কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
توبہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২৪ টি
হাদীস নং: ১০২৫৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10253 ۔۔۔ فرمایا کہ ” فقراء اللہ کے دوست ہیں، اور مریض اللہ کے محبوب لوگ ہیں، سو جو توبہ کرکے مراتو وہ جنتی ہے، لہٰذا توبہ کرو اور مایوس مت ہو کیونکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے مغرب کی جانب یہ بند نہ ہوگا جب تک مغرب سے سورج طلوع نہ ہوجائے “۔ (جعفر فی کتاب العروس والدیلمی بروایت حضرت علی (رض))
10257 إن الله تعالى يقبل توبة العبد قبل أن يموت بيوم.(حم عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৫৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10254 ۔۔۔ فرمایا کہ ” قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، کوئی بھی شخص جو اپنی موت سے پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں “۔ (بغوی عن رجل من الصحابہ (رض))
10258 والذي نفسي بيده ما من أحد يتوب قبل موته إلا قبل الله توبته.(البغوي عن رجل من الصحابة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৫৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10255 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس کی موت سے آدھے دن پہلے تک قبول فرماتے ہیں “۔ (مسند احمد عن رجل (رض))
10259 إن الله تعالى هو يقبل توبة العبد قبل أن يموت بنصف يوم.(حم عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتے ہیں اگرچہ دوپہر کے وقت مرنے سے پہلے ہی توبہ کی ہو۔ مسند احمد عن رجل
10260 إن الله تعالى يقبل توبة العبد قبل أن يموت بضحوة.(حم عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10257 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی موت سے آدھا دن پہلے تک توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ قبول نہ کریں “۔ (بغوی عن رجل من الصحابہ (رض))
10261 ما من إنسان يتوب إلى الله تعالى قبل أن يموت بنصف يوم إلا قبل الله توبته.(البغوي عن رجل من الصحابة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10258 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے چاشت کے وقت تک توبہ کرلے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں “۔ (بغوی عن رجل (رض))
10262 ما من إنسان يتوب إلى الله عزوجل قبل أن يموت بضحوة إلا قبل الله عزوجل توبته.(البغوي عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10259 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر نزع کی کیفیت نہ شروع ہوجائے “۔ (مسند احمد عن رجل)
10263 إن الله تعالى يقبل توبة العبد ما لم يغفرغر بنفسه.(حم عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10260 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی زندگی گزارتے ہوئے نزع کی حالت طاری ہونے سے پہلے توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ قبول نہ کریں “۔ (بغوی عن رجل)
10264 ما من إنسان يتوب إلى الله عزوجل قبل أن يغرغر بنفسه في سوقه إلا قبل الله توبته.(البغوي عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10261 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں، اور بیشک سال تو بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر کسی نے اپنی موت سے ایک مہینے پہلے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیتے ہیں، اور بیشک مہینہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر کسی نے اپنی موت سے ایک جمعۃ پہلے بھی توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں اور بیشک سال تو بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر کسی نے اپنی موت سے ایک مہینے پہلے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ قبول فرمالیتے ہیں، اور بیشک مہینہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، اگر کسی نے اپنی موت سے ایک جمعۃ پہلے بھی توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں اور بیشک جمعۃ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے اگر کوئی اپنی موت سے صرف ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول کرلیتے ہیں اور بیشک ایک دن بھی بہت ہوتا ہے اگر کوئی نزع کی حالت طاری ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول کرلیتے ہیں “۔ (خطیب بروایت حضرت عبادۃ بن الصامت (رض))
10265 ما من عبد تاب قبل أن يموت بسنة تاب الله عليه ، إن سنة لكثير ، من تاب قبل أن يموت بشهر تاب الله عليه ، إن الشهر لكثير ، من تاب قبل أن يموت بجمعة ، تاب الله عليه ، إن جمعة لكثير ، من تاب قبل أن يموت بيوم ، تاب الله عليه ، إن يوما لكثير ، من تاب قبل أن يغرغر تاب الله عليه.(الخطيب عن عبادة بن الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10262 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر کوئی شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کرلی جاتی ہے، حتی کہ ایک مہینہ، پھر جمعۃ اور ایک ہچکی تک کا ذکر فرمایا “۔ (ابن جریر، مستدرک حاکم، بیھقی فی شعب الایمان ، خطیب فی المتفق والمفترق بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10266 من تاب قبل موته بعام تيب عليه حتى قال بشهر ، حتى قال بجمعة ، حتى قال بفواق (ابن جرير ك هب والخطيب في المتفق والمفترق عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৭
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
10263 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کوئی ایسا مومن بندہ نہیں جو اپنی موت سے ایک مہینہ پہلے توبہ کرلے اور اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمائیں اور اس سے بھی کم، اس کی موت سے ایک دن پہلے یا ایک گھنٹہ پہلے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ اور اخلاص کو جانتے ہیں اور توبہ قبول فرمالیتے ہیں “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابن عمر (رض))
10267 ما من عبد مؤمن يتوب إلى الله عزوجل قبل الموت بشهر إلا قبل الله منه وأدنى من ذلك قبل موته بيوم أو ساعة يعلم الله منه التوبة والاخلاص إلا قبل الله منه.(طب عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৮
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10264 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی توبہ قبول کرتے ہیں جب تک اس بندے کی روح اس کے جسم میں موجود ہو اور اس کی زندگی میں صرف دس چھوٹی چھوٹی ہچکیاں ہی باقی ہوں “۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا گیا کہ یہ دس چھوٹی ہچکیاں کیا ہیں ؟ تو آپ (رض) سے نے فرمایا یعنی جیسے پلک جھپکنا “۔ (دیلمی بروایت حضرت ابوھریرۃ (رض))
10268 إن الله عز وجل ليقبل التوبة من عبده ما دام الروح في جسده ولم يبق من أجله إلا عشير فواق ، قيل لابي هريرة : ما عشير فواق ؟ قال : طرف لمحة.(الديلمي عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৬৯
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10265 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جب شیطان نے دیکھا کہ انسان کھوکھلا ہے تو کہنے لگا کہ (یا اللہ ! ) آپ کی عزت کی قسم جب تک اس کے جسم میں روح ہے میں اس کے اندر سے نہیں نکلوں گا، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے میری عزت کی قسم جب تک اس کے جسم میں روح ہے میں اس کے اور اس کی توبہ کے درمیان رکاوٹ نہ بنوں گا “۔ (ابن جریر عن الحسن بلاغاً )
10269 إن إبليس لما رأى آدم أجوف قال : وعزتك لا أخرج من جوفه ما دام فيه الروح ، فقال الله تعالى : وعزتي لا أحول بينه وبين التوبة ما دام الروح فيه.(ابن جرير عن الحسن) بلاغا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭০
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10266 ۔۔۔ فرمایا کہ ” کیا تم میں سے وہ شخص خوش نہ ہوگا جس کی سواری گم ہوگئی ہو اور پھر وہ اس کو پالے ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جیسے اپنی گمشدہ سواری مل جائے “۔ (مسند احمد بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10270 أيفرح أحدكم براحلته إذا ضلت منه ثم وجدها ؟ والذي نفس محمد بيده لله أشد فرحا بتوبة عبده إذا تاب من أحدكم براحلته إذا وجدها.(حم عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭১
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10267 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے ایسے شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو اور پھر وہ اسے مل جائے “۔ (ترمذی بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))
10271 لله أشد فرحا بتوبة أحدكم من أحدكم بضالته إذا وجدها.(ت حسن صحيح غريب ه عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭২
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10268 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً رب زیادہ خوش ہوتا ہے تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص کی نسبت جو اپنی سواری کے ساتھ جنگل میں بیابان میں تھا، اس سواری پر اس کا سازوسامان اور کھانا پینا بھی تھا، وہ کچھ دیر کے لیے اپنی سواری سے الگ تکیہ لگاکر لیٹا اس پر نیند غالب آگئی اور وہ سوگیا، پھر وہ اٹھا اور اس کی سواری کہیں جا چکی تھی، وہ ایک ٹیلے پر چڑھا اور تلاش کیا لیکن اس کو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر وہ اترا، لیکن اسے پھر بھی کچھ دکھائی نہ دیا، تو کہنے لگا مجھے اسی جگہ جانا چاہیے جہاں میں لیٹا تاکہ میں مرجاؤں چنانچہ وہ وہاں لیٹ گیا اور لہٰذا اس پر نیند غالب آگئی، پھر وہ چونک کر اٹھا تو دیکھا کہ سواری سامنے کھڑی ہے، (تو اس کو جتنی خوشی ہوگی) تو تمہارا رب اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص کی نسبت کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی گم شدہ سواری مل گئی ہو “۔ (ابن زنجویہ عن النعمان بن بشیر (رض))
10272 للرب أفرح بتوبة أحدكم من رجل كان في فلاة من الارض مع راحلته ، عليها زاده وماؤه ، فتوسد راحلته ، فنام فغلبته عيناه ، ثم قام وقد ذهبت الراحلة فصعد شرفا ، فنظر فلم ير شيئا ، ثم هبط فلم ير شيئا ، فقال : لاعودن على المكان الذي كنت فيه حتى أموت ، فقام فنام فغلبته عيناه ، ثم استنبه فإذا الراحلة قائمة على رأسه ، فالرب بتوبة أحدكم أشد فرحا من صاحب الراحلة بها حين وجدها.
(ابن زنجويه عن النعمان بن بشير).
(ابن زنجويه عن النعمان بن بشير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭৩
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10269 ۔۔۔ فرمایا کہ ” یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے کہیں زیادہ خوش ہوتے ہیں جو شدید پیاسا ہو اور پانی کے گھاٹ پر آپہنچے، جو بانجھ ہو اور باپ بن جائے، جس کی کوئی چیز گم ہوچکی ہو اور اس کو مل جائے لہٰذا جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ اس کے دائیں بائیں والے فرشتوں کو، اس کے اعضاء وجوارح کو اور زمین کے ان حصوں کو بھلا دیتے ہیں جہاں اس نے یہ گناہ کئے “۔ (ابوالعباس احمد بن ابراھیم ترکان الھمدانی فی کتاب التائبین عن الدنوب بروایت بقیہ عن عبد العزیز الوصابی عن ابی الجون)
10273 لله أفرح بتوبة التائب من الظمآن الواد ، ومن العقيم الوالد ، ومن الضال الواجد ، فمن تاب إلى الله توبة نصوحا أنسى الله حافظيه وجوارحه وبقاع الارض كلها خطاياه وذنوبه.(أبو العباس أحمد ابن إبراهيم تركان الهمذاني في كتاب التائبين عن الذنوب من طريق بقية عن عبد العزيز الوصابي عن أبي الجون مرسلا).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭৪
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10270 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو شخص بےآب وگیاہ زمین میں سفر کررہا تھا اور درخت کے نیچے آرام کرنے لگا اس کے ساتھ اس کی سواری بھی تھی جس پر اس کا کھانا اور پانی بھی تھا، جب وہ جاگا تو اس کی سواری گم ہوچکی تھی، لہٰذا وہ بندہ ٹیلے پر چڑھا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا، پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھا (لیکن) وہاں بھی کچھ دکھائی نہ دیا، پھر واپس پہلے والی جگہ کی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اپنی لگام گھسیٹتے ہوئے چلی آرہی ہے (تو جتنا وہ شخص اپنی سواری ملنے پر خوش ہو) لیکن اتنا خوش نہ ہوگا جتنا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہوتے ہیں “۔ (مستدرک حاکم بروایت حضرت نعمان بن بشیر (رض) اور حضرت براء (رض))
10274 ما سافر رجل في أرض تنوفة فقال تحت شجرة ومعه راحلته ، عليها زاده وطعامه ، فاستيقظ وقد أفلت راحلته ، فعلا شرفا فلم ير شيئا ، ثم علا شرفا فلم ير شيئا ، فالتفت فإذا هو بها تجر خطامها ، فما هو أشد فرحا من الله بتوبة عبده إذا تاب إليه.(ك عن النعمان بن بشير) (ك عن البراء).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭৫
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10271 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں اپنے بندے سے جب وہ یہ کہتا ہے ” اے میرے رب مجھے معاف کردے “ اور اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کے گناہ میرے علاوہ اور کوئی نہیں معاف کرسکتا “۔ (مسند احمد عن رجل)
10275 أيعجب الرب من عبده إذا قال : رب اغفر لي ، ويقول : علم عبدي أنه لا يغفر الذنوب غيري.(حم عن رجل).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০২৭৬
توبہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت سے پہلے تک توبہ قبول ہے
10272 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص کہیں سے گزرا جہاں ایک کھوپڑی پڑی ہوئی تھی، اس نے کھوپڑی کو دیکھا تو اس کے دل میں کوئی بات پیدا ہوئی اور کہا اے اللہ آپ تو آپ ہی ہیں اور میں میں، آپ باربار مغفرت کرنے والے ہیں اور میں بار بار گناہ کرنے والا ہوں سو مجھے معاف فرما دیجئے، اور اپنی پیشانی کے بل سجدے میں گرپڑا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا باربار معاف کرنے والا ہوں، بیشک میں نے تجھے معاف کردیا، تو اس نے اپنا سر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرمادیا “۔ (بن قبیل والدیلمی، والخطیب، سنن سعید بن منصور اور ابن عساکر بروایت حضرت جابر (رض))
10276 مر رجل ممن كان قبلكم بجمجمة فنظر إليها فحدث نفسه بشئ ، فقال : اللهم أنت أنت ، وأنا أنا ، أنت العواد بالمغفرة ، وأنا العواد بالذنوب فاغفر لي ، وخر على جبته ساجدا ، فنودي ارفع رأسك فانك أنت العواد بالذنوب ، وأنا العواد بالمغفرة ، قد غفرت لك فرفع رأسه ، وغفر الله له.(ابن قيل والديلمي والخطيب ص وابن عساكر عن جابر).
তাহকীক: