কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ৩৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین باتوں کے سوا کسی مسلمان کو قتل کرنا حرام ہے
٣٨٥۔۔ تین باتوں کے سوا کسی کو قتل کرنا درست نہیں ۔ ایساشخص جس نے کسی کو قتل کرڈالا ہو تو اس کو قصاصا قتل کیا جائے گا اور اسلام کے بعد مرتد ہونے والاشخص۔ اور وہ شخص جو احصان کے بعد حد کا مستوجب ہو اس کو سنگسار کیا جائے گا۔ المستدرک للحاکم، ابوداؤد ، الصحیح لامام مسلم ، (رح) بروایت عائشہ (رض)۔
385 – "لا يصلح القتل إلا في ثلاث رجلا يقتل فيقتل به الرجل ورجل يكفر بعد إسلامه ورجل أصاب حدا بعد إحصانه فيرجم". (ك ر م عن عائشة) .(الارتداد)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٨٦۔۔ جو شخص اپنے دین سے برگشتہ ہوگیا اس کو قتل کرڈالو۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت عصمہ بن مالک۔
مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے دائرہ سے نکل کر کفر کے ظلمت کدہ میں چلا جائے ۔ احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام کی دعوت دوبارہ پیش کی جائے اور اس کے اشکلالات جن کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوا ہے ان کو دور کیا جائے اگرچہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہے۔ لیکن مستحب ضرور ہے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کو تین یوم کے لیے قید کردیا جائے تاکہ اس کو کچھ مہلت مل جائے اور بعض اہل علم کے نزدیک مہلت مرتد کی طلب پر منحصر ہے ورنہ مہلت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہلت دیناواجب ہے انجام کار اگر وہ راہ راست پر آجائے تو یہی اسلام کا مطلوب ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔
مرتد عورت کا حکم اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھاجائے اور ہر تیسرے دین اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرکے دائرہ اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کردے توقاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔
مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے دائرہ سے نکل کر کفر کے ظلمت کدہ میں چلا جائے ۔ احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام کی دعوت دوبارہ پیش کی جائے اور اس کے اشکلالات جن کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوا ہے ان کو دور کیا جائے اگرچہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہے۔ لیکن مستحب ضرور ہے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کو تین یوم کے لیے قید کردیا جائے تاکہ اس کو کچھ مہلت مل جائے اور بعض اہل علم کے نزدیک مہلت مرتد کی طلب پر منحصر ہے ورنہ مہلت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہلت دیناواجب ہے انجام کار اگر وہ راہ راست پر آجائے تو یہی اسلام کا مطلوب ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔
مرتد عورت کا حکم اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھاجائے اور ہر تیسرے دین اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرکے دائرہ اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کردے توقاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔
386 – "من ارتد عن دينه فاقتلوه". (طب عن عصمة بن مالك) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٨٧۔۔ جس نے اپنے دین کو بدل ڈالا، اس کو قتل کرڈالو، مسند امام احمد، بخاری، بروایت ابن عباس (رض)۔
387 – "من بدل دينه فاقتلوه" (حم خ عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٨٨۔۔ ماخوذ از اکمال ، اللہ کے نزدیک شدید ترین قابل نفرت شخص وہ ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر کا مرتکب ہوگیا۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت معاذ (رض)۔
388 - من الإكمال "إن من أبغض الخلق إلى الله تعالى لمن آمن ثم كفر". (طب عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٨٩۔۔ کوئی شخص ایمان اسے اس چیز کا انکار کیے بغیر خارج نہیں ہوسکتا جس کا اقرار کرکے وہ اسلام میں داخل ہوا تھا۔ الاوسط للطبرانی (رح) بروایت ابی سعید۔
389 – "لن يخرج أحد من الإيمان إلا بجحود ما دخل فيه". (طس عن أبي سعيد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٩٠۔۔ جو شخص اسلام سے برگشتہ ہوجائے اس کو اسلام میں لوٹ آنے کی دعوت دو ۔ سوا گروہ توبہ تائب ہوجائے تو اس کو قبل کرلو۔ لیکن اگر وہ تائب نہ ہو تو اس کی گردن اڑاد دو ۔ اور اگر کوئی عورت اسلام سے برگشتہ ہوجائے تو اس کو بھی دعوت دو ۔ اگر وہ تائب ہوجائے قبول کرلو اور اگر انکار کرے تومزید اس کو راہ راستے پر لانے کی کوشش کرو۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت معاذ (رض)۔
390 – "أيما رجل ارتد عن الإسلام فادعه، فإن تاب فاقبل منه وإن لم يتب فاضرب عنقه وأيما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعها فإن تابت فاقبل منها وإن أبت فاستتبها". (طب عن معاذ) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٩١۔۔ جو شخص اپنا دین بدل ڈالے یا اپنے دین سے پھرجائے تو اس کو قتل کرڈالو۔ لیکن اللہ کے بندوں کو اللہ کے عذاب ، یعنی آگ کے ساتھ عذاب میں مت ڈالو۔ المصنف لعبد الرزاق ، بروایت ابن عباس (رض)۔
391 – "من بدل دينه، أو رجع عن دينه فاقتلوه، ولا تعذبوا عباد الله بعذاب الله يعني النار". (عب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٩٢۔۔ جس نے اپنے دین کو بدل ڈالا، اس کو قتل کرڈالو، اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں فرماتے جو اسلام کے بعد کفر کا مرتکب ہواہو۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت بھز بن حکیم عن ابیہ جدہ۔
392 – "من بدل دينه فاقتلوه، لا يقبل الله توبة عبد كفر بعد إسلامه". (طب عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٩٣۔۔ جو شخص اپنے دین سے لوٹ جائے اس کو قتل کردو۔ لیکن اللہ کے بندوں کو اللہ کے عذاب یعنی آگ کے ساتھ عذاب میں مت ڈالو۔ الصحیح لابن حبان بروایت ابن عباس (رض)۔
393 – "من رجع عن دينه فاقتلوه، ولا تعذبوا بعذاب الله أحدا يعني النار". (حب عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد کے احکام۔
٣٩٤۔۔ جو اپنے دین تبدیل کردے اس کی گردن اڑاد و۔ الشافعی بخاری و مسلم ، بروایت زید بن اسلم۔
394 – "من غير دينه فاضربوا عنقه". (الشافعي ق عن زيد بن أسلم) .الفرع الثاني في أحكام الإيمان المتفرقة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٣٩٥۔۔ جب آدمی مشرف بایمان ہوجائے تو وہ اپنی زمین اور مال کا مالک وحق دار ہے ۔۔ مسند امام احمد، بروایت صخر بن العلیہ۔
395 – "إذا أسلم الرجل فهو أحق بأرضه وماله". (حم عن صخر بن العيلة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٣٩٦۔۔ جس شخص نے قرآن کی ایک آیت کا بھی انکار کیا اس کی گردن اڑانا حلال ہے اور جس نے لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبد اور ورسولہ ، کہہ دیاتواب کسی کوا سے قتل کرنے کا کوئی حق نہیں رہا۔ الایہ کہ وہ خود کسی قابل حد گناہ کو پہنچ جائے تو پھر اس پر حد قائم کی جائے گی۔ ابن ماجہ ، بروایت ابن عباس (رض)۔
396 – "من جحد آية من القرآن فقد حل ضرب عنقه ومن قال لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأن محمدا عبده ورسوله فلا سبيل لأحد عليه إلا أن يصيب حدا فيقام عليه". (هـ عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٣٩٧۔۔ کسی مسلمان کا مال حلال نہیں ہے مگر اس کے دل کی خوشی کے ساتھ ۔ ابوداؤد ، بروایت حذیفہ الرقاشی۔
397 – "لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه". (د عن حذيفة الرقاشي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٣٩٨۔۔ جس نے ہماری نماز ادا کی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایاپس وہ مسلمان ہے اس کو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ حاصل ہے سوا اس کے بارے میں اللہ کے ذمہ کی اہانت نہ کرو۔ بخاری النسائی، بروایت انس (رض)۔
398 – "من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا وأكل ذبيحتنا فذاكم المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفروا الله في ذمته". (خ ن عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٣٩٩۔۔ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین باتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے محصن ہونے کے بعد زنا کا مرتکب ہواہو، یا اسلام سے برگشتہ ہوگیا یا ایساشخص جس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو، تو اس کو قصاص کے طور پر قتل کردیا جائے گا۔ مسند امام احمد، النسائی، ترمذی، ابن مجاہ، المستدرک للحاکم، بروایت عثمان ، مسند امام احمد، النسائی، بروایت عائشہ (رض)۔
399 – "لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث، رجل زنى بعد إحصان، أو ارتد بعد إسلام، أو قتل نفسا بغير حق فيقتل به". (حم ت ن هـ ك عن عثمان) ، (حم ن عن عائشة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری فرع۔۔ ایمان کے متفرق احکام میں
٤٠٠۔۔ جب وہ اسلام سے بہتربند ہوجائیں گے تو ضرور تصدیق کریں گے اور جہاد کریں گے۔ ابوداؤد بروایت جابر (رض)۔
400 – "سيصدقون ويجاهدون إذا أسلموا". (د عن جابر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے
٤٠١۔۔ اے خدا کے گھر ، کعبۃ اللہ توکتناعمدہ ہے اور تیری خوشبو بھی کتنی عمدہ ہے ، توکتنی عظیم الشان والا ہے ، اور تیری عزت کتنی بلند ہے ؟ لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۃ قدرت میں محمد کی جان ہے ایک مومن کی عزت و حرمت پروردگار کے ہاں تیری عظمت و حرمت سے بڑھ کر ہے۔ اس کا مال اور خون بہت محترم ہے۔ ابن ماجہ، بروایت ابن عمر (رض) ، اس روایت میں نصر بن محمد ایک راوی ہیں جس کو امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن ابن حبان نے اس کی توثیق فرمائی ہے۔ بقیہ دیگررواۃ ثقہ ہیں۔ مصباح الزجاجہ ٤ ص ١٦٤۔
401 – "ما أطيبك وأطيب ريحك، ما أعظمك وأعظم حرمتك، يعني الكعبة، والذي نفس محمد بيده لحرمة المؤمن أعظم عند الله حرمة منك: ماله ودمه وأن يظن به إلا خيرا". (هـ عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے
٤٠٢۔۔ تمام مومنین کی جان ہم رتبہ، اور ایک سی ہے۔ اور وہ اپنے ماسوا غیرمسلموں کے خلاف ہم پلہ اور ایک ہاتھ ہیں ان میں سے ادنی مسلمان کی بھی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ آگاہ رہو کسی مومن کو کسی کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے گا اور نہ کسی صاحب عہدذمی شخص کو عہد کے ہوتے ہوئے قتل کیا جائے گایادر کھو جس نے کوئی بدعت جاری کی اس کا وبال وہی اٹھائے گا، اور جس نے کوئی بدعت جاری کی یا کسی بدعتی شخص کو پناہ میسر کی اس پر اللہ اور اس کے ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ابوداؤد ، النسائی، المستدرک للحاکم، بروایت علی (رض)۔
تمام مومنین کی جان ہم رتبہ اور ایک سی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ قصاص اور دیت میں تمام مسلمان یکساں ہیں شریف اور رذیل میں چھوٹے اور بڑے ہیں عالم اور جاہل میں تنگ دست اور مالدار میں مردو عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کا خون رنگ کی مانند مساوی ہے ہر ایک کی دیت یکساں ہے۔ اور ہر ایک کو دوسرے کے بدلہ قتل کردیاجائیگا۔ آگے فرمایا وہ اپنے ماسوا غیر مسلموں کے خلاف ہم پلہ اور ایک ہاتھ ہیں یعنی جس طرح ایک ہاتھ پورے جسم کے دفاع کے لیے حرکت میں آجاتا ہے اور ے پورے جسم کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح تمام مسلمان آپس میں متحد اور یک جان ہیں۔
آگے فرمایا ان میں سے کسی ادنی مسلمان کی بھی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی عام مسلمان بھی کسی کافر کو امن اور پناہ دے تو تمام مسلمانوں پرا س کی جان ومال محفوظ ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کسی صاحب عہد ذمی شخص کو عہد کے ہہوتے ہوئے قتل نہ کیا جائے گایہاں ، کافر ، سے مراد ذمی کافر ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ذمی کافر جزیہ ٹیکس ادا کرکے اسلامی سلطنت کا وفادار شہری بن گیا ہے اور اسلامی سلطنت نے اس کے جان ومال کی حفاظت کا عہد و پیمان کرلیا ہے تو جب تک وہ ذمی ہے اور اپنے ذمی ہونے کے منافی کوئی کام نہیں کرتا اس کو کوئی مسلمان قتل نہ کرے بلکہ اس کی حفاظت کو ذمہ داری سمجھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی قانون و حکومت کی نظر میں ایک ذمی کے خون کی بھی وہی قیمت ہے جو ایک مسلمان کی قیمت ہے لہٰذا اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو ناحق قتل کردے تو اس کے قصاص میں اس قاتل مسلمان کو قتل کردینا چاہیے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اس نکتہ سے حدیث کے اس جملہ ، کافر کے بدلے میں مسلمان کونہ مارا جائے ، کا مفہوم بھی واضح ہوگیا کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے نہ کہ ذمی کافر ، حاصل یہ ہے کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک کسی مسلمان کو حربی کافر کے قصاص میں تو قتل نہ کیا جائے گا لیکن ذمی کے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور حضرت امام شافعی کے نزدیک کسی بھی مسلمان کو کسی بھی کافر کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے گا، خواہ وہ کافر حربی ہو یا ذمی۔
تمام مومنین کی جان ہم رتبہ اور ایک سی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ قصاص اور دیت میں تمام مسلمان یکساں ہیں شریف اور رذیل میں چھوٹے اور بڑے ہیں عالم اور جاہل میں تنگ دست اور مالدار میں مردو عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سب کا خون رنگ کی مانند مساوی ہے ہر ایک کی دیت یکساں ہے۔ اور ہر ایک کو دوسرے کے بدلہ قتل کردیاجائیگا۔ آگے فرمایا وہ اپنے ماسوا غیر مسلموں کے خلاف ہم پلہ اور ایک ہاتھ ہیں یعنی جس طرح ایک ہاتھ پورے جسم کے دفاع کے لیے حرکت میں آجاتا ہے اور ے پورے جسم کی نمائندگی کرتا ہے اسی طرح تمام مسلمان آپس میں متحد اور یک جان ہیں۔
آگے فرمایا ان میں سے کسی ادنی مسلمان کی بھی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی عام مسلمان بھی کسی کافر کو امن اور پناہ دے تو تمام مسلمانوں پرا س کی جان ومال محفوظ ہوجاتی ہے۔ پھر فرمایا کسی صاحب عہد ذمی شخص کو عہد کے ہہوتے ہوئے قتل نہ کیا جائے گایہاں ، کافر ، سے مراد ذمی کافر ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ذمی کافر جزیہ ٹیکس ادا کرکے اسلامی سلطنت کا وفادار شہری بن گیا ہے اور اسلامی سلطنت نے اس کے جان ومال کی حفاظت کا عہد و پیمان کرلیا ہے تو جب تک وہ ذمی ہے اور اپنے ذمی ہونے کے منافی کوئی کام نہیں کرتا اس کو کوئی مسلمان قتل نہ کرے بلکہ اس کی حفاظت کو ذمہ داری سمجھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی قانون و حکومت کی نظر میں ایک ذمی کے خون کی بھی وہی قیمت ہے جو ایک مسلمان کی قیمت ہے لہٰذا اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو ناحق قتل کردے تو اس کے قصاص میں اس قاتل مسلمان کو قتل کردینا چاہیے جیسا کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اس نکتہ سے حدیث کے اس جملہ ، کافر کے بدلے میں مسلمان کونہ مارا جائے ، کا مفہوم بھی واضح ہوگیا کہ یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے نہ کہ ذمی کافر ، حاصل یہ ہے کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک کسی مسلمان کو حربی کافر کے قصاص میں تو قتل نہ کیا جائے گا لیکن ذمی کے قصاص میں قتل کیا جائے گا اور حضرت امام شافعی کے نزدیک کسی بھی مسلمان کو کسی بھی کافر کے قصاص میں قتل نہ کیا جائے گا، خواہ وہ کافر حربی ہو یا ذمی۔
402 – "المؤمنون تتكافأ دماؤهم، وهم يد على من سواهم، ويسعى بذمتهم أدناهم، ألا لا يقتل مؤمن بكافر، ولا ذوعهد في عهده، من أحدث حدثا فعلى نفسه، ومن أحدث حدثا أو آوى محدثا لعنه الله وفي المنتخب عليه اللعنة والملائكة والناس أجمعين". (د ن ك عن علي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے
٤٠٣۔۔ تمام مسلمانوں کا خون مساوی ہے ان میں سے کسی ادنی مسلمان کو بھی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ انکادور والامسلمان بھی تمام مسلمانوں پر حق رکھتا ہے اور وہ غیرمسلموں کے خلاف ہم پلہ ہیں انکاطاقت ور اپنے کمزور کو سہارادیتا ہے اور ان کا شہ سوار جنگ میں شریک نہ ہونے والے اپنے مسلمان بھائی کو مال غنیمت میں ساتھ رکھتا ہے پس کسی مومن کو کسی کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے اور نہ کسی صاحب عہد ذمی شخص کو عہد کے ہوتے ہوئے قتل کیا جائے۔ ابوداؤد، ابن ماجہ، بروایت ابن عمر (رض)۔ ان کا دور والامسلمان بھی تمام مسلمانوں پر حق رکھتا ہے ، اور دوروالا مسلمان بھی حق رکھتا ہے ، اس جملہ کے دومطلب ہیں ایک تو یہ اگر کسی مسلمان نے جو دارالحرب سے دور رہا ہے کسی کافر کو امان دے رکھی ہے تو ان مسلمانوں کے لیے جو دارالحرب کے قریب ہیں یہ جائز نہیں ہے کہ اس مسلمان کے عہد امان کو توڑ دیں اور اس کافر کو کوئی گزند پہنچائیں۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب مسلمانوں کا لشکر دارالحرب میں داخل ہوجائے اور مسلمانوں کا امیر لشکر کے ایک دستے کو کسی دوسری سمت بھیج دے اور پھر وہ دستہ مال غنیمت لے کر واپس آئے تو وہ مال غنیمت صرف اسی دستے کا حق نہیں ہوگا بلکہ وہ سارا لشکر کو تقسیم کیا جائے گا۔ یعنی دوروالابھی اسمیں شامل ہے۔
دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب مسلمانوں کا لشکر دارالحرب میں داخل ہوجائے اور مسلمانوں کا امیر لشکر کے ایک دستے کو کسی دوسری سمت بھیج دے اور پھر وہ دستہ مال غنیمت لے کر واپس آئے تو وہ مال غنیمت صرف اسی دستے کا حق نہیں ہوگا بلکہ وہ سارا لشکر کو تقسیم کیا جائے گا۔ یعنی دوروالابھی اسمیں شامل ہے۔
403 – "المسلمون تتكافأ دماؤهم، ويسعى بذمتهم أدناهم، ويجير عليهم أقصاهم، وهم يد على من سواهم، يرد مشدهم على مضعفهم، ومسرعهم على قاعدهم، لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذوعهد في عهده". (د هـ عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے
٤٠٤۔۔ مسلمان کا مال بھی یونہی محترم ہے جس طرح اس کا خون محترم ہے۔ الحلیہ بروایت ابن مسعود (رض)۔
404 – "حرمة مال المسلم كحرمة دمه". (حل عن ابن مسعود) .
তাহকীক: