامی جگہ کئی ایک بکریاں ذبح کروں گا۔
(۲۰۱۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ مِقْسَمٍ وَہُوَ ابْنُ ضَبَّۃَ حَدَّثَتْنِی عَمَّتِی سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسَمٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ قَالَتْ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہُوَ عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ وَأَنَا مَعَ أَبِی فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَتْ فَقَالَ لَہُ أَبِی فِی ذَلِکَ الْمَقَامِ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عِدَّۃً مِنَ الْغَنَمِ قَالَ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ قَالَ خَمْسِینَ شَاۃً عَلَی رَأْسِ بُوَانَۃَ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ عَلَیْہَا مِنْ ہَذِہِ الأَوْثَانِ شَیْء ٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَأَوْفِ لِلَّہِ مَا نَذَرْتَ لَہُ ۔ قَالَ : فَجَمَعَہَا أَبِی فَجَعَلَ یَذْبَحُہَا فَانْفَلَتَتْ مِنْہُ شَاۃٌ فَطَلَبَہَا وَہُوَ یَقُولُ : اللَّہُمَّ أَوْفِ عَنِّی نَذْرِی حَتَّی أَخَذَہَا فَذَبَحَہَا ۔
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ یَزِیدَ وَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِی وَلَدٌ ذَکَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَی رَأْسِ بُوَانَۃَ فِی عُقْبَۃٍ مِنَ الثَّنَایَا عِدَّۃً مِنَ الْغَنَمِ۔ [ضعیف]
رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ یَزِیدَ وَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ إِنْ وُلِدَ لِی وَلَدٌ ذَکَرٌ أَنْ أَنْحَرَ عَلَی رَأْسِ بُوَانَۃَ فِی عُقْبَۃٍ مِنَ الثَّنَایَا عِدَّۃً مِنَ الْغَنَمِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৭
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے اس کے علاوہ نحر کی نذر مانی وہ صدقہ کرے
(٢٠١٤١) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : میں نے نذر مانی کہ بوانہ نامی جگہ پر ذبح کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے دل میں جاہلیت کی کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو فرمایا : اپنی نذر پوری کر۔
(۲۰۱۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی غَرَائِبِ الشُّیُوخِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلاَّمٍ السَّوَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ الْغُدَانِیُّ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِبُوَانَۃَ فَقَالَ : فِی قَلْبِکَ مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ شَیْء ٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَوْفِ بِنَذْرِکَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৮
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے قربانی کی نذر مانی لیکن نام نہ لیا
(٢٠١٤٢) سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اس کو پہنچاتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر ملائکہ موجود ہوتے ہیں جو پہلے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، پہلے آنے والا نماز کی طرف ایسے ہے جیسے اونٹ کی قربانی کرنے والا ۔ اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ پھر مینڈھے، مرغی اور انڈے کا ثواب ملتا ہے۔ جب امام بیٹھ جاتا ہے تو وہ خطبہ جمعہ کے لیے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔
(ب) ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے کہ پھر مرغی اس کے بعد انڈے کی قربانی کا ثواب ہے۔
(ج) قربانی ٨ آٹھ جانوروں میں سے ہے۔
(ب) ابوہریرہ (رض) کی روایت میں ہے کہ پھر مرغی اس کے بعد انڈے کی قربانی کا ثواب ہے۔
(ج) قربانی ٨ آٹھ جانوروں میں سے ہے۔
(۲۰۱۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْہِلاَلِیُّ وَہُوَ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ کَانَ عَلَی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلاَئِکَۃٌ یَکْتُبُونَ النَّاسَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ فَالْمُہَجِّرُ إِلَی الصَّلاَۃِ کَالْمُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ الَّذِی یَلِیہِ کَالْمُہْدِی بَقَرَۃً ثُمَّ الَّذِی یَلِیہِ کَالْمُہْدِی کَبْشًا حَتَّی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالبَیْضَۃَ فَإِذَا جَلَسَ الإِمَامُ طُوِیَ الصُّحُفُ وَاجْتَمَعُوا لِلْخُطْبَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ سُفْیَانَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ الأَغَرِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی الدَّجَاجَۃَ ثُمَّ کَالَّذِی یُہْدِی الْبَیْضَۃَ ۔
وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَنَّہُمَا قَالاَ : الْہَدْیُ مِنَ الأَزْوَاجِ ثَمَانِیَۃٌ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الْحَجِّ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَنَّہُمَا قَالاَ : الْہَدْیُ مِنَ الأَزْوَاجِ ثَمَانِیَۃٌ۔ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪৯
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی دن روزہ رکھنے کی نذر مانی نام بھی لیا لیکن اس دن عید الفطر یا عیدلاضحی آگئی
(٢٠١٤٣) حکیم بن ابی حرۃ اسلمی نے ایک آدمی سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کر رہے تھے، جس نے ایک دن کا نام لے کر کہا کہ وہ اس میں روزہ رکھے گا، اس دن عیدالاضحی یا عید الفطر آگئی تو ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں تمہارے لیے نمونہ ہے۔ “ { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ٢١] نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عیدالفطر یا عیدالاضحی کا روزہ نہ رکھتے تھے اور نہ ہی ان دنوں کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
(ب) عمران بن حصین (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جاتی اور نہ ہی جس چیز کا ابن آدم مالک نہیں۔
(ب) عمران بن حصین (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری نہیں کی جاتی اور نہ ہی جس چیز کا ابن آدم مالک نہیں۔
(۲۰۱۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ حَدَّثَنِی حَکِیمُ بْنُ أَبِی حُرَّۃَ الأَسْلَمِیُّ : سَمِعَ رَجُلاً یَسْأَلُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لاَ یَأْتِیَ عَلَیْہِ یَوْمٌ سَمَّاہُ إِلاَّ وَہُوَ صَائِمٌ فِیہِ فَوَافَقَ ذَلِکَ یَوْمَ أَضْحًی أَوْ یَوْمَ فِطْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ۲۱] لَمْ یَکُنْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَصُومُ یَوْمَ الأَضْحَی وَلاَ یَوْمَ الْفِطْرِ وَلاَ یَأْمُرُ بِصِیَامِہِمَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیِّ۔
وَفِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ مَعَ مَا رُوِّینَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ لاَ یَلْزَمُ قَضَاؤُہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الْمُقَدَّمِیِّ۔
وَفِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ مَعَ مَا رُوِّینَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ لاَ یَلْزَمُ قَضَاؤُہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৫০
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی دن روزہ رکھنے کی نذر مانی نام بھی لیا لیکن اس دن عید الفطر یا عیدلاضحی آگئی
(٢٠١٤٤) زیاد بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا : جب تک میں زندہ رہوں گا منگل یا بدھ کا روزہ رکھوں گا۔ اگرچہ اس دن عیدالاضحی کیوں نہ ہو۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آدمی کے خیال کے مطابق کہ وہ ان کی بات سمجھ نہیں سکے۔ دوسری مرتبہ کلام کو دوہرایا تو ابن عمر (رض) فرمانے لگے : اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(ب) یونس کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ حضرت حسن سے پوچھا گیا تو کہنے لگے : وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔
(ب) یونس کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ حضرت حسن سے پوچھا گیا تو کہنے لگے : وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔
(۲۰۱۴۴) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُوعَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا یُوسُفُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ کُلَّ ثَلاَثَائَ أَوْ أَرْبِعَائَ مَا عِشْتُ فَإِنْ وَافَقْتُ ہَذَا الْیَوْمَ یَوْمَ نَحْرٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنَّہُ قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنُہِینَا أَنْ نَصُومَ ہَذَا الْیَوْمَ قَالَ فَخُیِّلَ إِلَی الرَّجُلِ أَنَّہُ لَمْ یَفْہَمْ فَأَعَادَ عَلَیْہِ الْکَلاَمَ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِوَفَائِ النَّذْرِ وَنُہِینَا عَنْ صِیَامِ ہَذَا الْیَوْمِ۔ قَالَ یُونُسُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ یَصُومُ یَوْمًا مَکَانَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ دُونَ قَوْلِ الْحَسَنِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ دُونَ قَوْلِ الْحَسَنِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ جُبَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৫১
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی مہینے کا نام لے کر عمرہ کی نذر ماننا حضرت جابر کا قول ہے
(٢٠١٤٥) ابوزبیر فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے ایک عورت کے بارے میں سناجس کے ذمہ ایک مخصوص مہینہ عمرہ تھا۔ صرف ایک رات گزرنے کے بعد اس کو حیض ہوگیا۔ فرمایا : وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہے، پھر پاک ہونے کا انتظار کرے۔ پاک ہونے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرے۔ پھر نماز پڑھ لے۔
(۲۰۱۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْمَیْمُونِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَجْعَلُ عَلَیْہَا عُمْرَۃً فِی شَہْرٍ مُسَمًّی ثُمَّ یَخْلُو إِلاَّ لَیْلَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ تَحِیضُ قَالَ : لِتَخْرُجْ ثُمَّ لِتُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ لِتَنْتَظِرْ حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْکَعْبَۃِ ثُمَّ لِتُصَلِّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৫২
نذروں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے مشرک کو قتل کرنے کی نذر مانی اگر وہ اس میں کامیاب ہوگیا وہ اسلام لایا
(٢٠١٤٦) ابو غالب نے حضرت انس بن مالک (رض) سے نماز جنازہ کے بارے میں ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ علاء بن زیاد نے کہا : اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر غزوہ کیا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ میں نے حنین کا غزوہ کیا۔ مشرکین نے ہمارے اوپر حملہ کردیا۔ ہم نے اپنے شہسواروں کو اپنے پیچھے دیکھا۔ مشرکین کا ایک آدمی ہمیں قتل کررہا تھا۔ اللہ نے ان کو شکست دی۔ وہ اگر اسلام پر بیعت کر رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ایک نے کہا : میں نے نذر مانی ہے کہ کل جو آدمی ہمیں قتل کررہا تھا، اگر اس کو اللہ ہمارے پاس لے آیا میں ضرور اس کی گردن اڑادوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے، آدمی لایا گیا۔ جب اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اللہ سے توبہ کی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بیعت نہ لی، تاکہ وہ اپنی نذر پوری کرلے۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آرہا تھا کہ آپ اس کے قتل کا حکم دیں۔ وہ آدمی ڈر رہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو قتل کروا دیں گے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا، وہ کچھ نہیں کر رہاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت لے لی۔ اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میری نذر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک دن رکا رہا تاکہ تو اپنی نذر پوری کرلے۔ کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اشارہ فرما دیتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ اشارہ کرے۔
(۲۰۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِی غَالِبٍ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الصَّلاَۃِ عَلَی الْجَنَازَۃِ قَالَ فَقَالَ الْعَلاَئُ بْنُ زِیَادٍ یَا أَبَا حَمْزَۃَ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَہُ حُنَیْنًا فَخَرَجَ الْمُشْرِکُونَ فَحَمَلُوا عَلَیْنَا حَتَّی رَأَیْنَا خَیْلَنَا وَرَائَ ظُہُورِنَا وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ یَحْمِلُ عَلَیْنَا فَیَدُقُّنَا وَیَحْطِمُنَا فَہَزَمَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ جَمِیعًا وَجَعَلَ یُجَائُ بِہِمْ فَیُبَایِعُونَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّ عَلَیَّ نَذْرًا إِنْ جَائَ اللَّہُ بِالرَّجُلِ الَّذِی کَانَ مُنْذُ الْیَوْمِ یَحْطِمُنَا لأَضْرِبَنَّ عُنُقَہُ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَجِیئَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تُبْتُ إِلَی اللَّہِ فَأَمْسَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لاَ یُبَایِعُہُ لِیَفِیَ الرَّجُلُ بِنَذْرِہِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَتَصَدَّی لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِیَأْمُرَہُ بِقَتْلِہِ وَجَعَلَ یَہَابُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَقْتُلَہُ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ لاَ یَصْنَعُ شَیْئًا بَایَعَہُ فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَذْرِی۔ قَالَ : إِنِّی لَمْ أُمْسِکْ عَنْہُ مُنْذُ الْیَوْمِ إِلاَّ لِتُوفِیَ بِنَذْرِکَ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ أَوْمَضْتَ إِلَیَّ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّہُ لَیْسَ لِنَبِیٍّ أَنْ یُومِضَ ۔ [ضعیف]
তাহকীক: