মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ২৫১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٣) حضرت حسن بن عمران فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
(۲۵۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَانَ لاَ یُتِمُّ التَّکْبِیرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٤) حضرت حمید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نما زپڑھی ہے، وہ ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
(۲۵۱۴) حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ یُوسُفَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَکَانَ لاَ یُتِمُّ التَّکْبِیرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے زیاد نے نماز میں تکبیریں کہنا چھوڑی ہیں۔
(۲۵۱۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّکْبِیرَ زِیَادٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٦) حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم اور حضرت سالم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ دونوں ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
(۲۵۱۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ عُبَدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّیْت خَلْفَ الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ فَکَانَا لاَ یُتِمَّانِ التَّکْبِیرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٧) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۲۵۱۷) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنِ الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ ؛ مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٨) حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر کے پیچھے نماز پڑھی ہے وہ ہر ہر عمل میں تکبیر نہیں کہا کرتے تھے۔
(۲۵۱۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، فَکَانَ لاَ یُتِمُّ التَّکْبِیرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک ہر ہر عمل نماز میں تکبیرضروری نہیں
(٢٥١٩) حضرت یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نماز میں تکبیرات کم کردیا کرتے تھے۔ حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ جب وہ رکوع سے سجدہ میں جاتے تھے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ اور جب دوسرا سجدہ کرنے لگتے تو اس وقت بھی تکبیر نہیں کہتے تھے۔
(۲۵۱۹) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ یَزِیدَ الْفَقِیرِ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَنْقُصُ التَّکْبِیرَ فِی الصَّلاَۃِ، قَالَ مِسْعَرٌ : إذَا انْحَطَّ بَعْدَ الرُّکُوعِ لِلسُّجُودِ لَمْ یُکَبِّرْ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ الثَّانِیَۃَ لَمْ یُکَبِّرْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٠) حضرت ابن عمر اور حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص امام کو حالت رکوع میں مل جائے تو اس کے لیے ایک تکبیر کہنا کافی ہے۔
(۲۵۲۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالاَ : إذَا أَدْرَکَ الرَّجُلُ الْقَوْمَ رُکُوعًا ، فَإِنَّہُ یُجْزِئُہُ تَکْبِیرَۃٌ وَاحِدَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢١) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت زید بن ثابت امام کے رکوع میں ہونے کی حالت میں اگر نماز میں شریک ہوتے تو رکوع اور نماز کے لیے ایک ہی تکبیر کہا کرتے تھے۔
(۲۵۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ بْنِ إسْمَاعِیلَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَزَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ؛ أَنَّہُمَا کَانَا یَجِیئَانِ وَالإِمَامُ رَاکِعٌ فَیُکَبِّرَانِ تَکْبِیرَۃَ الافْتِتَاحِ لِلصَّلاَۃِ وَلِلرَّکْعَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٢) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے ایک تکبیر کافی ہے۔
(۲۵۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : وَاحِدَۃٌ تُجْزِئُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٣) حضرت ابن علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی نجیح سے پوچھا کہ آدمی جماعت میں اس حال میں شریک ہو کہ لوگ حالت رکوع میں ہیں تو کیا وہ ایک تکبیر کہہ کر رکوع کرلے ؟ وہ فرمانے لگے کہ حضرت مجاہد فرمایا کرتے تھے کہ اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے۔
(۲۵۲۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ أَبِی نَجِیحٍ : الرَّجُلُ یَنْتَہِی إلَی الْقَوْمِ وَہُمْ رُکُوعٌ فَیُکَبِّرُ تَکْبِیرَۃً وَیَرْکَعُ ؟ قَالَ : کَانَ مُجَاہِدٌ یَقُولُ : تُجْزِئہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٤) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر جائز ہے اگر زیادہ کہے تو افضل ہے۔
(۲۵۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : تُجْزِئہُ التَّکْبِیرَۃُ ، وَإِنْ زَادَ فَہُوَ أَفْضَلُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٥) حضرت ابن المسیب فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر جائز ہے۔
(۲۵۲۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : تُجْزِئہُ التَّکْبِیرَۃُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٦) حضرت بکر فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کہہ لو۔
(۲۵۲۶) حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ أَبِی عُمَارَۃَ ، عَنْ بَکْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ یَقُولُ : کَبِّرْ تَکْبِیرَۃً۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٧) حضرت میمون فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کافی ہے۔
(۲۵۲۷) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَیَّانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ؛ تُجْزِئہُ تَکْبِیرَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٨) حضرت حسن اس بات کو مستحب قرار دیتے تھے کہ آدمی دو تکبیریں کہے۔ اگر جلدی میں یا بھول کر ایک تکبیر کہہ لی تو پھر بھی جائز ہے۔
(۲۵۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُکَبِّرَ تَکْبِیرَتَیْنِ ، فَإِنْ عَجَّلَ ، أَوْ نَسِیَ فَکَبَّرَ تَکْبِیرَۃً أَجْزَأَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع کی حالت میں امام سے مل جائے تو کیا اسے وہ رکعت مل جائے گی یا نہیں ؟
(٢٥٢٩) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر کافی ہے۔
(۲۵۲۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، فَقَالَ : تُجْزِئُہُ تَکْبِیرَۃٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس موقع پر دو تکبیریں کہا کرتے تھے
(٢٥٣٠) حضرت عمر بن عبدا لعزیز فرماتے ہیں کہ دو تکبیریں کہے گا۔
(۲۵۳۰) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُہَاجِرِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : یُکَبِّرُ تَکْبِیرَتَیْنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس موقع پر دو تکبیریں کہا کرتے تھے
ّ (٢٥٣١) حضرت ابراہیم حنفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اس حال میں جماعت کے ساتھ شامل ہو جبکہ امام رکوع کی حالت میں ہو۔ فرمایا وہ نماز میں شامل ہونے کے لیے تکبیر تحریمہ کہے اور پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔
(۲۵۳۱) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ رَبِیعٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ سِیرِینَ عَنِ الرَّجُلِ یَجِیئُ إلَی الإِمَامِ وَہُوَ رَاکِعٌ ؟ قَالَ : لِیَفْتَتِح الصَّلاَۃَ بِتَکْبِیرَۃٍ ، وَیُکَبِّرُ لِلرُّکُوعِ ، فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلا یُجْزِئُہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات اس موقع پر دو تکبیریں کہا کرتے تھے
(٢٥٣٢) حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک تکبیر نماز میں شامل ہونے کے لیے اور ایک تکبیر رکوع کے لیے کہے گا۔
(۲۵۳۲) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : یُکَبِّرُ تَکْبِیرَۃً لِلإِفْتِتَاحِ وَیُکَبِّرُ لِلرُّکُوعِ۔
তাহকীক: