কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غصب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২ টি
হাদীস নং: ৩০৩৩৮
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الثانی از حرف غین : کتاب الغصب از قسم اقوال :
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
30338 ۔۔۔ انسان کے ہاتھ پر وہ چیز (واپس کرنا) واجب ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا نہ کر دے ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن عدی والحاکم عن سمرۃ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی 217 و ضعیف ابی داؤد 76 ۔
30338- "على اليد ما أخذت حتى تؤديه". "حم، عد" "ك" عن سمرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৩৯
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الثانی از حرف غین : کتاب الغصب از قسم اقوال :
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
30339 ۔۔۔ جو شخص اپنا مال بعینہ کسی کے ہاں پائے وہ اسے لینے کا حقدار ہے اور خریدنے والا فروخت کرنے والے کا پیچھا کرے ۔ (رواہ ابو داؤد عن سمرۃ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد 258 و ضعیف الجامع 5870 ۔
30339- "من وجد عين ماله عند رجل فهو أحق ويتبع البيع من باعه". "د" عن سمرة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪০
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الثانی از حرف غین : کتاب الغصب از قسم اقوال :
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
30340 ۔۔۔ جب کسی شخص کا مال گم ہوجائے یا چوری ہوجائے پھر وہ کسی اور کے ہاتھ میں دیکھے جو اس نے خریدا ہوا صل مالک اس کا حقدار ہے اور مشتری بائع سے ثمن کا مطالبہ کرے ۔ (رواہ البیہقی فی السنن عن سمرۃ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 551 و ضعیف الجامع 580 ۔
30340- "إذا ضاع للرجل أو سرق له متاع فوجده في يد رجل يبيعه فهو أحق به ويرجع المشتري على البائع بالثمن". "هق" عن سمرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪১
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الثانی از حرف غین : کتاب الغصب از قسم اقوال :
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
اس کتاب کی بعض احادیث ظلم کے عنوان کے تحت مذکور ہیں جو بعض مذموم اخلاق کے بیان میں ہیں وہیں دیکھ لی جائیں ۔
30341 ۔۔۔ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے کسی ساتھی کا مال نہ لے نہ مذاقا اور نہ ہی سنجیدگی (سچ مچ) سے اگر کوئی شخص اپنے ساتھی کا مال لے وہ اسے واپس کرے ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو داؤد والحاکم عن السائب ابن بریدۃ)
30341- "لا يأخذن أحدكم متاع صاحبه لاعبا ولا جادا، وإن أخذ عصا صاحبه فليردها عليه". "حم، د، ك" عن السائب بن بريدة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪২
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30342 ۔۔۔ جو شخص بھی کسی کا مال ہتھیاتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا جبکہ وہ جذام کی بیماری میں مبتلا ہوگا ۔ (رواہ الطبرانی عن اشعث بن قیس)
30342- "إنه لا يقتطع رجل مالا إلا لقي الله عز وجل يوم القيامة وهو أجذم". "طب" عن الأشعث بن قيس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৩
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30343 ۔۔۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا مال بغیر کسی حق کے لے لے چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کا مال دوسرے مسلمان پر حرام کیا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل عن ابی حمید الساعدی)
30343- "لا يحل لامرئ مسلم أن يأخذ مال أخيه بغير حقه، وذلك لما حرم الله عز وجل مال المسلم على المسلم". "حم" عن أبي حميد الساعدي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৪
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30344 ۔۔۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی دلی رضا مندی کے بغیر اس کا عصا بھی لے چونکہ اللہ تعالیٰ نے سختی سے ایک مسلمان کا مال دوسرے مسلمان پر حرام کیا ۔ (رواہ البیہقی فی السنن عن ابی حمید الساعدی)
30344- "لا يحل لامرئ مسلم أن يأخذ عصا أخيه بغير طيب نفسه، وذلك لشدة ما حرم الله مال المسلم على المسلم". "هق" عنه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৫
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30345 ۔۔۔ کسی شخص کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں الا یہ کہ وہ اسے دلی رضا مندی سے دے دے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی والبیہقی عن عمرو بن بشربی)
30345- " لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه". "حم، طب، هق" عن عمرو بن يثربي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৬
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30346 ۔۔۔ تم میں سے کوئی شخص بھی اپنے بھائی کا مال نہ خریدے الا یہ کہ وہ بیچنے پر دل سے راضی ہو۔ رواہ الدارقطنی عن انس وضعف)
30346- "لا يشترين أحدكم مال أخيه إلا بطيب من نفسه". "قط" عن أنس، وضعف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৭
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30347 ۔۔۔ اگر تم بےآب وگیاہ صحراء میں بھیڑ کو پاؤ کہ تم نے چھری اور آگ اٹھا رکھی ہو اس بھیڑ کو چھوؤ بھی مت ۔ (رواہ البیہقی عن عمر وبن یشربی)
30347- "إن لقيتها نعجة تحمل شفرة وزنادا بخبت الجميش فلا تمسها". "هق" عن عمرو بن يثربي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৮
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30348 ۔۔۔ جس شخص نے اپنے بھائی کے ترکش سے تیر لیا خواہ مزاحا یا سچ مچ ، وہ چور ہے تاوقتیکہ تیر واپس نہ کر دے ۔ (رواہ الدیلمی عن ابوہریرہ )
30348- " من أخذ سهما من كنانة أخيه وهو مازح أو جاد فهو سارق حتى يرده"ا. الديلمي عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪৯
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30349 ۔۔۔ جس شخص نے ناحق بالشت برابر بھی کسی دوسرے کی زمین چھینی قیامت کے دن وہ زمین اس کے گلے کا طوق بنایا جائے گا ۔ (رواہ ابن جریر عن عائشۃ (رض))
30349- "من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه طوقه يوم القيامة". ابن جرير - عن عائشة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫০
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30350 ۔۔۔ جس شخص نے بغیر کسی حق کے بالشت برابر بھی زمین ہتھیائی قیامت کے دن سات زمینوں تک اس کے گلے کا ہار بنادیا جائے گا ۔ (رواہ ابن جریر عن ابوہریرہ (رض))
30350- "من أخذ شبرا من الأرض بغير حقه طوقه يوم القيامة إلى سبع أرضين". ابن جرير - عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫১
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30351 ۔۔۔ جس شخص نے ناحق کسی کی زمین چھین لی تاقیامت زبردستی اس سے زمین کی مٹی اٹھوائی جائے گی ۔ (رواہ ابن جریر عن یعلی بن مرۃ)
30351- "من أخذ أرضا بغير حقها كلف أن يحمل ترابها إلى المحشر". ابن جرير - عن يعلى بن مرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫২
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30352 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس شخص نے بالشت برابر بھی زمین لی حالانکہ وہ اس کا حق نہیں تھا قیامت کے دن وہ زمین اس کے گلے کا طوق بنادی جائے گی اور وہ ساتویں زمین تک دھنستا چلا جائے گا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے قتل کردیا گیا وہ شہید ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن قانع عن سعید بن زید)
30352- " من أخذ من الأرض شبرا ليس له طوقه إلى السابعة من الأرضين يوم القيامة، ومن قتل دون ماله فهو شهيد". "حم" وابن قانع - عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৩
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30353 ۔۔۔ جس شخص نے بالشت برابر بھی ناحق کسی کی زمین ہتھیائی تو سات زمینوں تک وہ حصہ اس کے گلے کا طوق بنایا جائے گا جس شخص نے کسی قوم کے آزاد کردہ غلام کے حق ولاء کو اس قوم کی اجازت کے بغیر اپنی طرف منسوب کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہتھیائے اللہ تعالیٰ اس مال میں برکت نہ کرے ۔ (رواہ احمد بن حنبل عن سعید بن زید)
30353- " من أخذ من الأرض شبرا بغير حقه طوقه بسبع أرضين، ومن تولى مولى قوم بغير إذنهم فعليه لعنة الله، ومن اقتطع مال امرئ بيمين كاذبة فلا بارك الله له فيها". "حم" عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৪
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30354 ۔۔۔ جس شخص نے مکہ کی زمین سے بالشت برابر بھی کسی حق کے بغیر لی گویا اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قدموں تلے سے زمین ہتھیانے کی جسارت کی جس شخص نے بقیہ زمین میں سے کچھ زمین بغیر کسی حق کے غصب کی وہ قیامت کے دن آئے گا کہ سات زمینوں کا وہ حصہ اس کے گلے کا طوق بنا ہوگا ۔ (رواہ الطبرانی عن ابن عباس (رض)
30354- " من أخذ شبرا من مكة بغير حقه فكأنما أخذه من تحت قدم الرحمن، ومن أخذ من سائر الأرض شيئا بغير حقه جاء يوم القيامة يطوق في عنقه من سبع أرضين". "طب" عن ابن عباس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৫
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30355 ۔۔۔ جس شخص نے زمین کا کچھ حصہ غصب کیا قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا ۔ (رواہ الطبرانی عن المسور بن مخرمۃ)
30355- "من أخذ شيئا من الأرض قلده يوم القيامة من سبع أرضين". "طب" عن المسور بن مخرمة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৬
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30356 ۔۔۔ جس شخص نے ظلما کسی کی زمین غصب کی قیامت کے دن سات زمینوں تک اس کے گلے کا ہار بنائی جائے گی ۔ (رواہ الطبرانی عن ابی شریح الخزاعی وابو نعیم فی المعرفۃ عن سعید بن زید)
30356- " من أخذ شبرا من الأرض ظلما طوقه يوم القيامة من سبع أرضين". "طب" عن أبي شريح الخزاعي أبو نعيم في المعرفة عن سعيد بن زيد
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৭
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30357 ۔۔۔ جس شخص نے بالشت برابر بھی کسی پر ظلم کرکے اس کی زمین غصب کی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات زمینوں سے اس کے گلے کا طوق بنائیں گے جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر کسی کا مال ہتھیائے اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت نہ دے جس شخص نے کسی قوم کے حق ولاء کو ان کی اجازت کے بغیر اپنی طرف منسوب کیا اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور سب کے سب لوگوں کی لعنت ہو ۔ (رواہ ابن جریر والحاکم عن سعید بن زید)
30357- " من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله يوم القيامة من سبع أرضين، ومن اقتطع مالا بيمينه فلا بورك له فيه، ومن تولى قوما بغير إذنهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين. ابن جرير، "ك" عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৮
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30358 ۔۔۔ جس شخص نے بغیر کسی حق کے بالشت برابر بھی زمین غضب کی قیامت کے دن وہ زمین اس کے گلے کا طوق بنائی جائے گی وہ سات زمینوں تک دھنسا چلا جائے گا ۔ (رواہ احمد بن حنبل عن ابوہریرہ )
30358- "من اقتطع شبرا من الأرض بغير حقه طوقه يوم القيامة إلى سبع أرضين ". "حم" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫৯
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30359 ۔۔۔ جس شخص نے زمین کی بالشت برابر بھی چوری کی وہ سات زمینوں سے اس کے گلے کا ہار بن جائے گی ۔ (رواہ عبدالرحمن عن سعید بن زید)
30359- " من سرق من الأرض شبرا طوقه من سبع أرضين". "عب" عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬০
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30360 ۔۔۔ جس شخص نے کسی پر ظلم کرکے بالشت برابر بھی اس کی زمین غصب کی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات زمینوں سے اس کے گلے کا ہار بنائیں گے ۔ (رواہ ابن جریر والطبرانی عن سعید بن زید)
30360- "من انتقص شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين". ابن جرير، "طب" عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬১
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30361 ۔۔۔ جس شخص نے بالشت برابر بھی زمین کی چوری کی یا اس میں دھوکا دیا قیامت کے دن سات زمینوں تک کا یہ حصہ گردن پر اٹھائے لائے گا ۔ (رواہ ابن جریم والبغوی والطبرانی وابو نعیم وابن عساکر عن یعلی بن مرۃ الثقفی ابو نعیم عن ابی ثابت ایمن بن یعلی الثقفی)
30361- " من سرق شبرا من الأرض أو غله جاء يوم القيامة يحمله على عنقه إلى أسفل الأرضين". ابن جرير والبغوي، "طب" وأبو نعيم، "كر" عن يعلى بن مرة الثقفي؛ أبو نعيم - عن أبي ثابت أيمن بن يعلى الثقفي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬২
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30362 ۔۔۔ جس شخص نے کسی پر ظلم کرکے بالشت برابر بھی اس کی زمین غصب کی تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات زمینوں سے اسے گلے کا طوق بنائیں گے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم عن عائشۃ واحمد بن حنبل والدارمی والبخاری وابن حبان عن سعید بن زید، الخطیب عن ابوہریرہ والطبرانی عن شداد بن اوس)
30362- "من ظلم قيد شبر من الأرض طوقه الله يوم القيامة من سبع أرضين". "حم، خ، م" عن عائشة؛ "حم" والدارمي، "خ، م، حب" عن سعيد بن زيد؛ الخطيب - عن أبي هريرة؛ "طب" عن شداد بن أوس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৩
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30363 ۔۔۔ جس شخص نے کسی پر ظلم کرکے اس کی بالشت برابر بھی زمین غصب کی وہ اس زمین کو سر پر اٹھائے تاقیامت دھنستا رہے گا ۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ عن ابن عمر (رض))
30363- "من ظلم شبرا من الأرض خسف به إلى يوم القيامة". "حل" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৪
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30364 ۔۔۔ جس شخص نے بالشت برابر یا اس سے زیادہ زمین غصب کی قیامت کے دن یہ زمین اس سے زبردستی کھودوائی جائے گی حتی کہ کھودتے کھودتے پانی تک پہنچ جائے پھر زمین کے اس حصہ کو اٹھا کر محشر میں لائے ۔ (رواہ الطبرانی عن یعلی بن مرۃ)
30364- "من ظلم من الأرض شبرا فما فوقه كلف أن يحفره يوم القيامة حتى يبلغ الماء ثم يحمله إلى المحشر". "طب" عن يعلى بن مرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৫
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30365 ۔۔۔ جس شخص نے ظلما کسی کی زمین غصب کی تو سات زمینوں سے اس کے گلے کا طوق بنائی جائے گی اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے قتل ہوجائے وہ شہید ہے۔ (رواہ ابن جریر عن سعید بن زید)
30365- "من ظلم شيئا من الأرض طوقه من سبع أرضين، ومن قتل دون ماله فهو شهيد". ابن جرير - عن سعيد بن زيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৬
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30366 ۔۔۔ جس شخص نے کسی کی زمین غصب کی اور اس پر ظلم کیا وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے ملاقات کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوگا ۔ (رواہ الطبرانی عن وائل بن حجر)
30366- "من غصب رجلا أرضا ظلما لقي الله تعالى وهو عليه غضبان". "طب" عن وائل بن حجر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৭
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30367 ۔۔۔ جو شخص زمین کی حدود میں دھوکا دے اس پر اللہ کی لعنت ہو اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے نہ فدیہ قبول کرے گا اور نہ سفارش ۔ (رواہ ابن جریر والطبرانی عن کثیر بن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ)
30367- "من غير تخوم الأرض فعليه لعنة الله وغضبه يوم القيامة لا يقبل الله تعالى منه صرفا ولا عدلا". ابن جرير، "طب" عن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৮
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30368 ۔۔۔ جس شخص نے بھی بغیر کسی حق کے بالشت برابر بھی زمین غصب کی سات زمینوں تک اس کے گلے کا طوق بنے گی اور اللہ تعالیٰ اس سے نہ فدیہ قبول کریں گے اور نہ سفارش ۔ (رواہ ابن جریر عن سعد)
30368- " ما من أحد أخذ شبرا من الأرض بغير حقه إلا طوقه من سبع أرضين لا يقبل الله تعالى منه صرفا ولا عدلا". ابن جرير - عن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬৯
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30369 ۔۔۔ زمین کی حدود میں اضافہ ہرگز مت کرو چونکہ قیامت کے دن سات زمینوں کی مقدار کے بقدر گردن پر لادے لاؤگے ۔ (رواہ ابن جریر عن امیۃ مولاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
30369- لا تزدادن من تخوم الأرض فإنك تأتي يوم القيامة على عنقك مقدار سبع أرضين". ابن جرير - عن أمية مولاة رسول الله صلى الله عليه وسلم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭০
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30370 ۔۔۔ تم اسے نصیحت کرو اور اپنے مال کا دفاع کرو ۔ (رواہ ابن قانع عن قابوس بن حجاج عن ابیہ) کہ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا مال چھیننا چاہتا ہے اس پر آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ۔
30370- "تعظه وتدفعه". ابن قانع - عن قابوس بن الحجاج عن أبيه أن رجلا قال: يا رسول الله أرأيت رجلا يأخذ مالي قال – فذكره
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭১
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30371 ۔۔۔ جب کوئی شخص اپنا چوری کیا ہوا مال کسی شخص کے ہاتھ میں دیکھے جس پر چوری کی تہمت نہ ہو چاہے تو وہ قیمت دے کر اپنا مال لے لے چاہے تو چور کا پیچھا کرے ۔ (رواہ ابونعیم عن اسید بن حضیر)
30371- "إذا وجد الرجل سرقة في يد رجل غير متهم فإن شاء أخذها بالثمن، وإن شاء أتبع سارقه". أبو نعيم - عن أسيد ابن ظهير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭২
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30372 ۔۔۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چوری شدہ مال جب کسی شخص کے پاس پایا جائے جس پر چوری کی تہمت نہ ہو مالک چاہے تو قیمۃ خرید لے اگر چاہے تو چور کا پیچھا کرے ۔ (رواہ الطبرانی عن اسید بن حضیر)
30372- " قضى أن السرقة إذا وجدت عند رجل غير متهم فإن شاء سيدها أخذها بالثمن، وإن شاء أتبع سارقه". "طب" عن أسيد بن حضير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৩
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30373 ۔۔۔ جس شخص نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت سے عمارت بنائی تو اس کے لیے عمارت کی قیمت ہوگی اور جس شخص نے بغیر اجازت کے عمارت بنائی اس کے لیے صرف ملبہ ہے۔ (رواہ ابن عدی والبیہقی فی السنن عن عائشۃ) ۔ کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ۔
30373- "من بنى في رباع قوم بإذنهم فله القيمة، ومن بنى بغير إذنهم فله النقض". "عد هق" عن عائشة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৪
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30374 ۔۔۔ جس شخص نے کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر عمارت بنائی اور اب وہ قوم اسے نکالنا چاہتی ہو تو اس کے لیے عمارت کا ملبہ ہوگا اور اگر اجازت سے عمارت بنائی تو اس کے لیے خرچہ ہوگا ۔ (رواہ عبدالرزاق عن حمزہ الجوزی مرسلا)
30374- "من بنى في ربع قوم بغير إذنهم فأرادوا إخراجه فله نقضه، ومن بنى في ربع قوم بإذنهم فأرادوا إخراجه فله نفقته". "عب" عن حمزة الجوزي مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৫
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الإکمال
30375 ۔۔۔ جس شخص کا مال گم ہوگیا یا اس سے چوری ہوگیا وہ اسے کسی شخص کے ہاتھ میں دیکھے وہ اسے واپس لینے کا زیادہ حقدار ہے پھر مشتری بائع سے اس کی قیمت لے لے ۔ (رواہ احمد بن حنبل والطبرانی عن سمرۃ)
30375- "من ضاع له متاع أو سرق له متاع فوجده في يد رجل بعينه فهو أحق به ويرجع المشتري على البائع بالثمن. "حم، طب" عن سمرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৬
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف غین ۔۔۔ کتاب الغصب ۔۔۔ از قسم افعال :
30376 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ ایک قوم نے دوسری قوم کی زمین میں اس کی اجازت کے بغیر باغات لگائے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ زمین کے مالکان کاشتکاروں کو باغات کی قیمت دے دیں ، اگر وہ انکار کریں تو پھر کاشتکار مالکان کو زمین کی قیمت دے دیں ۔ (رواہ عبدالرزاق وابو عبید فی الاموال)
30376- عن مجاهد أن قوما غرسوا أرض قوم بغير إذنهم فقضى فيها عمر بن الخطاب أن يدفع إليهم أهل الأرض قيمة نخلهم، فإن أبو أعطاهم أهل النخل قيمة أرضهم. "عب" وأبو عبيد في الأموال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৭
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف غین ۔۔۔ کتاب الغصب ۔۔۔ از قسم افعال :
30377 ۔۔۔ زاذان کہتے ہیں میں نے ام یعفور سے اس کی تسبیح لی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا کہ ام یعفور کو اس کی تسبیح واپس کرو ۔ (رواہ ابن ابی ٗخیثمۃ وابن عساکر)
30377- عن زاذان قال: أخذت من أم يعفور تسابيح لها فقال لي علي: رد على أم يعفور تسابيحها. ابن أبي خيثمة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৮
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف غین ۔۔۔ کتاب الغصب ۔۔۔ از قسم افعال :
30378 ۔۔۔ حکم بن حارث سلمی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سات غزوات کئے ہیں آخری غزوہ حنین ہے میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ جو شخص مسلمانوں کے راستے میں سے بالشت برابر بھی راستہ غصب کرے گا وہ سات زمینوں سے اس کا حصہ اٹھائے گا ۔ (رواہ ابو نعیم وعبدالرزاق )
30378- عن الحكم بن الحارث السلمي قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات آخرهن حنين وسمعته يقول: من أخذ من طريق المسلمين شبرا جاء به يحمله من سبع أرضين. أبو نعيم، "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭৯
غصب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حرف غین ۔۔۔ کتاب الغصب ۔۔۔ از قسم افعال :
30379 ۔۔۔ از مراسیل ابن سیرین معمر ایوب ، ابن سیرین کی سند سے مروی ہے کہ ایک انصاری نے ایک مہاجر کو اپنے گھر میں جگہ دی کچھ عرصہ بعد انصاری کو اپنے گھر کی حاجت پیش آئی اور مہاجر سے گھر کا مطالبہ کیا مہاجر نے دینے سے انکار کردیا دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فیصلہ کے لیے حاضر ہوئے انصاری کے پاس گواہ نہیں تھے البتہ مہاجر نے قسم اٹھالی ، کچھ عرصہ بعد انصاری مرگیا اور مرتے وقت اپنے بیٹوں سے کہا : مہاجر اللہ کی طرف سے اس گھر پر راضی ہے اور میں اللہ کی طرف سے راضی ہوں عنقریب مہاجر نادم ہو کر تمہیں گھر واپس کر دے گا تم گھر واپس نہ لو جب انصاری وفات پا گیا مہاجر کو سخت ندامت ہوئی اور انصاری کے بیٹوں کے پاس آیا اور کہا : اپنا گھر لے لو بیٹوں نے گھر لینے سے انکار کردیا مہاجر نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی شکایت کی آپ نے بیٹوں کو بلا کر وجہ دریافت کی انھوں نے کہا : ہمارے باپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ گھر واپس نہ لینا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم سات زمینوں سے اس گھر کو اٹھانے کی طاقت رکھتے ہو تاہم آپ نے انصاری کے بیٹوں کو گھر پہ قبضہ کرنے کا حکم نہیں دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق ) اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق سے کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال کی جلد 10 کا اردو ترجمہ آج صفر المظفر 1430 بمطابق 13 فروری 2009 ء بروز جمعۃ المبارک تمام ہوا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ التجاء ہے اس حقیر خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور آخرت میں ذریعہ نجات بنائے ۔ آمین ۔ فقط ۔۔۔ ابو عبداللہ محمد یوسف تنولی :
30379- "من مراسيل ابن سيرين" معمر عن أيوب عن ابن سيرين أن رجلا من الأنصار وسع لرجل من المهاجرين في داره ثم إن الأنصاري احتاج إلى داره فجحده المهاجري فاختصما إلى النبي صلى الله عليه وسلم ولم يكن للأنصاري بينة فحلف المهاجري، ثم إن الأنصاري حضره الموت فقال لبنيه: إنه رضي بها من الله وإني رضيت بالله منها وإنه سيندم فيردها عليكم فلا تقبلوها، فلما توفي الأنصاري ندم المهاجري فجاء إلى بني الأنصاري فقال: اقبلوا داركم فأبوا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فذكروا أن أباهم أمرهم أن لا يقبلوها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتستطيع أن تحملها من سبع أرضين ولم يأمر ولد الأنصاري أن يقبضوها. "عب".
তাহকীক: