কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
غلام آزاد کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪৪ টি
হাদীস নং: ২৯৬৮৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب العتق ۔۔۔ از قسم افعال : ترغیب عتق کا بیان :
29687 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) روایت کی ہے کہ حضرت عمرو بن ثرید (رض) حبشی باندی لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے عمرو (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میری ماں نے مومن غلام کو آزاد کرنے کی قسم کھا رکھی ہے کیا میں اپنی ماں کی طرف سے یہ باندی آزاد کر دوں کافی ہوجائے گی ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندی سے پوچھا تیرا رب کہاں ہے ؟ باندی نے سر اوپر اٹھا کر کہا : آسمان میں آپ نے فرمایا : میں کون ہوں ؟ باندی نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں : فرمایا اے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے۔ (رواہ ابو نعیم فی المعرفۃ)
29687 عن أبي هريرة أن عمرو بن الشريد جاء بخادم أسود إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله إن أمي جعلت عليها رقبة مؤمنة فهل يجزي أن أعتق هذه ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم للخادم : أين ربك ؟ فرفعت رأسها فقالت : في السماء فقال : من أنا ؟ قالت : رسول الله قال : أعتقها فانها مؤمنة (أبو نعيم في المعرفة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৮৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29688 ۔۔۔ حضرت زبیر (رض) غزوہ طائف کے موقع پر اپنی کچھ خالاؤں کے مالک بن گئے آپ (رض) نے انھیں اپنی ملک میں رکھتے ہوئے آزاد کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
29688 عن الزبير أنه ملك يوم الطائف خالات له فأعتقهن بملكه إياهن (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৮৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29689 ۔۔۔ ابراہیم (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) ، سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت زید بن ثابت (رض) فرمایا کرتے تھے حق ولاء ورثاء میں بڑے کو ملتا ہے عورتیں حق ولاء کی وارث ہیں بنتیں الا یہ کہ عورتیں جن غلاموں کو آزاد کریں یا مکاتب بنائیں ان کا حق ولاء ، انھیں ملتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ، والدارمی والبیہقی)
29689 عن ابراهيم قال : كان عمرو وعلي وزيد بن ثابت يقولون : الولاء للكبر فلا يرث النساء من الولاء إلا ما أعتقهن أو كاتبن (عب ، ش والدارمي ، ق -).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29690 ۔۔۔ عبداللہ بن عتبہ بن مسعود (رح) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مجھے لکھا کہ حق ولاء ورثاء میں بڑے کو ملتا ہے۔ (رواہ الدارمی)
29690 عن عبد اله بن عتبة بن مسعود قال : كتب إلي عمر أن الولاء للكبر (الدارمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29691 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے غلام کو مکاتب بنا رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولاء کی شرط لگا لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29691- عن سعيد بن المسيب " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يكاتب عبدا له، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: اشترط ولاء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29692 ۔۔۔ حکم بن عتبہ روایت کی ہے کہ حضرت علی (رض) اور حضرت زبیر (رض) سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک کیس لے کر آئے کیس کی نوعیت یہ تھی کہ حضرت صفیہ (رض) کے آزاد کردہ غلاموں کے حق ولاء کا وارث کون ہو سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا دعوی تھا کہ صفیہ (رض) میری پھوپھی ہیں میں ان کی طرف سے کسی قسم کا بھی تاوان ادا کر دوں گا اور وارث میں ہوں گا لہٰذا حق ولاء کا وارث میں ہوں حضرت زبیر (رض) کا دعوی تھا کہ صفیہ (رض) میری ماں ہیں لہٰذا حق ولاء کا بھی وارث میں ہی ہوں ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حق ولاء کو میراث کے تابع کیا ہے چنانچہ آپ (رض) نے حضرت زبیر (رض) کے حق میں فیصلہ سنایا۔ (رواہ ابن راھویہ)
29692- عن الحكم بن عتبة قال اختصم علي والزبير إلى عمر في موالي صفية فقال علي: عمتي وأنا أعقل عنها وأرثها، وقال الزبير: أمي وأنا أرثها فقال عمر لعلي: أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل الولاء تبعا للميراث فقضى به للزبير. ابن راهويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29693 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اگر کسی شخص کے بہت سارے آزاد کردہ غلام ہوں اور دو بیٹے بھی ہوں باپ کے مرجانے پر حق ولاء اس کے بیٹوں کو ملے گا اگر اس کے بیٹوں میں سے ایک مرگیا اور اس کی نرینہ اولاد ہو پھر بعض آزاد کردہ غلام بھی مرجائیں تو پوتا اپنے باپ کے حصہ ولاء کا وارث ہوگا جبکہ چچا کے لیے سارے کا سارا حق ولاء نہیں ہوگا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29693- عن عمر قال: إن كان لرجل موالي وله ابنان فمات الأب كان الولاء لابنيه، فإن مات أحد ابنيه وله ولد ذكور ثم مات بعض الموالي فإن ابن الابن على حصة أبيه من الولاء، ولم يكن الولاء كله لعمه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29694 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عمرو بن حزم کی روایت ہے کہ ایک آزاد کردہ غلام مرگیا اس کے مالکان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے حکم دیا کہ اس کا مال بیت المال میں جمع کروا دیا جائے ۔ (رواہ الدارمی)
29694- عن عبد الرحمن بن عمرو بن حزم أن مولى مات ليس له موالي فأمر عثمان بماله فأدخل بيت المال. الدارمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29695 ۔۔۔ ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام روایت کی ہے کہ عاص بن ہشام جب مرا اس نے اپنے ورثاء میں تین بیٹے دو ماں شریک بھائی اور ایک باپ شریک بھائی چھوڑا ماں شریک بھائیوں میں سے ایک مرگیا اس نے ترکہ میں مال اور آزاد کردہ غلام چھوڑے مال کا وارث اس کا بھائی بن گیا اور حق ولاء میں بھی وہی وارث بنا اس کا ایک بیٹا اور ایک باپ شریک بھائی تھا بیٹے نے کہا میں اپنے باپ کے مال اور حق ولاء کا وارث ہوں باپ شریک بھائی نے کہا : بات یوں نہیں ہے مال کا وارث تو تو ہی ہے رہی بات حق ولاء کی میں نہیں سمجھتا کہ اس کا وارث تو بنے بھلا اگر میرا بھائی آج مرتا کیا اس کا وارث میں نہ بنتا ؟ دونوں یہ جھگڑا لے کر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس آئے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے بھائی کے لیے آزاد کردہ غلاموں کے حق ولاء کا فیصلہ کیا ۔ (رواہ الشافعی والبیہقی)
29695- عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن العاص بن هشام هلك وترك بنين له ثلاثة اثنان لأم ورجل لعلة فهلك أحد اللذين لأم وترك مالا وموالي فورثه أخوه الذي ورث المال وولاء الموالى وترك ابنه وأخاه لأبيه فقال ابنه: قد أحرزت ما كان أبي قد أحرز من المال وولاء الموالي، فقال أخوه: ليس كذلك وإنما أحرزت المال فأما ولاء الموالي فلا أرأيت لو هلك أخي اليوم ألست أرثه أنا؟ فاختصما إلى عثمان فقضى لأخيه بولاء الموالي. الشافعي، "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29696 ۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے فرمایا : حق ولاء بڑے کو ملتا ہے۔ (رواہ البیہقی)
29696- عن سعيد بن المسيب أن عمر وعثمان قالا: الولاء للكبر. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৭
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29697 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت زبیر (رض) اور حضرت رافع بن خدیج (رض) باندی کے متعلق ایک کیس لے کر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس آئے باندی ایک غلام کے نکاح میں تھی باندی نے غلام کے نطفہ سے ایک بچہ جنم دیا حضرت زبیر (رض) نے غلام نے خرید کر آزاد کردیا اب جھگڑا یہ تھا کہ حق ولاء کسے ملے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) زبیر (رض) کے لیے حق ولاء کا فیصلہ کیا ۔ (رواہ البیہقی)
29697- عن عروة أن الزبير ورافع بن خديج اختصما إلى عثمان في مولاة لرافع بن خديج كانت تحت عبد فولدت منه أولادا فاشترى الزبير العبد فأعتقه فقضى عثمان بالولاء للزبير. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৮
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29698 ۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر بن عوام (رض) خیبر تشریف لائے وہاں آپ (رض) نے کچھ لڑکے دیکھے ان کے ہونٹ سیاہی پلائے ہوئے تھے آپ (رض) کو ان کی یہ ہئیت دیکھ کر تعجب ہوا اور آپ (رض) نے ان کے متعلق سوال کیا آپ (رض) کو جواب دیا گیا کہ یہ رافع بن خدیج (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں ان کی ماں آزاد کردہ باندی ہے اور وہ بھی رافع بن خدیج (رض) کی آزاد کردہ ہے ، جبکہ ان کا باپ اشجع (رض) کو اپنے پاس بلایا اور ان سے غلام خرید کر آزاد کردیا پھر آپ (رض) نے اس کے بیٹوں سے کہا اب تم میری طرف اپنی نسبت کرو چونکہ تم میرے آزاد کردہ غلام ہو ، حضرات رافع (رض) نے کہا : بلکہ یہ میرے آزاد کردہ غلام ہیں ، چونکہ ان کی ماں میری آزاد کردہ باندی ہے اور ان کا باپ میرا غلام رہا ۔ دونوں حضرات یہی کیس لے کر سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے چنانچہ آپ (رض) نے زبیر (رض) کے لیے حق ولاء کا فیصلہ کیا (رواہ البیہقی فی السنن بیہقی کہتے ہیں سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) سے مروی یہی روایت مشہور ہے جبکہ یہی روایت زہری عن عثمان کے طریق سے بھی مروی ہے اور یہ متذکرہ بالا روایت کے خلاف ہے اور منقطع ہے تفصیل اس کی یہ ہے کہ حضرت زبیر (رض) مدینہ تشریف لائے وہاں کچھ لڑکے دیکھے جنہیں دے کر کر آپ (رض) کو تعجب ہوا ان کے متعلق سوال کیا آپ (رض) کو بتایا گیا کہ یہ بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام ہیں جبکہ ان کی ماں بنو حارثہ کی آزاد کردہ باندی ہے اور ان کا باپ غلام ہے حضرت زبیر (رض) نے ان کے باپ کو پیغام بجھوا کر اپنے پاس منگوایا پھر اسے خرید کر آزاد کردیا اب حق ولاء کا مسئلہ کھڑا ہوا حضرت زبیر (رض) حق ولاء کے مدعی تھے جبکہ بنو حارثہ بھی حق ولاء کا دعوی کر رہے تھے دونوں فریق سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس قضیہ لے کر حاضر ہوگئے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے بنو حارثہ کے لیے حق ولاء کا فیصلہ کیا نیز آپ (رض) نے فرمایا ! حق ولاء کو نہیں کھینچا جاتا ، بیہقی (رح) کہتے ہیں : سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کی پہلی روایت اصح ہے چونکہ اس کے شواہد بھی ہیں جبکہ زہری کی مراسیل ردی ہیں)
29698- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب أن الزبير بن العوام قدم خيبر فرأى فتية لعسا ظرفا، فأعجبه ظرفهم فسأل عنهم فقيل: هم موالي لرافع بن خديج أمهم حرة مولاة لرافع بن خديج وأبوهم مملوك لأشجع، فأرسل الزبير فاشترى أباهم فأعتقه ثم قال لبنيه: انتسبوا إلي فإنما أنتم موالي فقال رافع: بل هم موالي ولدوا وأمهم حرة وأبوهم مملوك فاختصما إلى عثمان فقضى بولائهم للزبير. "هق"؛ وقال هذا هو المشهور عن عثمان وقد روي عن الزهري عن عثمان منقطعا بخلافه ثم روي عن الزهري أن الزبير قدم خيبر فرأى فتية أعجبه حالهم فسأل عنهم فقيل هم موالي لبني حارثة أمهم حرة مولاة لبني حارثة وأبوهم مملوك فأرسل إلى أبيهم فاشتراه فأعتقه فاختصم هو وبنو حارثة إلى عثمان بن عفان في الولاء فقضى عثمان بالولاء لبني حارثة وقال عثمان الولاء لا يجر قال "ق": الرواية الأولى عن عثمان أصح لشواهدها ومراسيل الزهري رديئة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬৯৯
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29699 ۔۔۔ عطاء بن ابی رباح کی روایت ہے کہ طارق بن مرقع نے بطور سائبہ غلام آزاد کیے (یعنی اس نیت سے غلام آزاد کئے کہ ان کا حق ولاء اور مال کسی کو نہ ملے وہ آزاد چھوڑے ہوئے ہیں) پھر طارق نے ان کی میراث لینے سے انکار کردیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میراث طارق کے ورثہ کو دے دو مگر انھوں نے بھی قبول کرنے سے انکار کردیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : یہ میراث اپنے جیسے لوگوں پر صرف کرو۔ (رواہ الشافعی والبیہقی)
29699- عن عطاء بن أبي رباح أن طارق بن المرقع أعتق أهل بيت سوائب فأتى بميراثهم فقال عمر: أعطوه ورثة طارق فأبوا أن يأخذوه فقال عمر: فاجعلوه في مثلهم من الناس. الشافعي، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০০
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29700 ۔۔۔ عطاء بن ابی رباح کی روایت ہے کہ طارق بن مرقع نے ایک غلام کو آزاد کرکے سائبہ بنادیا کچھ عرصہ بعد سائبہ غلام مرگیا اور ترکہ میں اس نے بہت سارا مال چھوڑا یہ مال طارق پر پیش کیا گیا اس نے انکار کردیا مکہ کے عامل نے معاملہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کو لکھ بھیجا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے جوابا لکھا کہ مال جمع کرکے طارق کو پیش کرو اگر قبول کرے تو اسے دے دو اور اگر انکار کر دے تو اس مال سے غلام خرید کر آزاد کردیئے جائیں چنانچہ مال طارق پر پیش کیا گیا انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا ، عامل نے اس مال سے پندرہ یا سولہ غلام خرید کر آزاد کردیئے ۔ (رواہ البیہقی فی السنن)
29700- عن عطاء بن أبي رباح أن طارق بن المرقع أعتق رجلا سائبة فمات السائبة وترك مالا فعرض ماله على طارق فأبى أن يأخذه فكتب عامل مكة إلى عمر بن الخطاب، فكتب عمر أن اجمع المال واعرضه على طارق فإن قبله فادفعه إليه، وإن لم يقبله فاشتر رقابا فأعتقهم قال فعرض على طارق فلم يقبله فاشترى به خمسة عشر أو ستة عشر مملوكا فأعتقهم. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০১
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29701 ۔۔۔ عبداللہ بن ودیعہ بن خدام کی روایت ہے کہ سالم مولائے ابو حذیفہ ہماری ایک عورت کا آزاد کردہ غلام تھا اسے سلمی بنت یعار کہا جاتا تھا اس عورت نے یہ غلام جاہلیت میں آزاد کر کے سائبہ بنادیا تھا جنگ یمامہ میں جب اسے تیر لگے اور تیروں سے گھائل ہوگیا تو حضرت عمر (رض) کے پاس اس کی میراث لائی گئی حضرت عمر (رض) نے ودیعہ بن خدام کو بلایا اور کہا : یہ تمہارے آزاد کردہ غلام کی میراث ہے تمہیں اس کے حقدار ہو ودیعہ بن خدام نے میراث لینے سے انکار کردیا اور کہا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بےنیاز کردیا ہے ہماری ایک عورت نے اسے آزاد کرکے سائبہ بنادیا تھا ہم عورت کے نافذ کئے ہوئے معاملہ میں نقص نہیں آنے دیتے سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے یہ مال بیت المال میں جمع کروا دیا ۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ والبیہقی)
29701- عن عبد الله بن وديعة بن خدام قال: كان سالم مولى أبي حذيفة مولى لامرأة منا يقال لها: سلمى بنت يعار أعتقته سائبة في الجاهلية، فلما أصيب باليمامة أتى عمر بن الخطاب بميراثه فدعا وديعة بن خدام فقال: هذا ميراث مولاكم؛ وأنتم أحق به، فقال: يا أمير المؤمنين قد أغنانا الله عنه قد أعتقته صاحبتنا سائبة فلا نريد أن نرزأ من امرأة شيئا فجعله عمر في بيت المال.
"خ" في تاريخه، "ق".
"خ" في تاريخه، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০২
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29702 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جب آزاد عورت غلام کے نکاح میں ہو اور اس سے بچہ جنے تو وہ بچہ اپنی ماں کے آزاد ہونے کی وجہ سے آزاد ہوگا اور اس کی ولاء اس کی ماں کے موالی کے لیے ہوگی اور جب اس بچہ کا باپ آزاد ہوجائے تو ولاء باپ کے موالی کے لیے ہوگی۔ عبدالرزاق، الدارمی، بیہقی و صححہ۔
29702- عن عمر قال: إذا كانت المرأة تحت المملوك فولدت منه ولدا فإنه يعتق بعتق أمه وولاؤه لموالي أمه، فإذا أعتق الأب جر الولاء موالي أبيه. "عب" والدارمي، "ق" وصححه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০৩
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29703: حضرت عمر (رض) نے فرمایا حق ولاء رشتہ داری کی طرح ہے ایک روایت میں ہے کہ حق ولاء نسب کی مانند ہے نہ بیچا جائے گا اور نہ ہبہ کیا جائے گا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ والبیہقی۔
29703- عن عمر قال: إن الولاء كالرحم - وفي لفظ: كالنسب - لا يباع ولا يوهب. "ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০৪
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29704 ۔۔۔ قبیصہ بن ذؤیب کی روایت ہے کہ (دور جاہلیت میں) جب کوئی شخص غلام کو آزاد کرکے سائبہ بنا دیتا اس کا وارث نہیں بنتا تھا جب وہ غلام کوئی جنابت کر بیٹھتا تو اس کا تاوان آزاد کرنے والے پر ہوتا تھا چنانچہ لوگ یہی شکایت لے کر سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور کہا : اے امیر المؤمنین ! ہمارے ساتھ انصاف کریں یا تو تاوان بھی آپ آدا کریں اور میراث بھی آپ کے لیے ہو یا پھر میراث بھی ہمارے لیے اور تاوان بھی ہمیں کو ادا کرنا پڑے ۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے درخواست گزار ان کے لیے میراث کا بھی فیصلہ کیا ۔ (رواہ البیہقی فی السنن)
29704- عن قبيصة بن ذؤيب قال: كان الرجل إذا أعتق سائبة لم يرثه، وإذا جنى جناية كان على من أعتقه، فدخلوا على عمر بن الخطاب فقالوا: يا أمير المؤمنين أنصفنا إما أن يكون عليكم العقل ولكم الميراث، وإما أن يكون لنا الميراث وعلينا العقل فقضى عمر لهم بالميراث. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০৫
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29705 ۔۔۔ جابر بن عبداللہ (رض) نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان کے آزاد کردہ غلام کے حق ولاء کو اپنی طرف منسوب کیا یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ کا غضب ہو اللہ تعالیٰ اس سے فدیہ قبول کریں گے اور نہ ہی توبہ ، جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر قبیلہ کی طرف حکم لکھا کہ آزاد کردہ غلام کا تاوان ادا کریں پھر حکم لکھا کہ حلال نہیں کہ کسی مسلمان کے آزاد کردہ غلام کو اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اپنی طرف منسوب کرے جو شخص ایسا کرے اس پر اللہ کی لعنت ہو (رواہ عبدالرزاق)
29705- عن جابر بن عبد الله قال: من تولى مولى رجل مسلم أو آوى محدثا فعليه غضب الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا وقال: كتب النبي صلى الله عليه وسلم على كل بطن عقوله، ثم كتب إنه لا يحل أن يتوالى مولى رجل مسلم بغير إذنه ولعن في صحيفة من فعل ذلك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭০৬
غلام آزاد کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ عتق کے احکام کے بیان میں :
29706 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ بنو ہلال کی بریرہ باندی حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) کے پاس آئی اور بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) سے مدد کی درخواست کی حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے باندی کے مالکان سے خریدنے کو کہا ، مالکان نے کہا : ہم یہ باندی اس شرط پر فروخت کریں گے کہ حق ولاء ہمیں ملے گا حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ مالکان نے باندی فروخت کرنے سے انکار کردیا ہے الایہ کہ ان کے لیے حق ولاء ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں کوئی ممانعت نہیں چونکہ جو شخص غلام باندی آزاد کرتا ہے حق ولاء اسی کو ملتا ہے حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے باندی خرید کر آزاد کردی پھر بریرہ (رض) کو خیار عتق دیا انھوں نے خیار عتق اپنایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ایک بکری کا اعلان کیا جو حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) کو بریرہ (رض) نے بطور ہدیہ دے دی بکری ذبح کرکے پکائی گئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف لائے اور کھانا مانگا گھر والوں نے گھر میں وہی بکری پکی ہوئی ہے جو بریرہ کو ملی تھی آپ نے فرمایا : یہ بریرہ کے لیے صدقہ تھی اور ہمارے لیے ہدیہ ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے گوشت تناول فرمایا ۔ عروہ کہتے ہیں حضرت عائشہ صدیقۃ (رض) نے بریرہ (رض) کو مکاتبت میں خریدا اور بدلہ میں دراہم ادا کیے ۔ اس کی کتابت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
29706- عن عروة قال: جاءت وليدة لبني هلال اسمها بريرة تستعين عائشة في كتابتها فسامت عائشة بها أهلها، فقالوا: لا نبيعها إلا ولنا ولاؤها فتركتها وقالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أبوا أن يبيعوها إلا ولهم ولاؤها فقال: لا يمنعك ذلك إنما الولاء لمن أعتق فابتاعتها عائشة وأعتقتها فخيرت بريرة فاختارت نفسها فقسم لها النبي صلى الله عليه وسلم شاة، فأهدت لعائشة منها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: هل عندكم من طعام؟ فقالت: لا إلا ذا الشاة التي أعطيت بريرة فنظر ساعة ثم قال: قد وقعت موقعها، هي عليها صدقة ولنا هدية فأكل منها"، قال عروة: ابتاعتها مكاتبة على ثمان أواق وإن لم ينقص من كتابتها شيء. "عب".
তাহকীক: