কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৭ টি

হাদীস নং: ২৩৭০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23701 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کا مہینہ بہت اچھا مہینہ ہے اس میں بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس مہینہ میں سرکش شیاطین ہتھکڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں اور اس بجز کافر کے ہر شخص کی بخشش کی جاتی ہے (رواہ الخطیب وابن النجار عن ابوہریرہ (رض))
23701- نعم الشهر شهر رمضان تفتح فيه أبواب الجنة، وتغلق فيه أبواب النيران، ويصفد فيه مردة الشياطين، ويغفر فيه إلا لمن يأبى. (الخطيب وابن النجار عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23702 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر و بھلائی کے طلبگار دربار خداوندی میں حاضر ہوجا اور اسے شر و برائی کے طالب رک جا پکارنے والا مسلسل پکارتا رہتا ہے حتی کہ یہ مہینہ بیت جائے (رواہ عن عتبۃ بن عبد)
23702- إذا جاء شهر رمضان فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب النار، وصفدت الشياطين، ونادى مناد يا طالب الخير هلم ويا طالب الشر أقصر حتى ينسلخ الشهر. (طب عن عتبة بن عبد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23703 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیاطین بیڑیوں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں اور سرکش جنات قید کرلیے جاتے ہیں دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا اور ہر رات ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ اے خیر کے طلبگار اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوجا اور اے برائی کے طلبگار رک جا ، اور اللہ تعالیٰ (رمضان المبارک کی) ہر رات جہنم سے بیشمار جہنمیوں کو آزاد کرتے ہیں۔ (رواہ الترمذی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم فی المستدرک وابو نعیم فی الحلیۃ شعب الایمان للبیہقی عن ابوہریرہ (رض) ، ) یہ حدیث 23676 نمبر پر گزر چکی ہے۔
23703- إذا كان أول ليلة من رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن، وغلقت أبواب النار، فلم يفتح منها باب، وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب، وينادي مناد كل ليلة يا باغي الخير أقبل، ويا باغي الشر أقصر، ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة. (ت هـ حب ك حل هب عن أبي هريرة) . مر برقم [23676] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23704 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے بہشتوں کے سب دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا ، دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا یہ حال پورے رمضان میں رہتا ہے سرکش جنات قید کرلیے جاتے ہیں آسمان دنیا سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے رات سے لے کر صبح تک کہ اے خیر و بھلائی کے طلبگار دربار خداوندی میں حاضر ہوجا اور اے شر و برائی کے طلبگار (برائی سے) رک جا کیا یہ کوئی بخشش کا خواستگار کہ اس کی بخشش کی جائے ؟ کیا ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کو عطا کیا جائے ؟ کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے ؟ اور اللہ تبارک وتعالیٰ افطار کے وقت ہر رات بیشمار جہنمیوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں۔ (رواہ الخطیب عن ابن عباس (رض))
23704- إذا كان أول ليلة من رمضان فتحت أبواب الجنان كلها فلم يغلق منها باب واحد الشهر كله، وغلقت أبواب النار فلا يفتح منها باب واحد الشهر كله، وغلت عتاة الجن، ونادى مناد من سماء الدنيا كل ليلة إلى انفجار الصبح يا باغي الخير هلم، ويا باغي الشر انته، هل من مستغفر يغفر له؟ هل من تائب يتاب عليه؟ هل من سائل فيعطى؟ هل من داع فيستجاب له؟ ولله عند وقت كل ليلة فطر من رمضان عتقاء يعتقهم من النار. (الخطيب عن ابن عباس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23705 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو پورا مہینہ بہشتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورا مہینہ ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، پورا مہینہ دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور کوئی دروازہ مہینہ بھر کھولا نہیں جاتا سرکش شیاطین قید کرلیے جاتے ہیں ہر رات صبح تک آسمان دنیا سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ اے بھلائی کے طلبگار بھلائی کو مکمل کرلے اور خوش ہوجا اور اے برائی کے طلبگار رک جا اور بصیرت سے کام لے ۔ کیا کوئی بخشش کا طلبگار ہے کہ اس کی بخشش کی جائے ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا مطلوب اسے عطا کیا جائے ؟ اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینہ میں افطاری کے وقت ہر رات ساٹھ ہزار جہنمیوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتے ہیں ، پھر جب رمضان کی آخری افطار کی رات ہوتی ہے تو اس میں اتنے بیشمار لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتے ہیں جتنے رمضان بھر میں (ایک ایک رات میں ساٹھ ساٹھ ہزار کو) آزاد کرچکے ہیں۔ (رواہ شعب الایمان للبیہقی عن ابن مسعود (رض))
23705- إذا كان أول ليلة من شهر رمضان فتحت أبواب الجنان كلها فلم يغلق منها باب واحد الشهر كله، وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب واحد الشهر كله وغلت عتاة الجن، ونادى مناد من السماء الدنيا كل ليلة إلى انفجار الصبح يا باغي الخير تمم وأبشر، ويا باغي الشر أقصر وأبصر، هل من مستغفر يغفر له؟ هل من تائب يتوب عليه، هل من داع يستجاب له؟ هل من سائل يعطى سؤله؟ ولله تعالى عند كل من فطر شهر رمضان كل ليلة عتقاء من النار ستون ألفا فإذا كان يوم الفطر أعتق مثل ما أعتق في جميع الشهر ثلاثين مرة ستين ألفا ستين ألفا. (هب عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23706 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا حتی کہ رمضان کی آخری رات تک آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں جو بندہ مومن رمضان کی کسی رات میں نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہر سجدہ کے بدلہ میں پندرہ سو (1500) نیکیاں لکھ دیتے ہیں (اللہ تعالیٰ جنت میں سرخ یا قوت سے علیشان مکان اس کے لیے بناتے ہیں اس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوتے ہیں ، اس میں ایک عالیشان سونے کا محل ہوتا ہے جو سرخ یاقوت سے مزین ہوتا ہے چنانچہ جب وہ رمضان کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور ہر دن صبح کی نماز سے شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں اور ماہ رمضان میں وہ جو سجدہ بھی کرتا ہے خواہ دن کو یا رات کو اس کے ہر سجدہ کے بدلہ میں جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے جو اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سوار اس کے سائے تلے پانچ سو سال تک چلتا رہے (رواہ البیھقی فی شعب الایمان عن ابی سعید)
23706- إذا كان أول ليلة من رمضان فتحت أبواب السماء فلا يغلق منها باب حتى يكون آخر ليلة من رمضان، وليس من عبد مؤمن يصلي في ليلة منها إلا كتب الله له ألفا وخمس مائة حسنة بكل سجدة، وبنى له بيتا في الجنة من ياقوتة حمراء لها ستون ألف باب منها قصر من ذهب موشح بياقوتة حمراء، فإذا صام أول يوم من رمضان غفر له ما تقدم من ذنبه إلى مثل ذلك اليوم من شهر رمضان واستغفر له كل يوم سبعون ألف ملك من صلاة الغداة إلى أن توارى بالحجاب، وكان له بكل سجدة يسجدها في شهر رمضان بليل أو نهار شجرة يسير الراكب في ظلها خمس مائة عام. (هب عن أبي سعيد) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23707 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظر رحمت سے دیکھتے ہیں اور جب اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے کسی بندہ کی طرف نظر رحمت سے دیکھ لیتے ہیں پھر اسے کبھی عذاب نہیں دیتے حق اللہ تبارک وتعالیٰ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دن لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہوچکے تھے جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے (انیسویں شب یا دتیسویں شب ) تو یکم رمضان سے آن تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کیے گئے تھے ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے فرشتے حرکت میں آجاتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نور کے ساتھ جلوہ افردز ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا وصف بیان کرنے والے اس کا وصف نہیں بیان کرسکتے چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں درحالی کہ لوگ صبح کو اپنی عید منا رہے ہوئے ہیں : اے فرشتوں کی جماعت مزدور جب اپنی کام پورا کرلیتا ہے اس کی کیا مزدوری ہونی چاہیے ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اسے پوری پوری اجرت مل جانی چاہے اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے روزہ داروں کی بخشش کردی ۔ مرواہ ابن صصری فی امالیہ عن ابوہریرہ (رض))
23707- إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نظر الله إلى خلقه وإذا نظر الله إلى عبد لم يعذبه أبدا، ولله في كل ليلة ويوم ألف الف عتيق من النار، فإذا كانت ليلة تسع وعشرين أعتق الله فيها مثل جميع ما أعتق في كل الشهر، فإذا كان ليلة الفطر ارتجت الملائكة وتجلى الجبار بنوره مع أنه لا يصفه الواصفون فيقول الملائكة وهم في عيدهم من الغد: يا معشر الملائكة يوحي إليهم ما جزاء الأجير إذا وفى عمله؟ تقول الملائكة: يوفى أجره فيقول الله تعالى: أشهدكم أني قد غفرت لهم. (ابن صصرى في أماليه عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23708 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر عطا کی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں۔ ا :۔۔۔ یہ کہ ان کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ 2:۔۔۔ یہ کہ ان کے لیے فرتے استغفار کرتے رہتے ہیں اور افطار کے وقت تک کرتے رہتے ہیں۔ 3:۔۔۔ جنت ہر روز ان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا کی ) مشقتیں اور اذیتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں ۔ 4:۔۔۔ اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔ 5:۔۔۔ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت کی جاتی ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغٖفرت کی یہ رات شب قدر ہے ؟ فرمایا : نہیں بلکہ طریقہ یہ ہے کہ جب مزدور کام ختم کرلیتا ہے تو اسے مزدوری دے دے جاتی ہے مرواہ احمد بن حنبل ومحمد بن نصر والبیھقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض))
23708- أعطيت أمتي في شهر رمضان خمس خصال لم تعطه أمة قبلهم: خلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك، وتستغفر لهم الملائكة حتى يفطروا ويزين الله كل يوم جنته، ثم يقول: يوشك عبادي الصالحون أن يلقوا عنهم المؤنة والأذى، ويصيرون إليك، ويصفد فيه مردة الشياطين ولا يخلصون فيه إلى ما كانوا يخلصون في غيره، ويغفر لهم في آخر ليلة، قيل: يا رسول الله أهي ليلة القدر؟ قال: "لا ولكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله". (حم ومحمد بن نصر، هب عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23709 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ میری امت کو رمضان کے متعلق پانچ مخصوص چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملی ہیں : 1 ۔۔۔ یہ کہ جب رمضان شریف کی پہلی رات ہوتی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کی طرف نظر رحمت سے دیکھتے ہیں اور جس کی طرف اللہ تبارک وتعالیٰ نظر رحمت سے دیکھ لیتے ہیں اسے کبھی عذاب نہیں دیتے ۔ 2 ۔۔۔ یہ کہ روزہ داروں کے منہ کی بو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ 3 ۔۔۔ یہ کہ روزہ داروں کے لیے فرشتے ہر دن و رات استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 4 ۔۔۔ یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی جنت کو حکم دیتے ہیں کہ تیار رہ اور آراستہ ہوجا قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی تھکاوٹوں سے آکر تجھ میں آرام کریں تو میرا عزت والا گھر ہے۔ 5ـ۔۔۔ کہ جب رمضان شریف کی آخر رات ہوتی ہے حق تعالیٰ شانہ سب کی مغفرت کردیتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے ایک آدمی نے عرض کیا : یہ مغفرت والی رات شب قدر ہے ؟ فرمایا نہیں کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ مزدور اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور جب اپنے کاموں سے فارغ ہوجاتے ہیں انھیں اجرت مل جاتی ہے۔ (رواہ شعب الایمان للبیہقی عن جابر (رض)) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ہیثمی نے مجمع الزوائد میں (1403) ذکر کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث احمد وبزار نے بھی روایت کی ہے اور اس میں ہشام بن زیاد ابو مقدام راوی ضعیف ہے۔
23709- أعطيت أمتي في شهر رمضان خمسا لم يعطهن نبي قبلي: أما واحدة فإنه إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نظر الله إليهم ومن نظر الله إليه لم يعذبه أبدا، وأما الثانية: فإن خلوف أفواههم حين يمسون أطيب عند الله من ريح المسك، وأما الثالثة: فإن الملائكة تستغفر لهم في كل يوم وليلة، وأما الرابعة: فإن الله تعالى يأمر جنته فيقول لها: استعدي وتزيني لعبادي أوشك أن يستريحوا من تعب الدنيا إلى داري وكرامتي، وأما الخامسة: فإنه إذا كان آخر ليلة غفر الله لهم جميعا، فقال رجل من القوم: أهي ليلة القدر؟ قال: "لا ألم تر إلى العمال يعملون فإذا فرغوا من أعمالهم وفوا أجورهم". (هب عن جابر)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23710 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے منادی فرشتہ رضوان جو کہ بہشتوں کا خازن ہے سے فرماتے ہیں : اے رضوان ! فرشتہ کہتا ہے اے میرے آقا میں حاضر ہوں حکم ہوتا ہے کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزہ داروں اور قیام کرنے والوں کے لیے بہشتوں کو آراستہ کرو اور رمضان کا مہینہ ختم ہونے تک اسے بند مت کرو جب رمضان کا دوسرا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ دوزخ کے داروغہ فرشتہ مالک کو حکم دیتے ہیں کہ اے مالک دوزخ کے دروازے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزہ داروں اور قیام کرنے والوں پر بند کر دو پھر دوزخ کے دروازے آخر رمضان تک بند کردیتے ہیں رمضان شریف کا جب تیسرا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ جبرائیل (علیہ السلام) کو حکم دیتے ہیں کہ زمین پر جاؤ اور سرکش شیاطین کو قید کرو اور گلے میں طوق ڈالو اور سرکش جنات کو بھی قید کر دو تاکہ میرے روزہ دار بندوں میں فساد نہ پھیلا سکیں نیز اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایک مقرب فرشتہ ہے جس کا سر عرش کے نیچے اور پاؤں سات زمینوں کے نیچے ہوتے ہیں اس کے دو پر ہوتے ہیں ایک مشرق میں پھیلا ہوتا ہے اور دوسرا مغرب میں ایک سرخ یاقوت کا ہوتا ہے اور دوسرا سبز زبرجدکا رمضان کی ہر رات وہ اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے ؟ـ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کی جائے ؟ ہے کوئی حاجتمند کہ اس کی حاجت پوری کی جائے ؟ اے خیر کے طلبگار خوش ہوجا اے شر کا ارادہ کرنے والے رک جا اور بصیرت سے کام لے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف میں روزہ افطار اور سحری کے وقت ایسے سات ہزار آدمیوں کو جہنم سے خلاصی رحمت فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہوچکے تھے اور جس رات شب قدر ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کو حکم فرماتے ہیں وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں ان کے ایسے سبز رنگ کے دو پر ہیں جو موتیوں اور یاقوت سے مزین وآراستہ ہوتے ہیں اور ان دو پروں کو صرف اسی رات میں کھول لیتے ہیں چنانچہ حق تعالیٰ شانہ کا فرمان ہے (آیت)” تنزل الملائکۃ والروح فیھا باذن ربھم “ ۔ فرشتے اور روح الامین (حضرت جبرائیل امین علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔ فرشتے سدرۃ المنتہی کے نیچے ہوتے ہیں اور روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہیں چنانچہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہر روزہ دار کھڑے اور خشکی وتری میں نماز پڑھنے والے کو سلام کرتے ہیں ” السلام علیک یا مومن السلام علیک یامؤمن “۔ حتی کہ جب طلوع فجر ہوتا ہے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے واپس آسمانوں پر چلے جاتے ہیں اہل آسمان حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) سے پوچھتے ہیں اے جبرائیل ! حق تعالیٰ شانہ نے ” لا الہ الا اللہ “ کے وارثوں کے ساتھ کیا کیا ؟ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ خیروبھلائی کا معاملہ کیا ہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کے مقرب فرشتے کروبین حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) سے ملاقات کرتے ہیں اور کہتے ہیں حق تعالیٰ شانہ نے ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) فرماتے ہیں حق تعالیٰ شانہ نے ان کے ساتھ خیر و بھلائی کا معاملہ کیا ہے پھر حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ دوسرے فرشتے بھی حق تعالیٰ شانہ کے دربار میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں : اے میرے فرشتو ! تم گواہ رہو میں نے رمضان شریف کے روزہ داروں کی مغفرت کردی بجز اس آدمی کے جس پر حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے سلام نہیں کیا چنانچہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) اس رات ان لوگوں پر سلام نہیں کرتے ۔ 1 ۔۔۔” شراب کا عادی “ 2 ۔۔۔ ’ جادو گر ۔ 3 ۔۔۔ شطرنج کھیلنے والا اور طبلہ بجانے والا ۔۔۔ والدین کا نافرمان۔ پھر جب عید الفطر ہوتی ہے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : اے امت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رب تعالیٰ (کے دربار) کی طرف چلو پر جب مومنین عید گاہ میں پہنچ جاتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ پکارتے ہیں کہ اے میرے فرشتوں ! بتاؤ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : ہمارے معبود اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں ! یہ میرے نیک بندے ہیں اور میرے نیک بندوں کی اولاد ہیں میں نے انھیں روزوں کا حکم دیا سو انھوں نے روزے رکھے انھوں نے میری اطاعت کی اور میرے فریضہ کو پورا کیا ایک منادی فرشتہ اعلان کرتا ہے اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کامیاب وکامران واپس لوٹ جاؤ تمہاری مغفرت ہوچکی ہے (رواہ ابن شاھین فی الترغیب عن انس (رض) اس حدیث کی سند میں عباد بن عبدالصمد راوی ہے ذھبی کہتے ہیں یہ حدیث قصہ خوانوں کی وضع کردہ حدیث کے مشابہ ہے بیہقی شعب الاایمان میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے اور اس کے عام حصے منکر ہیں البتہ حضرت انس (رض) سے ایک اور طریق مروی ہے اسے ابن حبان نے ” ضعفاء “ میں روایت کیا ہے لیکن اس سند میں اصرم بن حوشب ایک کذاب راوی ہے جب کہ ابن حوزی نے اس طریق کو موجوعات میں ذکر کیا ہے اس حدیث کا ایک تیسرا طریق بھی ہے جو حضرت انس (رض) سے مروی ہے اور اسے دیلمی نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں بھی ابان متروک راوی ہے) ۔
23710- إذا كان أول يوم من شهر رمضان نادى منادي الله عز وجل رضوان خازن الجنان يقول: يا رضوان فيقول: لبيك سيدي وسعديك فيقول: زين الجنان للصائمين والقائمين من أمة محمد، ولا تغلقها حتى ينقضي شهرهم، فإذا كان اليوم الثاني: أوحى الله إلى مالك خازن النار، يا مالك أغلق أبواب النيران عن الصائمين والقائمين من أمة محمد، ثم لا تفتح حتى ينقضي شهرهم، ثم إذا كان اليوم الثالث، أوحى الله إلى جبريل يا جبريل اهبط إلى الأرض فغل مردة الشياطين وعتاة الجن حتى لا يفسدوا على عبادي صومهم، وإن لله ملكا رأسه تحت العرش ورجلاه في تخوم الأرض السابعة السفلى وله جناحان أحدهما بالمشرق والآخر بالمغرب، أحدهما من ياقوتة حمراء والآخر من زبرجد أخضر ينادي في كل ليلة من شهر رمضان؛ هل من تائب يتاب عليه؟ هل من مستغفر يغفر له؟ هل من صاحب حاجة فيشفع لحاجته؟ يا طالب الخير أبشر يا طالب الشر أقصر وأبصر، ألا وإن الله عز وجل في كل ليلة عند السحر والإفطار سبعة آلاف عتيق من النار قد استوجبوا العذاب من رب العالمين، فإذا كان ليلة القدر هبط جبريل في كبكبة من الملائكة له جناحان أخضران منظومان بالدر والياقوت لا ينشرهما جبريل في كل سنة إلا ليلة واحدة وذلك قوله: {تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ} وأما الملائكة فهو تحت سدرة المنتهى، وأما الروح فهو جبريل يمسح بجناحه، فيسلم على الصائم والقائم والمصلي في البر والبحر، السلام عليك يا مؤمن السلام عليك يا مؤمن حتى إذا طلع الفجر صعد جبريل ومعه الملائكة فيتلقاه أهل السموات فيقولون له: يا جبريل ما فعل الرحمن عز وجل بأهل لا إله إلا الله؟ فيقول جبريل: خيرا، ثم يتلقاه الكروبيون فيقولون له: ما فعل الرحمن بالصائمين شهر رمضان؟ فيقول جبريل: خيرا، ثم يسجد جبريل ومن معه من الملائكة فيقول الجبار عز وجل: يا ملائكتي ارفعوا رؤوسكم أشهدكم أني قد غفرت للصائمين شهر رمضان إلا لمن أبى أن يسلم عليه جبريل، وجبريل لا يسلم تلك الليلة على مدمن خمر ولا عشار ولا ساحر ولا صاحب كوبة ولا عرطبة ولا عاق لوالديه، فإذا كان يوم الفطر نزلت الملائكة فوقفت على أفواه الطريق يقولون: يا أمة محمد اغدوا إلى رب كريم، فإذا صاروا في المصلى نادى الجبار يا ملائكتي ما جزاء الأجير إذا فرغ من عمله؟ قالوا: ربنا جزاؤه أن يوفى أجره، قال: "هؤلاء عبادي وبنو عبادي أمرتهم بالصيام فصاموا، وأطاعوني وقضوا فريضتي فينادي المنادي يا أمة محمد ارجعوا راشدين قد غفر لكم. (ابن شاهين في الترغيب عن أنس، وفيه: عباد بن عبد الصمد ، قال (عق) : "يروي عن أنس نسخة عامتها مناكير وله طريق ثان عن أنس رواه (حب) في الضعفاء وفيه أصرم بن حوشب كذاب . وأورده ابن الجوزي في الموضوعات من هذا الطريق وأشار إلى طريق عباد وله طريق ثالث عن أنس. رواه الديلمي وفيه: أبان متروك) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23711 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جنت کو شروع سال سے آخر سال تک آراستہ کیا جاتا ہے پس جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کے جھونکوں سے جنت کے درختوں کے پتے بجنے لگتے ہیں (جس سے دلکش آواز نکلتی ہے اس آواز کو سن کر) خوشنما آنکھوں والی حوریں کھڑی ہوجاتی ہیں اور کہتی ہیں۔ اے ہمارے پروردگار اپنے نیک بندوں کو ہمارے شوہر بنا دے تاکہ وہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ہم ان کی آنکھیں ٹھنڈی کریں ۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم فی الحلیۃ والدارقنی فی الافراد شعب الایمان للبیہقی وابوداؤد والنسائی وابن عساکر عن ابن عمرو (رض)) لیکن طریق بالا میں ولید دمشقی ایک راوی ہے اس کے بارے میں ابو حاتم کہتے ہیں یہ راوی صدوق ہے جب کہ دارقطنی اس کو متروک کہا ہے۔ یہ حدیث ایک طویل حدیث کا حصہ ہے دیکھئے ، التنزیہ 542 اولضعیفہ 1325 ۔
23711- إن الجنة لتزخرف لشهر رمضان من رأس الحول إلى الحول، فإذا كان أول ليلة من شهر رمضان هبت ريح من تحت العرش. [فتفتقت] ورق الجنة، وتجيء الحور العين يقلن: يا رب اجعل لنا من عبادك أزواجا تقر بهم أعيننا وتقر أعينهم بنا. (طب حل قط في الأفراد هب وتمام [د، ن، م] (3) كر عن ابن عمر؛ وفيه الوليد الدمشقي، قال أبو حاتم: "صدوق" وقال (قط) : "وغيره متروك") .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23712 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جنت شروع سال سے آخر سال تک ماہ رمضان کے لیے آراستہ کی جاتی ہے اور خوشنما آنکھوں والی حوریں پورا سال رمضان کے روزہ داروں کے لیے مزین ہوتی رہتی ہیں چنانچہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے جنت کہتی ہے : اے میرے پروردگار مجھے اپنے نیک بندوں کا ٹھکانا بنا دے خوشنما آنکھوں والی حوریں کہتی ہیں : یا اللہ ! اس مہینہ میں اپنے نیک بندوں کو ہمارے شوہر بنا دے چنانچہ اس مہینہ میں جو شخص اپنے کسی بھائی پر بہتان نہ باندھے اور شراب نہ پیئے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کردیتے ہیں اور جس شخص نے کسی مسلمان پر بہتان باندھا یا شراب پی لی اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے ایک سال کے عمل کو ضائع کردیتے ہیں ، رمضان کے مہینہ سے ڈرو یہ ایک مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کیا ہے جب کہ بقیہ گیارہ مہینے تم کھاتے پیتے ہو اور لذات سے لطف اندوز ہوتے ہو یہ ایک مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے لیے رکھا ہے اور یہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے۔ (رواہ البیہقی وابن عساکر عن ابن عباس (رض)) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ہیثمی نے مجمع الزوائد (3 ۔ 141، 142) میں ذکر کی ہے اور طبرانی نے بھی اسے کبیر میں روایت کیا ہے اس حدیث کی سند میں میباح بن بصطام ہے اور یہ ضعیف راوی ہے۔
23712- إن الجنة لتزين من الحول إلى الحول لشهر رمضان، وإن حور العين لتزين من الحول إلى الحول لصوام رمضان فإذا دخل رمضان قالت الجنة: اللهم اجعل لي في هذا الشهر من عبادك، ويقلن الحور العين: اللهم اجعل لنا في هذا الشهر من عبادك أزواجا، فمن لم يقذف فيه مسلما ببهتان، ولم يشرب فيه مسكرا كفر الله عنه ذنوبه، ومن قذف فيه مسلما أو شرب فيه مسكرا أحبط الله عمله لسنة، فاتقوا شهر رمضان فإنه شهر الله جعل لكم أحد عشر شهرا تأكلون فيهن وتشربون وتلذذون، وجعل لنفسه شهرا فاتقوا شهر رمضان فإنه شهر الله تبارك وتعالى. (هب كر عن ابن عباس)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23713 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا شروع سال سے آخر سال تک رمضان شریف کے لیے جنت آراستہ کی جاتی ہے جس شخص نے رمضان شریف میں اپنے آپ کو اور اپنے دن کو محفوظ رکھا اللہ تعالیٰ خوشنما آنکھوں والی حوروں سے اس کی شادی کرا دیتے ہیں اور اسے جنت کے عالیشان محلات میں سے ایک محل عطا فرماتے ہیں جس شخص نے اس مہینہ میں کوئی برائی کی یا کسی مومن پر بےجا تہمت لگائی یا شراب پی اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے اعمال کو اکارت کردیتے ہیں ماہ رمضان سے ڈرو چونکہ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا مہینہ ہے اور بقیہ گیارہ مہینے تمہارے لیے ہیں جس میں تم کھاتے ہو اور سیراب ہوتے ہو ۔ ماہ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اس میں تم اپنی حفاظت کرو ۔ (رواہ ابن صصری فی امالیہ عن ابی امامۃ واثلہ وعداللہ بن بسر معا)
23713- إن الجنة تزين من الحول إلى الحول لشهر رمضان من صان نفسه ودينه في شهر رمضان زوجه الله من الحور العين وأعطاه قصرا من قصور الجنة، ومن عمل سيئة أو رمى مؤمنا ببهتان أو شرب مسكرا في شهر رمضان أحبط الله عمله سنة، فاتقوا شهر رمضان فإنه شهر الله جعل الله لكم أحد عشر شهرا تأكلون فيها وتروون، وشهر رمضان شهر الله فاحفظوا فيه أنفسكم. (ابن صصرى في أماليه عن أبي أمامة وواثلة وعبد الله بن بسر معا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23714 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو وعظ کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے بہت مبارک مہینہ ہے ، اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا ہے اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے اس کے لیے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور وزہ دار کے ثواب کی مانند اس کا ثواب ہوگا مگر اس روزہ دار کے ثواب میں سے کچھ کمی نہیں کی جائے گی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ثواب اللہ تبارک وتعالیٰ ایک کھجور سے کوئی افطار کرائے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے اس پر بھی رحمت فرما دیتے ہیں اور جس شخص نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا اللہ تبارک وتعالیٰ (قیامت کے دن ) میرے خوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزدای ہے اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں جن سے تمہیں چارہ کار نہیں پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے اللہ تبارک وتعالیٰ کو راضی کرو کلمہ طیبہ استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت ی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔ مرواہ ابن خزیمہ والبیھقی فی شعب الایمان والاصبھانی فی الترغیب عن سلمان ) کلام :۔۔۔ حافظ ابن حجر (رح) کہتے ہیں اس حدیث کا دارومدار علی بن زید بن جدعان پر ہے اور ضعیف راوی ہے اور اس سے یوسف بن زیاد روایت کرتا ہے اور یہ بہت ضعیفہ راوی ہے گو کہ اس کا متابع بھی ہے کہ ایاس بن عبدالغفار نے علی بن زید سے روایت کی ہے لیکن ابن حجر (رح) کہتے ہیں ایاس بن عبدالغفار کو نہیں جانتا ۔
23714- يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله تعالى صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا، من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه، ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه، وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة، وشهر المواساة وشهر يزداد فيه رزق المؤمن، من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجره شيء، يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو شربة من ماء، ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة، وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار، فاستكثروا فيه من أربع خصال خصلتان ترضون بهما ربكم، وخصلتان لا غنى لكم عنهما؛ فأما الخصلتان اللتان ترضون بهما ربكم فشهادة أن لا إله إلا الله وتستغفرونه، وأما اللتان لا غنى عنهما فتسألون الله الجنة، وتعوذون به من النار. (ابن خزيمة وقال: "إن صح الخبر، هب والأصبهاني في الترغيب عن سلمان". وقال الحافظ ابن حجر في أطرافه مداره على علي بن زيد بن جدعان وهو ضعيف؛ ويوسف ابن زياد الراوي عنه ضعيف جدا، وتابعه اياس بن عبد الغفار عن علي بن زيد عند (هب) " قال ابن حجر: "وإياس ما عرفته،" انتهى) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23715 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر لوگوں کو علم ہوتا کہ رمضان میں کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ سال بھر رمضان ہی رہے چنانچہ شروع سال سے آخر سال تک رمضان شریف کے لیے جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے جب رمضان المبارک کا پہلا دن ہوتا ہے عرش عظٰم کے نیچے دلکش ہوا چلتی ہے جس سے جنت کے درختوں کے پتے ہلتے ہیں اور ان سے سریلی آواز پیدا ہوتی ہے خوشمنا آنکھوں والی حوریں اس منظر کو دیکھ کر کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار اپنے نیک بندوں میں سے اس مہینہ میں ہمارے شوہر ہمیں نصیب فرما تاکہ ان کے ذریعہ ہمری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں جو بندہ بھی رمضان کے ایک دن کو روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ خوشنما موتی کے بنے ہوئے خیمہ میں حورعین کے ساتھ اس کی شادی کرا دیتے ہیں چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے (وحور مقصورات فی الخیام) (یعنی خیموں میں نظریں جھکائی ہوئی حوریں بیٹھی ہیں ) جنت کی ہر عورت کے بدن پر ستر جوڑے ہوتے ہیں جن میں سے ہرجوڑے کا رنگ الگ اور جدا ہے ہر عورت کے پاس ستر قسم کی خوشبو ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے جدا جدا ہوتی ہیں جنت کی ہر عورت کے پاس ستر ہزار (70000) خادمائیں ہوتی ہیں ہو خادمہ کے پاس ایک برتن ہوتا ہے جس میں رنگا رنگ کھانے سجے ہوتے ہیں ہر لقمہ کی لذت الگ اور جدا ہوتی ہے جنت کی ہر عورت کے پاس سرخ یاقوت کے بنے ہوئے ستر تخت ہوں گے ہر تخت پر ستر بچھونے بچھے ہوتے ہیں جو دبیز ریشم کے بنے ہوئے ہوتے ہیں ہو بچھونے پر ستر مسہریاں ہوتی ہیں جنتی عورت (حورعین ) کے شوہر کو بھی اسی جیسا تخت عطا کیا جاتا ہے جو سرخ یاقوت سے بنا ہوتا ہے اور خوشنما موتیوں سے سجا ہوتا ہے اس کے ہاتھوں پر سونے کے دو خوبصورت کنگن چڑھے ہوئے ہوتے ہیں یہ سب انعامات رمضان شریف کے ہر ایک دن کے بدلہ میں ہیں اور اس کی دوسری نیکیوں حساب اس کے علاوہ ہے۔ مرواہ ابن خزیمۃ وابو یعلی والطبرانی والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی مسعود الغفاری ) کلام :۔۔۔ ابن خزیمہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے حتی کہ ابن جوزی (رح) نے یہ حدیث موضوعاتا میں شمار کی ہے گو کہ ان کی ہر رائے صواب نہیں مزید دیکھے التنزیہ 1541532 والموضوعات 1892
23715- لو يعلم العباد ما في رمضان لتمنت أمتي أن يكون رمضان السنة كلها إن الجنة لتزين لرمضان من رأس الحول إلى الحول، فإذا كان أول يوم من رمضان هبت ريح من تحت العرش فصفقت ورق الجنة فتنظر الحور إلى ذلك فيقلن يا رب اجعل لنا من عبادك في هذا الشهر أزواجا تقر أعيننا بهم وتقر أعينهم بنا، فما من عبد يصوم يوما من رمضان إلا زوج من الحور العين في خيمة من درة مجوفة، مما نعت الله تعالى: {حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ} على كل امرأة منهن سبعون حلة ليس منها حلة على لون أخرى، ويعطى سبعين لونا من الطيب ليس منه لون على ريح الآخر لكل امرأة منهن سبعون ألف وصيفة وسبعون ألف وصيف مع كل وصيفة من ذهب فيها لون طعام يجد لآخر لقمة منها لذة لم يجد لأوله، لكل امرأة منهن سبعون سريرا من ياقوتة حمراء على سرير سبعون فراشا بطائنها من استبرق فوق كل فراش سبعون أريكة، ويعطى زوجها مثل ذلك على سرير من ياقوت أحمر موشحا بالدر عليه سواران من ذهب هذا بكل يوم صامه من رمضان سوى ما عمل من الحسنات. (ابن خزيمة وأشار إلى ضعفه ع، طب ، هب عن أبي مسعود الغفاري؛ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23716 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان شریف کا مہینہ آتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ حاملین عرش کو حکم دیتے ہیں کہ تسبیح کرنے سے رک جاؤ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے لیے استغفار کرو (رواہ الدیلمی عن علی (رض))
23716- إذا دخل شهر رمضان أمر الله حملة العرش أن يكفوا عن التسبيح ويستغفروا لأمة محمد والمؤمنين. (الديلمي عن علي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23717 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اللہ تباوک وتعالیٰرمضان المبارک کی پہلی رات میں کل اہل قبلہ کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ مرواہ ابو یعلی وابن خزیمۃ والضیاء المقدسی عن انس )
23717- إن الله تعالى يغفر في أول ليلة من شهر رمضان لكل أهل القبلة. (ع وابن خزيمة ض عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23718 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : سبحان اللہ ! کس چیز کا تم استقبال کر رہے ہو اور کون سی چیز تمہارا استقبال کر رہی ہے ؟ وہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے اس کے پہلی رات میں اللہ تبارک وتعالیٰ اسن قبلہ والوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں صحابہ (رض) نے عرض کیا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافق کی مغفرت بھی ہوجاتی ہے ؟ فرمایا منافق تو کافر ہے اور اس انعام میں کافر کا کچھ حصہ نہیں (رواہ البیھقفی فی شعب الایمان عن انس)
23718- سبحان الله ما تستقبلون وماذا يستقبلكم؟ شهر رمضان يغفر الله في أول ليلة لكل أهل هذه القبلة، قيل: يا رسول الله المنافق؟ قال: "المنافق كافر وليس للكافر في ذلك شيء". (هب عن أنس) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23719 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رمضان شریف کی ہر رات چھ لاکھ انسانوں کو دوزخ کی آگ سے خلاصی مرحمت فرماتے ہیں اور جب رمضان کی آخری رات ہوتی ہے تو اس رات میں اتنی مقدار میں انسان آگ سے خلاص ہودتے ہیں جتنوں کو اس سے پہلے خلاصی مل چکی ہوتی ہے (رواہ البیھقی فی شعبن الایمان عن الحسن مرسلا)
23719- إن لله تعالى عز وجل في كل ليلة من رمضان ست مائة ألف عتيق من النار فإذا كان آخر ليلة أعتق بعدد من مضى. (هب عن الحسن، مرسلا) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৭২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ (الإکمال)
23720 ۔۔۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ہر روز افطار کے وقت بیشمار لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزادی ملتی ہے اور یہ امر رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے (رواہ ابن ماجہ عن جابر واحمد بن حنبل والطبرانی والضیاء المقدسی والبیھقی فی شعب الایمان عن ابی امامہ )
23720- إن لله عز وجل عند كل فطر عتقاء من النار وذلك في كل ليلة. (هـ عن جابر. حم طب ض هب عن أبي أمامة) .
tahqiq

তাহকীক: