সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
وقف کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০ টি
হাদীস নং: ৪৩৩৭
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4337 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے ‘ میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی ‘ آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہوتواصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کے پھل کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کیا جاسکے گا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں کیا جاسکے گا اور اس کا پھل غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مجاہدین ‘ مسافروں ‘ مہمانوں کے لیے ہوگا اور جو شخص اس کا نگران ہوگا ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کچھ کھالیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والانہ ہو۔
4337 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْكَلاَعِىُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى هِنْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا أَتَى عُمَرُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ قَالَ « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». قَالَ فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ فِى الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ . وَرَوَاهُ الثَّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩৮
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4338 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے یہ بات بیان کی ہے کہ مجھے خیبر میں زمین ملی ‘ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ زمین مجھے کبھی نہیں ملی اور اس سے زیادہ نفیس زمین کوئی نہیں ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم چاہوتو اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین تمہارے پاس رہے۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اس زمین کو اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کی جاسکے گا ‘ ہبہ بھی نہیں کیا جاسکے گا ‘ اس کا پھل غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مہمانوں ‘ مسافروں کے لیے ہوگا جو شخص اس کا نگران ہوگا اس پر کچھ گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے خود بھی اس میں سے کھالیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اس زمین کو اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کی جاسکے گا ‘ ہبہ بھی نہیں کیا جاسکے گا ‘ اس کا پھل غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ غلاموں ‘ مہمانوں ‘ مسافروں کے لیے ہوگا جو شخص اس کا نگران ہوگا اس پر کچھ گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے خود بھی اس میں سے کھالیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
4338 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدَانَ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ أَرَضًا لَمْ أُصِبْ مَالاً أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْهُ وَلاَ أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ قَالَ « إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهَا وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهَا ». قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لاَ يُبَاعَ وَلاَ يُوهَبَ فِى الْفُقَرَاءِ وَالْقُرْبَى وَالضَّيْفِ وَالرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩৯
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4339 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ حضرت عمربن خطاب (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : مجھے خیبر میں ایک زمین ملی جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی ‘ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہواتا کہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں ‘ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے جو میرے نزدیک سب سے بہت رہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہوتواصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو ‘ تو حضرت عمر (رض) نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کی جاسکتا تھا ‘ اسے ہبہ نہیں کیا جاسکتا تھا ‘ اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس کے پھل کو غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ مجاہدین ‘ غلاموں ‘ مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو ‘ تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھالیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والانہ ہو۔
یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
4339 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَأْمِرُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً أَنْفَسَ عِنْدِى مِنْهُ. قَالَ « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لاَ تُبَاعَ وَلاَ تُوهَبَ وَلاَ تُورَثَ فَتَصَدَّقَ بِهَا فِى الْفُقَرَاءِ وَفِى الأَقْرَبِينَ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَفِى الرِّقَابِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِى الضَّيْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِىَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ . قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرْتُهُ لاِبْنِ سِيرِينَ فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً. تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِىُّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪০
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4340 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے ‘ حضرت عمر (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی کی مانندروایت منقول ہے۔
4340 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ أَخْبَرَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الْفَزَارِىِّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪১
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4341 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :” تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے “۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید اس آیت کا تذکرہ ہے :)” کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے “۔
تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! فلاں جگہ میں میرا ایک باغ ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے۔ اگر میں اسے پوشیدہ طورپردے سکتا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے خاندان اور قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں کودے دو۔
تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! فلاں جگہ میں میرا ایک باغ ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ ہے۔ اگر میں اسے پوشیدہ طورپردے سکتا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے خاندان اور قریبی رشتے داروں میں سے غریب لوگوں کودے دو۔
4341 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) أَوْ (مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا) قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِى فِى مَكَانِ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ تَعَالَى وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ قَالَ « اجْعَلْهُ فِى فُقَرَاءِ أَهْلِ بَيْتِكَ وَأَقَارِبِكَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪২
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4342 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں : تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے وہ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسان بن ثابت (رض) کے نام کردیا کیونکہ یہ دونوں حضرات میرے مقابلے میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے زیادہ قریبی عزیز تھے۔
4342 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ قَالَ فَجَعَلَهَا لأُبَىٍّ - يَعْنِى ابْنَ كَعْبٍ - وَحَسَّانَ - يَعْنِى ابْنَ ثَابِتٍ - وَكَانَا أَقْرَبَ إِلَيْهِ مِنِّى .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৩
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4343 ۔ یہی روایت بعض دیگراسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4343 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى حَدَّثَنَا الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ثُمَامَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِىُّ قَالَ قَالَ الأَنْصَارِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৪
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4344 ۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :” تم اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیزکوخرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے “۔
تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارے مال مانگے ہیں ‘ میں آپ کو گواہ بناکریہ بات کہہ رہاہوں کہ ” بیرحاء “ میں موجوداپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کودے دو ‘ تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے وہ زمین حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب (رض) میں تقسیم کردی۔
تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارے مال مانگے ہیں ‘ میں آپ کو گواہ بناکریہ بات کہہ رہاہوں کہ ” بیرحاء “ میں موجوداپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کودے دو ‘ تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے وہ زمین حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب (رض) میں تقسیم کردی۔
4344 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ( لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ) قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا وَإِنِّى أُشْهِدُكَ أَنِّى جَعَلْتُ أَرْضِى بَيْرُحَاءَ لِلَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اجْعَلْهَا فِى قَرَابَتِكَ ». فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৫
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4345 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے جس کی پیداوار ایک سووسق ہے ‘ جو آپ نے مجھے خیبر میں عطاء کی ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کردو۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے یہ تحریر لکھوائی :
یہ عمربن خطاب “ کی طرف سے ہے جو ” شمغ “ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سووسق کے بارے میں ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطاء کیے تھے جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کردوں گا ‘ جو قریبی رشتے داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھاسکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلاسکتا ہے ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کی جاسکے گا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں ہوگی ‘ جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں “۔
حضرت عمر (رض) نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ (رض) کو یہ وصیت کی تھی ‘ پھر اگر ان کا انتقال ہوجاتا تو حضرت حفصہ (رض) کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہوجاتی ۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے یہ تحریر لکھوائی :
یہ عمربن خطاب “ کی طرف سے ہے جو ” شمغ “ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سووسق کے بارے میں ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطاء کیے تھے جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کردوں گا ‘ جو قریبی رشتے داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھاسکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلاسکتا ہے ‘ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کی جاسکے گا ‘ وراثت میں تقسیم نہیں ہوگی ‘ جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں “۔
حضرت عمر (رض) نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ (رض) کو یہ وصیت کی تھی ‘ پھر اگر ان کا انتقال ہوجاتا تو حضرت حفصہ (رض) کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہوجاتی ۔
4345 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلاَنِىُّ بِعَسْقَلاَنَ حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ مَالِى شَىْءٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنَ الْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِى أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً ». قَالَ فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِى ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِى أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ إِنِّى حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَهَا صَدَقَةً لِذِى الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِلْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقًا لاَ جُنَاحَ لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ حَبِيسٌ مَا دَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ فَإِذَا مَاتَتْ فَإِلَى ذِى الرَّأْىِ مِنْ أَهْلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৬
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4346 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے اپنی زمین صدقہ کرنے کا ارادہ کیا جو شمغ میں موجود تھی ‘ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :” تم اصل زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو “۔
4346 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلاَّفُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِى بِثَمْغٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « حَبِّسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৭
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : وقف نامہ کیسے تحریر کیا جائے ؟
4347 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایک زمین ملی ہے جو بہترین ہے ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ اسے صدقہ کردوں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اس کو اس طرح صدقہ کرو کہ اصل زمین کو فروخت نہ کیا جاسکے ‘ ہبہ نہ کیا جاسکے ‘ وراثت میں تقسیم نہ کیا جاسکے اور اس کے پھل کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کردیا جائے۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اسے اسی طرح صدقہ کیا اور انھوں نے اس کے صدقہ کرنے کی تحریر میں یہ بات لکھوائی کہ یہ اللہ کی راہ میں (یعنی مجاہدین کو) مہمانوں کو ‘ مسافروں کو ‘ غریبوں کو اور قریبی رشتے داروں کو دیا جاسکے گا۔ جو شخص اس زمین کا نگران ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھالیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ تو اس پر کوئی حرج اور کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
راوی کہتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اسے اسی طرح صدقہ کیا اور انھوں نے اس کے صدقہ کرنے کی تحریر میں یہ بات لکھوائی کہ یہ اللہ کی راہ میں (یعنی مجاہدین کو) مہمانوں کو ‘ مسافروں کو ‘ غریبوں کو اور قریبی رشتے داروں کو دیا جاسکے گا۔ جو شخص اس زمین کا نگران ہوگا ‘ اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھالیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ تو اس پر کوئی حرج اور کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
4347 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ قِيلَ لَهُ وَفِى كِتَابِكَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ الأَزْدِىِّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى اسْتَفَدْتُ مَالاً وَهُوَ نَفِيسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ قَالَ « تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرَتُهُ ». قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهِ فَصَدَقَتُهُ كُتِبَتْ عَلَى ذَلِكَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْمَسَاكِينِ وَذِى الْقُرْبَى لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُؤْكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مَأْثُومٍ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৮
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4348 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی : مجھے خیبر میں سو حصے ملے تھے ‘ مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا ‘ میں یہ چاہتاہوں کہ اسے صدقہ کردوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔
4348 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِنَّ الْمِائَةَ السَّهْمَ الَّتِى لِى بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ هُوَ أَعْجَبُ إِلَىَّ مِنْهَا وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « حَبِّسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪৯
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4349 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ وہ خیبر میں سو حصوں کے مالک بنے تھے ‘ انھوں نے کچھ اور زمین بھی خرید کرا سے اکٹھا کرلیا ‘ پھر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین پہلے کبھی نہیں ملی ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی اس کو صدقہ کردوں) ۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔
4349 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ وَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَجْمَعَهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى قَدْ أَصَبْتُ مَالاً لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَقَالَ « احْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫০
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4350 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کی ‘ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
4350 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِىُّ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَ قَوْلِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ سَوَاءً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫১
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4351 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔ (راوی کہتے ہیں :) حضرت عمر (رض) کو ایک سو حصے ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں : میں نے اس کے ذریعے خیبر میں ایک سو حصے اس کے مالکان سے خریدے (یعنی اتنی زمین خریدلی) ‘ میں یہ چاہتاہوں کہ میں اس کے ذریعے اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل زمین کو روکے رہو ‘ اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔
4351 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّى أَصَبْتُ مَالاً لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ وَكَانَ لِى مِائَةُ رَأْسٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهَا مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِهَا وَإِنِّى قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ « فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلِ الثَّمَرَ ». وَرَوَاهُ غَيْرُ شَيْخِنَا عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ. أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِىُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫২
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4352 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شمغ میں موجودزمین کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم زمین اپنے پاس رکھو اور پھل اللہ کی راہ میں دو۔
4352 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى بْنِ بُهْلُولٍ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَكِّىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ أَرْضٍ مِنْ ثَمْغٍ فَقَالَ « حَبِّسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৩
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4353 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! مجھے شمغ میں زمین ملی ہے ‘ میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ اسے میرے بعد فروخت کردیا جائے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اسے روکے رکھو اور اس کا پھل اللہ کی راہ میں دو۔
4353 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ أَبُو جَعْفَرٍ الْكُوفِىُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى مَالاً بِثَمْغٍ أَكْرَهُ أَنْ يُبَاعَ بَعْدِى. قَالَ « فَاحْبِسْهُ وَسَبِّلْ ثَمَرَهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৪
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4354 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کو خیبر میں زمین ملی ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے مجھے کبھی ایسی زمین نہیں ملی ‘ جو میرے نزدیک اس زمین سے زیادہ بہترین ہو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہوتواصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کی پیداوارکوصدقہ کردو۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کی پیداوار کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کیا جاسکے گا ‘ اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جاسکے گا ‘ اس کی پیداوار غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ مہمانوں ‘ مجاہدین اور مسافروں میں تقسیم ہوگی۔ جو شخص اس کا نگران ہوگا ‘ اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھالیتا ہے ‘ یا اپنے دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر (رض) نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کی پیداوار کو صدقہ کردیا ‘ اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جاسکے گا ‘ ہبہ نہیں کیا جاسکے گا ‘ اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جاسکے گا ‘ اس کی پیداوار غریبوں ‘ قریبی رشتے داروں ‘ مہمانوں ‘ مجاہدین اور مسافروں میں تقسیم ہوگی۔ جو شخص اس کا نگران ہوگا ‘ اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کھالیتا ہے ‘ یا اپنے دوست کو کھلا دیتا ہے ‘ جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔
4354 - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِىُّ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَثْرَمُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ دُبَيْسٍ الْكِنْدِىُّ أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ إِنِّى أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالاً هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِى مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ». فَقَالَ فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا لاَ تُبَاعُ وَلاَ تُوهَبُ وَلاَ تُورَثُ فِى الْفُقَرَاءِ وَذِى الْقُرْبَى وَالرِّقَابِ وَالضَّيْفِ وَفِى سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ لاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالاً قَالَ الأَثْرَمُ أَفَادَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ هَذَا الشَّيْخَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৫
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
4355 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھیں خیبر میں ایک سو حصے ملے تھے ‘ انھوں نے اس کے ذریعے زمین خریدلی اور ان کو اکٹھا کرلیا ‘ پھر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے عرض کی : مجھے ایسے چیزملی ہے کہ اس طرح کی چیز کبھی نہیں ملی ‘ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دے دو۔
4355 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِى ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْمَعْمَرِىُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الصَّبَّاحِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِىِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ فَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَخْلَصَهَا فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ قَدْ أَصَبْتُ شَيْئًا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ « فَاحْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫৬
وقف کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
4356 ۔ حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے ‘ عمروبن جاوان ‘ جن کا تعلق بنوتمیم سے تھا ‘ میں نے ان سے کہا : آپ کا کیا خیال ہے کہ احنف کس بنیادپرالگ ہوئے تھے ‘ تو انھوں نے بتایا : میں نے حضرت احنف (رض) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا ‘ میں حج کے لیے جارہا تھا۔ ابھی ہم اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے اور اپنی سواریاں بٹھائی ہی تھیں کہ ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا : لوگ مسجد میں اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ میں بھی وہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ مسجد میں اکٹھے ہوگئے ہیں اور ان کے سامنے کچھ افراد بیٹھے ہوئے ہیں ‘ جن میں حضرت علی بن ابوطالب ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بھی تھے ‘ جب میں ان کے قریب جاکرکھڑا ہواتویہ اعلان ہوا کہ حضرت عثمان غنی (رض) تشریف لارہے ہیں ‘ جب وہ تشریف لائے تو انھوں نے زردرنگ کی چادراوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہیں ٹھہرو ! ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے ؟ حضرت عثمان غنی (رض) نے دریافت کیا : کیا علی یہاں ہیں ؟ کیا زبیریہاں ہیں ؟ کیا طلحہ یہاں ہیں ؟ کیا سعد بن ابی وقاص یہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : جی ہاں۔ پھر عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں ‘ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص فلاں شخص کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ خرید کر اللہ تعالیٰ کے نام کردے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے گا ‘ تو میں نے وہ جگہ خرید کردی۔ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے وہ جگہ خریدلی ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کردو تمہیں اس کا اجرملے گا۔
تو وہاں موجودتمام افراد نے کہا : یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔
اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ‘ کیا آپ حضرات یہ بات جانتے ہیں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص رومہ کا کنواں خرید کردے گا ‘ اسے اس کا اجرملے گا ‘ تو یہ سننے کے بعد میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور میں نے عرض کی : میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے چھوڑدو ‘ تمہیں اس کا اجرملے گا۔
اس پر تمام حاضرین نے کہا کہ آپ نے یہ بات بالکل ٹھیک بیان کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کون شخص ہے جو غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے گا۔ (حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں :) تو میں نے اس لشکر کو پوراسامان فراہم کیا ‘ یہاں تک کہ اونٹ کو باندھنے والی رسی اور مہار بھی انھیں فراہم کی تو سب لوگوں نے کہا : آپ نے یہ بات بھی ٹھیک بیان کی ہے۔ اس پر حضرت عثمان غنی (رض) نے یہ فرمایا : اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! یہاں روایت کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
ابن ادریس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : کون شخص بنوفلاں کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو خریدے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے تو میں نے بیس ہزاردرہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) پچیس ہزاردرہم کے عوض میں اسے خریدا۔
اسی طرح انھوں نے بئررومہ کے بارے میں بھی یہ بات بیان کی کہ میں نے اسے اتنی ‘ اتنی رقم کے عوض میں خریدا تھا ‘ پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہواتو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو ‘ اس کا اجر تمہیں ملے گا۔
علی بن عاصم نامی راوی نے اپنی روایت میں کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کے واقعے میں یہ بات نقل کی ہے۔ میں نے اتنی ‘ اتنی رقم کے عوض میں اسے خریدا تھا ‘ پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ہے۔ میں نے بنوفلاں کی کھجوروں والی جگہ کو خریدلیا ہے ‘ آپ اسے مسلمانوں کی مسجد میں توسیع کے لیے استعمال کریں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ! تمہارا اجرواجب ہوگیا ہے۔
اسی طرح انھوں نے بئررومہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا ‘ میں نے اسے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے یا شایدیہ الفاظ ہیں :) پچیس ہزاردرہم کے عوض میں خریدا۔ جبکہ ابوعوانہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو بیس ہزار سے کچھ زیادہ رقم کے عوض میں خریدا۔ ان تمام روایات کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے۔
تو وہاں موجودتمام افراد نے کہا : یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔
اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ‘ کیا آپ حضرات یہ بات جانتے ہیں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی : جو شخص رومہ کا کنواں خرید کردے گا ‘ اسے اس کا اجرملے گا ‘ تو یہ سننے کے بعد میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور میں نے عرض کی : میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے چھوڑدو ‘ تمہیں اس کا اجرملے گا۔
اس پر تمام حاضرین نے کہا کہ آپ نے یہ بات بالکل ٹھیک بیان کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا : میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : کون شخص ہے جو غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے گا۔ (حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں :) تو میں نے اس لشکر کو پوراسامان فراہم کیا ‘ یہاں تک کہ اونٹ کو باندھنے والی رسی اور مہار بھی انھیں فراہم کی تو سب لوگوں نے کہا : آپ نے یہ بات بھی ٹھیک بیان کی ہے۔ اس پر حضرت عثمان غنی (رض) نے یہ فرمایا : اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! اے اللہ ! توگواہ ہوجا ! یہاں روایت کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
ابن ادریس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : کون شخص بنوفلاں کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو خریدے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کردے تو میں نے بیس ہزاردرہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :) پچیس ہزاردرہم کے عوض میں اسے خریدا۔
اسی طرح انھوں نے بئررومہ کے بارے میں بھی یہ بات بیان کی کہ میں نے اسے اتنی ‘ اتنی رقم کے عوض میں خریدا تھا ‘ پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہواتو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کردو ‘ اس کا اجر تمہیں ملے گا۔
علی بن عاصم نامی راوی نے اپنی روایت میں کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کے واقعے میں یہ بات نقل کی ہے۔ میں نے اتنی ‘ اتنی رقم کے عوض میں اسے خریدا تھا ‘ پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ہے۔ میں نے بنوفلاں کی کھجوروں والی جگہ کو خریدلیا ہے ‘ آپ اسے مسلمانوں کی مسجد میں توسیع کے لیے استعمال کریں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ! تمہارا اجرواجب ہوگیا ہے۔
اسی طرح انھوں نے بئررومہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا ‘ میں نے اسے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے یا شایدیہ الفاظ ہیں :) پچیس ہزاردرہم کے عوض میں خریدا۔ جبکہ ابوعوانہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو بیس ہزار سے کچھ زیادہ رقم کے عوض میں خریدا۔ ان تمام روایات کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے۔
4356 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِى الْجَهْمِ حَدَّثَنَا السَّرِىُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح وَقُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى الشَّوَارِبِ بِالْمَفْتَحِ وَأَنَا أَسْمَعُ قِيلَ لَهُ سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ الْمَسْعَدِىِّ ح وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُصَيْنٍ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ جَاوَانَ الْمَازِنِىُّ قَالَ سَمِعْتُ الأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ أَخْبَرَنِى حُصَيْنٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُمَرَ بْنِ جَاوَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَنِى تَمِيمٍ - وَذَلِكَ أَنِّى قُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الأَحْنَفِ مَا كَانَ قَالَ سَمِعْتُ الأَحْنَفَ يَقُولُ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا حَاجٌّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ فى مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِى الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ وَإِذَا هُمْ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ قِيلَ هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ جَاءَ قَالَ فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلَيَّةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِى كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ فَقَالَ عُثْمَانُ أَهَا هُنَا عَلِىٌّ أَهَا هُنَا الزُّبَيْرُ أَهَا هُنَا طَلْحَةُ أَهَا هُنَا سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ قَالُوا نَعَمْ. قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِى فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ». فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ إِنِّى قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِى فُلاَنٍ قَالَ « فَاجْعَلْهُ فِى مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ ». قَالُوا نَعَمْ. قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ». فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ قَالَ « فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ ». قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ». فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالاً وَلاَ خِطَامًا قَالُوا نَعَمْ. قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُعْتَمِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حُصَيْنٍ وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ فِى حَدِيثِهِ « مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِى فُلاَنٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ». فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا وَقَالَ أَيْضًا فِى بِئْرِ رُومَةَ فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ « اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ ». وَقَالَ عَلِىُّ بْنُ عَاصِمٍ فِى حَدِيثِهِ فِى قِصَّةِ الْمِرْبَدِ فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقُلْتُ قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِى فُلاَنٍ تُوَسِّعُ بِهِ فِى مَسْجِدِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ « نَعَمْ وَقَدْ وَجَبَ أَجْرُهُ لَكَ ». وَقَالَ فِى بِئْرِ رُومَةَ فَابْتَعْتُهَا بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا الشَّكُّ مِنْ حُصَيْنٍ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَبِى عَوَانَةَ فِى قِصَّةِ الْمِرْبَدِ فَابْتَعْتُهُ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ وَبَقِيَّةُ أَلْفَاظِهِمْ تَتَقَارَبُ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ وَفِى حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِى رُومَةَ فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا.
তাহকীক: