সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
وقف کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০ টি
হাদীস নং: ৪৩৫৭
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4357 ۔ ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہی کہ میں اس وقت حضرت عثمان (رض) کے گھر کے پاس موجود تھا ‘ جب حضرت عثمان (رض) نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت وہاں پر میٹھے پانی کا کنواں صرف بئررومہ تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کون شخص بئررومہ کو خرید کرا سے مسلمانوں کے لیے وقف کردے گا ‘ اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی۔ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور تمام مسلمانوں کو اس میں برابر کا حق دارقراردیا تھا۔ اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں کا پانی پینے سے روک رہے ہو اور مجھے سمندرکا (یعنی کھارا) پانی پیناپڑا ہے۔ ان لوگوں نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے کہ ایسہی ہے۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اور اسلام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے اپنے ذاتی مال میں سے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا ‘ تو لوگوں نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ مسجد چھوٹی ہوگئی تھی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا تھا : کون شخص فلاں لوگوں کی زمین کو خرید کرا سے مسجد میں توسیع کے لیے دے گا ‘ اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور اس کے ذریعے مسجد میں اضافہ کروایا تھا ‘ آج تم لوگ مجھے اسی مسجد میں دو رکعت پڑھنے سے روک رہے ہو۔ ان لوگوں نے عرض کی : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔
حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے پہاڑ ” ثبیر “ پر موجود تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور میں بھی تھے ‘ اسی دوران وہ پہاڑحرکت کرنے لگا اور اس کے کچھ پتھرنیچے گرے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پاؤں مارکر ارشاد فرمایا تھا : تم اپنی جگہ پر ساکن رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ لوگوں نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے ‘ تو حضرت عثمان (رض) نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا اور بولے : تم لوگ میرے بارے میں گواہ ہوجاؤ ! رب کعبہ کی قسم ! میں شہیدہوں ‘ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔
یہاں روایت کے الفاظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔
حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے پہاڑ ” ثبیر “ پر موجود تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور میں بھی تھے ‘ اسی دوران وہ پہاڑحرکت کرنے لگا اور اس کے کچھ پتھرنیچے گرے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پاؤں مارکر ارشاد فرمایا تھا : تم اپنی جگہ پر ساکن رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ لوگوں نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے ‘ تو حضرت عثمان (رض) نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا اور بولے : تم لوگ میرے بارے میں گواہ ہوجاؤ ! رب کعبہ کی قسم ! میں شہیدہوں ‘ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔
یہاں روایت کے الفاظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔
4357 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ح وَأَخْبَرَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى الْحَجَّاجِ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِىِّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِىِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ رضى الله عنه فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ فَقَالَ « مَنْ يَشْتَرِى بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ فِيهَا مَعَ دِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِى الْجَنَّةِ ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِى فَجَعَلْتُ دَلْوِى فِيهَا مَعَ دِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِى أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ. قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلاَمَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّى جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ صُلْبِ مَالِى قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلاَمَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ يَشْتَرِى بُقْعَةَ آلِ فُلاَنٍ فَيَزِيدُهَا فِى الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِى الْجَنَّةِ ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِى فَزِدْتُهَا فِى الْمَسْجِدِ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِى أَنْ أُصَلِّىَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ. قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلاَمَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ عَلَى ثَبِيرٍ بِمَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى سَقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِرِجْلِهِ وَقَالَ « اسْكُنْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِىٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ». قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِى وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّى شَهِيدٌ. ثَلاَثَ مَرَّاتٍ. يَتَقَارَبَانِ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৮
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4358 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک صاحبزادی کے انتقال کے بعد اپنی دوسری صاحبزادی کا نکاح میرے ساتھ کیا تھا۔ آپ مجھ سے راضی تھے اور مجھ سے خوش تھے۔ لوگوں نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔
4358 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى - يَعْنِى ابْنَ أَبِى الْحَجَّاجِ - عَنِ الْجُرَيْرِىِّ بِهَذَا وَزَادَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- زَوَّجَنِى إِحْدَى ابْنَتَيْهِ بَعْدَ الأُخْرَى رَضِىَ بِى وَرَضِىَ عَنِّى قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৯
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4359 ۔ تمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت عثمان (رض) کے گھر کے پاس موجود تھا ‘ جب حضرت عثمان (رض) کو شہید کیا گیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس گھر کی دیوار سے جھانک کر دیکھا اور بولے : تم اپنے دو ساتھیوں کو میرے سامنے لے کر آؤ جو فساد کی جڑ ہیں۔ ان دونوں کو سامنے لایا گیا تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تومسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہوگئی تھی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص اپنے مال میں سے اس زمین کو خرید کرا سے مسلمانوں کے لیے وقف کردے گا ؟ اسے جنت میں اس سے بہترجگہ ملے گی ‘ تو میں نے اسے اپنے مال میں سے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردی اتگھا ‘ تو لوگوں نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔ تو حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا کہ اب تم لوگ مجھے اسی مسجد سے دو رکعت نماز ادا کرنے سے بھی روک رہے ہو ‘ میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک میں سازوسامان فراہم کیا تھا تو ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ایسا ہی ہے۔
4359 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى ثُمَامَةَ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ حِقٍّ حَدَّثَنِى الْجُرَيْرِىُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِىِّ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رضى الله عنه فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمُ اطِّلاَعًا فَقَالَ ادْعُوا لِى صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ لَقِسَاكُمْ عَلَىَّ فَدُعِيَا فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَقَالَ « مَنْ يَشْتَرِى هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِى الْجَنَّةِ ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِى وَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَ. فَقَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِى أَنْ أُصَلِّىَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّى صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬০
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4360 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ دولوگ کہاں ہیں جنہوں نے تمہیں میرے خلاف بھڑکایا ہے ‘ ان دونوں کو لایا گیا۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں :
حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو وہاں کوئی میٹھا کنواں نہیں تھا ‘ صرف بئررومہ تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص اپنے مال میں سے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے ؟ تو اسے جنت میں اس سے بہتراجرملے گا تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں سے پانی پینے سے روک رہے ہو۔
حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے تو وہاں کوئی میٹھا کنواں نہیں تھا ‘ صرف بئررومہ تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص اپنے مال میں سے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردے ؟ تو اسے جنت میں اس سے بہتراجرملے گا تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں سے پانی پینے سے روک رہے ہو۔
4360 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ الْمُقَدَّمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ حِقٍّ عَنِ الْجُرَيْرِىِّ بِهَذَا وَقَالَ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَىَّ فَدُعِيَا.وَزَادَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهَا إِلاَّ بِئْرَ رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلاَءِ الْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِى الْجَنَّةِ ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِى فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِى أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬১
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4361 ۔ موسیٰ بن حکیم نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عامرنے حضرت عثمان غنی (رض) کو ایک خط لکھا ‘ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت تک یہ لوگ ان کے گردگھیراڈال چکے تھے ‘ میں نے اس خط کو اپنے کپڑے میں سی لیا اور اسے اپنی قباء کے اندررکھ لیا ‘ پھر میں نے ایک عورت کالباس پہنا اور اسی طرح گزرتا ہواحضرت عثمان (رض) کے گھر میں داخل ہوگیا ‘ میں ان کے سامنے آکر بیٹھا ‘ میں نے اپنی قباء کو پھاڑا ‘ وہ دیکھتے رہے میں نے وہ خط ان کی طرف بڑھایا ‘ انھوں نے اسے پڑھا اور پھر انھوں نے مسجد کی طرف منہ کرکے دیکھاتو وہاں حضرت طلحہ (رض) مسجد کے مشرقی سمت میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ انھوں نے آوازدی : اے طلحہ ! حضرت طلحہ (رض) نے جواب دیا : میں حاضر ہوں ! حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتاہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کون شخص زمین کا یہ ٹکڑاخرید کر اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کرے گا ‘ اس کے بدلے میں اسے یہ اجرملے گا تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا ‘ تو حضرت طلحہ (رض) نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔ تو حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : تواب اس مسجد میں آپ لوگ امن کی حالت میں ہیں اور میں اس میں خوف کے عالم میں ہوں ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : اے طلحہ ! انھوں نے کہا : میں حاضرہوں ! پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتاہوں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص رومہ کے کنوئیں کو خریدے گا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا ‘ اسے اس کے بدلے میں یہ ‘ یہ کچھ ملے گا ‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا ‘ تو انھوں نے کہا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : اے طلحہ ! انھوں نے کہا : میں حاضرہوں ! تو حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے ایک سو اونٹ فراہم کیے تھے ‘ تو حضرت طلحہ (رض) نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے کہ ایساہی ہے۔ اس کے بعد حضرت طلحہ (رض) نے یہ کہا : اے اللہ ! میرے علم کے مطابق حضرت عثمان (رض) مظلوم ہیں۔
4361 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ حَدَّثَنَا جَدِّى أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ كَتَبَ ابْنُ عَامِرٍ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ كُتُبًا فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَقَدْ نَزَلَ بِهِ أُولَئِكَ فَعَمَدْتُ إِلَى الْكُتُبِ فَخِطْتُهَا فِى قُبَائِى ثُمَّ لَبِسْتُ لِبَاسَ الْمَرْأَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلْتُ أَفْتِقُ قُبَائِى وَهُوَ يَنْظُرُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ فَقَرَأَهَا ثُمَّ أَشْرَفَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا طَلْحَةُ جَالِسٌ فِى الْمَسْجِدِ فِى الْمَشْرِقِ فَقَالَ يَا طَلْحَةُ. قَالَ يَا لَبَّيْكَ. قَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَشْتَرِى قِطْعَةً فَيَزِيدُهَا فِى الْمَسْجِدِ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا ».
فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِى. فَقَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ فَأَنْتُمْ فِيهِ آمِنُونَ وَأَنَا خَائِفٌ ثُمَّ قَالَ يَا طَلْحَةُ. قَالَ يَا لَبَّيْكَ. قَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَشْتَرِى رُومَةَ - يَعْنِى بِكَذَا - فَيَجْعَلُهَا لِلْمُسْلِمِينَ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِى فَقَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ يَا طَلْحَةُ.قَالَ يَا لَبَّيْكَ. قَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنِّى حَمَلْتُ فِى جَيْشِ الْعُسْرَةِ عَلَى مِائَةٍ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ لاَ أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلاَّ مَظْلُومًا.
فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِى. فَقَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ. قَالَ فَأَنْتُمْ فِيهِ آمِنُونَ وَأَنَا خَائِفٌ ثُمَّ قَالَ يَا طَلْحَةُ. قَالَ يَا لَبَّيْكَ. قَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَشْتَرِى رُومَةَ - يَعْنِى بِكَذَا - فَيَجْعَلُهَا لِلْمُسْلِمِينَ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا ». فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِى فَقَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ يَا طَلْحَةُ.قَالَ يَا لَبَّيْكَ. قَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنِّى حَمَلْتُ فِى جَيْشِ الْعُسْرَةِ عَلَى مِائَةٍ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ طَلْحَةُ اللَّهُمَّ لاَ أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلاَّ مَظْلُومًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬২
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4362 ۔ حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کو ان کے گھر میں محصور کردیا گیا تو انھوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور لوگوں کو قسم دی ‘ وہ بولے : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں حراپہاڑ کے اوپر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ‘ وہ حرکت میں آنے لگا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حرا اپنی جگہ پر رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہیدموجود ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص مسجد میں گھرکا اضافہ کرے گا ‘ تو میں نے ایک گھرخریدا اور اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کروادی تو لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا ‘ میں نے اس کنوئیں کو خریدا اور اسے اللہ کے نام پر وقف کردیا۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ! کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا اور میں نے اس پر اتنی ‘ اتنی رقم خرچ کی تھی تو لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اتنا عرصہ تمہارے درمیان رہاہوں لیکن تم نے میرے بارے میں جلدی بازی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے میں اسے اتاردوں۔ اللہ کی قسم ! یہ کبھی نہیں ہوگا۔
راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص مسجد میں گھرکا اضافہ کرے گا ‘ تو میں نے ایک گھرخریدا اور اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کروادی تو لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا ‘ میں نے اس کنوئیں کو خریدا اور اسے اللہ کے نام پر وقف کردیا۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ! کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا اور میں نے اس پر اتنی ‘ اتنی رقم خرچ کی تھی تو لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اتنا عرصہ تمہارے درمیان رہاہوں لیکن تم نے میرے بارے میں جلدی بازی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے میں اسے اتاردوں۔ اللہ کی قسم ! یہ کبھی نہیں ہوگا۔
4362 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ رضى الله عنه فِى الدَّارِ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَنَشَدَ النَّاسَ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّى كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ فَقَالَ « اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». قَالَ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بَيْتًا فِى الْمَسْجِدِ ». فَاشْتَرَيْتُ بَيْتًا فَأَوْسَعْتُ بِهِ فِى الْمَسْجِدِ قَالَ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رُومَةَ كَانَتْ تُبَاعُ بَيْعًا مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ وَأَنِّى اشْتَرَيْتُهَا فَجَعَلْتُهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَابْنِ السَّبِيلِ قَالُوا نَعَمْ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّى جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَأَنْفَقْتُ عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ثُمَّ قَالَ وَلَكِنَّهُ طَالَ عَلَيْكُمْ عُمْرِى وَاسْتَعْجَلْتُمْ قَدَرِى أَنْ أَنْزِعَ سِرْبَالاً سَرْبَلَنِيهِ اللَّهُ تَعَالَى لاَ وَاللَّهِ لاَ يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৩
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4363 ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے اپنے گھر میں سے جھانک کر باہردیکھاوہ اس وقت محصور تھے اور بولے : میں اللہ کے نام کی قسم دے کر تم لوگوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون شخص اس وقت وہاں موجود تھا ؟ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراپہاڑپرموجود تھے اور وہ پہاڑحرکت کرنے لگا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے مارا اور فرمایا : اے حرا ! ساکن رہو ‘ تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔ اس وقت میں بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا تو کچھ لوگوں نے اس بات کی گواہی دی (کہ یہ بات ٹھیک ہے) پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : جو شخص اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا ‘ جب آپ نے بیعت رضوان کی تھی ‘ اس کو میں اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتاہوں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف سے بیعت لی تھی ‘ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی ‘ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جو شخص اس وقت موجود تھا کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : کون شخص اس گھرکوخرید کرا سے مسجد میں شامل کردے گا ‘ اس کے عوض میں اسے جنت میں گھرملے گا تو میں نے اپنے مال میں سے اس گھرکوخرید کر اس کے ذریعے اس مسجد میں توسیع کروادی تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں جو اس وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا ‘ جب آپ غزوہ تبوک کے لیے تیاری کررہے تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص آج کے دن ایساخرچ کرے گا جو قبول ہوگا ؟ تو میں نے نصف لشکر کو اپنے مال میں سے سازوسامان فراہم کیا تھا ‘ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں ‘ جو اس وقت موجود تھا جب رومہ کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا تو میں نے اپنے مال میں سے اس کو خرید کرا سے مسافروں کے لیے (اور تمام مسلمانوں کے لیے) وقف کردیا تھا ‘ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں ‘ جو اس وقت موجود تھا جب رومہ کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا تو میں نے اپنے مال میں سے اس کو خرید کرا سے مسافروں کے لیے (اور تمام مسلمانوں کے لیے) وقف کردیا تھا ‘ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔
4363 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ تَعَالَى مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حِرَاءٍ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ وَقَالَ « اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِى إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ « هَذِهِ يَدِى وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ ». فَبَايَعَ لِى فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ فَقَالَ نَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا هَذَا الْبَيْتَ فِى الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِى الْجَنَّةِ ». فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِى فَوَسَّعْتُ بِهِ فِى الْمَسْجِدِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَنَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالَ « مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ». فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِى فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ قَالَ وَنَشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا لاِبْنِ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِى وَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৪
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4364 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4364 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنِى عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُثْمَانَ رضى الله عنه أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى آخِرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৫
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4365 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : جب حضرت عثمان غنی (رض) کو ان کے گھر میں محصور کردیا گیا تو کچھ لوگ ان کے گھر کے آس پاس اکٹھے ہوئے ‘ حضرت عثمان (رض) نے ان کی طرف جھانک کر دیکھا۔ اس کے بعدراوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔
4365 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ - يَعْنِى النَّسَائِىَّ - أَخْبَرَنِى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنِى زَيْدٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىِّ قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ فِى دَارِهِ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَوْلَ دَارِهِ فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৬
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4366 ۔۔ ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کو محصور کردیا گیا تو انھوں نے اپنے گھر کی چھت سے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کی یاددلاتا ہوں ‘ کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جب حراپہاڑہلنے لگا تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : اے حرا ! اپنی جگہ پر رہو ! تمہارے اوپر ایک نبی ‘ ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتاہوں ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرنا شروع کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا : کون شخص ایسا خرچ کرے گا جو قبول ہوگا ‘ تو لوگ اس وقت تنگی کا شکار تھے تو میں نے اس لشکر کو ایک تہائی سامان فراہم کیا تھا ‘ لوگوں نے جواب دیا : ایساہی ہے۔ حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو اللہ کی یاددلا کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں سے پانی صرف قیمت کے عوض میں پیا جاسکتا تھا تو میں نے اسے خرید کرا سے ہر خوشحال ‘ غریب اور مسافر کے لیے وقف کردیا تھا تو ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں !
اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے کچھ اور چیزوں کو بھی شمارکروایا۔
اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے کچھ اور چیزوں کو بھی شمارکروایا۔
4366 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىِّ قَالَ لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ فَقَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ حِرَاءً حِينَ انْتَفَضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ». قَالُوا نَعَمْ. قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ قَالَ « مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ». وَالنَّاسُ مَجْهُودُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يُشْرَبُ مِنْهَا إِلاَّ بِثَمَنٍ فَاشْتَرَيْتُهَا ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِلْغَنِىِّ وَالْفَقِيرِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالُوا نَعَمْ. فِى أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৭
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4367 ۔ ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کو محصور کردیا گیا تو انھوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور میں صرف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو یہ واسطہ دیتاہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص رومہ کنوئیں کو کھدوائے گا (یعنی اسے وقف کردے گا) اسے جنت ملے گی ‘ تو میں نے اسے کھدوایا تھا۔ کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا اسے جنت ملے گی ‘ میں نے اس کے لیے سامان فراہم کیا تھا تو ان لوگوں نے حضرت عثمان (رض) کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا۔
4367 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الْعَلاَءِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِىِّ أَنَّ عُثْمَانَ حِينَ حُصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَلاَ أَنْشُدُ إِلاَّ أَصْحَابَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ». فَحَفَرْتُهَا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ « مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ ». فَجَهَّزْتُهُمْ فَصَدَّقُوهُ بِمَا قَالَ وَقَالَ إِنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ جَهَّزَ » .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৮
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4368 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ چار چیزوں سے فارغ ہوچکا : انسان کی تخلیق ‘ اس کے اخلاق ‘ اس کا رزق اور اس کی موت ‘ اب کسی شخص کے لیے کسی چیزکوحاصل کرنا ممکن نہیں رہا ‘ صدقہ کرنا جائز ہے ‘ خواہ اسے قبضے میں لیا گیا ہو یا قبضے میں نہ لیا گیا ہو۔
4368 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فُرِغَ مِنْ أَرْبَعٍ الْخَلْقِ وَالْخُلُقِ وَالرِّزْقِ وَالأَجَلِ فَلَيْسَ أَحَدٌ أَكْسَبَ مِنْ أَحَدٍ وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ أَوْ لَمْ تُقْبَضْ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬৯
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4369 ۔ بشیر بن محمد ‘ حضرت عبداللہ بن زید (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنا باغ صدقہ کردیا ‘ ان کے والد ین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! اسی پر ہم لوگ گزارا کیا کرتے تھے ‘ ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ (رض) کو بلوایا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقے کو قبول کرلیا ہے اور یہ تمہارے ماں باپ کو لوٹادیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد ہم اس کے وارث بنے تھے۔
4369 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ وَيَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِحَائِطٍ لَهُ فَأَتَى أَبَوَاهُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ قَيِّمَ وُجُوهِنَا وَلَمْ يَكُنْ لَنَا مَالٌ غَيْرُهُ. فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ وَرَدَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ ». قَالَ فَتَوَارَثْنَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ. هَذَا مُرْسَلٌ . بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ فَبَيَّنَ إِرْسَالَهُ فِى رِوَايَتِهِ إِيَّاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭০
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4370 ۔ بشیر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ان کے داداحضرت عبداللہ (رض) نے اپنا مال صدقہ کردیا ‘ ان کے پاس اس مال کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقے کو تمہاری طرف سے قبول کرلیا ہے۔
یہاں پر الفاظ نقل کرنے میں راوی نے کچھ مختلف الفاظ نقل کیے ہیں (اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :) اور اسے تمہارے والدین کو لوٹادیا ہے۔
یہاں پر الفاظ نقل کرنے میں راوی نے کچھ مختلف الفاظ نقل کیے ہیں (اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :) اور اسے تمہارے والدین کو لوٹادیا ہے۔
4370 - حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ نَهْشَلُ بْنُ دَارِمٍ الْتَمِيمِىُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِى بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ وَقَالَ ابْنُ شَبَّةَ بِمَالٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ غَيْرُهُ فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالاَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَكَانَ لَنَا وَلَهُ فِيهِ كَفَافٌ وَلَيْسَ لَنَا وَلَهُ. وَقَالَ ابْنُ شَبَّةَ وَلَمْ يَكُنْ لَنَا وَلَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- لِعَبْدِ اللَّهِ « إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ مِنْكَ صَدَقَتَكَ ». وَقَالَ حَفْصٌ « قَدْ قَبِلَ اللَّهُ صَدَقَتَكَ وَرَدَّهُ عَلَى أَبَوَيْكَ ». فَوَرِثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ مِنْ أَبَوَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭১
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4371 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عبداللہ بن زید (رض) نے اپنا مال صدقہ کردیاتوان کے والدین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔
4371 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ فَأَتَى أَبَوَاهُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭২
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4372 ۔ حضرت عبداللہ بن زید (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرا یہ باغ صدقہ ہے ‘ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام ہے ‘ تو ان کے والدین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہمارا گزربسر اس باغپرہوتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ باغ ان دونوں کو واپس کردیا ‘ پھر جب ان دونوں کا انتقال ہواتوان کی اولاد ان کے بعد اس کی وارث بنی۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) کا انتقال حضرت عثمان غنی (رض) کے عہد خلاف میں ہوا تھا ‘ ابوبکربن حزم نامی راوی نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا۔
یہ روایت ” مرسل “ ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) کا انتقال حضرت عثمان غنی (رض) کے عہد خلاف میں ہوا تھا ‘ ابوبکربن حزم نامی راوی نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا۔
4372 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَىْ أَبِى بَكْرٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِى بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ حَائِطِى هَذَا صَدَقَةٌ وَهِىَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَوَامَ عَيْشِنَا فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْهِمَا ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُ ابْنُهُمَا بَعْدَهُمَا . وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ. لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ تُوُفِّىَ فِى خِلاَفَةِ عُثْمَانَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৩
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4373 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : یہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) وہی ہیں جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ دکھایا گیا تھا اور پھر یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
4373 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِى أُرِىَ النِّدَاءَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-.فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৪
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4374 ۔ عمروبن سلیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ سکھایا گیا تھا ‘ انھوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کردیا ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : میں نے اپنا یہ باغ صدقہ کردیا ہے ‘ یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذ رہے ‘ پھر ان کے والدین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے عرض کی کہ ہمارا گزربسر صرف اسی باغ پر ہوتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ باغ ان کے والدین کو واپس کردیا۔ پھر جب ان والدین کا انتقال ہواتوان کے ورثاء کو وہ مل گیا۔
4374 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ وَعَمْرٍو وَيَحْيَى وَحُمَيْدٍ سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِى أُرِىَ النِّدَاءَ جَعَلَ حَائِطًا لَهُ صَدَقَةً فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى جَعَلْتُ حَائِطِى صَدَقَةً وَهُوَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالاَ لَمْ يَكُنْ لَنَا عَيْشٌ إِلاَّ هَذَا الْحَائِطَ فَرَدَّهُ عَلَى أَبَوَيْهِ ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا. هَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৫
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4375 ۔ عمروبن سلیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) نے اپنا باغ صدقہ کردیا ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : میں اپنے اس باغ کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نذرکرتاہوں (راوی کو شک ہے کہ یہاں یہ لفظ نبی استعمال ہوا ہے یاشاید رسول استعمال ہوا ہے) ۔
4375 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ وَعَمْرٌو وَحُمَيْدٌ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ جَعَلَ حَائِطَهُ صَدَقَةً فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى جَعَلْتُ حَائِطِى صَدَقَةً لآلِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ لآلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭৬
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4376 ۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن فلاں نامی صاحب (شعبان نامی راوی کو یہاں پہ لفظ بھول گیا ہے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میری ہرچیز صدقہ ہے سوائے میرے گھوڑے اور میرے ہتھیاروں کے۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان کی کچھ زمین بھی تھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ قبضے میں لے لی اور اسے اوفاض (یعنی مختلف لوگوں کے لیے مالی مدد کے طورپر) مقرر کردیا۔ ان کے والد ین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : ہمیں ہمارے بیٹے کے صدقہ کیے ہوئے مال میں سے کچھ کھانے کے لیے دیں ‘ اللہ کی قسم ! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ‘ ہم لوگ اوقاض کے چکرلگاتے ہیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس باغ کو لیا اور اسے ان دونوں کے حوالے کردیا۔ پھر جب وہ دونوں فوت ہوئے تو ان کے بیٹے اس کے وارث بنے ‘ جنہوں نے اسے صدقہ کیا تھا ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میں نے جو چیزصدقہ کی تھی اور جو آپ نے میرے والدین کو واپس کردی تھی تواب ان دونوں کا انتقال کی : یارسول اللہ ! میں نے جو چیزصدقہ کی تھی اور جو آپ نے میرے والدین کو واپس کردی تھی تواب ان دونوں کا انتقال ہوگیا ہے ‘ کیا یہ میرے لیے حلال ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں ! تم خوش کرا سے کھاؤ۔
4376 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِىُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلاَنٍ - نَسِىَ شَيْبَانُ اسْمَهُ - أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ شَىْءٍ هُوَ لِى صَدَقَةٌ إِلاَّ فَرَسِى وَسِلاَحِى قَالَ وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجَعَلَهَا فِى الأَوْفَاضِ أَوِ الأَوْقَاصِ فَجَاءَ أَبَوَاهُ فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا فَوَاللَّهِ مَا لَنَا شَىْءٌ . وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الأَوْفَاضِ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَدَفَعَهَا إِلَيْهِمَا فَمَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا الَّذِى كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَدَقَتِى الَّتِى كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدَىَّ فَمَاتَا فَحَلاَلٌ هِىَ لِى قَالَ « نَعَمْ فَكُلْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا ». وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ وَأَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى مَتْرُوكٌ.
তাহকীক: