মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৩২৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٣) حضرت عمارہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسود تو ایک راہب ہی تھے۔ جب نماز کا وقت ہوتا تو وہ فوراً اس کی طرف لپک پڑتے خواہ پتھر پر بیٹھے ہوتے !
(۳۲۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، قَالَ : مَا کَانَ الأَسْوَدُ إِلاَّ رَاہِبًا ، یَتَخَلَّفُ یُرَی أَنَّہُ یُصَلِّی ، فَإِذَا جَائَ وَقْتُ الصَّلاَۃِ أَنَاخَ وَلَوْ عَلَی الْحِجَارَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٤) حضرت جعفر بن برقان کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ہمیں ایک خط لکھا جس میں مکتوب تھا : اما بعد ! دین کا کمال اور اسلام کی مضبوطی اللہ تعالیٰ پر ایمان ، نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے میں ہے۔ پس نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرو اور ان پر پابندی اختیار کرو۔
(۳۲۳۴) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : کَتَبَ إلَیْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ عُری الدِّینِ وَقِوَامَ الإِسْلاَمِ الإِیمَانُ بِاللَّہِ ، وَإِقَامُ الصَّلاَۃِ ، وَإِیتَائُ الزَّکَاۃِ ، فَصَلِّ الصَّلاَۃَ لِوَقْتِہَا ، وَحَافِظْ عَلَیْہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٥) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن کو یہ بات بہت پسند تھی کہ سفر میں بھی نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کریں۔
(۳۲۳۵) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یُعْجِبُہُ إذَا کَانَ فِی سَفَرٍ ، أَنْ یُصَلِّیَ الصَّلاَۃَ لِوَقْتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٦) حضرت عمر بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر سے کہا کہ کون سی نماز افضل ہے ؟ انھوں نے فرمایا جو شروع وقت میں پڑھی جائے۔
(۳۲۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَی، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ، قَالَ: قُلْتُ لَہُ: أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: فِی أَوَّلِ وَقْتٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٧) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ وقت کو چھوڑ دینا بہت بڑی غلطی ہے۔
(۳۲۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : السَّہْوُ: التَّرْکُ عَنِ الْوَقْتِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بہترین نماز وہ ہے جو وقت پر ادا کی جائے
(٣٢٣٨) حضرت ام فروہ نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ کون سا عمل یا کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا ” نماز کو اول وقت میں ادا کرنا “
(۳۲۳۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَی الْعُمَرِیُّ ، عَنْ القَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ بَعْضِ أُمَّہَاتِہِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَۃَ ؛ أَنَّہَا سَأَلَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَیُّ الْعَمَلِ ، أَوْ أَیُّ الصَّلاَۃِ ، أَفْضَلُ ؟ فَقَالَ : الصَّلاَۃُ فِی أَوَّلِ وَقْتِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٣٩) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرائیل نے بیت اللہ میں دو مرتبہ میری امامت کرائی۔ انھوں نے مجھے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج تسمے کے برابر زائل ہوگیا۔ پھر مجھے عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت روزہ دار افطار کرتا ہے۔ پھر مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لیے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلے دن مجھے اس وقت ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر مجھے اس وقت عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ پھر مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے۔ پھر مجھے عشاء کی نماز تین تہائی رات گذر جانے کے بعد پڑھائی۔ پھر مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روشنی ہوگئی۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ” اے محمد ! یہ وقت تم سے پہلے نبیوں کی نمازوں کا تھا، تمہاری نماز کا وقت بھی ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔
(۳۲۳۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّنِی جِبْرِیلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی بِی الظُّہْرَ حِینَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاکِ ، وَصَلَّی بِی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلَّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَصَلَّی بِی الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، وَصَلَّی بِی الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی بِی الْفَجْرَ حِینَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ ، وَصَلَّی بِی الْغدَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلَّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، وَصَلَّی بِی الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلَّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ ، وَصَلَّی بِی الْمَغْرِبَ حِینَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، وَصَلَّی بِی الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ ، وَصَلَّی بِی الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ ، فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ ، ہَذَا الْوَقْتُ وَقْتُ النَّبِیِّینَ قَبْلَک ، الْوَقْتُ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔

(ترمذی ۱۴۹۔ ابوداؤد ۳۹۶)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٠) حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نماز کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے اسے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن حضرت بلال کو حکم دیا تو انھوں نے اس وقت اقامت کہی جب فجر طلوع ہوگئی تھی۔ آپ نے اس وقت نما زپڑھائی۔ پھر انھوں نے اس وقت اقامت کہی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج زائل ہوا ہی ہے یا ہونے والا ہے حالانکہ وہ کہنے والا سب سے زیادہ اوقات کو جانتا ہے۔ پھر عصر کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج ابھی بلند تھا۔ پھر مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جب کہ سورج غروب ہوگیا تھا۔ پھر عشاء کی نماز کے لیے اقامت کا اس وقت کہا جبکہ شفق غائب ہوگیا۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا ہے یا نہیں ہوا۔ جبکہ وہ قائل سب سے زیادہ مواقیت کو جانتا تھا۔ پھر آپ نے ظہر کی نماز گزشتہ عصر کی نماز کے وقت کے قریب پڑھائی۔ اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہنے والا کہتا تھا کہ سورج سرخ ہوگیا ہے۔ پھر مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے پر پڑھائی۔ پھر فرمایا نمازوں کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ جو وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے وہ نماز کا وقت ہے۔
(۳۲۴۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی سَمِعَہُ مِنْہُ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ سَائِلاً أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہُ عَنْ مَوَاقِیتِ الصَّلاَۃِ فَلَمْ یَرُدَّ شَیْئًا ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ حِینَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّی ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلاَۃَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَزُلْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ، ثُمَّ أَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ ، وَأَمَرَہُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِینَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَہُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّی الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، أَوْ لَمْ تَطْلُعْ ، وَہُوَ کَانَ أَعْلَمَ مِنْہُمْ ، وَصَلَّی الظُّہْرَ قَرِیبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالْقَائِلُ یَقُولُ : قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ یَغِیبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ ؟ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ وَقْتٌ۔ (مسلم ۱۷۸۔ ابوداؤد ۳۹۸)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤١) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہر نماز کا ایک اول وقت ہوتا ہے اور ایک آخر وقت ہوتا ہے۔ ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج زائل ہوجائے۔ ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہوجائے۔ عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت داخل ہو اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد ہوجائے۔ مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج غروب ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب افق غائب ہوجائے، عشاء کا اول وقت وہ ہے جب افق غائب ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب آدھی رات گذر جائے۔ فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر طلوع ہوجائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج طلوع ہوجائے۔
(۳۲۴۱) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّ لِلصَّلاَۃِ أَوَّلاً وَآخِرًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّہْرِ حِینَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِینَ یَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَصْفَارُّ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَغِیبُ الأَفُقُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ حِینَ یَغِیبُ الأَفُقُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ یَنْتَصِفُ اللَّیْلُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِینَ یَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِہَا حِینَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ۔ (ترمذی ۱۵۱۔ احمد ۲/۲۳۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٢) حضرت ابو برزہ کہتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج درمیانِ آسمان سے مغرب کی طرف زائل ہوجاتا تھا۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب ہم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے بعد اپنی سواری پر مدینہ کے کنارے سے چکر لگا کر واپس آجاتا اور سورج ابھی روشنی برسارہا ہوتا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے مغرب کا جو وقت بیان کیا وہ میں بھول گیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز کو قدرے تاخیر سے پڑھیں۔ فجر کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب اتنی روشنی ہوجاتی کہ آدمی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچاننے لگتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر میں ساٹھ سے لے کر سو تک آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
(۳۲۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی الْمِنْہَالِ ، عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی الْہَجِیرَ الَّتِی تَدْعُونَہَا الأَولَی حِین تَدْحُضُ الشَّمْسُ ، وَیُصَلِّی الْعَصْرَ ، ثُمَّ یَرْجِعُ أَحَدُنَا إلَی رَحْلِہِ فِی أَقْصَی الْمَدِینَۃِ وَالشَّمْسُ حَیَّۃٌ ، قَالَ : وَنَسِیت مَا قَالَ فِی الْمَغْرِبِ ، قَالَ : وَکَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یُؤَخِّرَ مِنَ الْعِشَائِ الَّتِی تَدْعُونَہَا الْعَتَمَۃَ ، وَکَانَ یَنْفَتِلُ مِنْ صَلاَۃِ الْغَدَاۃِ حِینَ یَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِیسَہُ ، وَکَانَ یَقْرَأُ بِالسِّتِّینَ إلَی الْمِئَۃِ۔ (مسلم ۲۳۷۔ ابوداؤد ۴۰۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٣) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز کو دوپہر میں سورج کے زوال کے بعد، عصر کی نماز کو سورج کے واضح ہونے کے وقت، مغرب کو سورج کے غروب ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔ عشاء کی نماز کو کبھی دیر سے اور کبھی جلدی پڑھتے تھے۔ جب آپ دیکھتے کہ لوگ آگئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر لوگ آنے میں د یر کردیتے تو دیر سے پڑھتے۔ اور صبح کی نماز کو اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۴۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حسن، عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِاللہِ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْہَاجِرَۃِ ،وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِیَّۃٌ ، وَالْمَغْرِبَ إذَا وَجَبَتْ ، وَالْعِشَائَ أَحْیَانًا یُؤَخِّرُہَا وَأَحْیَانًا یُعَجِّلُ ، إذَا رَآہُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآہُمْ قَدْ أَبْطَؤوا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ ، قَالَ : کَانُوا ، أَوْ قَالَ : وَکَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیہَا بِغَلَسٍ۔

(بخاری ۵۶۰۔ مسلم ۲۳۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٤) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فجر کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ اس وقت اذان دیں جب فجر طلوع ہوجائے اور پھر اگلے دن اس وقت اذان دیں جب روشنی ہوجائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ فجر کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔
(۳۲۴۴) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ ؟ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ مِنَ الْغَدِ حِینَ أَسْفَرَ ، ثُمَّ قَالَ : أَیْنَ السَّائِلُ ؟ مَا بَیْنَ ذَیْنِ وَقْتٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٥) حضرت بشیر بن سلمان کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی حضرت جابر بن عبداللہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ نماز سکھا دیجئے۔ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت ظہر کی نماز پڑھی جب ہر چیز کا سایہ تسمے کے برابر ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہوگیا۔ پھر ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب فجر طلوع ہوگئی۔ پھر اگلے دن ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہوگیا۔ پھر ہمیں عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوگیا۔ یہ نماز آپ نے ہمیں اتنی دیر پہلے پڑھائی جس میں ایک سوار مغرب کی نماز تک تیز رفتار کے ساتھ مقام ذو الحلیفہ تک پہنچ جائے۔ پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا۔ پھر ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر گیا۔ پھر ہمیں روشنی میں فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ہم حجاج بن یوسف کے ساتھ کیسے نماز پڑھیں حالانکہ وہ تاخیر سے نماز پڑھتا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جو نماز وہ وقت پر پڑھے اس کے ساتھ پڑھ لو اور جو نماز وہ دیر سے پڑھے، اسے تم وقت میں پڑھو اور اس کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجاؤ۔ اور میری یہ بات تمہارے پاس امانت ہے اگر میں مر بھی گیا اور حجاج کو اتنی قدرت ہوئی کہ وہ میری قبر کو اکھاڑے تو وہ ضرور اکھاڑے گا۔
(۳۲۴۵) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی خَارِجَۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ بَشِیر بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : دَخَلْت أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ آلِ عَلِیٍّ ، عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ فَقُلْنَا لَہُ : حَدِّثْنَا کَیْفَ کَانَتِ الصَّلاَۃُ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ الظِّلُّ مِثْلَ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعَصْرَ حِینَ کَانَ الظِّلُّ مِثْلَہُ وَمِثْلَ الشِّرَاکِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْفَجْرَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا مِنَ الْغَدِ الظُّہْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَہُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعَصْرَ حِینَ کَانَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلَیْہِ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ إلَی ذِی الْحُلَیْفَۃِ الْعَنَقِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْمَغْرِبَ حِینَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْعِشَائَ حِینَ ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ ، ثُمَّ صَلَّی بِنَا الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ۔ فَقُلْنَا لَہُ : کَیْفَ نُصَلِّی مَعَ الْحَجَّاجِ وَہُوَ یُؤَخِّرُ ؟ فَقَالَ : مَا صَلَّی لِلْوَقْتِ فَصَلُّوا مَعَہُ ، فَإِذَا أَخَّرَ فَصَلُّوہَا لِوَقْتِہَا ، وَاجْعَلُوہَا مَعَہُ نَافِلَۃً ، وَحَدِیثِی ہَذَا عِنْدَکُمْ أَمَانَۃٌ فَإِذَا مِتُّ ، فَإِنِ اسْتَطَاعَ الْحَجَّاجُ أَنْ یَنْبُشَنِی فَلْیَنْبُشْنِی۔ (نسائی ۵۲۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٦) حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انھوں نے میری امامت کرائی۔ پھر انھوں نے پانچ نمازوں کا ذکر کیا۔
(۳۲۴۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَزَلَ جِبْرِیلُ فَأَمَّنِی ، حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔ (بخاری ۵۲۱۔ مسلم ۴۲۵)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٧) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت نہ ہوجائے۔ عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہوجائے۔ مغرب کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق زائل نہ ہوجائے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔ اور فجر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج طلوع نہ ہوجائے۔
(۳۲۴۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَیُّوبَ یُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَقْتُ الظُّہْرِ مَا لَمْ یَحْضُرْ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ،وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ یَسْقُطْ ثَوْر الشَّفَقِ ، وَوَقْتُ الْعِشَائِ إلَی نِصْفِ اللَّیْلِ ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٨) ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
(۳۲۴۸) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَمْ یَرْفَعْہُ مَرَّتَیْنِ ، ثُمَّ رَفَعَہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؛ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَ حَدِیثِ غُنْدَرٍ۔

(مسلم ۴۲۷۔ احمد ۲/۲۱۳)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٤٩) حضرت علی بن عمرو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا خط آیا جس میں مکتوب تھا : فجر کی نماز کو اس وقت پڑھو جب ستارے روشن ہوں اور نظر آرہے ہوں۔ ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج وسط آسمان سے زائل ہوجائے۔ عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید اور روشن ہو۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہوجائے اور آپ نے عشاء کی نماز میں رخصت دی۔
(۳۲۴۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ : أَنْ صَلُّوا الْفَجْرَ وَالنُّجُومُ مُشْتَبِکَۃٌ نَیِّرَۃٌ ، وَصَلُّوا الظُّہْرَ إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَائِ ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِینَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَرَخَّصَ فِی الْعِشَائِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٥٠) حضرت نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں مکتوب تھا : ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج زائل ہوجائے، عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید اور چمکدار ہو۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب رات اور دن ایک دوسرے میں مل جائیں۔ عشاء کی نماز رات کو جب چاہو پڑھ لو اور فجر کی نماز اس وقت پڑھو جب روشنی پھیل جائے۔
(۳۲۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی : أَنْ صَلِّ الظُّہْرَ إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ ، وَصَلِّ الْمَغْرِبَ إذَا اخْتَلَطَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ ، وَصَلِّ الْعِشَائَ أَیَّ اللَّیْلِ شِئْتَ ، وَصَلِّ الْفَجْرَ إذَا نَوَّرَ النُّورُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تمام نمازوں کے اوقات کا بیان
(٣٢٥١) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ظہر اپنے نام کی طرح ہے۔ عصر کو اس وقت پڑھنا ہے جب سورج روشن اور چمکدار ہو، مغرب بھی اپنے نام کی طرح ہے۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر ہم ایک میل کے فاصلے پر اپنے گھروں میں آجاتے اور پھر بھی ہمیں ایک تیرپھینکنے کی دوری تک کی چیزیں نظر آتی تھیں۔ آپ عشاء کی نماز کبھی جلدی اور کبھی تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔ فجر اپنے نام کی طرح ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے۔
(۳۲۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : الظُّہْرُ کَاسْمِہَا ، وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ حَیَّۃٌ، وَالْمَغْرِبُ کَاسْمِہَا، کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِی مَنَازِلَنَا عَلَی قَدْرِ مِیلٍ فَنَرَی مَوَاقِعَ النَّبْلِ ، وَکَانَ یُعَجِّلُ بِالْعِشَائِ ، وَیُؤَخِّرُ ، وَالْفَجْرُ کَاسْمِہَا ، وَکَانَ یُغَلِّسُ بِہَا۔ (احمد ۳/۳۰۳۔ عبدالرزاق ۲۰۹۱)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩২৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فجر کو اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے
(٣٢٥٢) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فجر کی نماز ادا کیا کرتی تھیں، پھر اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اتنا اندھیرا ہوتا کہ انھیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
(۳۲۵۲) حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : کُنَّ نِسَائُ الْمُؤْمِنَاتِ یُصَلِّینَ مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ یَرْجِعْنَ إلَی أَہْلِہِنَّ فَلاَ یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ۔

(بخاری ۵۷۸۔ مسلم ۲۳۱)
tahqiq

তাহকীক: