কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩২৪ টি

হাদীস নং: ১০২৯৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کی شرائط
10293 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کئے تھے، سو اس نے زمین کے سب سے بڑا عالم سے پوچھا اس نے ایک راھب کا پتہ بتایا یہ شخص اس کے پاس آیا اور بتایا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ راھب نے کہا نہیں لہٰذا اس نے راھب کو بھی قتل کردیا اور اس طرح اپنے سو قتل مکمل کرلئے، پھر اس نے زمین کے سب سے بڑے عالم سے پوچھا تو اس نے ایک آدمی کا پتہ بتایا، اس نے بتایا کہ وہ سو قتل کرچکا ہے کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ اس آدمی نے کہا ہاں، اس کے اور توبہ کے درمیان کیا رکاوٹ ہے، فلاں فلاں جگہ جاؤ، وہاں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ رہو اور اللہ کی عبادت کرتے رہو اور واپس اپنی سرزمین کی طرف مت جاؤ کیونکہ وہ بری سرزمین ہے، چنانچہ وہ روانہ ہوا، جب آدھا راستہ طے کرچکا تو اس کا انتقال ہوگیا اور اس کے بارے میں رحمت اور عذات کے فرشتوں کا جھگڑا ہونے لگا، لہٰذا رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ ہمارے پاس توبہ کر کے اور اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرکے آیا ہے اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی بھلائی کا کام نہیں کیا، چنانچہ ان کے پاس ایک فرشتہ آدمی کی شکل میں آیا تو انھوں نے اس کو اپنے درمیان منصف بنا لیا، اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمینوں کو ناپو، جس زمین کے زیادہ قریب ہوگا، اسی کا فیصلہ اس کے لیے کردیا جائے، چنانچہ انھوں نے زمین کو ناپا اور نیکوں کی زمین سے زیادہ قریب پایا، لہٰذا رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے “۔ (ابن حبان بروایت حضرت ابو سعید (رض))
10297 كان فيمن كان قبلكم رجل قتل تسعة وتسعين نفسا ، فسأل عن أعلم أهل الارض ؟ فدل على راهب ، فأتاه فقال : إنه قتل تسعة وتسعن نفسا ، فهل له من توبة ؟ فقال : لا فقتهله فكمل به المائة ، ثم سأل عن أعلم أهل الارض فدل على رجل ، فقال : إنه قد قتل مائة ، فهل له من توبة ؟ قال : نعم من يحول بينك وبين التوبة ؟ ائت أرض كذا وكذا ، فان بها ناسا يعبدون الله ، فا عبد الله ولا ترجع إلى أرضك فانها أرض سوء ، فانطلق حتى إذا نصف الطريق أتاه الموت فاختصمت فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب ، فقالت ملائكة الرحمة : جاءنا تائبا مقبلا بقلبه

إلى الله تعالى ، وقالت ملائكة العذاب : إنه لم يعمل خيرا قط ، فأتاهم ملك في صورة آدمي ، فجعلوه بينهم ، فقال : قيسوا ما بين الارضين ، أيهما كان أقرب فهي له ، فقاسوه فوجدوه أدنى إلى الارض التى أراد فقبضه بها ملائكة الرحمة.

(حب عن أبي سعيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ننانوے قتل کے بعد توبہ
10294 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک شخص برے کام کرتا تھا اور اس نے ننانوے قتل کئے تھے اور سب کے سب ظلماً قتل کئے تھے کوئی بھی حق کی خاطر قتل نہ کیا تھا، چنانچہ وہ ایک راھب کے پاس آیا اور پوچھا کہ اے راھب ! ایک شخص نے ستانوے (97) قتل کئے ہیں سب کے سب ظلم کرتے ہوئے، کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ راھب نے کہا نہیں وہ توبہ نہیں کرسکتا، اس شخص نے راھب کو بھی قتل کردیا، پھر دوسرے راھب کے پاس آیا اور پوچھا ، اے راھب ایک شخص نے اٹھانوے قتل کئے ہیں کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ راھب نے کہا نہیں، اس شخص نے اس راھب کو قتل کردیا، پھر ایک اور راھب کے پاس آیا اور پوچھا کہ ایک شخص نے کوئی برائی نہیں چھوڑی اور ظالمانہ طریقے سے ننانوے (99) قتل کئے ہیں کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ راھب نے کہا نہیں، اس شخص نے اس راھب کو بھی قتل کردیا، اور پھر ایک اور راھب کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ ایک شخص ہے جس نے کوئی برائی ایسی نہیں چھوڑی جو نہ کی ہو یہاں تک کہ ظلماً سو قتل بھی کرچکا ہے کیا وہ توبہ کرسکتا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ خدا کی قسم اگر میں تجھ سے یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتے تو یہ جھوٹ ہوگا، یہاں ایک جگہ ہے جہاں کچھ لوگ عبادت کرتے رہتے ہیں تو بھی ان کے پاس چلا جا اور اللہ کی عبادت کر، چنانچہ اس نے توبہ کی اور وہاں سے روانہ ہوگیا، جب آدھا راستہ طے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف فرشتہ بھیجا جس نے اس کی روح قبض کرلی، اتنے میں رحمت کے اور عذاب کے فرشتے بھی پہنچ گئے اور اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک اور فرشتہ بھیجا تو اس نے کہا یہ کہ جس فریق کے زیادہ قریب ہوگا انہی میں سے سمجھا جائے گا چنانچہ دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو، چنانچہ فرشتوں نے اس کو نیک لوگوں کے علاقے کے قریب پایا ایک چیونٹی کے فاصلے کے برابر تو اس کو معاف کردیا گیا “۔ (طبرانی، مسند ابی یعلی، وابن عساکر بروایت حضرت معاویہ (رض))
10298 إن رجلا يعمل السيئآت وقتل سبعة وتسعين نفسا كلها يقتل ظلما بغير حق ، فخرج فاتى ديرانا ، فقال : يا راهب إن الآخر قتل سبعة وتسعين نفسا ، كلها تقتل ظلما بغير حق ، فهل له من توبة ؟ قال : لا ، ليس لك توبة فضربه فقتله ، ثم جاء آخر فقال له : يا راهب إن الآخر قد قتل ثمانية وتسعين نفسا ، كلها تقتل ظلما بغير حق ، فهل له من توبة ؟ قال : لا ليست له توبت ، فضربه فقتله ، ثم أتى آخر ، فقال له : إن الآخر لم يدع من الشر شيئا ، قد قتل تسعة وتسعين نفسا كلها تقتل ظلما بغير حق ، فهل له من توبة ؟ قال : لا ، فضربه فقتله ، ثم أتى راهبا آخر فقال له : إن الآخر لم يدع من الشر شيئا إلا قد عمله قد قتل مائة نفس ، كلها تقتل ظلما بغير حق ، فهل له من توبة ، فقال له ، والله لئن قلت لك : إن الله لا يتوب على من تاب إليه لقد كذبت ، ههنا دير فيه قوم متعبدون فاتهم فاعبد اللهم معهم فخرج تائبا ، حتى إذا كان في نصف الطريق بعث الله إليه ملكا فقبض نفسه فحضرته ملائكة العذاب وملائكة الرحمة فاختصموا فيه فبعث الله إليهم ملكا فقال لهم : إلى أي الفريقين أقرب فهو منهما فقاسوا ما بينهما فوجدوه أقرب إلى قرية التوابين بقيس أنملة فغفر له.(طب ع وابن عساكر عن معاوية).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৯৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ننانوے قتل کے بعد توبہ
10295 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی بندہ ایسا نہیں جس کا پردہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رکھا ہو اور آخرت میں اس کو رسوا کردے “۔ (طبرانی، خطیب، بروایت حضرت ابو موسیٰ (رض))
10299 ما ستر الله على عبد في الدنيا فيعيره بها يوم القيامة.(طب والخطيب عن أبي موسى).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ننانوے قتل کے بعد توبہ
10296 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جس شخص کا پردہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں رکھا، آخرت میں بھی اس کا پردہ رکھیں گے “۔ (ابن النجار عن علقمہ المزنی عن ابیہ )
10300 ما ستر الله على عبد في الدنيا إلا ستر عليه في الآخرة.(ابن النجار عن علقمة المزني عن أبيه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10297 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ندامت ہی توبہ ہے “۔ (مستدرک بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت انس (رض) اور مسند احمد، بخاری فی التاریخ ابن ماجہ بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
10301 الندم توبة.(ك هب عن أنس) (حم تخ ك ه عن ابن مسعود).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10298 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب گناہ ہوجائے تو گناہ پر شرمندہ ہونا ہی خالص توبہ ہے پھر اللہ سے معافی مانگو کہ دوبارہ کبھی اس کی طرف نہ جاؤگے “۔ (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ بروایت حضرت امی (رض))
10302 التوبة النصوح الندم على الذنب حين يفرط منك ، فتستغفر الله ، ثم لا تعود إليه أبدا.(ابن أبي حاتم وابم مردويه عن أبي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10299 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ندامت اور شرمندگی توبہ ہے اور گناہ سے توبہ کرنے و الا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو “۔ (طبرانی، حلیہ ابی نعیم بروایت حضرت ابو سعید الانصاری (رض))
10303 الندم توبة ، والتائب من الذنب كمن لا ذنب له.(طب حل عن أبي سعيد الانصاري).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10300 ۔۔۔ فرمایا کہ ” گناہ سے توبہ یہ ہے کہ تو آئندہ کبھی اس گناہ کو نہ کرے “۔ (ابن مردیہ، بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابن مسعود (رض))
10304 التوبة من الذنب أن لا تعود إليه أبدا.(ابن مردويه هب عن ابن مسعود).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10301 ۔۔۔ فرمایا کہ ” خواہش کرنے والے کی خواہش معاف ہے جب تک اس پر عمل نہ کرے اور کہے نہ “۔ (مسند احمد بروایت حضرت ابوہریرہ (رض))
10305 الهوى مغفور لصاحبه ما لم يعمل به أو يتكلم.(حم عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10302 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میری امت سے خطا اور بھول اور وہ چیزیں معاف کردی گئیں جن پر ان کو مجبور کیا گیا ہو “۔ (بیھقی فی شعب الایمان بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10306 وضع على أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه.(هب عن ابن عمر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10303 ۔۔۔ فرمایا کہ ” میری امت سے خطا اور بھول اور وہ چیزیں اٹھالی گئیں جن پر ان کو مجبور کیا گیا ہو “۔ (طبرانی بروایت حضرت ثوبان (رض))
10307 رفع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه.(طب عن ثوبان).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10304 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے، ایک سونے والے سے اس کے جاگنے تک، کسی بیماری میں مبتلا شخص صحت یاب ہونے تک اور بچے سے، بڑے ہونے تک “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ، مستدرک حاکم بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض))
10308 رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ ، وعن المبتلى حتى يبرأ ، وعن الصبي حتى يكبر.(حم د ن ه ك عن عائشة)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩০৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10305 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے، اول وہ پاگل جس کے عقل مغلوب ہوچکی ہو، اس کے صحت مند ہونے تک ، دوم، سونے والے سے اس کے جاگنے تک اور سوم بچے سے اس کے بڑے ہونے تک “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، مستدرک حاکم، بروایت حضرت علی اور حضرت عمر (رض) عنھما)
10309 رفع القلم عن ثلاثة : عن المجنون المغلوب على عقله حتى يبرأ ، وعن النائم حتى يستيقظ ، وعن الصبي حتى يحتلم.(حم د ك عن علي وعمر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10306 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے، سونے والے سے اس کے جاگنے تک، بچے سے اس کے جوان ہونے تک، اور بیوقوف سے اس کے عقل مند ہونے تک “۔ (ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک حاکم بروایت حضرت علی (رض)
10310 رفع القلم عن ثلاثة : عن النائم حتى يستيقظ ، وعن الصبي حتى يشب ، وعن المعتوه حتى يعقل.(ت ه ك عن علي رضي الله عنه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10307 ۔۔۔ فرمایا کہ ” دیوان تو تین ہیں، چنانچہ ایک دیوان (رجسٹر) تو وہ یہ ہے (کہ اس میں درج لوگوں ) کو اللہ تعالیٰ بالکل معاف نہیں کریں گے، دوسرا دیوان وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ کو بالکل پروانہ ہوگی، اور تیسرا دیوان وہ ہے جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ بھی نہ چھوڑیں گے۔۔۔ لہٰذا پہلا دیوان تو وہ ہے جو مشرکین کا ہے اور دوسردیوان جس کی اللہ تعالیٰ کو بالکل پروا نہ ہوگی تو یہ بندے کا اپنی جان پر ظلم ہے کہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملے کو درست نہ رکھا مثلاً اگر اس نے کوئی روزہ چھوڑا تھا یا نماز چھوڑی تھی، سو اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کو معاف فرمادے گا اور اس کے گناہوں کو نظر انداز کردے گا “۔

اور تیسرا دیوان جس میں سے اللہ تعالیٰ کچھ نہ چھوڑیں گے تو وہ لوگوں کے ظلم ہیں ایک دوسرے پر مثلاً قصاص وغیرہ۔ (مسند احمد، مستدرک حاکم بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض))
10311 الدواوين ثلاثة : فديوان لا يغفر الله منه شيئا ، وديوان لا يعبأ الله به شيئا ، وديوان لا يترك الله منه شيئا ، فأما الديوان الذي لا يغفر الله منه شيئا فالاشراك الله ، وأما الديوان الذي لا يعبأ الله به شيئا فظلم العبد نفسه فيما بينه وبين ربه من صوم يوم تركه ، أو صلاة تركها فان الله يغفر ذلك إن شاء ويتجاوز ، وأما الديوان الذي لا يترك الله منه شيئا فمظالم العباد بينهم القصاص لا محالة.(حم ك عن عائشة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10308 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک گناہ ایسا ہے جو معاف نہ ہوگا، ایک ایسا ہے جسے چھوڑا نہ جائے گا، اور ایک ایسا ہے جو معاف ہوجائے گا، لہٰذا جو معاف نہ ہوگا وہ تو شرک ہے اور جو معاف ہوجائے گا تو وہ وہ ہے جس کا تعلق بندہ اور اس کے ساتھ ہے اور وہ جو چھوڑا نہ جائے گا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت سلمان (رض))
10312 ذنب لا يغفر ، وذنب لا يترك ، وذنب يغفر ، فاما الذي لا يغفر فالشرك بالله ، وأما الذي يغفر : فذنب العبد بينه وبين الله عزوجل ، وأما الذي لا يترك فظلم العباد بعضهم بعضا.(طب عن سلمان).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فصل۔۔۔ توبہ کے احکام میں

ان لوگوں کا ذکر جن سے تکالیف اٹھالی گئیں
10309 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک گناہ معاف ہوجائے گا اور ایک معاف نہ ہوگا اور ایک میں بدلہ دیا جائے گا، وہ گناہ جو معاف نہ ہوگا وہ تو شرک ہے اور جو معاف ہوجائے گا وہ تیرا عمل ہے جو تیرے اور تیرے رب کے درمیان ہے اور وہ گناہ جس کا بدلہ دیا جائے گا وہ تیرا (مسلمان) بھائی پر ظلم کرنا ہے “۔ (طبرانی اوسط بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10313 ذنب يغفر ، وذنب لا يغفر ، وذنب يجازى به ، فاما الذنب الذي لا يغفر فالشرك بالله ، وأما الذي يغفر فعملك بينك وبين ربك ، وأما الذنب الذي يجازى به فظلمك أخاك.(طس عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
10310 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب کوئی شخص کسی نیکی کا ارادہ کرلیتا ہے اور پھر اسے کر بھی لیتا ہے تو وہ دس گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے اور جب کسی نیکی کا ارادہ کرلیتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو ایک ہی نیکی لکھی جاتی ہے، اور جب کسی برائی کا ارادہ کرلے اور اسے کر بھی لے تو بھی ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے اور جب کسی برائی کا ارادہ کرلے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کی ایک نیکی لکھی جاتی ہے کیونکہ اس نے ایک برائی چھوڑی ہے “۔ (ھنادبروایت حضرت انس (رض))
10314 إذا هم الرجل بحسنة فعملها كتبت له عشر حسنات ، وإذا هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة ، وإذا هم بسيئة فعملها كتبت عليه سيئة ، وإذا هم بسيئة فلم يعملها كتبت له حسنة لتركه السيئة.(هناد عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکلملہ
10311 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک تمہارے رب بہت رحم کرنے والا ہے، اگر کسی نے کسی نیکی کا ارادہ کرلیا اور اس پر عمل نہ کیا تو ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کرلے تودس گنا سے سات گنا تک لکھی جاتی ہے بلکہ کئی گنا زیادہ، اور اگر کسی نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر عمل کرلیا تو اس کی ایک برائی لکھی جائے گی یا اللہ تعالیٰ اسے بھی مٹادیں گے، اور وہی ہلاک ہوگا جس نے ہلاک ہونا ہے “۔ (مسند احمد، ابن حبان بیھقی فی شعب الایمان خطیب بروایت حضرت ابن عباس (رض))
10315 إن ربكم رحيم من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة فان عملها كتبت له عشرة أضعاف إلى سبعمائة ضعف.إلى أضعاف كثيرة ومن هم بسيئة فلم يعملها كتبت له حسنة ، فان عملها كتبت عليه سيئة واحدة أو محاها الله ، ولا يهلك على الله إلا هالك.(حم حب هب الخطيب عن ابن عباس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০৩১৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا ارادہ کرتے ہی توبہ مل جاتی ہے
10312 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کسی نے کسی نیکی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر عمل کرلیا تو اس کے لیے دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور سات اس جیسی اور لکھی جائیں گی، اور اگر کسی نے کسی برائی کا ارادہ کیا تو اس پر لکھی نہ جائے گی، اگر اس نے اس برے ارادے پر عمل نہ کیا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر اس پر عمل کرلیا تو اس کی ایک برائی لکھی جائے گی اور اگر نہ عمل کیا تو نہ لکھی جائے گی۔ (مسند احمد، بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10316 من هم بحسنة ولم يعملها كتبت له حسنة ، فان عملها كتبت له بعشر أمثالها إلى سبعمائة وسبع أمثالها ، ومن هم بسيئة لم تكتب عليه ، فان لم يعملها كتبت له حسنة ، فان عملها كتبت عليه سيئة واحدة فان لم يعملها لم تكتب عليه.(حم عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক: