সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
وتر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭৮ টি
হাদীস নং: ১৬৭৩
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1673 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں میں تم سب کے مقابلے میں زیادہ بہترطریقے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے طریقے کے مطابق نماز اداکرتاہوں۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) ظہر ‘ عشاء کی نماز میں آخری رکعت میں ” سمع اللہ لمن حمدہ پڑھنے کے بعد دعائے قنوت پڑھتے تھے اور اہل ایمان کے لیے دعا کرتے تھے اور کفارپرلعنت کیا کرتے تھے۔
راوی بیان کرتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) ظہر ‘ عشاء کی نماز میں آخری رکعت میں ” سمع اللہ لمن حمدہ پڑھنے کے بعد دعائے قنوت پڑھتے تھے اور اہل ایمان کے لیے دعا کرتے تھے اور کفارپرلعنت کیا کرتے تھے۔
1673 - وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا ابْنُ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِىُّ وَمُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالاَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ لأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِى الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَصَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ وَصَلاَةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكُفَّارَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1674 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
1674 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْنُتُ فِى الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1675 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی ہے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (کفار) کے لیے دعائے ضرر کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ترک کردیا ‘ جہاں تک صبح کی نماز کا تعلق ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہونے تک اس میں دعائے قنوت پڑھتے رہے۔
1675 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَرَكَهُ وَأَمَّا فِى الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا. لَفْظُ النَّيْسَابُورِىِّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1676 ربیع بن انس بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ ان سے یہ کہا گیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مہینے تک دعائے قنوت پڑھی ہے ‘ تو انھوں نے بتایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں مسلسل دعائے قنوت پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
1676 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَهْرًا. فَقَالَ مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْنُتُ فِى صَلاَةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1677 حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں رکوع کے بعد مسلسل دعائے قنوت پڑھتے رہے ‘ یہاں تک کہ میں آپ سے جداہو گیا۔ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمربن خطاب (رض) کی اقتداء میں بھی نماز ادا کی ہے ‘ وہ بھی صبح کی نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ میں ان سے جدا ہوگیا (یعنی وہ دنیا سے رخصت ہوگئے) ۔
1677 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ فِى صَلاَةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقْتُهُ - قَالَ - وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ فِى صَلاَةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1678 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عمر (رض) کی اقتداء میں دعائے قنوت پڑھی ہے ‘ یہاں تک کہ میں ان دونوں حضرات سے جدا ہوگیا (یعنی وہ دنیا سے رخصت ہوگئے) ۔
1678 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَعُمَرَ حَتَّى فَارَقْتُهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৯
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1679 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) (راوی کہتے ہیں ‘ میرا خیال ہے ‘ انھوں نے چوتھے خلیفہ کا بھی ذکر کیا تھا) نے دعائے قنوت پڑھی ہے ‘ یہاں تک کہ میں ان حضرات سے جدا ہوگیا۔
1679 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّىُّ وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَأَحْسَبُهُ وَرَابِعٌ حَتَّى فَارَقْتُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮০
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1680 حسن بصری بیان کرتے ہیں حضرت انس (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت عمر (رض) کی اقتداء میں د عائے قنوت پڑھی ہے یہاں تک کہ میں ان دونوں حضرات سے جدا ہوگیا۔
1680 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّىُّ وَعَمْرٌو عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قَالَ لِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَنَتُّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَمَعَ عُمَرَ حَتَّى فَارَقْتُهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1681 ابوطفیل ‘ حضرت علی اور حضرت عمار (رض) کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں ان دونوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کی اور صبح کی نماز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعائے قنوت پڑھی۔
1681 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ الرَّسْعَنِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شَمِرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِى الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِىٍّ وَعَمَّارٍ أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَنَتَ فِى صَلاَةِ الْغَدَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1682 حضرت حسن بصری فرماتے ہیں ‘ جو شخص صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنابھول جائے ‘ اس پر سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا۔
1682 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ عَنِ الْحَسَنِ فِيمَنْ نَسِىَ الْقُنُوتَ فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1683 سعید بن عبدالعزیز اس شخص کے بارے میں یہ فرماتے ہیں ‘ جو شخص صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے ‘ اس پر سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا۔
1683 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِيمَنْ نَسِىَ الْقُنُوتَ فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ قَالَ يَسْجُدُ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৪
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1684 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے ‘ یہ رکعت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ کر ادا کرتے تھے ‘ اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی رکعت میں سورة الفاتحہ ‘ سورۃ ۃ الزلزال ‘ جبکہ دوسری رکعت میں سورة الفاتحہ اور سورۃ الکافرون پڑھا کرتے تھے۔
ابوبکرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہ وہ طریقہ ہے ‘ جسے نقل کرنے میں اہل بصرہ منفرد ہیں اور اہل شام نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
ابوبکرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہ وہ طریقہ ہے ‘ جسے نقل کرنے میں اہل بصرہ منفرد ہیں اور اہل شام نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
1684 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِى حَكِيمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُصَلِّى بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِى الرَّكْعَةِ الأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَ (إِذَا زُلْزِلَتْ) وَفِى الأُخْرَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ).
قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَحَفِظَهَا أَهْلُ الشَّامِ.
قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ الْبَصْرَةِ وَحَفِظَهَا أَهْلُ الشَّامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1685 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعائے قنوت پڑھتے رہے یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
1685 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَزْهَرِ بْنِ شَخَايَا السُّلَمِىُّ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ مُصَبَّحِ بْنِ هِلْقَامٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا قَيْسٌ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1686 سعید بن جبیر (رض) بیان کرتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بدعت ہے۔
1686 - خَالَفَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِى حَرَّةَ عَنْ سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِىُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِى حُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَشْهَدُ أَنِّى سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ الْقُنُوتَ فِى صَلاَةِ الصُّبْحِ بِدْعَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
1687 ابوقلابہ کہتے ہیں میری ملاقات حضرت عمرو سے ہوئی ‘ تو انھوں نے مجھے یہ حدیث سنائی ہم لوگ ایسی جگہ رہتے تھے جہاں پانی موجود تھا اور وہ لوگوں کی گزرگاہ تھی ‘ ہمارے وہاں سے سوار گزرا کرتے تھے تو ہم ان سے اس بارے میں سوال کرتے تھے اور لوگوں کے رویے کے بارے میں پوچھا کرتے تھے تو وہ بتاتے تھے کہ ایک صاحب ہیں جو یہ کہتے ہیں ‘ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انھیں مبعوث کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ یہ کلام وحی کیا ہے۔ حضرت عمرو (رض) بیان کرتے ہیں میں وہ کلام یاد کرتا رہا اور وہ میرے سینے میں پختہ ہوتارہا ‘ عام عربوں نے اسلام قبول کرنے کو فتح مکہ کے ساتھ معلق کردیا ‘ وہ یہ کہتے تھے کہ ان نبی اور ان کی قوم کا جائزہ لو اگر یہ اپنی قوم پر غالب آگئے تو یہ سچے نبی ہوں گے ‘ جب فتح مکہ کی اطلاع ہمیں ملی توہرقوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی ‘ میرے والد بھی اسلام قبول کرنے کے لیے اپنے قبیلے کے ساتھ تھے ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ کچھ عرصہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مقیم رہے ‘ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت سے واپس آئے تو ہم ان سے ملنے کے لیے گئے ‘ جب انھوں نے ہمیں دیکھا توبولے اللہ کی قسم ! میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول کی طرف سے آرہاہوں ‘ انھوں نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے ‘ انھوں نے ارشاد فرمایا ہے تم نے اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے ‘ اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے ‘ اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے ‘ جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جس کو سب سے زیادہ قرآن آتا ہو وہ تمہاری امامت کرے ‘ جب لوگوں نے ہمارے قبیلے میں تحقیق کی تو کسی بھی شخص کو مجھ سے زیادہ قرآن نہیں آتا تھا تو ان لوگوں نے مجھے آگے کھڑا کردیا ‘ میری عمر اس وقت ٦ سال یا ٧ سال تھی ‘ میری ایک چادر تھی جو چھوٹی تھی ‘ میں سجدے میں جاتا تھا تو وہ ہٹ جاتی تھی تو قبیلے کی ایک خاتون نے کہا آپ لوگ اپنے قاری کے پیچھے والے حصے کو ڈھانپتے کیوں نہیں ہیں ؟ پھر قبیلے والوں نے مجھے ایک قمیض سلواکردی جو بحرین کے کپڑے کی بنی ہوئی تھی، اس قمیض کے ملنے پر مجھے جتنی خوشی ہوئی ‘ اتنی کسی اور بات پر نہیں ہوئی تھی۔
1687 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الإِسْكَافِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ فَلَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِى هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرٌّ مِنَ النَّاسِ وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الأَمْرُ مَا لِلنَّاسِ فَيَقُولُونَ نَبِىٌّ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا فَجَعَلْتُ أَتَلَقَّى ذَلِكَ الْكَلاَمَ فَكَأَنَّمَا يُغْرَى فِى صَدْرِى بِغِرَاءٍ - يَقُولُ أَحْفَظُهُ - وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلاَمِهَا الْفَتْحَ وَيَقُولُونَ أَبْصِرُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنْ ظَهَرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِىٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا جَاءَنَا وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلاَمِهِمْ فَانْطَلَقَ أَبِى بِإِسْلاَمِ أَهْلِ حِوَائِنَا ذَاكَ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَقَامَ عِنْدَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- تَلَقَّيْنَاهُ فَلَمَّا رَآنَا قَالَ جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَقًّا فَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا وَقَالَ « صَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِى حِينِ كَذَا وَصَلُّوا صَلاَةَ كَذَا فِى حِينِ كَذَا فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا ». فَنَظَرُوا فِى أَهْلِ حِوَائِنَا ذَاكَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّى قُرْآنًا مِمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ فَقَدَّمُونِى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ فَكَانَتْ عَلَىَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّى فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَىِّ أَلاَ تُغَطُّونَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ فَكَسَوْنِى قَمِيصًا مِنْ مَعْقِدِ الْبَحْرَيْنِ فَمَا فَرِحْتُ بِشَىْءٍ فَرَحِى بِذَلِكَ الْقَمِيصِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৮
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے ؟
1688 امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام باقر (رض)) کے حوالے سے امام زین العابدین (رض) کے حوالے سے امام حسین (رض) کے حوالے سے حضرت علی (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں
بیمارشخص اکرکھڑے ہو کر نماز ادا کرسکتا ہو تو کھڑے ہو کراداکرے ورنہ بیٹھ کر اداکرے ‘ اگر وہ سجدہ کرنے کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ سجدہ اشارے کے ذریعے کرے اور اس کا سجدہ اس کے رکوع سے زیادہ پست ہو ‘ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتاہو کہ بیٹھ کر نماز اداکرے تو پھر وہ اپنے دائیں پہلو کو قبلہ کی طرف کرکے نماز اداکرے ‘ اگر وہ دائیں پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ تو وہ سیدھالیٹ کر نماز اداکرے اور اس کے دونوں پاؤں قبلہ کی سمت ہونے چاہئیں۔
بیمارشخص اکرکھڑے ہو کر نماز ادا کرسکتا ہو تو کھڑے ہو کراداکرے ورنہ بیٹھ کر اداکرے ‘ اگر وہ سجدہ کرنے کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ سجدہ اشارے کے ذریعے کرے اور اس کا سجدہ اس کے رکوع سے زیادہ پست ہو ‘ اگر وہ اس کی بھی استطاعت نہ رکھتاہو کہ بیٹھ کر نماز اداکرے تو پھر وہ اپنے دائیں پہلو کو قبلہ کی طرف کرکے نماز اداکرے ‘ اگر وہ دائیں پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ تو وہ سیدھالیٹ کر نماز اداکرے اور اس کے دونوں پاؤں قبلہ کی سمت ہونے چاہئیں۔
1688 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىِّ بْنِ بَطْحَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِبْرِىُّ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعُرَنِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِىِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِىٍّ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يُصَلِّى الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّىَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّىَ عَلَى جَنْبِهِ الأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا رِجْلَيْهِ مِمَّا يَلِى الْقِبْلَةَ »
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے ؟
1689 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں بیمارشخص چت لیٹ کر اپنے پاؤں قبلہ کے رخ کرے نماز اداکرے گا۔
1689 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ يُصَلِّى الْمَرِيضُ مُسْتَلْقِيًا عَلَى قَفَاهُ تَلِى قَدَمَاهُ الْقِبْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
وتر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بیمار شخص کی نماز ‘ جس شخص کی نماز کے دوران نکسیرپھوٹ پڑے ‘ وہ اپنانائب کس کو کس طرح مقررکرے ؟
1690 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کوئی شخص نماز اداکررہاہو اور اس کی نکسیرپھوٹ پڑے ‘ اسے قے آجائے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے اور حاضرین میں سے کسی ایسے شخص کا جائزہ لے جو سب سے بہتر ہو اور اسے آگے کردے ‘ پھر وہ جاکروضوکرے اور واپس آکر اپنی نماز وہیں سے پڑھناشروع کردے جہاں چھوڑکرگیا تھا ‘ یہ اس وقت ہے جب اس نے درمیان میں کلا م نہ کیا گیا ہو ‘ اگر درمیان میں کلام کرلیاہو ‘ تو وہ نئے سرے سے نماز پڑھے گا۔
1690 - حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى عُثْمَانَ الْغَازِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِىِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَرَعَفَ أَوْ قَاءَ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ وَيَنْظُرْ رَجُلاً مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يُسْبَقْ بِشَىْءٍ مِنْ صَلاَتِهِ فَيُقَدِّمْهُ وَيَذْهَبْ فَيَتَوَضَّأْ ثُمَّ يَجِىءُ فَيَبْنِى عَلَى صَلاَتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ فَإِنْ تَكَلَّمَ اسْتَأْنَفَ الصَّلاَةَ »
তাহকীক: